وزارت خزانہ
اقتصادی جائزہ 2025–26: اہم نکات
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 2:18PM by PIB Delhi
پہلے ابتدائی تخمینہ کے مطابق مالی سال 26 کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو کے 7.4 فیصد اور جی وی اے نمو کے 7.3 فیصد رہنے کا اندازہ
ہندوستان کے لیے ممکنہ ترقی کا تخمینہ 7 فی صد لگایا گیا ، مالی سال 27 کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 6.8-7.2 فیصد لگایا گیا
مرکز کی آمدنی مالی سال 25 (پی اے) میں جی ڈی پی کے 9.2 فیصد تک پہنچ گئی
ستمبر 2025 میں ناخالص غیر کارکردگی والے اثاثے (جی این پی اے) کئی دہائیوں کی کم ترین سطح یعنی 2.2 فیصد تک پہنچ گئے
مارچ 2025 تک پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کے تحت 55.02 کروڑ بینک کھاتے کھولے جاچکے ہیں، جن میں سے 36.63 کروڑ کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں
ستمبر 2025 تک منفرد سرمایہ کاروں کی تعداد 12 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جن میں تقریباً 25 فیصد خواتین شامل ہیں
سنہ 2005 سے 2024 کے دوران ہندوستان کا عالمی تجارتی برآمدات میں حصہ تقریباً دوگنا ہوکر 1 فیصد سے بڑھ کر 1.8 فیصد ہوگیا
مالی سال 2024–25 میں خدمات کی برآمدات تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 387.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 13.6 فیصد کی ترقی ظاہر کرتی ہیں
بھارت دنیا کے سب سے بڑے ترسیلات زر (ریمیٹنس) کے وصول کنندہ کے طور پر برقرار ہے، جہاں مالی سال 2024–25 میں ترسیلات زر کی آمد 135.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچی
سولہ جنوری 2026 تک ہندوستان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر 701.4 ارب امریکی ڈالر تک بڑھ گئے، جو 11 ماہ کی درآمدات اور بیرونی قرضوں کے 94 فیصد کو کور کرنے کے لیے کافی ہیں
اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران ملکی سطح پر مہنگائی کی اوسط شرح 1.7 فیصد رہی
ہندوستان کی غذائی اجناس کی پیداوار مالی سال 2024–25 میں تقریباً 3,577.3 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 254.3 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہے
پی ایم - کسان کے آغاز سے اب تک اہل کسانوں کو 4.09 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے
وِکست بھارت–جی رام جی، ایم جی این ای آر ای جی ایس کی ایک جامع قانونی اصلاح ہے، جو دیہی روزگار کو وِکست بھارت 2047 کے طویل مدتی وژن کے مطابق ہم آہنگ کرتی ہے
مالی سال 2025–26 کی پہلی سہ ماہی میں مینوفیکچرنگ جی وی اے 7.72 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 9.13 فیصد بڑھا، جو اقتصادی ڈھانچے کی بحالی کی عکاسی کرتا ہے
14 شعبوں میں پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیموں نے 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی حقیقی سرمایہ کاری کو راغب کیا، جس سے ستمبر 2025 تک 18.7 لاکھ کروڑ روپے سے زائد اضافی پیداوار/فروخت اور 12.6 لاکھ سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئیں
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن نے ملکی صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے، جس کے تحت تقریباً 1.60 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری والے 10 منصوبے شروع کیے گئے ہیں
ہائی-اسپیڈ کوریڈورز کی لمبائی تقریباً دس گنا بڑھ کر 550 کلومیٹر (مالی سال14) سے 5,364 کلومیٹر (مالی سال26، دسمبر 2025 تک) ہوگئی ہے؛ اسی مالی سال میں 3,500 کلومیٹر ریلوے لائنیں بھی شامل کی گئی ہیں
ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی گھریلو ہوابازی مارکیٹ ہے اور ہوائی اڈوں کی تعداد 2014 میں 74 سے بڑھ کر 2025 میں 164 ہو گئی ہے
ڈسکام کے لیے تاریخی تبدیلی؛ مالی سال 2024–25 میں پہلی بار مثبت پی اے ٹی یعنی 2,701 کروڑ روپے کا منافع ریکارڈ کیا گیا
ہندوستان مجموعی قابل تجدید توانائی اور نصب شدہ شمسی صلاحیت میں دنیا میں تیسرے مقام پر ہے
ہندوستان چوتھے ملک کے طور پر خودکار سیٹلائٹ ڈوکنگ (اسپیڈیکس) صلاحیت حاصل کرنے والا بن گیا
پرائمری، اَپر پرائمری اور سیکنڈری مراحل پر مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) بالترتیب 90.9، 90.3 اور 78.7 فیصد ہے
ہندوستان میں اب 23 آئی آئی ٹی، 21 آئی آئی ایم اور 20 ایمس موجود ہیں اور زنجبار اور ابوظہبی میں دو بین الاقوامی آئی آئی ٹی کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں
ہندوستان نے 1990 کے بعد زچہ اور بچہ کی اموات میں کمی کے اقدامات کو تیز کیا اور عالمی اوسط سے بہتر نتائج حاصل کیے ہیں
جنوری 2026 تک، ای-شرم پورٹل پر 31 کروڑ سے زائد غیر منظم شعبے کے مزدور کامیابی کے ساتھ رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے 54 فیصد خواتین ہیں
نیشنل کیریئر سروس پورٹل پر مالی سال 2024–25 میں 2.8 کروڑ سے زائد اسامیوں کی فراہمی ہوئی اور مالی سال 2025–26 کے ستمبر تک یہ تعداد 2.3 کروڑ سے تجاوز کرگئی
کثیر جہتی غربت اشاریہ (ایم پی آئی)، جیسا کہ نیتی آیوگ نے ناپا، 2005–06 میں 55.3 فیصد سے کم ہو کر 2022–23 میں 11.28 فیصد ہوگیا
جائزہ نے حکمت عملی کے تحت مضبوط قومی خود انحصاری کی تجویز دی ہے: یہ ایک تین سطحی متوازن حکمت عملی ہے تاکہ اہم صلاحیتیں پیدا کرے، پیداوار کے اخراجات کم کرے، جدید مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنائے اور خود انحصاری سے بڑھ کر ہندوستان کو عالمی سطح پر اسٹریٹجک طور پر ناگزیر بنا دے
مرکزی وزیر برائے مالیات اور کارپوریٹ امور، محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 2025–26 پیش کیا۔ اقتصادی جائزہ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
معاشی صورت حال
- عالمی ماحول اب بھی نازک ہے۔ ترقی توقعات سے بہتر ہے، لیکن جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی تقسیم اور مالی کمزوریوں کے سبب خطرات زیادہ ہیں۔ ان صدموں کا اثر کچھ وقت کے بعد سامنے آ سکتا ہے۔
- ایسے پس منظر میں، ہندوستان کی کارکردگی نمایاں ہے۔ پہلے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، مالی سال 2025–26 کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح ترقی 7.4 فیصد اور جی وی اے کی شرح ترقی 7.3 فیصد رکھی گئی ہے اور ہندوستان مسلسل چوتھے سال کے لیے سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
- نجی حتمی صارف اخراجات (پرائیویٹ فائنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر) میں مالی سال 2026 میں 7.0 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے اور جی ڈی پی میں اس کا حصہ 61.5 فیصد تک پہنچ گیا، جو 2012 کے بعد سب سے زیادہ ہے (مالی سال 2023 میں بھی یہ حصہ 61.5 فیصد ریکارڈ ہوا تھا)۔ اس ترقی کی پشت پناہی کم مہنگائی، مستحکم روزگار اور بڑھتی ہوئی حقیقی خریداری کی طاقت نے کی ہے۔ مضبوط زرعی کارکردگی نے دیہی علاقوں میں صارف اخراجات کو فروغ دیا، جبکہ شہری علاقوں میں خریداری میں بہتری، ٹیکس میں آسانیوں کی بدولت، مجموعی طلب میں تیزی کی عکاسی کرتی ہے۔
- مالی سال 2026 میں سرمایہ کاری کی سرگرمیاں بھی مستحکم رہیں، جہاں کل طے شدہ سرمایہ کاری (گراس فکسڈ کیپٹل فارمیشن) میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا اور اس کا حصہ جی ڈی پی میں 30 فیصد پر برقرار رہا۔ اس رفتار کی بنیاد مسلسل عوامی سرمایہ کاری اور نجی سرمایہ کاری کی بحالی ہے، جیسا کہ کمپنیوں کے حالیہ اعلان ظاہر کرتے ہیں۔
- ترقی کے سلسلے میں خدمات کا شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں خدمات کے شعبے میں مجموعی پیداوار (جی وی اے) میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا اور پورے سال کے لیے اس کی ترقی کا تخمینہ تقریباً 9.1 فیصد ہے۔ یہ رجحان اس شعبے میں وسیع سطح پر توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔
مالیاتی پیش رفت: معتبر یکجہتی کے ذریعے استحکام قائم کرنا
- حکومت کے محتاط مالی انتظام نے ملک کی اقتصادی اور مالیاتی بنیادوں پر اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ اسی وجہ سے 2025 میں ہندوستان کی تین مرتبہ خود مختار کریڈٹ درجہ بندی میں بہتری آئی۔ مارننگ اسٹار ڈی بی آر ایس، ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز اور رَیٹنگ اینڈ انویسٹمنٹ انفارمیشن (آر اینڈ آئی) نے ہندوستان کا کریڈٹ درجہ بڑھایا۔
- مرکزی حکومت کی آمدنی بھی مضبوط ہوئی، جو مالی سال 2016–2020 میں جی ڈی پی کا اوسطاً 8.5 فیصد تھی، وہ مالی سال 2025 میں 9.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ غیرکارپوریٹ ٹیکس کی بڑھتی ہوئی وصولی ہیں، جو وبا سے پہلے جی ڈی پی کا تقریباً 4 فیصد تھیں اور وبا کے بعد یہ تقریباً 3.3 فیصد تک بڑھ گئیں۔
- براہِ راست ٹیکس کی بنیاد بھی مستقل طور پر وسیع ہوئی، کیونکہ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد مالی سال 2022 میں 6.9 کروڑ سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 9.2 کروڑ ہوگئی۔ ریٹرن میں اضافہ بہتر تعمیل، ٹیکس انتظام میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بڑھتی ہوئی آمدنی کے ساتھ زیادہ افراد کے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کی نشان دہی کرتا ہے۔
- اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران مجموعی جی ایس ٹی کی وصولی 17.4 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو سال بہ سال 6.7 فیصد کے اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ جی ایس ٹی کی آمدنی کی نمو عمومی طور پر موجودہ نامیاتی جی ڈی پی کی نمو کے مطابق ہے۔ ساتھ ہی، اعلیٰ فریکوئنسی کے اشارے مضبوط کاروباری حجم کی نشان دہی کرتے ہیں، کیونکہ اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران مجموعی ای- وے بل کی تعداد 21 فیصد سال بہ سال بڑھ گئی۔
- مرکزی حکومت کے مؤثر سرمایہ جاتی اخراجات (کیپٹل ایکسپینڈیچر) وبا سے پہلے جی ڈی پی کا اوسطاً 2.7 فیصد تھے، جو وبا کے بعد تقریباً 3.9 فیصد ہوگئے اور مالی سال 2025 میں یہ مزید بڑھ کر 4 فیصد تک پہنچ گئے۔
- مرکز نے ریاستوں کے لیے خصوصی سرمایہ جاتی اخراجات کی معاونت (ایس اے ایس سی آئی) کے ذریعے ریاستوں کو ترغیب دی کہ وہ مالی سال 2025 میں سرمایہ جاتی اخراجات کو جی ڈی پی کے تقریباً 2.4 فیصد کے قریب برقرار رکھیں۔
- ریاستی حکومتوں کا مجموعی مالی خسارہ وبا کے بعد جی ڈی پی کا تقریباً 2.8 فیصد رہنے کے بعد مستحکم رہا، جو وبا سے پہلے کے برابر تھا، لیکن حالیہ سالوں میں یہ 3.2 فیصد تک بڑھ گیا، جس سے ریاستی مالیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔
- ہندوستان نے 2020 کے بعد اپنے عمومی سرکاری قرضے (جنرل گورنمنٹ ڈیبٹ) کو جی ڈی پی کے تناسب میں تقریباً 7.1 فیصد پوائنٹس کم کیا اور یہ سب کچھ اعلیٰ سطح کی عوامی سرمایہ کاری جاری رکھتے ہوئے ممکن ہوا۔
مالی انتظام اور مالیاتی وساطت: ضابطہ کاری میں نفاست پیدا کرنا
مالیاتی پہلو
- مالی سال 2026 (اپریل–دسمبر 2025) کے دوران ہندوستان کے مالی اور بینکنگ شعبے نے مضبوط کارکردگی دکھائی، جو حکمت عملی پر مبنی پالیسی اقدامات اور مالیاتی وساطتی چینلز میں ڈھانچہ جاتی مضبوطی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
بینکنگ شعبے کی کارکردگی
- شیڈولڈ کمرشیل بینکوں (ایس سی بی) کی اثاثہ جات کے معیار میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جیسا کہ ان کا جی این پی اے تناسب ستمبر 2025 میں 2 فیصد اور نیٹ این پی اے تناسب 0.5 فیصد رہا، جو بالترتیب کئی دہائیوں کی کم ترین اور تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔
- 31 دسمبر 2025 تک، ایس سی بی کی طرف سے جاری کردہ قرضوں میں سال بہ سال نمو 14.5 فیصد تک پہنچ گئی، جو دسمبر 2024 میں 11.2 فیصد تھی۔
مالی شمولیت
- 2014 میں شروع کئے گئے پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) نے مارچ 2025 تک 55.02 کروڑ بینک کھاتے کھولے، جن میں سے 36.63 کروڑ کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس سے پہلے بینک سے محروم لوگوں کے لیے بنیادی بچت اور لین دین کا انفرا اسٹرکچر قائم ہوا۔
- اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کے تحت ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کاروباری افراد کو 10 لاکھ سے 1 کروڑ روپے تک کے قرضے دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ نئے کاروبار قائم کرسکیں۔
- پی ایم اسٹریٹ وینڈرس آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم کے ذریعے اسٹریٹ وینڈرز کو بغیر ضمانت کے ورکنگ کیپٹل کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
- پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) بہت چھوٹے اور چھوٹے کاروباروں کو، چاہے وہ مینوفیکچرنگ، تجارت، خدمات یا زرعی سرگرمیوں سے متعلق ہوں، مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اکتوبر 2025 تک اس اسکیم کے تحت 55.45 کروڑ قرضہ جاتی کھاتوں میں مجموعی طور پر 36.18 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
مالیاتی شعبے کے دیگر پہلو
- مالی سال 2026 کے دوران (دسمبر 2025 تک) 235 لاکھ نئے ڈی میٹ کھاتے کھولے گئے، جس سے کل کھاتوں کی تعداد 21.6 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ ایک اہم سنگ میل ستمبر 2025 میں حاصل ہوا، جب منفرد سرمایہ کاروں کی تعداد 12 کروڑ سے زیادہ ہوگئی اور ان میں تقریباً ایک چوتھائی خواتین تھیں۔
- میوچل فنڈ انڈسٹری میں بھی توسیع دیکھی گئی۔ دسمبر 2025 کے آخر تک 5.9 کروڑ منفرد سرمایہ کار شامل ہو چکے تھے، جن میں سے 3.5 کروڑ (نومبر 2025 تک) غیر مرکزی اور درمیانے درجے کے شہروں کے رہائشی تھے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مالی شمولیت اب صرف بڑے شہری مراکز تک محدود نہیں رہی۔
- ہندوستان کا پہلا بین الاقوامی مالیاتی خدماتی مرکز گفٹ سٹی میں قائم ہے، جو عالمی سرمایہ کو متوجہ کرنے اور اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول تیار کر رہا ہے۔
شعبے کا مستقبل
- مالیاتی ضابطوں کے معیار میں نظاماتی بہتری کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے، جیسا کہ 2025 میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مشترکہ فائننشل سیکٹر اسیسمنٹ پروگرام (ایف ایس اے پی) میں دیکھا گیا۔ دونوں رپورٹوں نے ہندوستان کے مالیاتی نظام کو مضبوط، متنوع اور شمولیتی قرار دیا، جس میں مالیاتی شعبے کے کل اثاثے سی وائی 2024 میں جی ڈی پی کے تقریباً 187 فیصد تھے اور سرمایہ کاری کے بازار 144 فیصد سے بڑھ کر سی وائی 2024 میں 175 فیصد جی ڈی پی تک پہنچ گئے۔ جائزہ میں یہ بھی پایا گیا کہ بینک اور غیر بینک مالیاتی کمپنیاں (این بی ایف سی) شدید دباؤ کی صورت میں بھی کافی سرمایہ کی بفر رکھنے کے اہل ہیں۔
بیرونی شعبہ: طویل مدتی حکمت عملی
- سنہ 2005 سے 2024 کے درمیان، ہندوستان کا عالمی سامان برآمدات میں حصہ تقریباً دوگنا ہوکر 1 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد ہوگیا، جبکہ عالمی تجارتی خدمات میں اس کا حصہ دوگنا سے بھی زیادہ ہوکر 2 فیصد سے 4.3 فیصد تک پہنچ گیا۔
- یو این سی ٹی اے ڈی کی ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2025 کے مطابق، ہندوستان تجارتی شراکت داروں کے تنوع میں نمایاں رہا، جہاں عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) میں تیسرا نمبر اور عالمی شمال (گلوبل نارتھ) کی تمام معیشتوں سے زیادہ تجارتی تنوع کا اسکور حاصل کیا۔
- مالی سال 2025 میں ہندوستان کی کل برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ کر 825.3 ارب ڈالر ہوگئیں، جو سال بہ سال 6.1 فیصد کی نمو ظاہر کرتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ خدمات کی برآمدات میں مضبوط اضافہ ہے۔
- غیر پٹرولیم برآمدات مالی سال 2025 میں تاریخی سطح 373 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ غیر پٹرولیم، غیر زیورات اور جواہرات کی برآمدات مجموعی سامان برآمدات کا تقریباً چوتھا - پانچواں حصہ بناتی ہیں۔
- خدمات کی برآمدات مالی سال 2025 میں 387.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 13.6 فیصد کی ترقی ظاہر کرتی ہیں اور ہندوستان کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور کاروباری خدمات کا مرکز بنائے رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
- ہندوستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ معتدل رہا، جس کی پشت پناہی خدمات کی برآمدات اور ترسیلات زر سے آنے والے مضبوط نیٹ آمد (اِن فلوز) نے کی، جو سامان کی برآمدات کے خسارے کو پورا کرتے ہیں۔ مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں، ہندوستان کا سی اے ڈی، جی ڈی پی کا تقریباً 1.3 فیصد تھا، جو دیگر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں بہتر تھا۔
- ہندوستان دنیا میں ترسیلات زر کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا، جس کی آمدنی مالی سال 2025 میں 135.4 ارب ڈالر تک پہنچی، جس نے بیرونی کھاتے میں استحکام قائم رکھنے میں مدد دی۔ ترقی یافتہ معیشتوں سے ترسیلات کا حصہ بڑھا، جو ہنرمند اور پیشہ ور کارکنوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
- ہندوستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 16 جنوری 2026 تک 701.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو تقریباً 11 ماہ کی درآمدات کا احاطہ کرتے ہیں اور بیرونی قرضے کے 94 فیصد سے زیادہ کو کور کرتے ہیں، اس طرح بیرونی مالی اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں مضبوط تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
- دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے سست ماحول کے باوجود، ہندوستان غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو اپنی طرف کھینچتا رہا اور اپریل تا نومبر 2025 کے دوران مجموعی ایف ڈی آئی آمدنی 64.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
- 2024 میں ہندوستان نے گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے اعلان میں عالمی سطح پر چوتھا مقام حاصل کیا، جہاں ایک ہزار سے زائد منصوبے شامل تھے اور 2020 سے 2024 کے دوران گرین فیلڈ ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے سب سے بڑی منزل کے طور پر ابھرا۔
مہنگائی: قابو میں اور مستحکم
- ہندوستان نے سی پی آئی (کنزیومر پرائس انڈیکس) کی سلسلہ وار تاریخ کے دوران سب سے کم مہنگائی کی شرح ریکارڈ کی، جہاں اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران اوسط سرخی دار مہنگائی (ایوریج ہیڈلائن انفلیشن) صرف 7 فیصد رہی۔ خردہ مہنگائی میں یہ کمی بنیادی طور پر خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں عمومی کمی کی وجہ سے ہوئی، جو ہندوستان کے سی پی آئی باسکٹ کا تقریباً 52.7 فیصد بنتے ہیں۔
- خاص بات یہ ہے کہ بڑی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر معیشتوں (ای ایم ڈی ای) میں ہندوستان نے 2025 میں 2024 کے مقابلے میں سرخی دار مہنگائی میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی، جو تقریباً 1.8 فیصد پوائنٹس تھی۔
زرعی شعبہ اور خوراک کا انتظام
- مالی سال 2015 سے 2024 کے درمیان، مویشیوں کے شعبے نے زبردست ترقی دیکھی، جس کی مجموعی پیداوار (جی وی اے) تقریباً 195 فیصد بڑھ گئی۔ ماہی گیری کے شعبے نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی، جس میں 2014–2024 کے دوران مچھلی کی پیداوار میں 140 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جو 2004–2014 کے مقابلے میں نمایاں بڑھوتری ہے۔
- اچھی مانسون کی وجہ سے، ہندوستان کی خوراکی اناج کی پیداوار کا تخمینہ 3,577.3 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) لگایا گیا ہے، جو زرعی سال 2024–25 کے دوران پچھلے سال سے 254.3 ایل ایم ٹی زیادہ ہے۔ اس ترقی کی بنیادی وجہ چاول، گندم، مکئی اور دیگر موٹے اناج (شری انیہ) کی بڑھتی ہوئی پیداوار ہے۔
- خوردنی اناج کی پیداوار میں اضافے کے باوجود، پھل اور سبزیوں کا شعبہ (باغبانی)، جو زرعی مجموعی پیداوار (جی وی اے) کا تقریباً 33 فیصد ہے، زرعی ترقی کا اہم محرک بن کر ابھرا ہے۔ مالی سال 2024–25 میں، پھل و سبزیوں کی پیداوار 362.08 ملین ٹن (ایم ٹی) تک پہنچ گئی، جو خوردنی اناج کی متوقع پیداوار 357.73 ایم ٹی سے زیادہ ہے۔
- زرعی مارکیٹنگ اور بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے حکومت آئی ایس اے ایم اور ایگریکلچر انفرا اسٹرکچر فنڈ (اے آئی ایف) کے تحت ایگریکلچر مارکیٹنگ انفرا اسٹرکچر (اے ایم آئی) ذیلی اسکیم پر عمل کر رہی ہے، تاکہ فارم گیٹ سہولیات مضبوط ہوں اور نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی ہو۔ قیمتوں کے تعین کو بہتر بنانے کے لیے ای- نام اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت 31 دسمبر 2025 تک تقریباً 1.79 کروڑ کسان، 2.72 کروڑ تاجر اور 4,698 ایف پی اوز شامل ہوچکے ہیں اور یہ 23 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 1,522 منڈیوں کا احاطہ کرتی ہے۔
- کسانوں کی آمدنی کو گارنٹی شدہ ایم ایس پی کے ذریعے اور پی ایم- کسان آمدنی کی منتقلی کے ذریعے سہارا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، پی ایم کسان مان دھن یوجنا (پی ایم کے ایم وائی) پنشن کے ذریعے کسانوں کی آمدنی کی حفاظت اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرتی ہے۔ آغاز کے بعد سے، پی ایم- کسان کے تحت اہل کسانوں کو 21 قسطوں میں 4.09 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ جاری کیے جا چکے ہیں۔ پی ایم کے ایم وائی کے تحت، 31 دسمبر 2025 تک 24.92 لاکھ کسان رجسٹرڈ ہیں۔
خدمات کا شعبہ: استحکام سے نئے افق تک
- مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں خدمات کا شعبہ جی ڈی پی میں 53.6 فیصد حصہ رکھتا ہے، جبکہ جی وی اے میں اس کا حصہ سب سے زیادہ، یعنی 56.4 فیصد رہا ہے، جیسا کہ مالی سال 26 کے ابتدائی تخمینے (ایف اے ای) ظاہر کرتے ہیں۔ یہ جدید، تجارتی اور ڈیجیٹل خدمات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
- ہندوستان دنیا میں خدمات کے ساتویں سب سے بڑے برآمد کنندہ کے طور پر ابھرا ہے، جہاں عالمی خدمات کی تجارت میں اس کا حصہ 2005 میں 2 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 4.3 فیصد ہوگیا۔
- خدمات کا شعبہ غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا سب سے بڑا وصول کنندہ بنا ہوا ہے، جو مالی سال 2023–25 کے دوران کل ایف ڈی آئی کا اوسطاً 80.2 فیصد رہا، جبکہ وبا سے پہلے (مالی سال 16 سے مالی سال 20) یہ 77.7 فیصد تھا۔
صنعت کا اگلا قدم: ڈھانچہ جاتی تبدیلی اور عالمی یکجہتی
