وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا پریاس، سب کا وشواس‘ کے جذبے پر مبنی شمولیتی ترقی نے  بھارت کو قابل ذکر فوائد بہم پہنچائے ہیں


بھارت نے غیر مالیاتی ناداری میں تخفیف کے معاملے میں غیر معمولی ترقی کی ہے؛ بھارت میں ناداری کی شرح  2022-23 میں غیر معمولی تخفیف سے ہمکنار ہوکر 5.3 فیصد کے بقدر رہ گئی

سماجی تحفظاتی اسکیموں کے تحت احاطہ شدہ آبادی  جو 2016 میں 22 فیصد تھی، وہ بڑھ کر 2025 میں بڑھ کر 64.3 فیصد کے بقدر تک پہنچ گئی

حکومت کی سماجی خدمات کی لاگت (ایس ایس ای)  نے مالی برس 2022 اور 2026 کے دورا ن 12 فیصد کے بقدر کی مرکب سالانہ شرح نمو  کے ساتھ سماجی شعبے کی ترقی کے برابر رفتار برقرار رکھی ہے

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 1:56PM by PIB Delhi

حکومت نے قابل استطاعت ہاؤسنگ، سماجی اور خوراک سلامتی، مالی شمولیت، بنیادی سہولتوں تک سب کی رسائی،  اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘ کے جذبے کے ساتھ مجموعی خیر و عافیت اور معیار حیات میں بہتری لانے کے لیے غیر معمولی کوششیں انجام دی ہیں۔  ان کوششوں کے نتیجے میں غریبی ہٹانے اور نابرابری بڑھنے سے روکنے میں قابل ذکر مدد حاصل ہوئی ہے، جس کا ذکر خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ آج پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی جائزے میں  واضح طور  پر کیا گیا ہے۔

اقتصادی جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آمدنی سپورٹ، سماجی تحفظ، مزدور منڈی کا ضابطہ، اور سب کے لیے تعلیم جیسی پالیسیاں پیڑھیوں اور فرد کی تاحیات سماجی نقل و حرکت کے اہداف کو یقینی بنانے میں ریاست کی مدد کرتی ہیں۔

سائبر شہریوں کی خواہشات اور پالیسی کی کوششوں کا عام طور پر غربت اور محرومی کے معیارات کا استعمال کرتے ہوئے اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک میٹرک عالمی بینک(ڈبلیو بی) انٹرنیشنل پاورٹی لائن (آئی پی ایل) ہے، جو خوراک، لباس اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کو برداشت کرنے کے لیے ہر روز کم سے کم رقم کی نمائندگی کرتا ہے۔ جون 2025 میں، ڈبلیو پی نے خط افلاس کو 2.15 امریکی ڈالر سے بڑھا کر 3.00 امریکی ڈالر یومیہ کر دیا، جسے پیسے کی قوت خرید کے لیے 2021 کی قیمتوں میں ایڈجسٹ کیا گیا ۔

اقتصادی سروے اس امر پر روشنی ڈالتا ہے کہ نظر ثانی شدہ آئی پی ایل کے ساتھ، 2022-23 میں ہندوستان میں غربت کی شرح انتہائی غربت کے لیے 5.3 فیصد اور کم درمیانی آمدنی والے غربت کے لیے 23.9 فیصد ہے۔ ڈبلیو بی کے مطابق، ہندوستان نے عالمی بینک کے غربت کے تخمینوں کے ساتھ ساتھ غیر مالیاتی غربت کو کم کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے، تندولکر کمیٹی خط افلاس پر مبنی محققین کے غربت کے تخمینے بھی ہندوستان میں غربت میں تیزی سے اور وسیع البنیاد کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔تخمینہ کے مطابق سال 2011-12 اور 2023-24 کے درمیان، ازسر نو تقسیم سے متعلق کوششوں کے ذریعہ پائیدار اقتصادی ترقی نے  ناداری کی شرح،  جو 2011-12 میں 21.9 فیصد  کےبقدر تھی، اسے گھٹاکر 2022-23 میں 4.7 فیصد کے بقدر کر دیا، اور 2023-24 میں اس میں مزید تخفیف کرکے اسے 2.3 فیصد کے بقدر کر دیا۔ یہ تخمینے  تمام ریاستوں میں ناداری کے معاملات میں دیہی اور شہری علاقوں دونوں جگہ ناداری میں تخفیف کے اشارے دیتے ہیں۔

پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) نیشنل انڈیکیٹر فریم ورک (این آئی ایف ) پیش رفت رپورٹ، 2025، پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک تبدیلی کے پیمانے کو حاصل کرنے میں ان اقدامات کے اثرات کی ایک جامع تصویر فراہم کرتی ہے۔

سماجی تحفظ کے نظام کے تحت آنے والی آبادی 2016 میں 22 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 64.3 فیصد ہو گئی ہے، جو ملک میں سماجی تحفظ کی کوریج میں خاطر خواہ توسیع کی نشاندہی کرتی ہے۔ دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کے بہتر ذرائع استعمال کرنے والی آبادی 16-2015 میں 94.6 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 99.6 فیصد ہوگئی ہے۔ ملک گیر گھریلو برق کاری 2021-22 میں حاصل کی گئی تھی، جب کہ 2019-20 میں 100 فیصد اضلاع کو کھلے میں رفع حاجت سے مبرا(او ڈی ایف) قرار دیا گیا تھا، اور سوچھ بھارت مشن (ایس بی ایم) کے 96 فیصد سے زیادہ مواضعات نے او ڈی ایف پلس کا درجہ حاصل کیا ہے (31 دسمبر 252 تک)۔

حکومت کے عام سماجی خدمات کے اخراجات (ایس ایس ای) نے سماجی شعبے کی ترقی کے ساتھ رفتار برقرار رکھی ہے۔ حکومت کے عام ایس ایس ای نے مالی برس 2022 سے بڑھتے ہوئے رجحان ظاہر کیے ہیں۔ مالی برس 2022 سے مالی برس 2026 (بی ای) کے درمیان پانچ برسوں کی مدت میں، سماجی خدمات کی لاگت  12 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر)  سے ہمکنار ہوئی۔ تعلیم پر لاگت 11 فیصد کے بقدر سی اے جی آر اضافے سے ہمکنار ہوئی، جبکہ صحت پر لاگت  اسی مدت کے دوران 8 فیصد کے بقدر سی اے جی آر اضافے سے ہمکنارہوئی۔

**********

(ش ح –ا ب ن)

UR-ES-24


(रिलीज़ आईडी: 2220328) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Bengali , Gujarati , Kannada , English , हिन्दी , Malayalam