وزیراعظم کا دفتر
ہند-جرمنی کا مشترکہ بیان
प्रविष्टि तिथि:
12 JAN 2026 3:50PM by PIB Delhi
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دعوت پر وفاقی جمہوریہ جرمنی کے وفاقی چانسلر عزت مآب جناب فریڈرک میرز نے 12 سے13 جنوری 2026 تک ہندوستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا ۔ جرمن چانسلر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا جس میں23 سرکردہ جرمن سی ای او اور صنعت کے قائدین شامل تھے ۔
یہ چانسلر فریڈرک میرز کا ہندوستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا اور وفاقی چانسلر کی حیثیت سے ان کا پہلا ایشیائی دورہ تھا ، جو ہند- بحرالکاہل خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر جرمنی کی طرف سے ہندوستان کو دی جانے والی اعلیٰ ترجیح کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ دورہ 25 اکتوبر 2024 کو نئی دہلی میں منعقدہ 7 ویں ہند-جرمنی بین حکومتی مشاورت (آئی جی سی) کے کامیاب انعقاد کے بعد اور 2025 میں ہند-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال مکمل ہونے اور 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے سفر میں اہم موقع پرہوا ہے۔ دونوں لیڈروں نے حکومت ، کاروبار ، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کےدرمیان دو طرفہ روابط میں نئی رفتار کی ستائش کی جس نے اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے اور گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
وزیر اعظم مودی نے احمد آباد میں جرمن چانسلر فریڈرک میرزکا استقبال کیا ۔ دونوں رہنماؤں نے سابرمتی آشرم میں مہاتما گاندھی کے مجسمے پر گلہائے عقیدت نذر کئے اور مشہور پتنگ بازی کے میلے میں شرکت کی ۔ دونوں رہنماؤں نے ہند-جرمنی سی ای او فورم سے بھی خطاب کیا ۔ چانسلر فریڈرک میرز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان کاروباری اور تکنیکی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے والی ملاقات کے ساتھ بنگلور کا بھی دورہ کریں گے ۔
وزیر اعظم مودی اور چانسلر فریڈرک میرز نے 12 جنوری 2026 کو احمد آباد میں محدود اور وفد کی سطح پر بات چیت کی ۔ انہوں نے مشترکہ جمہوری اقدار، ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام کی عہد بندی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے تئیں باہمی احترام کا اعادہ کیا ۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔
دفاع اور سلامتی
لیڈروں نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے نومبر 2025 میں نئی دہلی میں منعقدہ اعلیٰ سطحی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کیا جس میں ادارہ جاتی خدمات کے عملہ کی بات چیت اور فوجی سربراہان کے دورے شامل ہیں۔ لیڈروں نے مشترکہ مشقوں ، تربیت اور سینئر عہدیداروں کے تبادلے کے ذریعے فوج سے فوج کے درمیان تال میل کو گہرا کرنے کے دونوں فریقوں کے عزم کی توثیق کی اور دونوں ممالک کے بحری جہازوں کے باقاعدگی سے باہمی بندرگاہی دورے پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ دونوں لیڈروں نے دونوں ممالک کے درمیان نئی ٹریک1.5 خارجہ پالیسی اور سکیورٹی ڈائیلاگ کے اہتمام کا خیر مقدم کیا ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری2026 میں ہونے والی بحری مشق ملن اور 9 ویں انڈین اوشین نیول سمپوزیم (آئی او این ایس) کی فوجی سربراہان کی کانفرنس، ستمبر 2026 میں فضائی مشق ترنگ شکتی میں شرکت کے جرمنی کے ارادے کا خیرمقدم کیا ، نیز جرمنی کے انفارمیشن فیوژن سینٹر-انڈین اوشین ریجن (آئی ایف سی-آئی او آر) میں رابطہ افسر تعینات کرنے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ۔ دونوں فریقوں نے یورو ڈرون مالے یو اے وی پروگرام کے لیے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) اور آرگنائزیشن فار جوائنٹ آرمامینٹ کوآپریشن (او سی سی اے آر) کے درمیان جاری تال میل پر اطمینان کا اظہار کیا ، جس سے ہندوستان جدید فوجی ٹیکنالوجی کے تعاون اور استعمال کرنے اور یورپ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اور دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے پر قادر ہو گا ۔
دونوں لیڈروں نے تکنیکی شراکت داری، دفاعی پلیٹ فارم اور آلات کی مشترکہ ترقی اور پیدوار سمیت صنعت کی سطح پر طویل مدتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے دفاعی صنعتی تعاون کا روڈ میپ تیار کرنے کے لیے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے کا خیرمقدم کیا۔ ہندوستان نے دفاعی سازوسامان کی برآمدات کی منظوری میں تیزی لانے کے لیے جرمنی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ۔ دونوں لیڈروں نے برلن اور نئی دہلی میں منعقدہ دفاعی گول میزکانفرنس اورسیمینار کے ذریعے ہندوستانی اور جرمن دفاعی کاروباری اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی مشغولیت کی ستائش کی اور اس شعبے میں مستقل تبادلوں کا خیرمقدم کیا۔ دونوں لیڈروں نے آبدوزوں کی ترقی میں مسلسل تعاون ، ہیلی کاپٹروں کے لیے رکاوٹ دور کرنے کے نظام اور کاؤنٹر ان-مینڈ ایرئیل سسٹم (سی-یو اے ایس) کی ستائش کی اور مشترکہ اہداف اور صلاحیت کی تکمیل پر مبنی گہرے تعلقات کی بنیاد پر دفاعی صنعتی تعاون کو بڑھانے ، یعنی ہندوستان کی طرف سے ہنر مند افرادی قوت اور مسابقتی لاگت اور جرمنی کی طرف سے اعلیٰ ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے لیے امید ظاہر کی۔
تربیت اور تبادلے پر باہمی تال میل کے تناظر میں دونوں لیڈروں نے دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان امن برداری کی تربیت پر مفاہمت نامے (ایم او یو) کوحتمی شکل دینے کی طرف پیش رفت، مسلح افواج کے درمیان باہمی لاجسٹک سپورٹ معاہدہ اور ڈی آر ڈی او اور وفاقی دفتر بنڈس ویہرایکویپمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ان-سروس سپورٹ (بی اے اے آئی این بی ڈبلیو) کے درمیان نئی دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں معلومات کے تبادلے کا خیرمقدم کیا ۔
دونوں لیڈروں نے دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی تمام شکلوں اور مظاہر بشمول سرحد پار دہشت گردی کی واضح اور سخت مذمت کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق دہشت گردی سے جامع اور پائیدار طریقے سے نپٹنے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا ۔ انہوں نے 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے اور 10 نومبر 2025 کو دہلی میں دہشت گردانہ کاردھماکہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے دہشت گردوں اور دہشت گردی کے اداروں کے خلاف تال میل کو مستحکم کرنے کا عہد کیا ، جن میں اقوام متحدہ کی1267 سینکشن کمیٹی کی فہرست میں درج افراد اور ادارےبھی شامل ہیں ۔ دونوں فریقوں نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور بنیادی ڈھانچے کے خاتمے کے ساتھ ہی بین الاقوامی قانون کے مطابق دہشت گردی کے نیٹ ورک اورمالی اعانت کو روکنے کے لیے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں ۔ دونوں لیڈروں نے باہمی قانونی امداد کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کیا اور انسداد دہشت گردی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت پیش رفت کو قابل ذکر قرار دیا ۔
تجارت اور معیشت
دونوں لیڈروں نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مسلسل ترقی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ تجارت 2024 میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ، جس کا مثبت رجحان 2025 تک جاری رہا ۔ مصنوعات اور خدمات میں ہند-جرمنی دو طرفہ تجارت سال 2024 میں50 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ، جو یورپی یونین کے ساتھ ہندوستان کی تجارت کا 25 فیصد سے زیادہ ہے ۔ دونوں لیڈروں نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان مضبوط دو طرفہ سرمایہ کاری اور عالمی سپلائی چین کو متنوع بنانے میں اس طرح کی سرمایہ کاری کے مثبت اثرات کا ذکر کیا ۔ انہوں نے ایس ایم ای ، اسٹارٹ اپس ، ڈیجیٹلائزیشن ، اے آئی اور اختراع پر مبنی کاروباری اداروں سمیت غیر استعمال شدہ اقتصادی صلاحیت کو مکمل طور پر حاصل کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جرمن کمپنیوں کو ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی ، کاروبار کے موافق ماحول ، اعلیٰ ہنر مند افرادی قوت اور کام کاج کو بڑھانے کے بے پناہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہندوستان میں اپنے کاروبار ی سرمایہ کاری اور توسیع کرنے کی دعوت دی ۔ جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے جرمنی کو ہندوستانی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام کے طور پر تجویز کیا ۔
وزیر اعظم نریندرمودی اور جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے آئندہ ہند-یوروپی یونین سربراہی اجلاس کے ایک اہم نتیجہ کے طور پر ہند-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کی تکمیل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ، جس سے تجارتی روانی بہتر ہوگی اور ہند-جرمن اقتصادی تعلقات میں مزید رفتار پیدا ہوگی ۔
دونوں لیڈروں نے ہند-جرمن سی ای او فورم کے ذریعے دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے کا خیرمقدم کیا ، جو ہندوستان میں جرمن کاروباروں اور جرمنی میں ہندوستانی کاروباروں کی دیرینہ موجودگی کی حمایت کرکے کاروبار اور صنعت کے تعاون کو مزید فروغ دے گا ۔
وزیر اعظم نریندرمودی اور جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے سی ای او فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کیا اور ٹیکنالوجی ، آٹوموٹیو، دفاع ، جہاز سازی ، اسمارٹ انفراسٹرکچر ، دوا سازی، کیمیکل ، بایو ٹیکنالوجی، صنعتی آلات انجینئرنگ اور توانائی جیسے شعبوں میں مزید کاروباری تعاون اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے دونوں ممالک کے سرکردہ سی ای او اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی ۔
ٹیکنالوجی ، اختراع ، سائنس اور تحقیق
دونوں لیڈروں نے سیمی کنڈکٹر ، اہم معدنیات ، ڈیجیٹلائزیشن ، ٹیلی مواصلات ، صحت اور بایو اکانومی سمیت اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ؛ جو انوویشن اور ٹیکنالوجی پارٹنرشپ روڈ میپ کو مستحکم کرتی ہے ۔
انہوں نے سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم پارٹنرشپ پر نئے مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ایک ادارہ جاتی ڈائیلاگ شروع کرنے پر دونوں ممالک کی بھرپور آمادگی کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے ہندوستانی اور جرمن سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کے درمیان ادارہ جاتی تحقیق اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال مارچ میں گفٹ سٹی میں جرمن ٹیکنالوجی انٹرپرائز انفینون کے ذریعے گلوبل کیپیبلٹی سینٹر (جی سی سی) کے افتتاح کا خیرمقدم کیا ۔
دونوں لیڈروں نے پائیدار سپلائی چین کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اہم معدنیات کے لیے تعاون پر جوائنٹ ڈیکلیریشن آف انٹینٹ (جے ڈی او آئی) کے ذریعہ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کی پیش رفت کو قابل ذکرقرار دیا۔ دونوں ممالک کا مقصد اہم معدنیات کی دریافت ، تحقیق و ترقی ، پروسیسنگ اور ری سائیکلنگ کے ذریعے ویلیو ایڈیشن کے ساتھ ہی دونوں ممالک اور تیسرے ممالک میں اہم معدنی اثاثوں کے حصول اور ترقی کے شعبوں میں مواقع تلاش کرنا ہے ۔
ہند-جرمن ڈیجیٹل ڈائیلاگ کے حوالے سے دونوں لیڈروں نے 27-2026 کے لیے اس کے ورک پلان کو حتمی شکل دینے کا ذکر کیا اور انٹرنیٹ اور ڈیٹا گورننس ، اے آئی ، سیمی کنڈکٹر اور انڈسٹری4.0 اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی پر تعاون کی اہمیت پر زور دیا ۔ دونوں لیڈروں نے ٹیلی مواصلات کے شعبے میں تعاون سے متعلق جے ڈی او آئی پر دستخط کرنے کی ستائش کی۔
