کابینہ

کابینہ نے خریداروں کے طور پر کوآپریٹیوز کوحصولیابی کی  اجازت دینے کے لیے گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس-  اسپیشل پرپز وہیکل (جی ای ایم - ایس پی وی) کے دائرہ اختیارات میں توسیع کو منظوری دی


اس اقدام سے کوآپریٹیوز کو مسابقتی  قیمتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی


Posted On: 01 JUN 2022 4:38PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے جی ای ایم  پر  خریداروں کے طور پر کوآپریٹیوز کو حصولیابی  کی اجازت دینے کے مقصد سے  جی ای ایم کے  دائرہ اختیار میں توسیع کو منظوری دے دی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2022-06-01at5.19.59PMTSQC.jpeg

گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) کا آغازحکومت ہند کی کامرس و صنعت کی وزارت نے  9 اگست 2016 کو کیا تھا، جس کا مقصد  سرکاری خریداروں کے لیے ایک کھلا اور شفاف حصولیابی کا  پلیٹ فارم تیار کرنا  تھا۔اس سلسلے میں 12 اپریل 2017 کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے  مطابق  17 مئی 2017 کو نیشنل پبلک پروکیورمنٹ پورٹل کے طور پر گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای  ایم ایس پی وی) کے نام سے ایک اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ  پلیٹ فارم تمام سرکاری خریداروں: مرکزی اور ریاستی وزارتوں، محکموں، سرکاری شعبے کی صنعتوں، خود مختار اداروں، مقامی اداروں  وغیرہ کے لئے کھلا ہے۔ موجودہ حکم نامے کے مطابق، جی ای ایم نجی شعبے کے خریداروں کے استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ سپلائرز (فروخت کنندگان) سرکاری یا نجی تمام شعبوں سے ہو سکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2022-06-01at5.19.59PM(1)4SOB.jpeg

استفادہ کنندگان کی تعداد:

اس پہل سے 8.54 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ کوآپریٹیو اور ان کے 27 کروڑ ارکان کو فائدہ ہوگا۔ جی ای ایم پورٹل ملک بھر میں  تمام خریداروں اور  فروخت کنندگان  کے لیے کھلا ہے۔

تفصیلات:

1۔ عام استعمال کے لئے  اشیاء اور خدمات کی آن لائن حصولیابی کی  سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک ون اسٹاپ پورٹل کے طور پر جی ای ایم کو پہلے ہی کافی حد تک تیار کیا گیا ہے۔ یہ شفاف، موثر ہے  اور بڑے  پیمانے کی اور تیز  رفتار حصولیابی  کی سہولت فراہم کراتاہے۔

2۔ جی ای ایم پر خریداروں  کے طور پر کوآپریٹو سوسائٹیوں کو رجسٹریشن  کرانے کی اجازت دیے سے  کوآپریٹیو کو ایک  کھلے اور شفاف عمل کے ذریعے مسابقتی قیمتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

3۔پائلٹ کے طور پر  جی ای ایم پر  لائی جانے والے کوآپریٹیو کی تصدیق شدہ فہرست  کے ساتھ ساتھ  بعد میں اضافے  کا فیصلہ  امداد باہمی کی وزارت  جی ای ایم، ایس پی وی کے  مشورے سے کرے گی۔  اس سے  جی ای ایم  پر خریداروں کے طور پر کوآپریٹو کی لانے  کی رفتار کا تعین  کرتے وقت جی ای ایم سسٹم کی تکنیکی صلاحیت اور لاجسٹکس کی ضروت پر غور کئے جانے کو یقینی بنایا جائے گا۔

4۔ جی ای ایم کوآپریٹیوز کے لیے ایک وقف شدہ آن بورڈنگ پروسیس فراہم کرائے گا اور موجودہ پورٹل پر اضافی یوزرزکو شامل کرنے کے لیے تکنیکی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرائے گا اور  ساتھ ہی دستیاب رابطہ مراکز، انفیلڈ ٹریننگ اور دیگر امدادی  خدمات کے ذریعے  آن بورڈنگ اور ٹرانزیکشن  کے سفر  کے لئے   کوآپریٹیو کو مدد فراہم کرائے گا۔

