وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

زرعی ان پٹ کوالٹی میں اضافے، زراعت میں مشینوں و تکنالوجی کے استعمال، منڈی حمایت، فصلوں کا بیمہ اور قرض کے نتیجے میں زبردست مثبت نتائج برآمد ہوئے: اقتصادی جائزہ


6.85 لاکھ سیڈ  ولیجز تیار قائم کیے  گئے اور  بیجوں اور پلانٹنگ مٹیریلس پر ذیلی مشن کے تحت تقریباً 1649.26 لاکھ کوئنٹل کے بقدر معیاری بیج پیدا کیے گئے

مجموعی زرعی رقبے میں مجموعی آبپاشی کے رقبے کا حصہ جو 2001-02 میں 41.7 فیصد کے بقدر تھا، وہ 2022-23 میں بڑھ کر 55.8 فیصد کے بقدر تک پہنچ گیا

25.55 کروڑ سے زائد سوئل ہیلتھ کارڈس جاری کیے گئے

پی ایم کسان کے تحت، 11 کروڑ سے زائد مستحق کاشتکاروں کے لیے 21 قسطوں میں 4.09 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 2:01PM by PIB Delhi

خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی جائزے 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ پیداواریت میں اضافہ کے پس پشت ان سیٹو اور فصل کی کٹائی کے بعد کے اقدامات کارفرما ہیں۔ اقتصادی جائزے 2025-26 میں اس حصولیابی میں اہم کردار ادا کرنے والی مختلف کلیدی پہل قدمیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

معیاری بیج:

بیجوں اور پلانٹنگ مٹیریلس سے متعلق ذیلی مشن (ایس ایم ایس پی)، جو 2014-15 میں شروع کیا گیا تھا، کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کاشتکاروں کو ملک بھر میں بیج کی پیداوار، پروسیسنگ، اسٹوریج اور سرٹیفیکیشن کو فروغ دے کر اعلیٰ معیار کے بیجوں تک رسائی حاصل ہو۔ اس پہل کے تحت 6.85 لاکھ سیڈ ولیج قائم کیے گئے، 1649.26 لاکھ کوئنٹل معیاری بیج تیار کیے گئے، اور 2.85 کروڑ کاشتکاروں کو اس سے فائدہ ہوا۔ مرکزی بجٹ 2025-26 میں اعلی پیداوار والے بیجوں پر ایک قومی مشن کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد تحقیقی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا، آب و ہوا میں لچکدار زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی ترقی اور تبلیغ کو ہدف بنانا، اور 100 سے زیادہ نئی بیجوں کی اقسام کی تجارتی دستیابی کو بہتر بنانا ہے۔

آبپاشی اور پانی کے استعمال میں اثر انگیزی:

آبپاشی کے ذریعہ یقینی پانی تک رسائی  زرعی پیداواریت کا ایک کلیدی عنصر ہے۔ مؤثر آبپاشی نظام کاشتکاروں کے لیے اس وقت پانی کی سپلائی کو یقینی بناتے ہیں جب اس کی ضرورت ہوتی ہے، غذائیت میں اضافہ کرتے ہیں،  زراعت کو موسم کی نیرنگیوں کو برداشت کرنے کے لیے مضبوطی فراہم کرتے ہیں،  فصلوں کے تنوع میں سہولت فراہم کرتے ہیں، اور مختلف فصلوں میں تعاون فراہم کرتے ہیں۔

حکومت پی ڈی ایم سی پروگرام کے تحت ڈرپ اور اسپرنکلر سسٹم کی تنصیب کے لیے چھوٹے اور معمولی کاشتکاروں کو 55 فیصد اور دوسرے کسانوں کو 45 فیصد مالی امداد فراہم کر کے مائیکرو اریگیشن کو فروغ دیتی ہے۔ نتیجتاً، مجموعی آبپاشی کا رقبہ 2001-02 میں 41.7 فیصد سے بڑھ کر 2022-23 میں 55.8 فیصد ہو گیا ہے۔

سوئل ہیلتھ اور متوازن غذائی انتظام کاری:

مٹی کی خراب ہوتی ہوئی صحت، خاص طور پر مٹی کے نامیاتی کاربن میں تخفیف ، ہندوستان میں زرعی پیداوار کے لیے ایک بڑی چنوتی ہے۔ حکومت نے مٹی کی صحت اور زرخیزی کے انتظام کے قومی پروجیکٹ کے تحت سوئل ہیلتھ مینجمنٹ (ایس ایچ ایم) اور سوئل ہیلتھ کارڈ (ایس ایچ سی) اسکیموں کے ذریعے اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، اور نامیاتی کھادوں اور حیاتیاتی کھادوں کے ساتھ کیمیائی کھادوں کو ملا کر مربوط غذائی اجزاء کی انتظام کاری کو فروغ دیا ہے۔ 25.55 کروڑ سے زیادہ کارڈ جاری کیے گئے ہیں (14 نومبر 2025 تک)۔

ہندوستان نے کھاد کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے پہلے ہی اہم اقدامات کیے ہیں۔ غذائیت پر مبنی قیمتوں کا تعین، یوریا کی نیم کوٹنگ، آدھار سے منسلک پوائنٹ آف سیل تصدیق، اور مربوط کھاد کے انتظام کے نظام نے شفافیت، لاجسٹکس اور جسمانی بہاؤ پر کنٹرول کو بہتر بنایا ہے۔

مشینوں کا استعمال اور اجتماعی رسائی:

حکومت نے زراعت میں مشینوں کے استعمال سے متعلق ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم ) کے ذریعے فارم میکانائزیشن کو فروغ دینے، زرعی مشینری کی تربیت اور نمائش کے لیے ریاستی حکومتوں کو مدد فراہم کرنے، کسٹم ہائرنگ سینٹرز (سی ایچ سی) کے قیام، اور کاشتکاروں کو زرعی آلات کی خریداری میں مدد کرنے کے لیے اہم کوششیں کی ہیں۔ 2014-15 اور 2025-26 کے درمیان، اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 25,689 سی ایچ سی قائم کیے گئے ہیں، جن میں 2025-26 (30 اکتوبر 2025 تک) کے دوران قائم کیے گئے 558 سی ایچ سی بھی شامل ہیں۔

بنیادی ڈھانچہ اور منڈی سپورٹ:

زرعی منڈی کے لیے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے، حکومت نے سال 2014 مربوط اسکیم برائے زرعی منڈی (آئی ایس اے ایم) کے تحت زرعی منڈی بنیادی ڈھانچہ (اے ایم آئی) ذیلی اسکیم نافذکی ہے۔

31 دسمبر 2025 تک ، 49796 اسٹوریج پروجیکٹوں کو منظور دی گئی اور اس کے لیے 4832.70 کروڑ روپے کی رقم جاری کی ہے، جبکہ 25009 دیگر منڈی بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹوں کے لیے سبسڈی میں 2193.16 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔

زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف)ایک لاکھ کروڑ روپے کی مالیاتی سہولت کے ساتھ شروع کیا گیا تھا (مالی برس 2021 سے مالی برس 2026 تک، اسے مالی برس 2033 تک توسیع دی گئی ہے)سود کی امداد اور کریڈٹ گارنٹی کے ساتھ فصل کے بعد کے انتظام اور کمیونٹی کاشتکاری کے منصوبوں کے لیے درمیانی مدت کے قرض کی پیشکش کرتا ہے۔

قیمت کے تعین اور خریداروں تک مسابقتی رسائی میں بہتری کے لیے حکومت نے اپریل 2016 میں کل ہند ورچووَل منڈی پلیٹ فارم کے طور پر ای-نام اسکیم کا آغاز کیا ۔ 31 دسمبر 2025 تک، ای-نام کے تحت تقریباً 1.79 کروڑ کاشتکاروں، 2.72 لاکھ کروڑ تاجروں، اور 4698 ایف پی اوز  کو رجسٹر کیا گیا، اور 23 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی 1522 منڈیوں پر احاطہ کیا گیا۔ اجتماعی منڈی کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے، حکومت نے 6860 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ سال 2020 میں ایک نئی ایف پی او اسکیم جاری کی جو 2027-28 تک جاری رہے گی، اس کا مقصد 10000 ایف پی اوز قائم کرنا ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک، 10000 ایف پی اوز کو درج رجسٹر کیا جا چکا ہے۔

