وزارت خزانہ
ذاتی استعمال کے لیے درآمد ہونے والی تمام قابل محصول اشیاء پرٹیکس کی شرح 20فیصدسے کم کر کے 10فیصد کر دی جائے گی
مریضوں، خصوصاً کینسر کے مریضوں کے لیے17دواؤں یا ادویات پر بنیادی کسٹم محصول پر چھوٹ دی جائے گی
ذاتی ادویات اور ایف ایس ایم پی کی درآمد پردرآمدی محصول کی چھوٹ کے لیےمزیدسات نایاب بیماریوں کو شامل کیا جائے گا
دوسرے اور تیسرے درجے کے مجاز اقتصادی آپریٹرز(اے ای اوز) کے لیےمحصولات مؤخر کرنے کی مدت 15 دن سے بڑھا کر 30 دن کی جائے گی
الیکٹرانک سیلنگ استعمال کرنے والے برآمدی کارگو کوفیکٹری کے احاطے سے جہاز تک مکمل کلیئرنس فراہم کی جائے گی
प्रविष्टि तिथि:
01 FEB 2026 1:01PM by PIB Delhi
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرمالا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کسٹمز اور سنٹرل ایکسائز سے متعلق تجاویز کا مقصد محصولات کے ڈھانچے کو مزید آسان بنانا،گھریلو پیداوار کی حمایت کرنا، برآمدات میں مسابقت کو فروغ دینا اور محصولات میں موجود عدم توازن کو درست کرنا ہے۔
رہن سہن کی آسانی
مرکزی بجٹ تجویز کرتا ہے کہ ذاتی استعمال کے لیے درآمد ہونے والی تمام قابل محصول اشیاء پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کی جائے، تاکہ کسٹمز محصول کے ڈھانچے کو معقول بنایا جا سکے۔ مریضوں، خصوصاً کینسر کے مریضوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے بجٹ تجویز کرتا ہے کہ 17 ادویات یا دواؤں پر بنیادی کسٹمز محصول کو معاف کردیا جائے۔ بجٹ یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ مزید 7نایاب بیماریوں کو شامل کیا جائے تاکہ ان بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات، دواؤں اور خصوصی طبی خوراک (ایف ایس ایم پی) کی ذاتی درآمد پر محصول معاف کیا جا سکے۔

مرکزی بجٹ مزید تجویز کرتا ہے کہ بین الاقوامی سفر کے دوران سامان کی کلیئرنس سے متعلق شقوں میں ترمیم کی جائے تاکہ مسافروں کے جائز تحفظات کا ازالہ کیا جا سکے۔ ترمیم شدہ قوانین محصولات سے مبرا الاؤنسیز کو بڑھائیں گے اور عارضی طور پر سامان لانے یا لے جانے میں وضاحت فراہم کریں گے۔ مزید برآں، بجٹ کے مطابق ایماندار ٹیکس دہندگان اب اضافی رقم ادا کر کے جرمانے کی بجائے اپنے واجبات طے کر کے مقدمات بند کر سکیں گے۔
کسٹمز کا عمل
مرکزی بجٹ،کسٹمز کے عمل کے لیے کئی اقدامات کی تجویز پیش کرتا ہے تاکہ مداخلت کم سے کم ہو، سامان کی روانگی آسان اور تیز ہو اور تجارتی سرگرمیوں میں زیادہ یقین دہانی فراہم کی جا سکے۔
اعتماد پر مبنی نظام
مرکزی بجٹ تجویز کرتا ہے کہ دوسرے اور تیسرے درجے کے مجاز اقتصادی آپریٹرز(اے ای اوز) کے لیے محصولات مؤخر کرنے کی مدت 15 دن سے بڑھا کر 30 دن کی جائے۔ مرکزی بجٹ مزید تجویز کرتا ہے کہ اہل مینوفیکچرر-درآمد کنندگان کو بھی محصول مؤخر کرنے کی یہی سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ مستقبل میں مکمل طور پر تیسرے درجے کےمجاز اقتصادی آپریٹر کے طور پر خود کو تسلیم کروانے کی ترغیب حاصل کرسکیں۔
مرکزی بجٹ یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ پیشگی رولنگ کی مدت، جو کسٹمز کے لیے پابند ہوتی ہے، موجودہ 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کی جائے۔ حکومت کی ایجنسیاں اے ای او کی سند کو اپنے کارگو کی کلیئرنس میں ترجیحی سلوک کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دیں گی۔ایسے بااعتماد اور طویل عرصے سے موجود سپلائی چین رکھنے والے ریگولر درآمد کنندگان کو رسک سسٹم میں شناخت فراہم کی جائے گی تاکہ ہر بار ان کے کارگو کی جانچ کی ضرورت کم ہو۔ مرکزی بجٹ کے مطابق، الیکٹرانک سیلنگ کے ذریعے برآمدی کارگو کو فیکٹری کے احاطے سے جہاز تک کلیئرنس فراہم کی جائے گی۔ ایسی اشیاء کی درآمد پر، جنہیں کسی ضابطے کی تعمیل کی ضرورت نہیں، بااعتماد درآمد کنندہ کے بل آف انٹری فائل کرنے اور سامان کی آمد پر کسٹمز کو خود بخود اطلاع مل جائے گی تاکہ کلیئرنس کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
محترمہ نرمالا سیتارمن نے مزید اعلان کیا کہ کسٹمز ویئر ہاؤسنگ کا فریم ورک ایک ویئر ہاؤس آپریٹر مرکوز نظام میں تبدیل کیا جائے گا، جس میں خود اعلانیہ، الیکٹرانک ٹریکنگ اور رسک پر مبنی آڈٹ شامل ہوں گے۔ یہ اصلاحات موجودہ آفیسر پر منحصر منظوری عمل کے نظام سے ہٹ کر کاروبار میں تاخیر اور ضابطوں کی تعمیل کے اخراجات کو کم کریں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م ع۔ع ن)
UR-UB-20
(रिलीज़ आईडी: 2221515)
आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Bengali
,
Assamese
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam