وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

صحیح مہارت کی تربیت، کاروباری جذبہ اور حکومتی اقدامات بے روزگاری کو کم کرنے میں مسلسل مدد کر رہے ہیں: اقتصادی جائزہ 2025-26


موجودہ مالی سال کی پہلی  ششماہی میں نیشنل کیریئر سروس پورٹل کے ذریعے 2.3 کروڑ سے زائد ملازمتوں کی آسامیاں فراہم کی گئیں

ای-شرم پورٹل کے ذریعے 31 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ غیر منظم شعبے کے کارکنوں تک سماجی تحفظ کی سہولیات پہنچائی گئیں

مزدوروں کی فلاح و بہبود اور آجرین کے لیے کاروبار میں آسانی کو یقینی بنانے والے لیبر کوڈز

خواتین کی قوت محنت میں اضافے کے درمیان، اقتصادی جائزے نے لچکدار کام کے اوقات کی ضرورت کو تسلیم کیا

دیہی بھارت میں کاروباری سرگرمیاں خود روزگار کے انقلاب کی قیادت کر رہی ہیں؛ 12.9 کروڑ افراد (جن میں 28 فیصد خواتین شامل ہیں) غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبے کی تشکیل کر رہے ہیں

مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران گِگ کارکنوں کی تعداد میں 55 فیصداضافہ

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 1:54PM by PIB Delhi

بھارت کے محنت بازار ڈیجیٹلائزیشن، سبز توانائی کی منتقلی اور نئے اقسام کے روزگار جیسے گِگ اور پلیٹ فارم ورک کی وجہ سے اہم ساختی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں، حکومت ہند کی ایک سلسلہ وار اہم اقدامات بے روزگاری کو کم کرنے، روزگار پیدا کرنے اور کارکن طبقے تک فلاحی سہولیات پہنچانے میں مسلسل مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ بات آج پارلیمنٹ میں مالیات اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے اقتصادی جائزہ 2025-26 پیش کرتے ہوئے کہی۔

جائزے میں کہا گیا ہے کہ وبائی بیماری کے بعد کی ترقی کے مرحلے میں زور ملازمتوں کی تعداد سے زیادہ کام کے معیار پر منتقل ہو گیا ہے، جومحنت بازار کے زیادہ جامع اور پائیدار وژن کی عکاسی کرتا ہے ۔ مزدورپر مرتکز شعبوں کو فروغ دینے اور ہنر کی ترقی کو مضبوط کرنے کے حالیہ اقدامات حکومت کی معیاری روزگار اور انسانی سرمایہ بڑھانے کے نئے عزم کو اجاگر کرتے ہیں، تاکہ بھارت کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کا مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔

جائزہ رپورٹ کہتی ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں روزگار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جس کی حمایت ساختی اصلاحات، ٹیکس کے اصلاحی اقدامات، اور ہنر کی ترقی پر مستقل توجہ نے کی ہے۔ ڈی ریگولیشن، جی ایس ٹی 2.0، اور ریاستوں کی جانب سے نافذ کی جانے والی مزدوری اصلاحات جیسے اقدامات نے صنعت اور خدمات میں مزدور قوت کی شمولیت اور روزگار کی ترقی میں مدد فراہم کی ہے۔

موجودہ روزگار کے رجحانات:

بھارت میں حالیہ برسوں میں خواتین کی  محنت کی قوت میں شمولیت (ایف ایل ایف پی آر) میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے، جو مالی سال 2017-18 میں 23.3 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 41.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ بے روزگاری کی شرح (یوآر) 5.6 فیصد سےکم ہو کر صرف 3.2 فیصد ہو گئی، جو زیادہ شمولیت اور معاشی خودمختاری کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اقتصادی جائزہ کئی متعلقہ سرویز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں روزگار کے رجحانات کا جائزہ پیش کرتا ہے۔

سہ ماہی اور ماہانہ پیریوڈک لیبر فورس سروے ( پی ایل ایف ایس) کے اعداد و شمار ایک مستحکم محنت بازار کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں موسمی تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل تا ستمبر 2025( ایچ 1مالی سال 26 ) کے دوران موجودہ ہفتہ وار حالت ( سی ڈبلیوایس) میں بے روزگاری کی شرح میں کمی، مزدور قوت کی شمولیت کی شرح(ایل ایف پی آر) میں استحکام اور ملازمت کی خاطر خواہ سطح دیکھی گئی، جو روزگار کے حالات میں بہتری کی علامت ہے۔  مالی سال 26 کی دوسری سہ ماہی میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 56.2 کروڑ افراد ملازمت یافتہ تھے، جو مالی سال26 پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں دوسری سہ ماہی میں تقریباً 8.7 لاکھ نئی ملازمتوں کے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

پی ایل ایف ایس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، جائزے میں کہا گیا ہےکہ‘‘دیہی روزگار میں زرعی مزدور (57.7 فیصد) اور خود روزگار (62.8 فیصد) غالب ہیں، جس میں خواتین کی شرکت نسبتاً زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، شہری روزگار زیادہ تر خدمات کے شعبے (62.0 فیصد) میں مرکوز ہے، جس میں باقاعدہ اجرت یا تنخواہ والے ملازمتیں سب سے بڑی حصہ داری (49.8 فیصد)رکھتی ہیں ۔’’

سالانہ صنعتی سروے (اے ایس آئی)، جو منظم پیداواری شعبے کا احاطہ کرتا ہے، کے نتائج مالی سال24 کے لیے پیداواری شعبے کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ملازمتوں میں 6 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ مالی سال24 میں مالی سال23 کے مقابلے میں 10 لاکھ سے زیادہ نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ اقتصادی جائزے کے مطابق پچھلی دہائی میں مالی سال15 سے مالی سال24 کے دوران اس شعبے نے 57 لاکھ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کی ہیں، جس کا سی اے جی آر4 فیصد رہا۔

"غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کی سہ ماہی بلیٹن (کیو بی یو ایس ای) کے مطابق، غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبے میں کل 7.9 کروڑ ادارے ہیں، جو 12.9 کروڑ افراد کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔ اس شعبے میں کل ملازمت یافتہ کارکنوں میں کام کرنے والے مالکان کی حصہ داری 2023-24 میں 58.9 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 26 کی دوسری سہ ماہی میں 60 فیصد ہو گئی، جو خود روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کی طرف رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ اس شعبے میں دیہی مزدور کی قوت مالی سال 26 کی دوسری سہ ماہی میں 6 کروڑ تھی، جو دیہی اقتصادی سرگرمیوں میں غیر کارپوریٹ اداروں کی اہم شراکت کو ظاہر کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، خواتین اس شعبے میں مزدور قوت کا 28.7 فیصد ہیں۔ غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کا مظاہرہ کاروباری اداروں میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافے سے ہوتا ہے، جو 2023-24 میں 26 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 26 کی دوسری سہ ماہی میں 39 فیصد ہو گیا۔

افرادی قوت کو بااختیار بنانا:

اقتصادی جائزے میں حالیہ پالیسی اقدامات کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے، جو غیر منظم شعبے کے کارکنوں کی شناخت اور انہیں فلاحی اور ہنر کی ترقی کے نظام کے ذریعے رسمی معیشت کے ساتھ مربوط کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

ای-شرم:

اقتصادی جائزے میں ای-شرم پورٹل کو غیر منظم کارکنوں تک سماجی تحفظ پہنچانے اور غیر رسمی اور رسمی ملازمت کے درمیان خلا کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم ادارتی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ پورٹل غیر منظم کارکنوں کا قومی ڈیٹا بیس ہے، جس میں تعمیراتی کارکن، مہاجر کارکن، گِگ اور پلیٹ فارم کارکن، اسٹریٹ وینڈر، گھریلو کارکن، اور زرعی کارکنوں کے اعداد و شمار شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق،جنوری 2026 تک، پورٹل پر 31 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ غیر منظم کارکن موجود ہیں، جو بھارت کی غیر رسمی مزدور قوت کو رسمی بنانے اور ان کی حمایت کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ رجسٹرڈ افراد میں 54 فیصد خواتین ہیں، جو صنف پر مرتکز فلاحی اسکیموں کی پہنچ کو نمایاں طور پر مضبوط کرتی ہیں۔

ای-شرم پلیٹ فارم ملازمت کے مواقع، اپرنٹس شپ کے مواقع اور ہنر کی ترقی کے روابط کی شناخت میں مدد فراہم کرتا ہے، جس سے کارکن بہتر روزگار کے امکانات کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدامات بھارت کی غیر رسمی  افرادی قوت کے لیے پیداواری صلاحیت اور سماجی تحفظ بڑھانے کے وسیع تر وژن کے مطابق ہیں۔