5۔ امداد باہمی کی وزارت زیادہ شفافیت، کارکردگی اور مسابقتی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کے مقصد  سے اشیا اور خدمات کی حصولیابی  کے لئے جی ای ایم پلیٹ فارم کا استعمال کے واسطے کوآپریٹو سوسائٹیوں  کی حوصلہ افزائی  کے لیے ضروری مشاورتی نوٹ  جاری کرے گی۔

6۔ جی ای ایم پر وسیع تر فروخت کنندہ برادری کے مفادات کی حفاظت کرنے اور وقت  پر ادائیگیوں کو یقینی بنانے کے لیے، ادائیگی کے نظام کے طریقوں کا تعین جی ای ایم  امداد باہمی کی وزارت کے مشورے سے کرے گی۔

نفاذ کی حکمت عملی اور اہداف:

جی ای ایم اس سلسلے میں مناسب  کارروائیاں کرے گی، جن  میں جی ای ایم پورٹل پر ضروری خصوصیات اور افعال کی تخلیق، بنیادی ڈھانچے کا اپ گریڈیشن، ہیلپ ڈیسک اور تربیتی ایکو سسٹم کو  مستحکم کرنا  اور کوآپریٹیوز کی آن بورڈنگ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس کار کو انجام دینے کی  رفتار اور میکانزم  کا فیصلہ امداد باہمی کی وزارت  کرے گی۔ اس سلسلے میں سنگ میل اور نشانوں  کی تاریخوں کو امداد باہمی کی وزارت  اور جی ای ایم (کامرس و صنعت کی وزارت) کے  باہمی اتفاق سے طے کیا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2022-06-01at5.20.00PMY3S9.jpeg

روزگار پیدا کرنے کے امکانات سمیت اس پہل  اثرات:

امداد باہمی کی وزارت چاہتی تھی کہ کوآپریٹو سوسائٹیوں کو جی ای ایم سے اشیا اور خدمات حصولیابی کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ عام استعمال کی اشیاء اور خدمات کی آن لائن حصولیابی  کی سہولت فراہم کرانے کے لئے ایک ون اسٹاپ پورٹل کے طور پر اس کو پہلے ہی کافی حد تک تیار کیا  جاچکا ہے۔ یہ شفاف، موثر ہے  اور بڑے  پیمانے کی اور تیز  رفتار حصولیابی  کی سہولت فراہم کراتاہے۔اس بات کے پیش نظر  ضرورت کے مطابق اشیا  اور خدمات کے خریداروں کے طور پر جی ای ایم پر رجسٹر یشن کے لئے کو آپریٹیوز سوسائٹیز کو  اجازت دینے سے کوآپریٹیوز کو ایک کھلے اور شفاف عمل کے ذریعے مسابقتی قیمتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ  سوسائٹیوں میں چونکہ  27 کروڑ سے زیادہ ارکان ہیں، اس لیے جی ای ایم کے ذریعے حصولیابی سے عام آدمی کو معاشی طور  پر  فائدہ ہو گا، بلکہ اس سے کوآپریٹیو کی ساکھ میں  بھی اضافہ ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2022-06-01at5.20.00PM(1)WEIV.jpeg

جی ای ایم نے کام کاجی ضرورتوں، تکنیکی بنیادی ڈھانچے کے بندوبست اور اس میں شامل متعدد  متعلقین  کے ساتھ ڈیلنگ کرنے سمیت ایک ایڈوانسڈ ایک پروکیورمنٹ پورٹل چلانے  کی  بھرپور تفہیم بھی پیدا کی ہے۔ یہ محسوس کیا  گیا  کہ ملک میں حصولیابی کا  ایکو سسٹم  تیار کرنے کے عمل میں حاصل ہونے والے بھرپور تجربے کو کوآپریٹیوز کے لیے بھی حصولیابی  کے عمل میں کارکردگی اور شفافیت پیدا کرنے کے لیے نمایاں طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے جی ای ایم کے رجسٹرڈ   فروخت کنندگان کے لئے بھی  ایک وسیع تر  خریداروں کی بنیاد فراہم کراتے ہوئے  کو آپریٹیوز کے لئے  مجموعی ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ میں اضافے کی بھی  توقع ہے۔