چاول اور آمدنی سپورٹ:

قیمت اور آمدنی سپورٹ کی پالیسیاں ضروری ہیں کیونکہ موسم کے جھٹکے، مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ، اور بڑھتی ہوئی ان پٹ لاگت کی وجہ سے فارم کی آمدنی غیر مستحکم رہتی ہے۔ چھوٹے اور معمولی کاشتکاروں کے پاس محدود لچک اور کمزور سودے بازی کی طاقت ہوتی ہے۔ یقینی آمدنی اور مناسب قیمتیں بنیادی استحکام فراہم کرتی ہیں، پیداواری سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، اور قابل عمل زرعی معاش کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ کاشتکاروں کے لیے منافع بخش قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت 22 لازمی فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں (ایم ایس پی) کا اعلان کرتی ہے۔ 2018-19 کے لیے مرکزی بجٹ  نے  ایم ایس پی کو پیداواری  لاگت کے ڈیڑھ گنا کے بقدر رکھنے  کے پہلے سے طے شدہ اصول کا اعلان کیا تھا۔

حکومت نے خریف مارکیٹنگ سیزن (کے ایم ایس )2025-26 کے لیے لازمی خریف اور ربیع کی فصلوں اور ربیع مارکیٹنگ سیزن (آر ایم ایس) 2026-27 کے لیے ایم ایس پی میں اضافہ کا اعلان کیا ہے۔

مزید برآں، پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم – کسان) جیسی یقینی قیمتوں اور اسکیموں کے ذریعے آمدنی کی حمایت نے زرعی شعبے میں زراعت کی آمدنی کو مستحکم کرنے، سرمایہ کاری کو برقرار رکھنے اور ترقی میں مزید تعاون کیا ہے۔ پی ایم کسان کے آغاز سے لے کر اب تک،11 کروڑ سے زائد مستحق کاشتکاروں کو 21 قسطوں میں   4.09 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی جاچکی ہے ۔

زرعی قرض:

زراعت کے لیے غرض رسمی ذرائع جیسے کمرشل بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں  (آر آر بی)، کو آپریٹیوز، چھوٹے مالیاتی بینکوں اور مائیکرو فنانس انسٹی ٹیوشن (ایم ایف آئیز)، اور غیر رسمی ذرائع جیسے منی لینڈرس، تاجروں، اور نجی نیٹ ورکس  سے حاصل ہوتا ہے۔ کلیدی اسکیموں جیسے لیڈ بینک اسکیم اور پرایوریٹی سیکٹر لینڈنگ  کا مقصد ترجیحی زرعی گھرانوں اور دیہی معیشت کے لیے بروقت اور ہدف بند قرض بہم رسانی کو یقینی بنانا ہے۔

گراؤنڈ لیول کریڈٹ (جی ایل سی ) کی تقسیم 28.69 لاکھ کروڑ روپے کے بقدر رہی، جس میں مختصر مدت کے قرضوں کے تحت 15.93 لاکھ کروڑ روپے اور مدتی قرضوں کے تحت 12.77 لاکھ کروڑ روپے شامل ہیں، جو مالی سال 2025 میں 27.5 لاکھ کروڑ  روپے کے ہدف سے زیادہ ہے۔ 31 مارچ 2025 کو ترمیم شدہ سودی معاونت کی اسکیم(ایم آئی ایس ایس) سے مزید تقویت ملی، جس نے 3 فیصد فوری ادائیگی کی ترغیب کے ساتھ 7 فیصد کی رعایتی شرح سود پر قرضوں کی پیشکش کی۔ مالی برس 2015 اور مالی برس 2026 کے درمیان، ایم آئی ایس ایس کے تحت مجموعی طو رپر 1.77 لاکھ کروڑ روپے سبسڈی کے طور پر تقسیم کیے گئے۔

**********

(ش ح –ا ب ن)

UR-ES-20


(रिलीज़ आईडी: 2220234) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali , Gujarati , Kannada , Malayalam