نیشنل کیریئر سروس پورٹل:

سال 2015 میں شروع ہونے والا نیشنل کیریئر سروس (این سی ایس) پورٹل ایک جامع حل کے طور پر ابھرا ہے جو روزگار کے خواہشمند افراد، آجرین، تربیتی فراہم کرنے والوں اور کیریئر رہنمائی و مشاورت دینے والی ایجنسیوں کو مربوط کرتا ہے۔ یہ مختلف خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں مفت رجسٹریشن، ملازمت کے لیے درخواست کا عمل، انٹرویو کی معاونت، دیگر روزگار سے متعلق خدمات، اور کثیر لسانی ہیلپ لائن شامل ہیں۔

اقتصادی جائزے کے مطابق،‘‘ابتداء کے بعد سے یہ پورٹل ایک اہم روزگار سہولت فراہم کرنے والا پلیٹ فارم بن گیا ہے، جس میں 5.9 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ روزگار خواہش مند اور 53 لاکھ آجرین شامل ہیں، جو مختلف شعبوں میں تقریباً 8 کروڑآسامیوں کو متحرک کر رہا ہے۔’’

مالی سال 2024 میں مالی سال 2023 کے مقابلے میں ملازمتوں کی آسامیوں میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ ہوا۔ مالی سال25 میں متحرک کردہ آسامیاں 2.8 کروڑ سے تجاوز کر گئیں اور مالی سال26 کے ستمبر تک یہ تعداد پہلے ہی 2.3 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

مزید برآں، این سی ایس پورٹل کا وزارت خارجہ کے ای- مائیگریٹ سسٹم کے ساتھ انضمام تصدیق شدہ بھرتی ایجنسیوں کو بین الاقوامی ملازمت کے تصدیق شدہ مواقع پوسٹ کرنے کی سہولت دیتا ہے اور روزگار کے خواہشمند افراد کو محفوظ اور نگرانی شدہ حالات میں عالمی مواقع تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب(ایس آئی ڈی ایچ) کے ساتھ انضمام امیدواروں کو ملازمت کے لیے درخواست دینے سے پہلے اپنے ہنر کو بہتر بنانے کی سہولت دیتا ہے۔

جائزہ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ پورٹل نجی پورٹلز کے ساتھ شراکت داری کر کے ‘کیریئر اسکلز’ اور‘ڈیجیٹل اسکلز’ پر مفت آن لائن تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اس وقت یہ پورٹل 30 ریاستی روزگار پورٹلز کے ساتھ مربوط ہے، جن میں سات ریاستیں/مرکزکے زیر انتظام علاقے شامل ہیں، جو براہ راست روزگار خواہش مندوں کی رجسٹریشن کے لیے اس کا استعمال کر رہی ہیں۔

لیبر کوڈز کے ذریعے روزگار میں اضافہ:

 

اقتصادی جائزہ 2025-26 لیبر کوڈز کی روزگار بڑھانے اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ چار لیبر کوڈ-کوڈ آن ویج2019،انڈسٹریل ریلیشن کوڈ2020، کوڈ آن سوشل سیکورٹی 2020 اور پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور ورکنگ حالات کوڈ2020  نے ضوابط کو آسان بنانے کے لیے 29 مرکزی قوانین کو یکجا کیا ہے اور کارکنان کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ ان کوڈز کے نفاذ کا نوٹیفکیشن 21 نومبر 2025 کو جاری کیا گیا۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ کوڈز نے ضابطہ کاری اور لچک کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ کارکنوں کے حقوق کا تحفظ اور سماجی تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ اقدامات 2015 سے 2019 کے درمیان حکومت، آجرین، صنعت کے نمائندوں اور مختلف مزدور یونینز کی سہ فریقی میٹنگز کے  غورو خوض کا نتیجہ ہیں۔

جائزے کے مطابق،کوڈز کا نفاذ محنت کے بازار کی تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس منتقلی کے لیے نجی شعبے کی طرف سے ہم آہنگی اور سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

کمپنیوں کو اپنے نظام کو بہتر بنانا، پالیسیاں اپ ڈیٹ کرنا، ورک فورس کے ماڈلز کا دوبارہ جائزہ لینا اور اپنی ڈیجیٹل تیاری کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ وہ مقابلہ میں رہ سکیں۔ اگرچہ کوڈز ایک متحدہ فریم ورک فراہم کرتے ہیں، لیکن اس فریم ورک کو روزمرہ کے عملی کاموں میں شامل کرنا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے۔

