وزارت خزانہ

ماہ مارچ کے دوران 1.78 لاکھ کروڑ روپئے کے ساتھ دوسرا اعلیٰ ترین ماہانہ مجموعی جی ایس ٹی آمدنی کلکشن حاصل ہوا؛ سال بہ سال بنیاد پر 11.5 فیصد کی نمو (خالص بنیاد پر 18.4فیصد)


سالانہ مجموعی آمدنی 20.14 لاکھ کروڑ روپئے روپئے کے بقدر؛ 11.7 فیصد نمو (خالص بنیاد پر 13.4فیصد)

Posted On: 01 APR 2024 3:41PM by PIB Delhi

ماہ مارچ کے لیے مجموعی اشیاء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) آمدنی  میں 1.78 لاکھ کروڑ روپئے کے ساتھ اب تک کا دوسرا اعلیٰ ترین کلکشن ملاحظہ کیا، اور سال بہ سال بنیاد پر 11.5 فیصد کی نمو درج کی گئی۔ یہ زبردست نمو گھریلو لین دین میں 17.6 فیصد کے بقدر جی ایس ٹی کلکشن کے ساتھ غیر معمولی نمو کے نتیجے میں رونما ہوئی۔ مارچ 2024 کے لیے ریفنڈس کی جی ایس ٹی خالص آمدن 1.65 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر ہے جو کہ گذشتہ برس کی اسی مدت  میں ہوئی آمدن کے مقابلے میں 18.4 فیصد زائد ہے۔

مالی برس 2023-24 کے دوران مضبوط مسلسل کارکردگی: مالی برس 2023-24 20.14 لاکھ کروڑ روپئے کے مجموعی جی ایس ٹی کلکشن کے ساتھ ایک سنگ میل برس رہا، اور یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 20 لاکھ کروڑ روپئے یعنی 11.7  فیصد زائد ہے۔ اس مالی سال کے لیے اوسط ماہانہ کلکشن 1.68 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر رہا، جس نے گذشتہ برس کے 1.5 لاکھ کروڑ روپئے کے اوسط کلکشن کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جاری مالی برس کے لیے مارچ 2024 تک ریفنڈس کی جی ایس ٹی خالص آمدنی 18.01 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر رہی جو کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 13.4 فیصد زائد ہے۔

تمام تر شعبوں میں مثبت کارکردگی:

مارچ 2024 کے کلکشن کی تفصیلات:

مرکزی گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (سی جی ایس ٹی): 34532 کروڑ روپئے؛

ریاستی گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (ایس جی ایس ٹی): 43746 کروڑ روپئے؛

مربوط گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (آئی جی ایس ٹی): 87947 کروڑ روپئے، جس میں درآمداتی اشیاء پر وصول شدہ 40322 کروڑ روپئے  بھی شامل ہیں؛

ٹیکس: 12259 کروڑ روپئے، جس میں درآمداتی اشیاء پر جمع شدہ 996 کروڑ روپئے بھی شامل ہیں۔

 

مکمل مالی برس 2023-24 کلکشن میں مساوی مثبت رجحانات کا مشاہدہ کیا گیا:

مرکزی گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (سی جی ایس ٹی): 375710 کروڑ روپئے؛

ریاستی گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (ایس جی ایس ٹی): 471195 کروڑ روپئے

مربوط گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (آئی جی ایس ٹی): 1026790 کروڑ روپئے، اس میں درآمداتی اشیاء پر وصول شدہ 483086 کروڑ روپئے بھی شامل ہیں؛

ٹیکس: 144554 کروڑ روپئے، اس میں درآمداتی اشیاء پر جمع شدہ 11915 کروڑ روپئے بھی شامل ہیں۔

بین حکومتی نپٹارہ: مارچ 2024 کے دوران، مرکزی حکومت نے  وصول شدہ آئی جی ایس ٹی   سے سی جی ایس ٹی کو 43264 کروڑ روپئے اور ایس جی ایس ٹی کو 37704 کروڑ روپئے کا نپٹارہ کیا۔ یعنی باقاعدہ تصفیے کے بعد ماہ مارچ 2024 میں سی جی ایس ٹی کے لیے مجموعی آمدنی 77796 کروڑ روپئے اور ایس جی ایس ٹی کے لیے مجموعی آمدنی 81450 کروڑ روپئے کے بقدر رہی۔ مالی برس 2023-24 کے لیے، مرکزی حکومت نے وصول شدہ آئی جی ایس ٹی سی سے جی ایس ٹی کو 487039 کروڑ روپئے اور ایس جی ایس ٹی کے لیے 412028 کروڑ روپئے کا نپٹارہ کیا۔

مندرجہ ذیل چارٹ میں جاری مالی برس کے دوران ماہانہ مجموعی جی ایس ٹی آمدنیوں کے رجحانات دکھائے گئے ہیں۔ فہرست-1 میں، مارچ 2023 کے مقابلے میں مارچ 2024  کے دوران ہر ریاست میں وصول شدہ جی ایس ٹی کی ریاست کے لحاظ سے تفصیلات دی گئی ہیں۔ فہرست-2 میں ماہ مارچ 2024 تک ہر ریاست کے جی ایس ٹی آمدن تصفیے کے بعد کی ریاست کے لحاظ سے تفصیلات دی گئی ہیں۔