دونوں لیڈروں نے ہند-جرمن سائنس اور ٹیکنالوجی سینٹر (آئی جی ایس ٹی سی) کی مدت کار میں توسیع کا ذکر کیا اور جدید مینوفیکچرنگ ، طبی ٹیکنالوجی، پائیدار پیداوار، حیاتیاتی معیشت ، ویسٹ ٹو ویلتھ کے اقدامات اور پائیداری کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں دو طرفہ صنعتی و تعلیمی اسٹریٹجک تحقیق کو فروغ دینے میں آئی جی ایس ٹی سی کے اہم کردار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں لیڈروں نے آئی جی ایس ٹی سی کے تحت (2+2) صنعتی تعلیمی منصوبوں اور سائنس اور انجینئرنگ ریسرچ (ڈبلیو آئی ایس ای آر) میں خواتین کی شمولیت جیسے پروگراموں میں تعاون کی ستائش کی ۔
دونوں لیڈروں نے ڈیجیٹل کنورجنس، بیٹری ٹیکنالوجی ، گرین ٹرانسپورٹیشن اور سستی صحت کی نگہداشت پر توجہ مرکوز کرنے والے انڈو-جرمن سینٹر آف ایکسی لینس آن انوویشن (آئی جی-سی او ای) کے قیام کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ۔ دونوں لیڈروں نے جینومکس ، تھری ڈی بایو پرنٹنگ اور بایومینفیکچرنگ میں انقلابی نتائج فراہم کرنے کے لیے بایو اکانومی پر دو طرفہ تعاون کے آغاز پر اپنی ستائش کا اظہار کیا ۔ دونوں لیڈروں نے فیسلٹی فار اینٹی پروٹون اینڈ آیون ریسرچ (ایف اے آئی آر) اور ڈوئچز الیکٹرون سنکروٹرون (ڈی ای ایس وائی) کی بڑی سائنسی سہولتوں میں ہندوستان کی شرکت سے ظاہر ہونے والی اعلیٰ سطح کی مشغولیت کی بھی ستائش کی اور پی ای ٹی آر اے-III اور ڈی ای ایس وائی میں فری الیکٹران لیزر کی سہولیات میں مسلسل تعاون پر اعتماد کا اظہار کیا ۔
دونوں لیڈروں نے ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) اور جرمن خلائی ایجنسی (ڈی ایل آر) کے درمیان خلائی شعبے میں باہمی تال میل میں اضافے کو قابل ذکر قرار دیا اور دونوں ایجنسیوں کے درمیان تال میل کو مزید وسعت دینے کے امکان کا خیرمقدم کیا ۔ دونوں ممالک نے خلائی صنعت کی سطح پرباہمی مصروفیات کو بڑھانے پر اتفاق کیا ۔
دونوں لیڈروں نے سستی صحت کی نگہداشت کے لیے ثبوت پر مبنی اور عوام پر مرکوز روایتی علاج کے طریقوں کو فروغ دینے کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے روایتی ادویات میں سائنسی تعاون کو فروغ دینے کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید اور جرمنی کی چیریٹی یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط کا خیر مقدم کیا ۔
سبز اور پائیدار ترقیاتی شراکت داری اورقابل تجدید توانائی
دووں لیڈروں نے اس بات کا ذکر کیا کہ 2026 گرین اینڈ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پارٹنرشپ (جی ایس ڈی پی)کے عزم کی مدت کاآدھا وقت ہے اور انہوں نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان اس فلیگ شپ پہل کے نفاذ پر اطمینان کا اظہار کیا ، جس نے پائیدار ترقی اور آب و ہوا کی کار کردگی کی بنیاد پر دو طرفہ تعاون کو تیز کیا ہے اور ایس ڈی جیز اور پیرس معاہدے کے نفاذ کے لیے مضبوط عزم کو مستحکم کیا ہے ۔ جرمن حکومت کی2030 تک 10 بلین یورو کی کل وابستگی میں سے زیادہ تر رعایتی قرضوں کے طور پر تقریباً5 بلین یورو پہلے ہی استعمال کیے جا چکے ہیں یا2022 سے آب و ہوا کےتخفیف اور موافقت ، قابل تجدید توانائی ، پائیدار شہری ترقی ، سبز شہری نقل و حرکت ، قدرتی وسائل کے انتظام ، جنگلات ، حیاتیاتی تنوع ، زرعی ماحولیات ، سرکلر معیشت اور ہنر مندی سے متعلق منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔ اس طرح جی ایس ڈی پی کے تحت بھارت-جرمن تعاون نے حکومت ہند کے فلیگ شپ پروگراموں اور پروجیکٹوں جیسے پی ایم ای- بس سیوا ، سولر روف ٹاپ پروگرام ، نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن ، احمد آباد ، سورت اور بنگلور میٹرو ریل پروجیکٹس ، واٹر ویژن2047 کے ساتھ ساتھ تمل ناڈو میں آب و ہوا کےمضبوط شہری بنیادی ڈھانچے ، مغربی بنگال میں بیٹری اسٹوریج پروجیکٹ ، زرعی فوٹو وولٹک کے شعبے میں نئے بھارت-جرمن تعاون اور عوامی مالیاتی اداروں کے لئے قابل تجدید توانائی کو بڑھانے کے لیےمالی اعانت میں تعاون کیا ہے ۔
