امور داخلہ کی وزارت

وزیر داخلہ جناب امیت شاہ نے ملک میں سیلاب سے نمٹنے کے لئے مستعدی کا جائزہ لینے کی غرض سے اعلیٰ سطحی میٹنگ کا اہتمام کیا، اس میٹنگ میں متعدد فیصلے لئے گئے تاکہ آئی ایم ڈی، جل شکتی کی وزارت، سی ڈبلیو سی اور این ڈی آر ایف کے مابین بہتر تال میل کا ایک نیا نظام قائم ہو سکے

جناب امیت شاہ نے ملک بھر میں ہر سال رونما ہونے والے سیلاب کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک طویل المدت جامع پالیسی وضع کیے جانے کے امکانات کا جائزہ لیا

وزیر داخلہ نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کے مابین بہتر تال میل بنائے رکھیں تاکہ سیلاب کی پیشن گوئی کا ایک مستقل نظام قائم ہو سکے اور اہم دریائی طاس کے علاقوں میں ملک بھر میں پانی کی سطح پر نظر رکھی جا سکے

جناب امیت شاہ نے جل شکتی کی وزارت کے روبرو تجویز رکھی کہ وہ بڑے باندھوں سے گاد ھ نکالنے کا ایک میکزم وضع کرے جس کے نتیجے میں سیلاب کی روک تھام کے لئے باندھوں کی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی

وزیر داخلہ نے بھارتی محکمہ موسمیات اور مرکزی آبی کمیشن جیسے خصوصی اداروں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ جدید ترین تکنالوجیاں اور سیارچہ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا استعمال کریں تاکہ موسمیات اور سیلاب سے متعلق مزید نپی تلی پیشن گوئیاں ممکن ہو سکیں

وزیر داخلہ نے مختلف ذرائع ابلاغ کے توسط سے آسمانی بجلی گرنے کے سلسلے میں محکمہ موسمیات کی جانب سے پیشگی انتباہ کے عوامی نشریے کے لئے فوری طور پر ایک ایس او پی وضع کرنے کی ہدایت دی

مختلف النوع موبائل ایپس مثلاً ’امنگ ‘، ’رین الارم‘ اور ’دامنی‘ جن کا تعلق موسمیات کی پیشن گوئی سے ہے ، کے سلسلے میں وسیع پیمانے پر زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جانی چاہئے تاکہ ان کے فوائد نشان زد آبادی تک پہنچ سکیں

دامنی ایپ تین گھنٹے پیشتر آسمانی بجلی کا انتباہ دیتا ہے جس کی مدد سے جان مال اور املاک کو ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے

دریاؤں کے تئیں حساس ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا بھی خیال رکھنا چاہئے

Posted On: 15 JUN 2021 8:14PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 15 جون 2021: وزیر داخلہ جناب امیت شاہ نے آج ملک میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مستعدی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے کی غرض سے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کا اہتمام کیا۔ اس میٹنگ میں متعدد فیصلے لیے گئے تاکہ آئی ایم ڈی ، جل شکتی کی وزارت، سی ڈبلیو سی اور این ڈی آر ایف کے مابین تال میل کا ایک نیا نظام قائم ہو سکے۔انہوں نے ملک میں سال بھر آنے والے سیلاب سے وابستہ اور دیگر ذیلی مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک جامع پالیسی وضع کرنے کے لئے طویل المدت اقدامات پر بھی نظرثانی کی۔

وزیر داخلہ نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ سیلاب کی پیشن گوئی اور ملک کے مختلف دریاؤں کے اہم طاسوں اور زونوں میں پانی کی سطح میں ہونے والے اضافے کے سلسلے میں پیشن گوئی کے لئے ایک مستقل نظام قائم کرنے کے مقصد سے مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کے مابین قائم تعاون کو مستحکم بنانے کا عمل جاری رکھیں۔

جناب امیت شاہ نے جل شکتی کی وزارت کو مشورہ دیا کہ وہ بڑے باندھوں کی گادھ نکالنے کا ایک میکنزم وضع کرے۔ اس کی مدد سے باندھ میں پانی کے ذخیرے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا او ر سیلاب کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

وزیر داخلہ نے خصوصی امور انجام دینے والے اداروں مثلاً محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) اور مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی)کو مشورہ دیا کہ وہ موسمیات اور سیلابی پیشن گوئیوں کے مزید ٹھیک ٹھیک اندازے پر مبنی پیشن گوئیوں کے لئے جدید ترین تکنالوجی اور سیارچوں سے حاصل ہونے والے اعدادو شمار کا استعمال کریں۔ وزیر موصوف نے فوری طور پر ایک ایس او پی تشکیل دیے جانے کی ہدایت دی تاکہ عوام الناس کو ٹیلی ویژن، ایف ایم ریڈیو، ایس ایم ایس اور دیگر ذرائع سے آسمانی بجلی کے امکانی خطرات کا پیشگی انتباہ دینے کے لئے آئی ایم ڈی وارننگ کا فوری نشریہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے آئی ایم ڈی کے ذریعہ وضع کیے گئے موسمیات کی پیشن گوئی سے متعلق مختلف النوع موبائل ایپوں مثلاً امنگ، رین الارم اور دامنی کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ تشہیر کی بھی ہدایت دی تاکہ ان کے فوائد نشان زد آبادی تک پہنچ سکیں۔دامنی ایپ بجلی گرنے سے تین گھنٹے قبل انتباہ دے سکتا ہے جس کی مدد سے جان و مال کو لاحق ہونے والے خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

