پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 SEP 2024 12:30PM by PIB Delhi
داخلہ و باہمی تعاون کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر چھتیس گڑھ کے نکسلی تشدد کے متاثرین سے بات چیت کی۔ ان میں بستر امن کمیٹی کے زیراہتمام چھتیس گڑھ کے ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں سے نکسلی تشدد سے متاثرہ 55 لوگ شامل ہیں۔

بستر امن کمیٹی نے چھتیس گڑھ میں نکسل ازم سے متاثرہ لوگوں کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی، اس کے علاوہ کچھ متاثرین نے وزیر داخلہ کو اپنی آب بیتی سنائی۔

نکسلی تشدد کے متاثرین سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت مارچ 2026 تک نکسل ازم کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے حکومت، بائیں بازو کی انتہا پسندی اب چھتیس گڑھ کے چند اضلاع تک محدود ہو گئی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ نکسل ازم انسانیت اور ملک کی اندرونی سلامتی دونوں کے لیے خطرہ ہے۔

جناب امت شاہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند اور چھتیس گڑھ کی حکومت اگلے تین مہینوں میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ لوگوں کی مجموعی ترقی کے لیے ایک جامع اسکیم لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے چھتیس گڑھ سمیت پورے ملک میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ افراد صحت کی سہولیات، روزگار کے مواقع اور دیگر فلاحی اسکیموں سے مستفید ہوں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی اسکیموں کے ذریعے مودی حکومت نے نکسلیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ بچانے والا مارنے والے سے بڑا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ نکسل وادیوں کے انسانی حقوق کی وکالت کرنے والوں کو ان لوگوں کے انسانی حقوق پر بھی غور کرنا چاہئے جو نکسل ازم کی وجہ سے نقصان اٹھاتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے بائیں بازو کے انتہا پسندوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کر کے سماج کے مرکزی دھارے میں شامل ہوں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مارچ 2026 تک بائیں بازو کی انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے ساتھ بستر ایک بار پھر خوبصورت، پرامن اور ترقی یافتہ ضلع بن جائے گا۔
*****
ش ح۔ظ ا۔ ع ر
U-182