دووں لیڈروں نے قابل تجدید توانائی کے لیے مالیات اور سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی اہمیت کا اعادہ کیا اور عالمی سطح پر قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے ہند-جرمنی پلیٹ فارم کے تحت مشترکہ کوششوں کا خیرمقدم کیا، جیسا کہ اکتوبر 2025 میں شمسی توانائی کی تیاری اور ہوا کی توانائی پر مشترکہ ورکنگ گروپس کا آغاز اور ساتھ ہی بیٹری انرجی اسٹوریج سالیوشن پر نئے قائم کیے گئے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا بھی خیر مقدم کیا گیا ۔یہ مشترکہ ورکنگ گروپ قابل تجدید توانائی کے لیے ٹیکنالوجیز، معیارات، ضوابط اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں دو طرفہ تعاون کو مزید گہرا کریں گے اور ہندوستانی اور جرمن کمپنیوں کے درمیان تبادلے اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔
دووں لیڈروں نے گرین ہائیڈروجن پر جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ جس میں ہند-جرمن توانائی فورم کے اندر مشترکہ روڈ میپ کے تحت کام کرنا شامل ہے اور گہرے تکنیکی ، تجارتی اور ریگولیٹری تعاون کے ذریعہ ہندوستان کے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن اور جرمنی کی نیشنل ہائیڈروجن حکمت عملی کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ہندوستان میں ہائیڈروجن کے ضابطوں اور معیارات کو فروغ دینے کے سلسلے میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے قائدین نے پیٹرولیم اور قدرتی گیس ریگولیٹری بورڈ (پی این جی آر بی) اور جرمن ٹیکنیکل اینڈ سائنٹفک ایسوسی ایشن فار گیس اینڈ واٹر انڈسٹریز (ڈی وی جی ڈبلیو)کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کا خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے اے ایم گرین سے یونیپر گلوبل کموڈٹیز کو گرین امونیا کی فراہمی کے لیے ہندوستان کے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت سب سے بڑے آف ٹیک معاہدے پر دستخط کرنے کا بھی خیرمقدم کیا ۔ دونوں لیڈروں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا جو اب تک نجی شعبے میں متعلقہ فریقوں کی طرف سے کی گئی ہے۔ خاص طور پر حال ہی میں ہندوستان میں تیار کردہ گرین امونیا کے لیے بڑے پیمانے پر پابند معاہدہ کیا گیا ہے ۔
دووں لیڈروں نے افریقہ اور لاطینی امریکہ میں سہ رخی ترقیاتی تعاون (ٹی ڈی سی) منصوبوں کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور تیسرے ممالک میں پائیدار اور جامع ترقی کی حمایت کے لیے تکمیلی طاقتوں اور صلاحیتوں کو متحرک کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے گھانا ، کیمرون اور ملاوی میں ٹی ڈی سی منصوبوں کو بڑھانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ۔
ہند-بحرالکاہل ، رابطہ اور عالمی مسائل
دووں لیڈروں نے ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ، یو این سی ایل او ایس سمیت بین الاقوامی قانون کا احترام کیا اور ایک نئے دو طرفہ ہند-بحرالکاہل مشاورتی طریقہ کار کا اعلان کیا ۔ ہندوستان نے خطے میں جرمنی کی مسلسل اور بڑھتی ہوئی مصروفیات کا خیرمقدم کیا۔ جس میں بھارت اور جرمنی کی مشترکہ قیادت میں ہند بحر الکاہل سمندری پہل (آئی پی او آئی)کے صلاحیت سازی اور وسائل کے اشتراک کے ستون کے تحت سرگرمیاں شامل ہیں ۔
انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور(آئی ایم ای سی)کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے قائدین نے عالمی تجارت ، رابطے اور خوشحالی کو نئی شکل دینے اور فروغ دینے میں اس کی تبدیلی کی صلاحیت پر زور دیا ۔ اس تناظر میں وہ اس پہل کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے آئی ایم ای سی کے پہلے وزارتی اجلاس کے منتظر ہیں ۔
ہندوستان اور جرمنی نے عصری حقائق کی عکاسی کرنے کے لیے رکنیت کے مستقل اور غیر مستقل زمروں کی توسیع کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کا اعادہ کیا ۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے آئی جی این میں متن پر مبنی مذاکرات شروع کرنے کی طرف آگے بڑھنے پر زور دیا ۔
دووں لیڈروں نے یوکرین میں جاری جنگ پر تشویش کا اظہارکیا ، جو مسلسل بے پناہ انسانی مصائب اور منفی عالمی نتائج کا باعث بن رہی ہے ۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق یوکرین میں جامع ، منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کو 17 نومبر 2025 کو منظور کرنے کو غزہ میں تنازعہ کے خاتمے کے لیے ایک قدم کے طور پر نوٹ کیا ۔ انہوں نے تمام فریقوں کو اس قرارداد کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی ترغیب دی ۔ انہوں نے غزہ کو انسانی امداد کی بلا روک ٹوک اور بڑے پیمانے پر فراہمی کے ساتھ ساتھ انسانی تنظیموں تک بلا روک ٹوک رسائی کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا اور مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی شکل میں مشرق وسطیٰ میں تنازعہ کے منصفانہ ، دیرپا اور جامع حل کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ۔
دونوں لیڈروں نے آب و ہوا کی تبدیلی پر عالمی کارروائی کو تیز کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور یو این ایف سی سی سی کے عمل کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے پیرس معاہدے کی اہمیت اور بیلم میں سی او پی30 کی توثیق اور حالیہ برسوں میں اس کے تحت لیے گئے فیصلوں پر روشنی ڈالی ، خاص طور پر ایک جسٹ ٹرانزیشن میکانزم اور ٹیکنالوجی کے نفاذ کا پروگرام بنانے کے لیے اور عالمی اسٹاک ٹیک کے لیے پر امید ہیں ۔ انہوں نے آب و ہوا کی کارروائی کو نمایاں طور پر بڑھانے اور آب و ہوا کی مالی اعانت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں کوششوں کو بڑھانے پر زور دیا تاکہ ترقی پذیر ممالک کو سبز اور پائیدار توانائی کے نظام اور معیشتوں کی طرف منصفانہ منتقلی اور آب و ہوا کی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے ۔ انہوں نے اقتصادی ترقی اور غربت میں کمی کے لیے اچھی طرح سے ڈیزائن کردہ آب و ہوا کی کارروائی کی صلاحیت اور قومی اور سرحد پار ویلیو چینز کے ساتھ منتقلی کو تشکیل دینے اور تیز کرنے کے لیے تمام اداکاروں کے ذریعے آب و ہوا کی مالی اعانت کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ۔ انہوں نے قدرتی آفات اور شدید موسمی واقعات کے خطرات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی ، ماحولیاتی انحطاط اور سلامتی کے لیے حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے پیدا ہونے والے مضمرات کو بھی تسلیم کیا۔
انہوں نے عالمی صحت کے چیلنجوں سے نمٹنے میں تعاون کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ جس میں وبائی امراض کی تیاری اور ردعمل ، اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کا مقابلہ کرنا اور سستی صحت کی دیکھ بھال اور ادویہ تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا شامل ہے ۔
تعلیم ، ہنر مندی ، نقل و حرکت اور ثقافت
دووں لیڈروں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عوام سے عوام کے مضبوط تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون ہیں اور انہوں نے طلباء ، محققین، ہنر مند پیشہ ور افراد ، فنکاروں اور سیاحوں کے بڑھتے ہوئے تبادلے کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے تعلیم،تحقیق ، پیشہ ورانہ تربیت ، ثقافت اور نوجوانوں کے تبادلے میں وسیع تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جرمنی کی معیشت ، اختراع اور ثقافتی زندگی میں ہندوستانی برادری کے قیمتی تعاون کو تسلیم کیا ۔ وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی پاسپورٹ یا فتگان کے لیے جرمنی کے ذریعے ٹرانزٹ کرنے کے لیے ویزا فری ٹرانزٹ سہولت کے اعلان پر چانسلر مرز کا شکریہ ادا کیا۔ جس سے نہ صرف ہندوستانی شہریوں کے سفر میں سہولت اور آسانی ہوگی بلکہ لوگوں کے درمیان روابط کو مزید تقویت ملے گی ۔ دونوں فریقوں نے قانونی نقل و حرکت کو مزید مستحکم کرنے اور ملک چھوڑنے کے لیے درکار افراد کی واپسی اور بے قاعدہ ہجرت ، انسانی اسمگلنگ اور دستاویزات اور ویزا دھوکہ دہی کے خلاف لڑنےمیں تعاون کو مستحکم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا [ہجرت اور نقل و حرکت شراکت داری معاہدے (ایم ایم پی اے) کی دفعات کو مکمل طور پر نافذ کرکے۔]
دووں لیڈروں نے جرمنی میں ہندوستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ مشترکہ اور دوہری ڈگری پروگراموں ، باہمی تعاون پر مبنی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم میں ادارہ جاتی شراکت داری کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کا ذکر کیا ۔ جرمنی میں ہندوستانی طلبہ اور گریجویٹس کے ملازمت کے بازار کے انضمام کی حمایت کے لیے بنائے گئے منصوبوں میں بھی گہرے تبادلے کی عکاسی ہوتی ہے ۔ انہوں نے جرمنی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور تکنیکی یونیورسٹیوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے ادارہ جاتی روابط کو گہرا کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیم پر ہند-جرمن جامع روڈ میپ کی تشکیل کا خیرمقدم کیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے معروف جرمن یونیورسٹیوں کو نئی تعلیمی پالیسی کے تحت ہندوستان میں کیمپس کھولنے کی دعوت دی۔
دووں لیڈروں نے ہجرت اورنقل و حرکت شراکت داری معاہدے کے تحت ہنر مند نقل مکانی میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ اس عزم اور جرمن ہنر مند مزدور حکمت عملی کے مطابق دونوں ممالک کا مقصد ہنر مند کارکنوں کی نقل و حرکت کو اس انداز میں آسان بنانا ہے۔ جس سے استحصال سے تحفظ اور بین الاقوامی لیبر معیارات کی تعمیل کو یقینی بناتے ہوئے تمام فریقوں کو فائدہ پہنچے ۔ دونوں لیڈروں نے جے ڈی آئی آن گلوبل اسکلز پارٹنرشپ پر دستخط کرنے کا خیرمقدم کیا ، جو ہنر مند نقل و حرکت کے لیے ایک اخلاقی اور پائیدار فریم ورک بنانے پر مرکوز ہے۔ خاص طور پر کارکنوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کا تحفظ کرتے ہوئے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی جرمنی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے۔قائدین نے قابل تجدید توانائی میں ہنر مندی کے لیےبھارت-جرمن سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کے لیے جے ڈی آئی پر دستخط کرنے کا بھی خیرمقدم کیا ، جو ہندوستانی اور جرمن جاب مارکیٹ کے لیے نصاب کی ترقی ، جرمن اور ہندوستانی صنعت کے ساتھ تعاون اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ٹرینرز کی تربیت میں تعاون کو مضبوط کرے گا ۔ اس تناظر میں دونوں فریق سیکنڈری اسکولوں ، یونیورسٹیوں اور پیشہ ورانہ تعلیمی مراکز سمیت ہندوستان میں جرمن زبان کی تعلیم کو بڑھانے کے مقصد کے لیے پرعزم ہیں۔
ہندوستان اور جرمنی کے درمیان مضبوط تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں ۔ رہنماؤں نے جرمن میری ٹائم میوزیم-لیب انسٹی ٹیوٹ فار میری ٹائم ہسٹری(ڈی ایس ایم)بریمر ہیون اور لوتھل میں نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا ، جو سمندری وراثت پر تعاون کو گہرا کرے گا اور سمندری تاریخ کے مشترکہ عناصر کو ظاہر کرے گا ۔ اس تناظر میں ، عجائب گھر کے تعاون میں نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے ۔ دونوں لیڈروں نے کھیلوں میں تعاون پر جے ڈی او آئی کو حتمی شکل دینے کا خیرمقدم کیا ، جو کھلاڑیوں کی تربیت ، کھیلوں کی حکمرانی ، دیانتداری اور کھلاڑیوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سائنس میں تحقیق میں باہمی تعاون کو مضبوط کرے گا ۔
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے وزیر اعظم نریندر مودی کا ان کی اور ان کے وفد کی گرمجوشی سے میزبانی کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگلی ہند-جرمنی بین حکومتی مشاورت 2026 میں جرمنی میں ہوگی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ۔
****
ش ح۔م ش ع۔م ح۔ ش ت ۔ ا ش ق
U NO: 462
(रिलीज़ आईडी: 2213880)
आगंतुक पटल : 12