نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
کھیل کی وزارت دولت مشترکہ اور ایشیائی کھیلوں کے لئے ایتھلیٹوں کی تربیت پر 190 کروڑ روپئے خرچ کرے گی؛ وزارت نے بھارتی ٹیموں کے خوش اسلوبی کے ساتھ انتخاب کے لئے این ایس ایف کی منظوری کی تجدید کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 APR 2022 4:12PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 4/ اپریل 2022 ۔ نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی مرکزی وزارت نے 33 کھیل مقابلوں کے لئے تربیت اور مسابقوں کے سالانہ کیلنڈر (اے سی ٹی سی) کو حتمی شکل دے دی ہے اور مختلف قومی کھیل فیڈریشنوں (این ایس ایف) کو بطور امداد مالی سال 2022-23 کے لئے 259 کروڑ روپئے کی رقم مقرر کی ہے۔ اس امدادی رقم میں سے کل 190 کروڑ روپئے دولت مشترکہ کھیلوں 2022 اور ایشیائی کھیلوں 2022 کے لئے ایتھلیٹوں کی ٹریننگ، غیرملکی مسابقوں کا تجربہ دلانے، کھیل آلات اور معاون ملازمین پر خرچ کئے جائیں گے۔یہ بجٹ 33 قومی کھیل فیڈریشنوں (این ایس ایف) کے ساتھ سال 2022-23 کے لئے ان کے ذریعے تیار مسابقوں اور ٹریننگ سے متعلق کیلنڈر کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے۔ اس تبادلہ خیال کے دوران اگست 2022 میں برطانیہ کے برمنگھم میں منعقد ہونے والے مجوزہ دولت مشترکہ کھیلوں (سی ڈبلیو جی) اور ستمبر 2022 میں چین کے گوانگ ژہو میں منعقد ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لینے والے ایتھلیٹوں کی ٹریننگ اور مسابقوں کی ضرورت سے متعلق تجاویز پر خصوصی توجہ رہی۔
وزارت نے مختلف قومی کھیل فیڈریشنوں کے ساتھ پوری سرگرمی کے ساتھ مشاورت کرکے ان دو باوقار بین الاقوامی انعقادات میں حصہ لینےوالے بھارتی ایتھلیٹوں کو دی جارہی مدد میں مزید اضافہ کرنے سے متعلق ہر تجویز پر توجہ کے ساتھ غور و فکر کیا اور انھیں منظوری دی۔
ان 33 کھیل فیڈریشنوں، جن کے اے سی ٹی سی کووزارت کے ذریعے پہلے ہی منظوری دی گئی ہے، کے علاوہ تین دیگر قومی کھیل فیڈریشنوں ے ساتھ ایک سی ٹی سی سے متعلق مشاورتی میٹنگیں چل رہی ہیں اور جلد ہی ان کے لئے بھی بجٹ کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔
نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے مرکزی وزیر جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہا ہے کہ حکومت نے سال 2022-23 کے لئے مختلف قومی کھیل فیڈریشنوں کے ذریعے پیش کردہ مختلف ٹریننگ اور مسابقوں، خاص طور سے مجوزہ دولت مشترکہ کھیلوں 2022، ایشیائی کھیلوں 2022 اور پیرا ایشین گیمز 2022 سے متعلق پروگراموں اور تجاویز پر فوری غور و فکر کیا اور اے سی ٹی سی کو منظوری دی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایتھلیٹوں کی تیاری میں رقم کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا اور وزارت کھلاڑیوں اور قومی کھیل فیڈریشنوں کو سبھی ضروری مدد اور حمایت دے گی۔ انھوں نے کھلاڑیوں اور ٹیموں کو اپنی ٹریننگ پر پوری توجہ دینے اور اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور اس طرح آنے والے مسابقوں میں زیادہ سے زیادہ تمغے جیت کر ملک کو اعزاز دلانے کی بھی صلاح دی۔
اے سی ٹی سی کے تحت سال 2022-23 کے لئے مختلف قومی کھیل فیڈریشنوں کی مالی امداد یکم مارچ 2022 سے نافذ العمل ترمیم شدہ معیارات کی بنیاد پر ک گئی ہے۔ کھیلوں کی بدلتی ہوئی ضرورتوں کی تکمیل کے مقصد سے ان اسکیموں کے مختلف اجزاء میں قابل ذکر اضافہ کیا گیا ہے۔
ترمیم شدہ معیارات کے تحت قومی چمپئن شپ کے لئے اعلیٰ ترجیجی کھیلوں کے لئے مالی مدد کو بڑھاکر 51 لاکھ روپئے، ترجیجی اور بھارتی روایتی کھیلوں کے لئے نیز عام زمرے کے کھیلوں، جنھیں پہلے ’دیگر‘ کے طور پر جانا جاتا تھا، کے لئے مدد کو 22 لاکھ روپئے (سبھی زمرے کے کھیل مسابقوں کے لئے) سے بڑھاکر 30 لاکھ روپئے کردیا گیا ہے۔ جنرل اسپورٹس ٹریننگ کٹ (جیسے کہ ٹریک سوٹ، ٹی شرٹ، شرٹس، وارم اَپ شوز وغیرہ) کے لئے بھٹے کو دوگنا کرتے ہوئے قومی کیمپ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے لئے سال میں ایک بار فی ایتھلیٹ 20000 روپئے کردیا گیا ہے۔ ملک میں بین الاقوامی ٹورنامنٹوں کی میزبانی کے لئے قومی کھیل فیڈریشنوں کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے مدد کی مقدار کو 30 لاکھ روپئے سے بڑھاکر ایک کروڑ کردیا گیا ہے۔ اہل اور اعلیٰ معیار والے معاون ملازمین کو راغب کرنے کے لئے ن کے محنتامے میں قابل ذکر اضافہ کیا گیا ہے۔ کھیل ڈاکٹروں اور ڈاکٹروں کے محنتانے کو ایک لاکھ روپئے ماہانہ سے بڑھاکر دو لاکھ روپئے ماہانہ کردیا گیا ہے۔ ہیڈ فیزیوتھیریپسٹ اور فیزیوتھیریپسٹ کے محنتانے کو 80 ہزار روپئے ماہانہ سے بڑھاکر بالترتیب دو لاکھ روپئے ماہانہ تک ڈیڑھ لاکھ روپئے ماہانہ تک کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ یہ یقینی بنانے کے لئے کہ قومی کھیل فیڈریشنوں کو مجوزہ بڑے کھیل مسابقوں کے لئے کھلاڑیوں کو تیار کرنے کی ان کوششوں میں کوئی رخنہ اندازی نہ ہو، کھیل کی وزارت نے 2011 کے اسپورٹس کوڈ کے التزامات کے تناظر میں ان کے آئین/ میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کی جانچ کے بعد سال 2022 کے لئے 38 قومی کھیل فیڈریشنوں کی منظوری کی تجدید کے لئے پوری سرگرمی کے ساتھ قدم اٹھایا ہے۔ باقی ماندہ قومی کھیل فیڈریشنوں کی منظوری کی تجدید پر غور کیا جارہا ہے۔
******
ش ح۔ م م۔ م ر
U-NO. 3780
(ریلیز آئی ڈی: 1813376)
وزیٹر کاؤنٹر : 152