- مالی سال 2026 میں صنعتی سرگرمیاں مضبوط رہیں، جہاں صنعتی شعبے کی مجموعی پیداوار (جی وی اے) پہلی ششماہی میں حقیقی لحاظ سے 7.0 فیصد بڑھ گئی، حالانکہ عالمی سطح پر مشکلات اور سست روی موجود تھی۔
- مینوفیکچرنگ میں نمو تیز ہوئی، جہاں جی وی اے پہلی سہ ماہی میں 7.72 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 9.13 فیصد بڑھا، جو ڈھانچہ جاتی بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔
- پروڈکشن لنکڈ انسنٹیو (پی ایل آئی) اسکیمیں 14 شعبوں میں سرمایہ کاری کو متوجہ کرچکی ہیں، جس میں 2.0 لاکھ کروڑ روپے سے زائد اصل سرمایہ کاری شامل ہے اور اس سے 18.7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ اضافی پیداوار/فروخت اور 12.6 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں (ستمبر 2025 تک)۔
- ہندوستان کی جدت طرازی کی کارکردگی بھی مستحکم رہی اور گلوبل انوویشن انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی 2019 میں 66 ویں سے بڑھ کر 2025 میں 38 ویں مقام تک پہنچ گئی۔
- انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن نے ملکی صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے، جہاں 6 ریاستوں میں 10 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ منصوبے منظور ہوئے اور اس میں تقریباً 1.60 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے۔
سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچہ: کنکٹیوٹی، صلاحیت اور مسابقت کو مضبوط کرنا
- ہندوستان کی حکومت کے سرمایہ جاتی اخراجات تقریباً 4.2 گنا بڑھ گئے ہیں، جو مالی سال 2018 میں 2.63 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026 (بی ای) میں 121 لاکھ کروڑ روپے ہوگئے، جبکہ مالی سال 2026 (بی ای) میں مؤثر سرمایہ جاتی اخراجات 15.48 لاکھ کروڑ روپے ہیں، جس سے بنیادی ڈھانچہ ترقی کا اہم محرک بن گیا ہے۔
- قومی شاہراہوں کا بنیادی ڈھانچہ نمایاں طور پر پھیلا ہے، جہاں این ایچ نیٹ ورک 91,287 کلومیٹر (مالی سال14) سے بڑھ کر تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوکر 1,46,572 کلومیٹر (مالی سال 26، دسمبر تک) ہوگیا اور آپریشنل ہائی اسپیڈ کوریڈور تقریباً دس گنا بڑھ کر 550 کلومیٹر (مالی سال14) سے 5,364 کلومیٹر (مالی سال 26، دسمبر تک) ہو گئے۔
- ریل کا بنیادی ڈھانچہ بھی پھیلتا رہا، جہاں مارچ 2025 تک ریل نیٹ ورک 69,439 کلومیٹر تک پہنچ گیا اور مالی سال 2026 میں مزید 3,500 کلومیٹر کے اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا، جبکہ اکتوبر 2025 تک 99.1 فیصد برق کاری مکمل ہو چکی ہے۔
- ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا مقامی فضائی مارکیٹ بن گیا ہے، جہاں ہوائی اڈوں کی تعداد 2014 میں 74 سے بڑھ کر 2025 میں 164 ہوگئی ہے۔
- بجلی کے شعبے میں مسلسل صلاحیت کی توسیع ہوئی، جہاں نومبر 2025 تک نصب شدہ صلاحیت 11.6 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 509.74 گیگاواٹ تک پہنچ گئی اور طلب و رسد کا فرق مالی سال 14 میں 4.2 فیصد سے گھٹ کر نومبر 2025 تک صفر ہوگیا۔
- بجلی کے شعبے میں اصلاحات نے تاریخی تبدیلی لائی، جہاں ڈسکامز نے مالی سال 2025 میں پہلی بار مثبت منافع بعد از ٹیکس (پی اے ٹی) 2,701 کروڑ روپے ریکارڈ کیا، جبکہ اے ٹی اینڈ سی نقصانات مالی سال 14 میں 22.62 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 25 میں 15.04 فیصد رہ گئے۔ نومبر 2025 تک قابل تجدید توانائی کل بجلی کی پیداوار کی صلاحیت کا تقریباً 49.83 فیصد ہے، اور ہندوستان مجموعی آر ای اور نصب شدہ شمسی صلاحیت میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
- ٹیلی کمیونی کیشن میں بھی ترقی ہوئی، جہاں ٹیلی ڈینسٹی 86.76 فیصد تک پہنچ گئی، اور 5 جی خدمات اب ملک کے 99.9 فیصد اضلاع میں دستیاب ہیں۔
- دیہی علاقوں میں صاف پانی تک رسائی بھی بڑھی ہے، جہاں اکتوبر 2025 تک جل جیون مشن کے تحت 81 فیصد سے زائد دیہی گھروں کو نل کے صاف پانی کی سہولت حاصل ہے۔
- خلائی بنیادی ڈھانچہ بھی مضبوط ہوا، جہاں ہندوستان دنیا کا چوتھا ملک بنا جس نے خودمختار سیٹلائٹ ڈوکنگ (اسپیڈیکس) حاصل کی، ساتھ ہی ملکی خلائی مشنز میں اضافہ اور نجی شعبے کی شمولیت بھی بڑھی۔
ماحول اور موسمیاتی تبدیلی: ایک مضبوط، مسابقتی اور ترقی پسند ہندوستان کی تعمیر
- مالی سال 2025–26 کے دوران (31 دسمبر 2025 تک)، ہندوستان میں مجموعی طور پر 38.61 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت نصب کی گئی، جس میں سولر پاور: 30.16 گیگاواٹ، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی (ونڈ پاور): 4.47 گیگاواٹ، بایو پاور: 0.03 گیگاواٹ، ہائیڈرو پاور: 3.24 گیگاواٹ، شامل ہیں ۔