 

چارٹ: جی ایس ٹی کلکشن میں رجحانات

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0013GQK.jpeg

فہرست 1: مارچ 2024 کے دوران ریاست کے لحاظ سے جی ایس ٹی آمدنی کی نمو

ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ

مارچ – 23

مارچ – 24

نمو (فیصد)

جموں و کشمیر

477

601

26%

ہماچل پردیش

739

852

15%

پنجاب

1,735

2,090

20%

چنڈی گڑھ

202

238

18%

اتراکھنڈ

1,523

1,730

14%

ہریانہ

7,780

9,545

23%

دہلی

4,840

5,820

20%

راجستھان

4,154

4,798

15%

اترپردیش

7,613

9,087

19%

بہار

1,744

1,991

14%

سکم

262

303

16%

اروناچل پردیش

144

168

16%

ناگالینڈ

58

83

43%

منی پور

65

69

6%

میزورم

70

50

-29%

تری پورہ

90

121

34%

میگھالیہ

202

213

6%

آسام

1,280

1,543

21%

مغربی بنگال

5,092

5,473

7%

جھارکھنڈ

3,083

3,243

5%

اُڈیشہ

4,749

5,109

8%

چھتیس گڑھ

3,017

3,143

4%

مدھیہ پردیش

3,346

3,974

19%

گجرات

9,919

11,392

15%

ناگر حویلی اور دمن اور دیو

309

452

46%

مہاراشٹر

22,695

27,688

22%

کرناٹک

10,360

13,014

26%

گوا

515

565

10%

لکشدیپ

3

2

-18%

کیرلا

2,354

2,598

10%

تمل ناڈو

9,245

11,017

19%

پڈوچیری

204

221

9%

انڈمان اور نکوبار جزائر

37

32

-14%

تلنگانہ

4,804

5,399

12%

آندھرا پردیش

3,532

4,082

16%

لداخ

23

41

82%

دیگر علاقے

249

196

-21%

مرکز کا دائرہ اختیار

142

220

55%

کل میزان

1,16,659

1,37,166

18%

 

فہرست-2: اپریل-مارچ  کی مدت میں ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے تصفیہ  کیا گیا آئی جی ایس ٹی کا ایس جی ایس ٹی اور ایس جی ایس ٹی  حصہ (کروڑ روپئے میں)

 

 

ماقبل – ایس جی ایس ٹی تصفیہ

مابعد – ایس جی ایس ٹی تصفیہ

ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقہ

2022-23

2023-24

نمو

2022-23

2023-24

نمو

جموں و کشمیر

2,350

2,945

25%

7,272

8,093

11%

ہماچل پردیش

2,346

2,597

11%

5,543

5,584

1%

پنجاب

7,660

8,406

10%

19,422

22,106

14%

چنڈی گڑھ

629

689

10%

2,124

2,314

9%

اتراکھنڈ

4,787

5,415

13%

7,554

8,403

11%

ہریانہ

18,143

20,334

12%

30,952

34,901

13%

دہلی

13,619

15,647

15%

28,284

32,165

14%

راجستھان

15,636

17,531

12%

35,014

39,140

12%

اترپردیش

27,366

32,534

19%

66,052

76,649

16%

بہار

7,543

8,535

13%

23,384

27,622

18%

سکم

301

420

39%

839

951

13%

اروناچل پردیش

494

628

27%

1,623

1,902

17%

ناگالینڈ

228

307

35%

964

1,057

10%

منی پور

321

346

8%

1,439

1,095

-24%

میزورم

230

273

19%

892

963

8%

تری پورہ

435

512

18%

1,463

1,583

8%

میگھالیہ

489

607

24%

1,490

1,713

15%

آسام

5,180

6,010

16%

12,639

14,691

16%

مغربی بنگال

21,514

23,436

9%

39,052

41,976

7%

جھارکھنڈ

7,813

8,840

13%

11,490

12,456

8%

اُڈیشہ

14,211

16,455

16%

19,613

24,942

27%

چھتیس گڑھ

7,489

8,175

9%

11,417

13,895

22%

مدھیہ پردیش

10,937

13,072

20%

27,825

33,800

21%

گجرات

37,802

42,371

12%

58,009

64,002

10%

دادر اور ناگر حویلی اور دمن اور دیو

637

661

4%

1,183

1,083

-8%

مہاراشٹر

85,532

1,00,843

18%

1,29,129

1,49,115

15%

کرناٹک

35,429

40,969

16%

65,579

75,187

15%

گوا

2,018

2,352

17%

3,593

4,120

15%

لکشدیپ

10

19

93%

47

82

75%

کیرلا

12,311

13,967

13%

29,188

30,873

6%

تمل ناڈو

36,353

41,082

13%

58,194

65,834

13%

پڈوچیری

463

509

10%

1,161

1,366

18%

انڈمان اور نکوبار جزائر

183

206

12%

484

528

9%

تلنگانہ

16,877

20,012

19%

38,008

40,650

7%

آندھرا پردیش

12,542

14,008

12%

28,589

31,606

11%

لداخ

171

250

46%

517

653

26%

دیگر علاقے

201

231

15%

721

1,123

56%

کل میزان

4,10,251

4,71,195

15%

7,70,747

8,74,223

13%

 

**********

 

 (ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:6396



(Release ID: 2016828) Visitor Counter : 88