اخراجات:

جبکہ جی ای ایم ایس پی وی   حکم نامےمیں مجوزہ توسیع کے سلسلے میں  موجودہ پلیٹ فارم اور تنظیم کے  استعمال کو  جاری رکھے گا لیکن  اسے اضافی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے اور اضافی تربیت اور معاون وسائل میں کچھ سرمایہ کاری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ان  اضافوں کی لاگت کو  پورا کرنے کے لیے، جی ای ایم کوآپریٹیو سے  ایک مناسب  ٹرانزیکشن  فیس وصول کر سکتی ہے، جس کا تعین امداد باہمی کی  وزارت کے  مشورے سے کیاجائے گا۔ یہ فیس  جی ای ایم کے ذریعہ دیگر  سرکاری خریداروں سے وصول کئے  جانے والے چارج سے زیادہ نہیں ہوگی۔اس سے  جی ای ایم کے لئے  آپریشنز کی خود کفیلی  کو یقینی بنایا جاسکے گا اور اس  لیے  حکومت کے لیے کسی بڑے مالیاتی خرچ  کی توقع نہیں ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2022-06-01at5.20.00PM(2)YRBM.jpeg

پس منظر:

جی ای ایم، ایس پی وی نے اپنے قیام کے بعد سے  ہی اہم پیش رفت کی ہے۔ مالی سال 2018-19 سے مالی سال 2021-22 تک  اس کی مجموعی تجارتی قیمت (جی ایم وی) میں  سی اے جی آر کے ساتھ   84.5 فیصد  سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ پورٹل نے مالی سال 2021-22 میں جی ایم وی  میں 178فیصد اضافہ کیا ہے اور  محض مالی سال 2021-22 میں ہی ایک  لاکھ کروڑ بھارتی  روپے کے نشانے کو پار  کیا ہے، جو کہ مالی سال 2020-21 تک کے مجموعی جی ایم وی سے زیادہ ہے۔

 

مالی سال

سالانہ  جی ایم وی (بھارتی روپے)

گزشتہ شال کے مقابلے اضافہ

 2018-19 مالی سال

16,972 کروڑ

 

2019-20مالی سال

22,580 کروڑ

33فیصد

مالی سال  2020-21

38,280 کروڑ

70فیصد

مالی سال  2021-22

106760 کروڑ

178فیصد

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جی ای ایم کے تینوں ستونوں  یعنی  شمولیت، شفافیت اور کارکردگی نے نمایاں پیش رفت دیکھی ہے۔ مجموعی لین دین کی قیمت میں ایم ایس ایم ای  کا تعاون تقریباً 58فیصد  ہے۔ مختلف آزاد مطالعات، بشمول ورلڈ بینک اور نیشنل اکنامک سروے 2021، سے ظاہر ہوتا ہے کہ  زیادہ شرکت  کرانے اور  مناسب قیمت کے متبادل فراہم کرانے کی  جی ای ایم کی صلاحیت کی وجہ سے خاطر خواہ بچت ہوئی ہے۔

بھارت  میں کوآپریٹو تحریک نے نمایاں طور پر ترقی کی ہے اور یہ بھارت میں  پسماندہ طبقات  ترقیاتی ضروریات کو خصوصی طور پر  زراعت، بینکنگ اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں  پورا کرنے کے لئے اہم رول  ادا کررہی ہے۔ اس وقت  8.54 لاکھ رجسٹرڈ کوآپریٹیوز موجود ہیں۔ یہ کوآپریٹیوز مجموعی  طور پر بڑی مقدار میں خرید و فروخت کرتی ہیں۔ اس وقت  خریداروں کے طور پر کوآپریٹیوز کا رجسٹریشن جی ای ایم کے موجودہ  دائرہ اختیار  میں شامل نہیں تھا۔

*****

ش ح۔ا گ ۔ن ا۔

U- 5983

                          



(Release ID: 1830217) Visitor Counter : 172