وزارت خزانہ
مرکزی بجٹ 27-2026 پائیدار اقتصادی ترقی، صلاحیت سازی اور سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے تین کرتویہ پر مرکوز ہے
مرکزی بجٹ 27-2026 یوا شکتی پر مرکوزایک منفرد بجٹ ہے:وزیر خزانہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 FEB 2026 1:07PM by PIB Delhi
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے وکست بھارت کی سمت اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کے لیے تین کرتویہ(فرائض) کی تجویز پیش کی۔وزیرخزانہ نے کہا کہ پہلا کرتویہ اقتصادی ترقی کو تیز اور پائیدار بنانا ہے، جس کے لیے پیداواریت اور مسابقت میں اضافہ اور عالمی سطح پر اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں معیشت میں استحکام پیدا کرنا ضروری ہے۔ دوسرا کرتویہ عوام کی امنگوں کو پورا کرنا اور ان کی صلاحیت سازی کرنا ہے، تاکہ وہ بھارت کی خوشحالی کے سفر میں مضبوط شراکت دار بن سکیں۔ تیسرا کرتویہ، سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے وِژن سے ہم آہنگ ہے، اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر خاندان، برادری، خطہ اور شعبہ وسائل، سہولتوں اور مواقع تک رسائی حاصل کرے تاکہ بامعنی شرکت کوممکن بنایا جاسکے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس تین جہتی حکمت عملی کے لیے ایک معاون ایکو نظام درکار ہے۔ پہلی ضرورت ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنا ہے، جو حالات کے مطابق مسلسل ڈھلنے والی اور مستقبل پر مبنی ہوں۔ دوسری ضرورت ایک مضبوط اور پائیدار مالیاتی شعبہ ہے جو بچت کو متحرک کرنے، سرمایہ کی مؤثر تقسیم اور خطرات کے بندوبست میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ تیسری ضرورت جدید ترین ٹیکنالوجیز ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال شامل ہے، جو بہتر حکمرانی کے لیےطاقت بڑھانے والے عوامل ثابت ہو سکتے ہیں۔
محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ کرتویہ بھون میں تیار کیا گیا پہلا بجٹ یووا شکتی پر مرکوز ایک منفرد بجٹ ہے، جو وِکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026 کے دوران معزز وزیراعظم کے ساتھ مشترک کیے گئے متعدد اختراعی خیالات سے متاثر ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بھارت کی اقتصادی سمت استحکام، مالی نظم و ضبط، مسلسل ترقی اور اوسط مہنگائی سے عبارت رہی ہے۔ حکومت نے سرکاری سرمایہ کاری پر خصوصی زور کوبرقرار رکھتے ہوئے دور رس ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مالی احتیاط اور مالیاتی استحکام کی پالیسیوں کو مسلسل اپنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ خود کفالت(آتم نربھرتا) کو مرکز میں رکھتے ہوئے حکومت نے گھریلو مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور توانائی کی یقینی فراہمی کو مضبوط بنایا ہے اور اہم درآمدی انحصار کو کم کیا ہے، ساتھ ہی شہریوں پر مرکوز ترقی کو یقینی بنایا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، زرعی پیداواریت بڑھانے، گھریلو قوت خریداری میں اضافہ کرنے اور عوام کو ہمہ جہت خدمات فراہم کرنے کے لیے اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 7 فیصد کی اعلیٰ شرح نمو حاصل ہوئی ہے اور غربت کی سطح میں نمایاں کمی کے ساتھ عوام کی زندگی میں کافی بہتری آئی ہے۔
محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ ایسے بیرونی ماحول میں، جہاں تجارت اور کثیرجہتی نظام کو خطرات لاحق ہیں اور وسائل تک رسائی اور سپلائی چین متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ نئی ٹیکنالوجیز پیداواری نظام کو تبدیل کر رہی ہیں اور پانی، توانائی اور اہم معدنیات پر دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے، بھارت عزائم اور شمولیت کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے وِکست بھارت کی سمت پُراعتماد قدم بڑھاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو عالمی بازاروں کے ساتھ گہری وابستگی برقرار رکھنی ہوگی، زیادہ برآمدات کرنی ہوں گی اور طویل مدتی مستحکم سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہوگا۔ وزیرخزانہ نے حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہنے اور مل کر دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی راہ ہموار کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔
امنگوں کو کامیابی اور صلاحیت کو کارکردگی میں بدلنے کےحکومت کے مقصد کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ترقی کے ثمرات ہر کسان، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، خانہ بدوشوں، نوجوانوں، غریبوں اور خواتین تک پہنچیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پیداواریت میں اضافہ کرنے اور ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے جامع معاشی اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے 2025 کے یوم آزادی کے اعلان کے بعد 350 سے زائد اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں۔ ان میں جی ایس ٹی کو معقول بنانا، محنت کے ضابطے کا نفاذ اور لازمی کوالٹی کنٹرول آرڈرز کو معقول بنانا شامل ہے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر ضابطہ جاتی پابندیوں میں نرمی اورضابطوں کی تعمیل کے تقاضوں کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریفارم ایکسپریس پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور کرتویہ کی تکمیل کے لیے اپنی رفتار برقرار رکھے گی۔
محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ پہلے کرتویہ کے تحت اقتصادی ترقی کو تیز اور پائیدار بنانے کے لیے چھ شعبوں میں درج ذیل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں: (i) سات جدید اسٹریٹجک اور کلیدی شعبوں میں مینوفیکچرنگ کو وسعت دینا؛(ii) روایتی صنعتی شعبوں کا ازسرنو احیاء؛(iii) “چیمپئن ایم ایس ایم ایز” کی تشکیل؛(iv) بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانااور فیصلہ کن طریقے سے اسےفروغ دینا؛(v) طویل مدتی توانائی کی یقینی فراہمی اور استحکام کو یقینی بنانا؛ اور (vi) شہروں کی اقتصادی خطے کی ترقی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ دوسرا کرتویہ عوام کی امنگوں کو پورا کرنا اور صلاحیت سازی کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی ایک دہائی پر محیط مسلسل اور اصلاحات پر مبنی کوششوں کے نتیجے میں تقریباً 25 کروڑ افراد غربت کی سطح سے باہر نکل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوان بھارت کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے خدمات کے شعبے پر ازسرنو زور دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی مستقل کمیٹی “ایجوکیشن ٹو ایمپلائمنٹ اینڈ انٹرپرائز” قائم کی جائے گی، جو وِکست بھارت کے ایک بنیادی محرک کے طور پر خدمات کے شعبے پر مرکوز اقدامات کی سفارش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی ترقی، روزگار اور برآمدات کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرے گی، ساتھ ہی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے روزگار اور مہارتوں پر اثرات کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات تجویز کرے گی۔ ان اقدامات کے ذریعے 2047 تک خدمات کے شعبے میں بھارت کا عالمی حصہ 10 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ تیسرا کرتویہ، سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے وژن سے ہم آہنگ ہے، اس کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات درکار ہیں، جن میں:(a) پیداواریت میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانا، خصوصاً چھوٹے اور حاشیے پر موجود کسانوں پر خصوصی توجہ؛(b) معذور افراد (دِویانگ جن) کو روزگار کے مواقع، تربیت اور اعلیٰ معیار کے معاون آلات تک رسائی دے کر بااختیار بنانا؛(c) کمزور طبقات کو ذہنی صحت وتندرستی اور صدمے کے علاج تک رسائی فراہم کرنا؛ اور(d) ترقی اور روزگار کے مواقع تیز کرنے کے لیے پُروودیہ ریاستوں اور شمال مشرقی خطے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م ع۔ع ن)
UR-UB-24
(ریلیز آئی ڈی: 2221628)
وزیٹر کاؤنٹر : 59
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Assamese
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Manipuri
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam