وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

برسوں کے دوران سماجی تحفظ فراہم کرنے والے پنشن اور بیمہ کور میں کی گئی اہم پیش رفت


مورخہ31 دسمبر تک 9.5 فیصد کی سی اے جی آر کے ساتھ، این پی ایس سبسکرائبرز دسمبر 2025 تک بڑھ کر 211.7 لاکھ ہو گئے

این پی ایس ای -شرمک ماڈل کے تحت پی ایف آر ڈی اے سوشل سیکورٹی نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ گِگ ورکرز سمیت ہندوستان کی وسیع غیر رسمی افرادی قوت کو شامل کیا جا سکے

'نان لائف' بیمہ سیگمنٹ میں ساختی تبدیلی؛ مجموعی گھریلو پریمیم  میں صحت کے بیمے کی 41فیصد  حصہ داری

بیمہ کوریج 22,076 بیمہ کنندگان کے دفاتر اور 83 لاکھ تقسیم کاروں کے وسیع  نیٹ ورک کے ذریعہ چلایا جارہا ہے

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 1:44PM by PIB Delhi

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں آج پیش کئے گئے  اقتصادی سروے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ پنشن اور انشورنس کے معاملے میں شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے بیمہ اور پنشن کے لیے انضباطی  اداروں –آئی آر ڈی اے آئی اور پی ایف آر ڈی اے نے مالی شمولیت کو مضبوط بنانے  اور محروم طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جدید اصلاحات کی ہیں۔

پنشن کا شعبہ

سروے اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ پنشن فنڈ ریگولیٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی(پی ایف آر ڈی اے) نے ایک متحرک پنشن سے متعلق نظام پر بنیادی کام کیا ہے، جو اپنے صارفین کے لیے بہت سے اختیارات پیش کرتا ہے اور آبادی کے وسیع خطوط کا احاطہ کرتا ہے۔ ہندوستان کے پنشن کے منظر نامے میں مارکیٹ سے منسلک نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس) ،حکومت کی حمایت یافتہ یونیفائیڈ پنشن اسکیم(یو پی ایس) 2025 میں شروع کی گئی اور وسیع تر کوریج کے لیے ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف) اور اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی) جیسی دیگر اسکیمیں شامل ہیں۔

سروے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک این پی ایس کے 211.7 لاکھ سبسکرائبرز تھے اور 16.1 کروڑ کے اثاثوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ گزشتہ دہائی  (مالی سال 15 سے مالی سال 25) کے دوران این پی ایس کے سبسکرائبرز نے 9.5 فیصد کے سی اے جی آر سے اضافہ کیا ہے اور انتظام کے تحت اثاثے (اے یو ایم) میں تیزی سے 37.3 فیصد کی سی اے جی آر میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح 2016 میں اپنے آغاز کے بعد سے اے پی وائی سبسکرپشنز میں 43.7 فیصد کی مضبوط سی اے جی آرکے ساتھ اضافہ ہوا ہے اور اے یو ایم نے 64.5 فیصد کی سی اے جی آر کے ساتھ مثالی ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔

سروے کا مشاہدہ ہے کہ پی ایف آر  ڈی اے نے ہندوستان کی وسیع غیر رسمی افرادی قوت کا احاطہ کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو وسیع کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اکتوبر 2025 میں شروع کیا گیا این پی ایس ای-شرمک ماڈل پلیٹ فارم (گِگ) کارکنوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور انہیں مرکزی دھارے میں ریٹائرمنٹ کی بچت میں ضم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی ایف آر ڈی اے کسانوں، ایف پی اواراکین اور این پی ایس اور اے پی وائی کے ذریعے اپنی مدد آپ گروپوں کے شرکاء سمیت زراعت کے شعبے میں مزید کارکنوں کو پنشن کوریج لانے کے لیے کسان-پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز) اور ایم ایس ایم ایز کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔

سروے میں اس بات کا تذکرہ کیاگیا ہے کہ کم آمدنی والے اور دیہی گھرانوں میں طویل مدتی ریٹائرمنٹ پروڈکٹس تک محدود آگاہی ہونے کے ساتھ مسلسل آگاہی کے درمیان  فرق موجود ہیں۔ حالیہ کوششیں، جیسے آسان آن بورڈنگ، این پی ایس لائٹ ویریئنٹس، اے پی وائی آؤٹ ریچ مہمات، ای- این پی ایس، ڈیجیٹل کے وائی سی، حصہ جمع کرنے کے لچکدار ڈھانچے اور نابالغوں، گگ ورکرز اور کسان گروپوں پرمرکوز پروڈکٹس، ان دیرینہ کوریج کے فرق کو ختم کرنے میں ہونے والی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہیں۔

سروے کے مطابق بھارت کے پنشن نظام کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ کنٹریبیوٹری اور نان- کنٹریبیوٹری دونوں اقسام کی اسکیموں میں متوازن توسیع میں مضمر ہے۔ ریاستی حکومتوں، کوآپریٹو اداروں، کسان تنظیموں اور گِگ پلیٹ فارم کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے آخری سطح تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔مزید پیش رفت کے لیے ایک اہم شعبہ ضابطہ جاتی ہم آہنگی ہے۔ سروے میں ایسی مطالعات کا حوالہ دیا گیا ہے جو اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ای پی ایف او، پی ایف آر ڈی اے اور ریاستی سطح کے پنشن اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ نظام کی تقسیم کم ہو، پورٹیبلٹی میں بہتری آئے اور حکمرانی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور ہموار بنایا جا سکے۔

سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ این پی ایس، اے پی وائی اور دیگر اسکیموں کے درمیان باہمی ربط  کو وسعت دینا اس وقت ہموار پورٹیبلٹی کو ممکن بنائے گا جب کارکن مختلف شعبوں میں منتقل ہوں یا ہجرت کریں۔ بیمہ سے متعلق صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، رسک ماڈلنگ کے فریم ورک کو بہتر کرنا اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے ذرائع کو فروغ دینا نظام کی مضبوطی اور منافع دونوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔سروے کے مطابق ادارہ جاتی مضبوطی کو مستقل طور پر فروغ دینے کے ساتھ ہندوستان  ایک ایسا پنشن نظام تشکیل دینے کی بہتر پوزیشن میں ہے جو جامع ہو، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور عالمی بہترین طریقۂ کار پر مبنی ہو۔

بیمہ کا شعبہ

 

ہندوستانی بیمہ کا شعبہ ایک نمایاں تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کی بنیاد وژن 2047 تک سب کے لیے بیمہ پر مبنی ہے۔ اقتصادی جائزے میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی بیمہ انضباطی ترقی  سے متعلق اتھارٹی (آئی آر ڈڈی اے آئی) نے اصولوں پر مبنی فریم ورک کی جانب پیش رفت کی ہے، جس کے تحت ضوابط کو یکجا کیا گیا ہے، تعمیلی بوجھ کم ہوا ہے اور انشورنس کمپنیوں کو اختراعات کے لیے زیادہ لچک فراہم کی گئی ہے۔اس دوران سب کا بیمہ سب کی رکشا (انشورنس قوانین میں ترمیم) انشورنس نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور کوریج کو زیادہ جمہوری بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ نان لائف انشورنس سیگمنٹ میں ساختی تبدیلیاں واضح طور پر سامنے آ رہی ہیں، جہاں صحت انشورنس، جو مجموعی گھریلو پریمیم کا 41 فیصد حصہ رکھتی ہے، موٹر انشورنس کو پیچھے چھوڑ کر سب سے بڑا کاروباری شعبہ بن چکا ہے۔ نان لائف شعبے میں خالص ادا شدہ کلیمز مالی سال 2021 کے بعد سے 70 فیصد سے زائد بڑھ کر مالی سال 2025 میں 1.9 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جس کی بنیادی وجہ صحت اور موٹر انشورنس کے شعبے ہیں۔تاہم لائف انشورنس سیگمنٹ مجموعی منظرنامے پر حاوی ہے، جو کل اثاثہ جات زیرِ انتظام (اے یو ایم) کے 91 فیصد پر مشتمل ہے اور تقریباً 75 فیصد پریمیم آمدنی فراہم کرتا ہے۔ سروے کے مطابق مالی سال 2025 میں لائف انشورنس فراہم کنندہ اداروں نے مجموعی طور پر 6.3 لاکھ کروڑ روپےکے فوائد ادا کیے۔

سروے میں بتایاگیا ہے کہ تمام 26 لائف انشورنس کمپنیاں، 26 نان لائف انشورنس کمپنیاں، سات ہیلتھ انشورنس ادارےاور دو خصوصی انشورنس ادارے فعال ہیں اور انہیں 83 لاکھ سے زائد ڈسٹری بیوٹرز کے نیٹ ورک کی معاونت حاصل ہے۔ مارچ 2025 تک انشورنس اداروں کے دفاتر کی مجموعی تعداد 22,076 تھی۔ لوگوں تک اس کی رسائی کے ساتھ ساتھ، تقسیم کا نیٹ ورک- جس میں ایجنٹس، پوائنٹ آف سیلز پرسنز اور ادارہ جاتی شراکت دار شامل ہیں-مالی سال 2021 میں تقریباً 48 لاکھ سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں تقریباً 83 لاکھ تک پہنچ گیا۔

سروے کے مطابق لائف  انشورنس اور انفرادی ہیلتھ انشورنس پالیسیوں پر جی ایس ٹی سے استثنیٰ نے پالیسی ہولڈرز کو خاطر خواہ راحت فراہم کی ہے اور انشورنس خدمات کو زیادہ کفایتی اور قابلِ رسائی بنایا ہے۔ ’سب کا بیمہ، سب کی سرکشا ایکٹ، 2025‘ کا نفاذ انشورنس شعبے میں طویل عرصے سے متوقع اصلاحات کا آغاز کرے گا۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی حد کو 100 فیصد تک بڑھانا، دیگر ترامیم کے ساتھ، کاروبار میں آسانی کو فروغ دیتا ہے اور شعبے کی توسیع کی راہ ہموار کرتا ہے۔

انشورنس شعبہ اس وقت ایک نازک مرحلے پر کھڑا ہے، کیونکہ یہ اب بھی کم نفاذ اور بلند لاگت کے عدم توازن کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ مہنگا تقسیماتی ماڈل ہے جس نے تحفظ کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق، آگے بڑھنے کے لیے فیصلہ کن تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن کے تحت انشورنس اداروں کو تقسیم کے عمل کی ڈیجیٹلائزیشن کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ حصولِ صارف کی لاگت کو معقول بنایا جا سکے اور پالیسی ہولڈرز کے لیے ’قدر بمقابلہ قیمت‘) کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

*****

ش ح- م ش- ع ر

UR-ES-29


(रिलीज़ आईडी: 2220178) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Kannada , Malayalam