وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم نے آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم میں 10500 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کے مختلف النوع ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا


’’آندھرا پردیش کے عوام نے ہر میدان میں خوب نام کمایا ہے‘‘

’’ترقی کا راستہ کثیر جہتی ہے۔ یہ عام شہریوں کی ضرورتوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور جدید بنیادی ڈھانچہ کے لیے خاکہ پیش کرتا ہے‘‘

’’ہماری تصوریت مبنی بر شمولیت نمو اور مبنی بر شمولیت ترقی سے وابستہ ہے‘‘

’’پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان نے نہ صرف بنیادی ڈھانچہ تعمیرات کی رفتار میں اضافہ کیا ہے بلکہ پروجیکٹوں کی لاگت میں بھی تخفیف کی ہے‘‘

’’بحری معیشت  پہلی مرتبہ اتنی بڑی ترجیح بن کر ابھری ہے‘‘

Posted On: 12 NOV 2022 12:16PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم میں 10500 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کے مختلف النوع پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کیا جب انہیں وپلو ویرودو الورو سیتارام راجو کی پیدائش کی 125ویں سالگرہ کے موقع پر آندھراپردیش کا دورہ کرنے کا موقع حاصل ہوا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وشاکھا پٹنم ایک بہت ہی خاص شہر ہے جس سے تجارت و کاروبار کی ازحد مالامال روایات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وشاکھاپٹنم ،جو کہ قدیم ہندوستان میں ایک اہم بندرگاہ والا شہر تھا، وہ ہزاروں برس قبل مغربی ایشیا اور روم  کے تجارتی راستے کا حصہ تھا اور  یہ شہر آج کے دور میں بھی بھارتی تجارت کا مرکزی مقام ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 10500 کروڑ روپئے کے بقدر کے پروجیکٹس جنہیں قوم کے نام وقف کیا جا رہا ہے اور جن کا سنگ بنیاد آج رکھا جا رہا ہے، یہ پروجیکٹس بنیادی ڈھانچہ، زندگی بسر کرنا آسان بنانے اور آتم نربھر بھارت کے لیے نئے زاویے پیداکرکے، وشاکھاپٹنم اور آندھراپردیش کی امیدوں اور آرزوؤں کی حصولیابی کے لیے ایک وسیلہ کے طور پر کام کریں گے۔ وزیر اعظم نے بھارت کے سابق نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ آندھراپردیش کے تئیں ان کی محبت اور ایثار بے مثال ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خواہ تعلیم ہو یا صنعت کاری، تکنالوجی ہو یا طبی پیشہ، آندھرا پردیش کے عوام نے ہر میدان میں خوب نام کمایا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ آندھرا پردیش کے عوام کو یہ قبولیت محض ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے دوستانہ اور خوش مزاج رویے کی وجہ سے بھی حاصل ہے۔ وزیر اعظم نے ان پروجیکٹوں پر خوشی کا اظہار کیا جنہیں آج قوم کے نام وقف کیا جا رہا ہے اور جن کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست میں ترقی کی رفتار میں مزید تیزی آئے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’اس امرت کال کے دوران ، ملک ترقی یافتہ بھارت کے مقصد کے ساتھ تیزی سے ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ ‘‘ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ترقی کاراستہ کثیر جہتی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ راستہ عام شہریوں کی ضرورتوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے  اور جدید بنیادی ڈھانچہ کے لیے ایک خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مبنی بر شمولیت نمو کے حکومت کے خواب کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے بنیادی ڈھانچہ ترقی کو لے کر سابقہ حکومتوں کی الگ تھلگ سوچ پر افسوس کا اظہار کیا جس کے نتیجہ میں سپلائی چین کے نظام کو نقصان پہنچا اور لاجسٹکس کی لاگت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے مطلع کیا کہ حکومت نے ترقی کے مربوط نظریہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچہ ترقی کے ایک نئے نقطہ نظر کو اپنایا کیونکہ سپلائی چین اور لاجسٹکس کثیر ماڈل کنکٹیویٹی پر منحصر ہوتے ہیں ۔ آج شروع کیے گئے پروجیکٹوں سے ترقی کے مربوط نظریہ کی مثال پیش کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے مجوزہ اقتصادی گلیارہ پروجیکٹ میں چھ لینوں والی سڑکوں، بندرگاہ کنکٹیویٹی کے لیے ایک علیحدہ سڑک، وشاکھا پٹنم ریلوے اسٹیشن کی تزئین کاری اور جدید ماہی گیری بندرگاہ کی تعمیر کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے ترقی کے اس مربوط نظریہ کا سہرا پی ایم گتی شکتی قوم ماسٹر پلان کے سر باندھا اور کہا کہ اس نے نہ صرف بنیادی ڈھانچہ تعمیرات کی رفتار کو مہمیز کیا بلکہ پروجیکٹوں کی لاگت میں بھی تخفیف کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کثیر ماڈل نقل و حمل نظام ہر شہر کا مستقبل ہے اور وشاکھا پٹنم نے اس سمت میں ایک قدم اٹھایا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش اور اس کے ساحلی علاقے نئی رفتار اور توانائی کے ساتھ ترقی کی اس دوڑ میں آگے بڑھیں گے۔

