وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

23-2022 میں  مالی خسارے کا تخمینہ ،  جی ڈی پی کے 6.4 فیصد حصے کے طور پر لگایا گیا ہے


مالی خسارے کو 4.5 فیصد کی سطح سے نیچےلے جانےکے مقصد سے مالی استحکام کے لئے وسیع طریقہ کار

اثاثہ جاتی اخراجات میں 35.4 فیصد کا اضافہ کیا گیا  ہے  یہ22-2021 میں 5.54 لاکھ کروڑ روپئے تھے جبکہ 23-2022 میں یہ بڑھ کر 7.50  لاکھ کروڑ روپئے ہوگئے ہیں

23-2022 میں اثاثہ جاتی اخراجات ، جی ڈی پی کا 2.9 فیصد ہوں گے

23-2022 کے لئے حکومت کے کل مارکٹ قرضہ جات کا تخمینہ 1158719 کروڑ روپئے  کا لگایا گیا ہے

Posted On: 01 FEB 2022 12:58PM by PIB Delhi

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر  محترمہ نرملا سیتا رمن نے اعلان کیا ہے کہ 23-2022 میں مالی خسارہ کا تخمینہ جی ڈی پی کا 6.4 فیصد رہنے کا لگایا گیا ہے جو میرے اعلان کردہ مالی استحکام کے وسیع طریقہ کار کے عین مطابق ہے جس کا مقصد 26-2025 تک مالی  خسارے کو 4.5 فیصد کی سطح سے نیچےلانا ہے۔ محترمہ نرملا سیتا رمن نے یہ بات آج پارلیمنٹ میں 23-2022 کا مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔ مزید یہ کہ مالی سال میں نظرثانی شدہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ بجٹ تخمینے میں یہ خسارہ 6.8 فیصد بتایا گیا تھا۔

 

Trends-in-Deficit-English.jpg

مالی خسارہ

وزیرخزانہ نے کہا کہ 23-2022 میں مالی خسارہ کی سطح طے کرتے ہوئے انہیں سرکاری سرمایہ کاری کے ذریعہ ترقی کو فروغ دینے کا خیال تھا تاکہ یہ ترقی مستحکم رہے۔ 23-2022 میں حکومت کےمالی خسارے کا تخمینہ 1661196 کروڑ روپئے کا لگایا گیا ہے۔ 22-2021 کے نظرثانی شدہ تخمینوں سے ، 1591089 کروڑ روپئے کے مالی خسارے کا اظہار ہوتا ہے جبکہ بجٹ تخمینوں میں یہ خسارہ 1506812 کروڑ روپئے بتایا گیا ہے۔

اثاثہ جاتی اخراجات

وزیرخزانہ نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں اثاثہ جاتی اخراجات میں ایک بار پھر کافی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 35.4 فیصد کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال میں یہ اخراجات 5.54 لاکھ کروڑ روپئے ہیں جبکہ 23-2022 میں یہ اخراجات 7.50 لاکھ کروڑ روپئے مقرر کئے گئے ہیں۔ اس طرح 20-2019 کے اخراجات سے ، یہ اخراجات 2.2 گنا زیادہ ہیں۔ 23-2022 میں جی ڈی پی کا 2.9 فیصد ہوں گے۔

ریاستوں کو امدادی رقوم کے ذریعہ اثاثوں کی تخلیق کے لئے فراہم کردہ سہولت کے ساتھ اثاثہ جاتی اخراجات کو یکجا کرلیا گیا ہے۔ لہذا 23-2022  میں مرکزی حکومت کے موثر اثاثہ جاتی اخراجات کا تخمینہ10.68 کروڑ روپئے لگایا گیا ہے۔

23-2022 میں کل اخراجات کا تخمینہ 39.45 لاکھ کروڑ روپئے ہےجبکہ قرضہ جات کے علاوہ کل محصولات کا تخمینہ 22.84 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 22-2021 کے بجٹ تخمینوں میں کل اخراجات 34.83 لاکھ کروڑ روپئے ہیں جبکہ نظرثانی شدہ تخمینے میں یہ اخراجات  37.70 لاکھ کروڑ روپئے  کے ہیں۔

مارکٹ قرضہ جات

23-2022 کے لئے حکومت کے کل مارکٹ قرضہ جات کا تخمینہ 1158719 کروڑ روپئے ہے۔ 22-2021 کے لئے مارکٹ قرضہ جات کا نظرثانی شدہ تخمینہ 875771 کروڑ روپئے ہے جبکہ بجٹ تخمینوں میں یہ تخمینہ 967708 کروڑ روپئے بتایا گیا ہے۔

Deficit-Financing-English.jpg

 

************

ش ح۔ا س  ۔ م  ص

 (U:930)



(Release ID: 1794328) Visitor Counter : 175