تعلیم اور صحت: کامیاب اقدامات اور مستقبل کے امکانات
- آج ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے اسکول سسٹمز میں سے ایک چلا رہا ہے، جہاں 14.71 لاکھ اسکولوں میں 24.69 کروڑ طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور انہیں 01 کروڑ سے زیادہ اساتذہ سہارا دے رہے ہیں (یو ڈی آئی ایس ای + 2024–25)۔
- ہندوستان نے بنیادی ڈھانچے اور اساتذہ کی صلاحیت کو مضبوط بنا کر اسکولوں میں داخلے میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں ، جس میں پوشن شکتی نرمان اور سمگر شکشا ابھیان جیسی اسکیمیں رسائی اور مساوات کو فروغ دیتی ہیں ۔ مجموعی اندراج کا تناسب (جی ای آر) پرائمری مرحلے میں 90.9 (گریڈ I سے V)، اپر پرائمری میں 90.3، (گریڈ VI سے VIII)، سیکنڈری مرحلے میں 78.7 ، (گریڈ IX اور X) اور ہائیر سیکنڈری مرحلے میں 58.4 (گریڈ XI اور XII) ہے ۔
اعلیٰ تعلیم
- ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) کی تعداد 2014–15 میں 51,534 سے بڑھ کر جون 2025 تک 70,018 ہوگئی ہے، جس سے تعلیمی رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس اضافے کی خصوصیت یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زبردست نمو ہے۔ 2014–15 سے 2024–25 کے دوران اعلیٰ معیار کے اداروں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ آج ہندوستان میں 23 آئی آئی ٹی، 21 آئی آئی ایم، 20 ایمس موجود ہیں اور ساتھ ہی زنجبار اور ابو ظہبی میں دو بین الاقوامی آئی آئی ٹی کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
- نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) کے تحت اعلیٰ تعلیمی نظام میں متعدد اصلاحات کی گئی ہیں۔
الف۔ نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف)، جو تعلیمی اور مہارت پر مبنی تعلیم کو یکجا کرتا ہے، 170 یونیورسٹیوں نے اپنا لیا ہے۔
- اکیڈمک بینک آف کریڈٹ 2,660 اداروں کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے تحت 4.6 کروڑ سے زیادہ آئی ڈی جاری کیے گئے ہیں، جن میں 2.2 کروڑ آئی ڈی اَپار (آٹومیٹڈ پرماننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری) بھی شامل ہیں۔
(ج) 153 یونیورسٹیوں نے لچکدار داخلہ و اخراج کے راستے اور سال میں دو بار داخلے متعارف کرائے ہیں، تاکہ این ای پی کے تحت 2035 تک 50 فیصد جی ای آر کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
صحت
- 1990 سے ہندوستان نے ماں کی اموات کی شرح (ایم ایم آر) کو 86 فیصد کم کر دیا ہے، جو عالمی اوسط 48 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح (یو5 ایم آر) میں 78 فیصد کمی واقع ہوئی، جو عالمی کمی 61 فیصد سے بڑھ کر ہے۔ اس کے علاوہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح (این ایم آر) میں 70 فیصد کمی آئی، جبکہ عالمی کمی 54 فیصد رہی، یہ تمام اعداد و شمار 1990–2023 کے دوران کے ہیں۔
- گزشتہ دہائی میں انفینٹ مورٹلیٹی ریٹ (آئی ایم آر) بھی 37 فیصد سے زیادہ کم ہوئی، جو 2013 میں 1,000 زندہ بچوں میں 40 اموات سے گھٹ کر 2023 میں 25 اموات تک آ گئی۔
ملازمت اور فروغ ہنرمندی: ہنرمند بنانے کا درست راستہ
- مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں (کیو 2، ایف وائی 26) ، کل 56.2 کروڑ افراد (15 سال اور اس سے زائد عمر کے) ملازمت یافتہ تھے، جو پہلی سہ ماہی (کیو1، ایف وائی 26) کے مقابلے میں تقریباً 8.7 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
- اینول سروےآف انڈسٹریز (اے ایس آئی)، جو منظم مینوفیکچرنگ سیکٹر کا احاطہ کرتا ہے، کے نتائج کے مطابق مالی سال 2024 میں مینوفیکچرنگ شعبے کی مضبوطی ظاہر ہوئی، جہاں گزشتہ سال کے مقابلے میں ملازمت میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ مالی سال 23 کے مقابلے میں مالی سال 24 میں 10 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
- لیبر کوڈز نے اب گِگ اور پلیٹ فارم کارکنوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے اور ان کے لیے سماجی تحفظ، فلاحی فنڈز اور فوائد کی منتقلی کے مواقع بڑھائے ہیں۔
- جنوری 2026 تک، ای- شرم پورٹل نے 31 کروڑ سے زائد غیر منظم کارکنوں کو کامیابی سے رجسٹر کیا ہے، جن میں خواتین کل رجسٹرڈ افراد کا 54 فیصد سے زیادہ ہیں، جس سے صنفی مرکزیت والی فلاحی اسکیموں کی رسائی کافی حد تک مضبوط ہوئی ہے۔
- نیشنل کیریئر سروس (این سی ایس) ایک ون اسٹاپ حل ہے جو روزگار کے خواہش مندوں، آجر اور تربیت فراہم کنندگان کو جوڑتا ہے، جس میں 59 ملین سے زیادہ رجسٹرڈ نوکری خواہ لوگ اور 3 ملین نوکری فراہم کنندگان شامل ہیں اور تقریباً 80 ملین خالی ملازمتوں کو متحرک کرتا ہے۔
ہنر کا ماحولیاتی نظام
- نیشنل اسکیم فار اپ گریڈیشن آف آئی ٹی آئیز کے تحت 1,000 سرکاری آئی ٹی آئیز کو جدید بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جن میں 200 ہب آئی ٹی آئی اور 800 اسپوک آئی ٹی آئی شامل ہیں۔ اس میں شامل اقدامات میں اسمارٹ کلاس رومز، جدید لیباریٹریز، ڈیجیٹل مواد، صنعت کے مطابق طویل اور مختصر مدتی کورسز شامل ہیں، تاکہ طلبہ کو جدید ہنر اور عملی مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔
دیہی ترقی اور سماجی پیش رفت: شراکت داری سے شمولیت تک
- غربت کی حد کو عالمی بینک نے روزانہ 2.15 امریکی ڈالر سے بڑھا کر 3.00 امریکی ڈالر کردیا ہے، جسے 2021 کی قیمتوں کے مطابق پرچیزنگ پاور کے حساب سے ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔ اس نئے پیمانے کے مطابق، 2022–23 میں ہندوستان میں غربت کی شرح شدید غربت 5.3 فیصد، کم سے درمیانے آمدنی والے افراد کی غربت 23.9 فیصد تھی۔
- حکومت کا سماجی خدمات پر خرچ (ایس ایس ای) مالی سال 2022 سے بڑھتے ہوئے رجحان کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
- مالی سال 2025–26 (بی ای) میں سماجی خدمات پر حکومت کا خرچ (ایس ایس ای) جی ڈی پی کا 7.9 فیصد ہے، جو مالی سال 2024–25 (آرای) میں 7.7 فیصد اور 2023–24 میں 7 فیصد تھا۔
دیہی معیشت کی صحت
- دسمبر 2025 تک، سوامتوا اسکیم کے تحت ڈرون سروے 3.28 لاکھ گاؤوں میں مکمل ہو چکا ہے، جب کہ تقریباً 3.44 لاکھ گاؤوں کے لیے ڈرون سروے کا ہدف مقرر تھا۔ تقریباً 1.82 لاکھ گاؤوں کے لیے 2.76 کروڑ پراپرٹی کارڈز تیار کیے جا چکے ہیں۔ لیڈ فرٹیلائزر کمپنیز نے 2023–24 میں اپنے وسائل سے 1,094 ڈرونز، ایس ایچ جی ڈرون دیدیوں کو فراہم کیے، جن میں سے 500 ڈرونز نمو ڈرون دیدی اسکیم کے تحت دیے گئے۔
ہندوستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام کی ترقی: آگے کا راستہ
چھوٹے اور مخصوص کام کرنے والے ماڈلز مختلف شعبوں میں استعمال ہونے سے جدت کو زیادہ یکساں انداز میں پھیلانے، کمپنیوں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں کم کرنے اور ہندوستان کی متنوع اقتصادی صورت حال کے مطابق بہتر طور پر ڈھلنے میں مدد ملتی ہے۔ ہندوستان میں اے آئی کی طلب حقیقی دنیا کے مسائل سے جنم لے رہی ہے، نہ کہ محض قیاسی یا حد درجہ جدید استعمال سے۔ صحت، زراعت، شہری انتظام، تعلیم، آفات سے بچاؤ، اور عوامی انتظامیہ جیسے شعبوں میں، اے آئی نظاموں کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے جو مقامی ہارڈویئر پر کام کریں اور کم وسائل والے ماحول میں مؤثر ہوں۔
شہر کاری: ہندوستان کے شہروں کو شہریوں کے لیے مؤثر بنانا
نمو بھارت ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح تیز رفتار علاقائی رابطے شہری اور مضافاتی مزدور مارکیٹوں کو بدل سکتے ہیں۔ شہروں اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے درمیان سفر کے اوقات میں نمایاں کمی سے لوگوں کے لیے نوکریوں تک رسائی بڑھتی ہے، مرکزی شہروں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور کثیرمرکزی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔
درآمدی متبادل سے لے کر اسٹریٹجک لچک اور اسٹریٹجک لزوم تک
-
-
- ’سودیشی‘ (خود انحصاری) کو ایک منظم حکمت عملی کے طور پر اپنانا چاہیے، کیونکہ ہر درآمدی متبادل ممکن یا فائدہ مند نہیں ہوتا۔ مقامی پیداوار کے لیے ایک منظم نقطۂ نظر تین سطحی فریم ورک کے ذریعے پیش کیا گیا ہے: وہ شعبے جو اہم خطرات اور اعلیٰ اسٹریٹجک ضرورت رکھتے ہیں۔ وہ شعبے جو معاشی طور پر ممکن ہیں اور اسٹریٹجک فوائد فراہم کرتے ہیں۔ وہ شعبے جہاں اسٹریٹجک ضرورت کم یا متبادل مہنگا ہو۔
- نیشنل اِن پُٹ کوسٹ ریڈکشن اسٹریٹجی، مقابلہ جاتی صلاحیت کو بنیادی ڈھانچے کی طرح دیکھتی ہے اور سستے اور قابل اعتماد وسائل کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔
- یہ نقطۂ نظر ’سودیشی‘ سے لے کر اسٹریٹجک لچک اور پھر اسٹریٹجک لزوم تک کی ترقی کو بیان کرتا ہے، جہاں ذہانت پر مبنی درآمدی متبادل قومی طاقت میں سرمایہ کاری کرتا ہے اور بالآخر ہندوستان کو عالمی نظاموں میں اس طرح ضم کر دیتا ہے کہ دنیا’’ہندوستان سے خریدنے کے بارے میں سوچنے‘‘ کی بجائے’’بغیر سوچے ہندوستان سے خریدنے‘‘ کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ م م ۔ م ر
UR-ES-36
(रिलीज़ आईडी: 2220319)
आगंतुक पटल : 13