گِگ ورک فورس کے نئے حدود:

اقتصادی جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پالیسی اصلاحات میں حالیہ ترقیات کام کے ڈھانچے کو نئی شکل دے رہی ہیں، لچک پیدا کر رہی ہیں اور رسمی ملازمت کو فروغ دے رہی ہیں۔ لیبر کوڈز نے گِگ اور پلیٹ فارم کارکنوں کو رسمی طور پر تسلیم کیا ہے، جس سے سماجی تحفظ، فلاحی فنڈز اور فوائد کی منتقلی میں اضافہ ہوا ہے۔

گِگ اکانومی، جس میں ڈیلیوری، رائیڈشیئرنگ اور فری لانسنگ شامل ہیں، نے ساختی ترقی دیکھی ہے اور غیر رسمی ملازمتوں کو ایک مربوط ماحولیاتی نظام میں منتقل کیا ہے۔ جائزے کے مطابق،مالی سال 2021 میں 77 لاکھ کارکنوں سے بڑھ کر مالی سال25 میں یہ شعبہ 55 فیصد اضافے کے ساتھ 120 لاکھ کارکنوں تک پہنچ گیا، جس کی وجہ 80 کروڑ سے زائد صارفین میں اسمارٹ فون کی دستیابی اور ماہانہ 15 ارب یو پی آئی لین دین ہیں۔ اب یہ بھارت کی کل  افرادی قوت کا 2 فیصد سے زائد حصہ ہے، اور گِگ کارکنوں کی نمو مجموعی روزگار سے زیادہ تیز ہے، جبکہ غیر زرعی گِگس کا تخمینہ ہے کہ 2029-30 تک  افرادی قوت کا 6.7 فیصد حصہ بنیں گے، جو جی ڈی پی میں 2.35 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ کریں گے۔

جیسا کہ گِگ اکانومی بڑھ رہی ہے، اس کا روزگار اور اقتصادی ترقی پر اثر واضح ہوتا جائے گا۔ اگرچہ یہ آمدنی کے نئے مواقع اور اقتصادی تنوع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے چیلنجز کو حل کرنا طویل مدتی اور منصفانہ ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

کام کے لچکدار اوقات کی ضرورت:

روزگار کے نمونوں میں صنفی پہلو بہت اہم ہیں۔ خود روزگار میں شامل یا گھریلو کاروبار میں حصہ لینے والی خواتین کی شرح، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، نسبتاً زیادہ ہے۔ وزارت شماریات و پروگرام نفاذ ( ایم او ایس پی آئی) کے ذریعہ کیے گئے ٹائم یوز سروے (ٹی یو ایس) کے نتائج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ افراد مختلف سرگرمیوں پر کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔ اقتصادی جائزے میں حوالہ دیے گئے ٹی یو ایس 2024 کے مطابق، خواتین بنیادی نگہداشت کرنے والے ہیں، جہاں 15-59 سال کی عمر کی خواتین میں 41 فیصد اپنے گھریلو افراد کی دیکھ بھال میں حصہ لیتی ہیں، جبکہ مردوں کی شمولیت اسی عمر کے گروپ میں 21.4 فیصد تھی۔

سروے کے شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین کے لیے تنخواہ والی اور غیر تنخواہ والی سرگرمیوں میں مشترکہ وقت مردوں سے زیادہ ہے۔ خواتین گھر کے افراد کے لیے غیر تنخواہ والی سرگرمیوں میں مردوں کے مقابلے میں نمایاں زیادہ وقت صرف کرتی ہیں۔ اگرچہ تنخواہ والی ملازمت میں شامل خواتین بھی کافی وقت دیتی ہیں، لیکن مجموعی شمولیت مردوں کے مقابلے میں کم رہتی ہے۔ یہ اندازے خواتین کارکنوں پر کام کے دوہری بوجھ کو ظاہر کرتے ہیں۔نگہداشت کی سرگرمیوں اور غیر تنخواہ والے کام کے اعتبار سے یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ وہ لچکدار کام کے ماڈلز کی طرف کیوں راغب یا مائل ہو سکتی ہیں۔

***

ش ح۔اک ۔  ش ب ن

UR-ES-25


(रिलीज़ आईडी: 2220350) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Bengali , English , हिन्दी , Tamil , Malayalam