وزیر اعظم نے بحران زدہ عالمی موسمیات کا ذکر کیا ، اور اہم مصنوعات اور توانائی ضرورتوں کے لیے سپلائی چین کی رخنہ اندازیوں کے بارے میں بات کی۔  وزیر اعظم  نے کہا کہ، تاہم بھارت نے ان مشکل حالات میں ترقی کا ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ دنیا نے اسے تسلیم کیا ہے اور ماہرین بھارت کی حصولیابیوں کی تعریف کر رہے ہیں، اور بھارت پوری دنیا کے لیے امید کا مرکز بن چکا ہے۔یہ اس لیے ممکن ہوا ہے کیونکہ بھارت اپنے شہریوں کی امنگوں اور ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ہر پالیسی اور فیصلہ عام شہریوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔ وزیر اعظم نے بھارت میں افزوں سرمایہ کاری کی وجہ پی ایل آئی اسکیم، جی ایس ٹی، آئی بی سی اور قومی بنیادی ڈھانچہ پائپ لائن جیسی اسکیموں کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا  کہ ، اس کے ساتھ ساتھ ناداروں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیموں کو بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ علاقے جو پہلے حاشیے پر موجود تھے، آج ترقی کے اس سفر میں انہیں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ امنگوں والے اضلاع پروگرام کے توسط سے ازحد پسماندہ اضلاع میں بھی  ترقیاتی اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نے گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران عوام کے لیے مفت راشن، ہر کاشتکار کے کھاتے میں سالانہ 6 ہزار روپئے، اور ڈرون، گیمنگ اور اسٹارٹ اپ سے متعلق قواعد میں نرمی جیسے متعدد اقدامات کا ذکر کیا۔

واضح ہدف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے آندھرا پردیش میں جدید تکنالوجی کے ذریعہ سمندر کی گہرائی سے توانائی حاصل کرنے کی مثال پیش کی۔انہوں نے بحری معیشت پر حکومت کے ذریعہ دی جانے والی توجہ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’پہلی مرتبہ بحری معیشت اتنی بڑی ترجیح بن کر ابھری ہے۔‘‘ انہوں نے ماہی گیروں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈس  اور وشاکھاپٹنم ماہی گیری بندرگاہ کی جدید کاری جیسے اقدامات کا ذکر کیا ، جس کا آغاز آج ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے اس امر کو اجاگر کیا کہ سمندر صدیوں سے بھارت کے لیے خوشحالی کا وسیلہ رہا ہے اور ہمارے سمندری  کنارے اس خوشحالی کے داخلی دروازے کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بندرگاہوں کے لیے ہزاروں کروڑ روپئے کے بقدر کے جاری پروجیکٹوں سے ملک میں ترقی رونما ہوئی ہے اور آج ان پروجیکٹوں کو مزید توسیع سے ہمکنار کیا جائے گا۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیر اعظم نے کہا، ’’21ویں صدی کا بھارت ترقی سے متعلق جامع نظریہ کو زمینی سطح پر لا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آندھرا پردیش  ملک کی اس ترقیاتی مہم میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب وائی ایس آر جگن ریڈی، آندھرا پردیش کے گورنر جناب بسوا بھوشن ہری چندن، مرکزی وزیر اشونی ویشنو، پارلیمنٹ اور آندھرا پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے تقریباً 450 کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے وشاکھاپٹنم ریلوے اسٹیشن کی ازسر نوتعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھا۔ ازسر نو تعمیر شدہ اسٹیشن یومیہ 75000 مسافرین کو سہولت بہم پہنچائے گا اور جدید سہولتیں فراہم کراتے ہوئے مسافرین کے تجربہ کو بہتر بنائے گا۔

