وزیراعظم کا دفتر
نئی دہلی میں انڈیا-ای یو بزنس فورم سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کاخطاب
ہندوستان اور یورپی یونین شراکت داری کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں: وزیر اعظم
ہندوستان-یوروپی یونین کے تاریخی ایف ٹی اے سے محنت سے تیار کی گئی مصنوعات کے لیے بازار تک رسائی کا آغاز ہوا: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے ہندوستان-یوروپی یونین کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے پورے معاشرے کی شراکت داری پر زور دیا
ہندوستان-یوروپی یونین کو عالمی ترقی کا ڈبل انجن بننا چاہیے: وزیر اعظم
प्रविष्टि तिथि:
27 JAN 2026 9:21PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں بھارت منڈپم میں انڈیا-یورپی یونین بزنس فورم سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہندوستان-یورپی یونین (ای یو) بزنس فورم میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یوروپی یونین کونسل اور کمیشن کے صدور کا ہندوستان کا دورہ کوئی عام سفارتی دورہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستان-یورپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے ۔ جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پہلی بار ، یوروپی یونین کے رہنما ہندوستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے ، ہندوستان اور یوروپی یونین نے ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ کیا اور آج متعدد سی ای اوز کی موجودگی کے ساتھ ہندوستان-یورپی یونین بزنس فورم اتنے بڑے پیمانے پر منعقد کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حصولیابیاں دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری طاقتوں کے درمیان بے مثال شراکت کی علامت ہیں۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صف بندی اور شراکت داری حادثاتی نہیں ہے ؛ مارکیٹ کی معیشتوں کے طور پر ہندوستان اور یورپی یونین مشترکہ اقدار ، عالمی استحکام کے لیے مشترکہ ترجیحات اور کھلے معاشروں کے طور پر اپنے لوگوں کے درمیان قدرتی روابط کا اشتراک کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مضبوط بنیاد پر شراکت داری نئی بلندیوں پر پہنچ رہی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ بااثر شراکت داری کے طور پر قائم ہو رہی ہے ، جس کے واضح نتائج نظر آرہے ہیں ۔ جناب مودی نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں تجارت دوگنی ہو کر 180 بلین یورو ہو گئی ہے ، ہندوستان میں 6000 سے زیادہ یورپی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ہندوستان میں یورپی یونین کی سرمایہ کاری 120 بلین یورو سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوروپی یونین میں 1500 ہندوستانی کمپنیاں موجود ہیں ، جہاں ہندوستانی سرمایہ کاری تقریباً 40 بلین یورو تک پہنچ گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آج ہندوستان اور یورپی کمپنیاں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ( آر اینڈ ڈی )، مینوفیکچرنگ اور خدمات میں گہرائی سے تعاون کر رہی ہیں اور کاروباری رہنما اس تعاون کے محرک اور مستفید ہو رہے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس شراکت داری کو ’پورے معاشرے کی شراکت داری‘ میں تبدیل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وژن کے ساتھ آج ایک جامع ایف ٹی اے مکمل ہو گیا ہے ، جو ہندوستان کی محنت سے تیار کی گئی مصنوعات کو یورپی یونین کے بازار تک آسان رسائی فراہم کرے گا ۔ جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ٹیکسٹائل ، جواہرات اور زیورات ، آٹو پارٹس اور انجینئرنگ کے سامان سے فائدہ ہوگا ، جبکہ پھل ، سبزیاں ، پروسسڈ فوڈ اور سمندری مصنوعات نئے مواقع پیدا کریں گے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے کسانوں ، ماہی گیروں اور خدمات کے شعبے ، خاص طور پر آئی ٹی ، تعلیم ، روایتی ادویات اور کاروباری خدمات کو بھی براہ راست فائدہ پہنچے گا ۔
وزیر اعظم نے مشاہدہ کیا کہ عالمی سطح پر کاروبار میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے، کمپنیاں اپنی مارکیٹ کی حکمت عملی اور شراکت داری پر دوبارہ غور کر رہی ہیں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے وقت میں یہ ایف ٹی اے کاروباری دنیا کو ایک واضح اور مثبت پیغام بھیجتا ہے ، جو دونوں فریقوں کی کاروباری برادریوں کو لائق ، قابل اعتماد اور مستقبل پر مبنی شراکت داری بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ جناب مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کاروباری لیڈر اس ایف ٹی اے سے پیدا ہونے والے مواقع سے مکمل طور پر مستفید ہوں گے۔
جناب مودی نے مزید کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کئی ایسے ترجیحات رکھتے ہیں جو کاروباری شراکت داریوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے تین اہم ترجیحات بیان کیں: سب سے پہلے، ایک ایسی دنیا میں جہاں تجارت، ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، باہمی انحصار کے خطرات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کاروباری برادری الیکٹرک وہیکل، بیٹریاں، چِپس اوراے پی آئی میں بیرونی انحصار کم کر کے قابل اعتماد سپلائی چین کے لیے مشترکہ آپشن تیار کر سکتی ہے۔ دوسرا، انہوں نے نوٹ کیا کہ ہندوستان اور یورپی یونین دونوں دفاعی صنعتوں اور جدید ٹیکنالوجیز پر توجہ دیتے ہیں اور دفاع، خلا، ٹیلی کام اور مصنوعی ذہانت میں زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ تیسرا ،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صاف اور پائیدار مستقبل دونوں جانب کے لیے ترجیح ہے اور سبز ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور اسمارٹ گرڈز میں مشترکہ تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ صنعتوں کو چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز اور پائیدار موبیلیٹی پر بھی مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے، ساتھ ہی پانی کے انتظام، سرکلر اکنامی اور پائیدار زراعت میں حل تیار کرنے چاہئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے تاریخی فیصلوں کے بعد اب ایک خاص ذمہ داری کاروباری برادری پر عائد ہوتی ہے ۔ ’گیند اب آپ کے کورٹ میں ہے‘ یہ کہتے ہوئے، جناب مودی نے زور دیا کہ اگلا قدم اب کاروباری برادری کو اٹھانا چاہیے ۔ جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ صرف باہمی تعاون کے ذریعے ہی شراکت داری اعتماد ، رسائی اور پیمانے کو حاصل کر سکے گی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی کوششوں سے مشترکہ خوشحالی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سبھی اپنی اپنی طاقتوں کو یکجا کریں اور پوری دنیا کے لیے ترقی کا ڈبل انجن بنیں ۔
یورپی کمیشن کی صدر محترمہ اروسولا وان ڈیر لیین ، ہندوستانی اور یورپی کاروباری رہنما اس تقریب میں موجود تھے ۔
*********
UR-1170
(ش ح۔ م ع ن-ع د)
(रिलीज़ आईडी: 2219459)
आगंतुक पटल : 6