جناب امیت شاہ نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ہماری ندیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے مطالعے کے لئے سیارچے کے استعمال کے توسط سے مطالعات انجام دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دریاؤں کے تئیں حساس ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں دریاؤں میں بہنے والے پانی کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے مرکزی آبی کمیشن، بھارتی محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کو ہدایت دی کہ وہ لگاتار پیمانے پر دریاؤں میں پانی کی سطح اور سیلابی صورتحال کی نگرانی رکھیں اور وزارت داخلہ کو باقاعدگی سے اپنی رپورٹ ارسال کرتے رہیں۔ انہوں نے این ڈی آر ایف کے ڈائرکٹر جنرل کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر ایسی ریاستوں میں جہاں سیلاب زیادہ آتے ہیں، وہاں ایس ڈی آر ایف کے سربراہان کے ساتھ میٹنگوں کا اہتمام کریں۔

جناب امیت شاہ کی جانب سے جاری کی گئیں ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جو انہوں نے سیلاب کی صورتحال پر گذشتہ سال 3 جولائی 2020  کو منعقدہ میٹنگ کے دوران دی تھیں، مرکزی آبی کمیشن نے ملک میں تمام تر آبی ذخائر کے سلسلے میں پانچ دن پیشگی انفلو پیشن گوئی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ جناب امیت شاہ نے جل شکتی کی وزارت اور سی ڈبلیو سی کو مشورہ دیا کہ ماہرین کا ایک بااختیار گروپ تشکیل دے جو باندھ سے متعلق حکام کو عملی رہنمائی فراہم کر سکے اور یہ حکام سیلاب کی صورتحال نیز جان و مال کو پہنچنے والے امکانی نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے کس قدر مقدار میں پانی چھوڑنا ہے یا نہیں چھوڑنا ہے، اس کا بروقت فیصلہ لے سکیں۔

بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے ڈائرکٹر جنرل اور مرکزی آبی کمیشن کے چیئرمین نے اپنی جانب سے پرزنٹیشن پیش کیے اور گذشتہ برس سیلاب کی صورتحال پر نظرثانی کی غرض سے منعقدہ میٹنگ کے دوران دی گئیں ہدایات پر کی گئی کاروائی سے مطلع کیا۔ انہوں نے موسمیات اور سیلابی صورتحال کی پیشن گوئیوں کی تکنیکات میں رونما ہوئی بہتری کے بارے میں بتایا، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ بھارت میں باندھوں کے سلسلے میں کون کون سے تازہ ترین قواعد اور پہل قدمیاں اپنائی گئی ہیں۔

بھارت میں ایک بڑا رقبہ سیلاب کے امکانی خطرے کا سامنا کرتاہے اور سیلاب آنے کے معاملے میں گنگا اور برہم پتر کے دو ندیوں کے طاس بطور خاص سیلاب زدہ ہوتے ہیں اور ان کے نتیجے میں آسام، بہار اور اترپردیش اور مغربی بنگال میں سیلاب آتا ہے اور یہی سب سے زیادہ سیلاب زدہ ریاستیں ہیں۔

میٹنگ میں لیے گئے فیصلے ملک میں لاکھوں افراد کی مشکلات اور مسائل کو کم کرنے میں مددگار ہوں گے جنہیں اپنی فصلوں، املاک، روزی روٹی اور بیش بہا جانوں کے معاملے میں سیلاب کی تباہ کاریاں جھیلنی پڑتی ہیں۔

میٹنگ میں جل شکتی کے مرکز ویز جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، داخلی امور کے وزیر مملکت جناب نتیا نند رائے، وزارت داخلہ، آبی وسائل، ارضیاتی سائنسز کی وزاروتوں/ محکموں کے سکریٹری حضرات، این ڈی ایم اے کے رکن سکریٹری، آئی ایم ڈی کے ڈائرکٹر جنرل ، آئی ایم ڈی اور این ڈی آر ایف کے ڈائرکٹرجنرل حضرات، سی ڈبلیو سی کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے افسران نے شرکت کی۔

******

 

 ( ش ح ۔م ن ۔ اب ن)

U- 5516

 



(Release ID: 1727454) Visitor Counter : 43