وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

گھانا کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کا پریس بیان

Posted On: 03 JUL 2025 2:35AM by PIB Delhi

عزت مآب صدر جان مہاما

دونوں ممالک کے وفود

میڈیا کے تمام دوستو

نمسکار!

تین دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا گھانا کا دورہ ہو رہا ہے۔

میرے لیے یہ ایک انتہائی فخر کی بات ہے کہ مجھے یہ موقع حاصل ہوا۔

‘ایّے می اَنےجے سے میووہا

گھانا میں جس محبت، گرمجوشی اور عزت کے ساتھ ہمارا استقبال کیا گیاہےاس کے لیے میں تہہ دل سے مشکور ہوں۔

صدر محترم خود ایئرپورٹ پر ہمارا استقبال کرنے آئے، یہ میرے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔

دسمبر 2024 کے عام انتخابات میں صدر مہاما دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔ان کی شاندار کامیابی پر میں ایک بار پھر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

یہ گھانا کے عوام کا اُن کی قیادت اور وژن پر گہرے اعتماد کا مظہر ہے۔

دوستو،

بھارت اور گھانا کی دوستی کی بنیاد ہمارے مشترکہ اقدار، جدوجہد اور شمولیت پر مبنی روشن مستقبل کے خوابوں پر ہے۔

 

ہمارے ممالک کی آزادی کی جدوجہد نے کئی دیگر اقوام کو متاثر کیا۔

آج بھی، مغربی افریقہ میں گھانا ایک متحرک جمہوریت کے طور پر دیگر اقوام کے لیے ’’امید کی کرن‘‘ ہے۔

آج صدرِ محترم اور میں نے ہمارے دوطرفہ تعلقات کو ایک ’’جامع شراکت داری‘‘ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

گھانا کی قومی ترقی کے سفر میں بھارت صرف ایک مددگار نہیں، بلکہ ایک ہم سفر ہے۔

یہ عظیم الشان جوبلی ہاؤس، فارین سروس انسٹیٹیوٹ، کوماندا شوگر فیکٹری، انڈیا-گھانا کوفی عنان آئی سی ٹی سینٹر،اور تیما-پکادان ریلوے لائن- یہ صرف اینٹ پتھر نہیں، بلکہ ہماری شراکت داری کی زندہ مثالیں ہیں۔

ہماری دوطرفہ تجارت3  بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

بھارتی کمپنیوں نے تقریباً 900 پروجیکٹ میں تقریباً 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

آج ہم نے باہمی تجارت کو آئندہ 5 برسوں میں دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

فن ٹیک  کے شعبے میں، بھارت یو پی آئی  ڈیجیٹل پیمنٹ (ادائیگی )کا تجربہ گھانا کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوستو،

ترقیاتی شراکت داری، ہمارے تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے۔

صدر مہاما کی معاشی بحالی کی کوششوں میں بھارت کی مکمل حمایت اور تعاون کا ہم یقین دلاتے ہیں۔

آج ہم نے گھانا کے لیے آئی ٹیک اور آئی سی سی آر اسکالرشپ کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نوجوانوں کے لیے پیشہ وارانہ تعلیم کے لئے ایک اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کے قیام پر کام کیا جائے گا۔

زراعت کے شعبے میں، ہمیں صدر مہاما کے "فیڈ گھانا" پروگرام میں تعاون کرنے میں خوشی ہوگی۔

’جن اوشدھی‘ مراکز کے ذریعے، بھارت گھانا کے عوام کو سستی اور قابلِ اعتماد صحت سہولتیں فراہم کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔

ویکسین کی پیداوار میں تعاون کے لیے بھی ہم نے تبادلہ خیال کیا۔

دفاع اور سلامتی کے شعبے میں ہم "یکجہتی کے ذریعے سلامتی" کے اصول پر آگے بڑھیں گے۔

مسلح افواج کی تربیت، سمندری سلامتی، دفاعی سامان کی فراہمی اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں تعاون کو بڑھایا جائے گا۔

قیمتی معدنیات کی تلاش اور کان کنی میں بھارتی کمپنیاں اپنا تعاون دیں گی۔

بھارت اور گھانا پہلے ہی بین الاقوامی سولر الائنس اور کولیشن فار ڈیزاسٹر ریسیلینٹ انفراسٹرکچر جیسے پلیٹ فارمز پر تعاون کر رہے ہیں۔

قابل تجدید توانائی، خاص طور پر صاف کھانا پکانے والی گیس کو فروغ دینے کے لیے گھانا کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے ہم نے انھیں گلوبل بایو ایندھن اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

دوستو،

ہم دونوں گلوبل ساؤتھ کے رکن ہیں اور اس کے مفادات کے تئیں پوری طرح پرعزم ہیں۔

وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ میں ان کی مثبت شرکت کے لیے ہم گھانا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

یہ بھارت کے لیے فخر کی بات ہے کہ ہماری G20 صدارت میں افریقی یونین کو G20 کی مستقل رکنیت حاصل ہوئی۔

ہم نے ساحل کے علاقے سمیت دیگر علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔

ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے۔

دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد میں گھانا کے تعاون پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

اس تناظر میں ہم نے انسداد دہشت گردی میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات کے سلسلے میں ہمارا نظریہ ایک جیسا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں جاری تنازعات پر ہم دونوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہمارا ماننا ہے کہ یہ جنگ کا دورنہیں ہے۔

مسائل کا حل صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ہو نا چاہئے۔

دوستو،

گھانا میں ہندوستانی برادری ہمارے لوگوں سے لوگوں کے تعلقات میں ایک خاص ربط ہے۔

طویل عرصے سے بھارتی اساتذہ، ڈاکٹر اور انجینئر گھانا میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ہندوستانی برادری بھی یہاں کی معاشی اور سماجی ترقی میں مثبت حصہ ڈال رہی ہے ۔

میں کل ہندوستانی کمیونٹی کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں۔

صدرِ محترم،

آپ بھارت کے قریبی دوست ہیں، اور بھارت کو بخوبی جانتے ہیں۔

میں آپ کو بھارت کے دورے کی دعوت دیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہمیں بھارت میں آپ کا استقبال کرنے کا موقع ضرور دیں گے۔

ایک بار پھر، میں آپ کا، گھانا کی حکومت اور گھانا کے تمام لوگوں کا ان کی مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح۔ ش آ۔ص ج)

U. No.2392


(Release ID: 2141730) Visitor Counter : 3