وزیر اعظم نے وشاکھاپٹنم ماہی گیری بندرگاہ کی جدید کاری کے لیے بھی سنگ بنیاد رکھا۔ اس پروجیکٹ کی مجموعی لاگت تقریباً 150 کروڑ روپئے کے بقدر ہے۔ اپنی جدیدکاری کے بعد اس ماہی گیری بندرگاہ کی صلاحیت میں دوگنا اضافہ رونما ہوگا اور یہ یومیہ 150 ٹن نقل و حمل سے بڑھ کر یومیہ 300 ٹن نقل و حمل کے بقدر ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ بحری جہاز کی محفوظ لینڈنگ اور اسے اس کے مختص ٹھکانے پر پہنچانا، بندرگاہ میں جہاز کے واپس لوٹنے کے وقت میں تخفیف ، فضلے میں تخفیف اور لاگت کی صحیح منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے چھ لین والے گرین فیلڈ رائے پور – وشاکھاپٹنم اقتصادی گلیارے کے آندھراپردیش سیکشن کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس کی تعمیر 3750 کروڑ روپئے سے زائد کی لاگت سے عمل میں آئے گی۔ اقتصادی گلیارہ چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے وشاکھاپٹنم بندرگاہ اور چنئی کولکاتا قومی شاہراہ کے صنعتی مراکز کے درمیان تیزرفتار کنکوٹیویٹی فراہم کرائے گا۔ اس کے ذریعہ آندھرا پردیش اور اڈیشہ کے قبائلی اور پسماندہ علاقوں میں کنکٹیویٹی میں بہتری واقع ہوگی۔ وزیر اعظم نے وشاکھا پٹنم میں کانوینٹ جنکشن سے شیلا نگر جنکشن تک ایک کلی طور پر وقف بندرگاہ راستے کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ مقامی اور بندرگاہ جانے والے کارگو کو الگ الگ کرکے وشاکھاپٹنم شہر میں نقل و حمل کی بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم نے قومی شاہراہ 326 اے کے نرسناپیٹ سے پتھاپتنم سیکشن کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ اس کی تعمیر 200 کروڑ روپئے سے زائد کی لاگت سے کی گئی ہے اور یہ شری کاکولم-گجپتی گلیارے کا حصہ ہے۔ یہ پروجیکٹ علاقہ میں بہتر کنکٹیویٹی فراہم کرائے گا۔

وزیر اعظم نے آندھرا پردیش میں او این جی سی کے یو – فیلڈ آن شور ڈیپ واٹر بلاک پروجیکٹ کو قوم کے نام وقف کیا، جس کی ترقی 2900 کروڑ روپئے سے زائد کی لاگت سے عمل میں آئی ہے۔ یہ پروجیکٹ گہرے پانی میں گیس کی تلاش سے متعلق ہے، جس کے ذریعہ یومیہ تقریباً تین ملین میٹرک اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر (ایم ایم ایس سی ایم ڈی) گیس کی پیداواری صلاحیت حاصل ہوگی۔ وزیر اعظم گیل کے شری کاکولم انگول قدرتی گیس پائپ لائن پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جس کی صلاحیت 6.65 ایم ایم ایس سی ایم ڈی کے بقدر ہوگی۔ اس 745 کلو میٹر طویل پائپ لائن کی تعمیر 2650 کروڑ روپئے سے زائد کی لاگت سے عمل میں آئے گی۔ قدرتی گیس گرڈ (این جی جی) کا حصہ ہونے کے ناطے، پائپ لائن آندھراپردیش اور اڈیشہ کے مختلف اضلاع کے رہائشی علاقوں ، صنعتوں، کاروباری اکائیوں اور موٹرگاڑی شعبوں کے لیے قدرتی گیس کا ایک اہم بنیادی ڈھانچہ تیار کرے گی۔پائپ لائن آندھراپردیش کے شری کاکولم اور وجی نگر اضلاع میں شہری گیس تقسیم نیٹ ورک کو قدرتی گیس سپلائی کرے گی۔

 

******

 

ش ح۔ا ب ن۔ م ف

U-NO.12450



(Release ID: 1875445) Visitor Counter : 60