صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

‘تمباکو سےنجات کے عالمی دن’ 2021 کے موقع پر  ڈاکٹر ہرش وردھن نے تمباکو سے بچنے کے لئے حلف برداری کی قیادت کی

تمباکو سےنجات کے عالمی دن‘ 2021 کا موضوع ہے ۔ ’’چھوڑنے کا عہد کریں ‘‘

وزیراعظم  جناب نریندر مودی نے ای۔ سگریٹ کی لعنت کے خلاف  ملک گیر تحریک کی قیادت کی

’’مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں  کی مسلسل کوششوں سے  تمباکو کے استعمال میں کمی آئی ہے اور وہ 10۔2009 کے 34.6 فیصد سے 6  فیصد  گھٹ کر 17۔2016 میں  28.6 فیصد ہوگیا ‘‘

اب  16 زبانوں میں ٹول فری  کوئٹ لائن سروسز دستیاب ہیں؛ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں اور  تمباکو چھوڑیں: ڈاکٹر  ہر ش وردھن

Posted On: 31 MAY 2021 3:03PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  29   مئی 2021،    صحت خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج  تمباکو سے نجات کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب کی صدارت اور  حاضرین کی  تمباکو سے  بچنے کی حلف برداری میں قیادت کی۔ صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے  نے بھی اس تقریب میں ڈیجیٹل طریقے سے شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0017ZG1.jpg

وقت پر منعقد کی جانے والی  اس تقریب کے بارے میں اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا  ’’بھارت میں  ہر سال  1.3 ملین سے زیادہ اموات  تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہوتی ہیں۔اس کا مطلب 3500 اموات یومیہ ہے اس سے  ایسا سماجی اقتصای بوجھ  پڑتا ہے، جس سے بچا جاسکتا ہے۔  اس کی وجہ سےہونے والی موت اور امراض کے علاوہ  تمباکو  ملک کی اقتصادی ترقی پر بھی اثر ڈالتا ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ  سگریٹ بیڑی پینے والوں کو  کووڈ 19 سے ہونے والی سنگین بیماری  ہونے کا 40 سے 50 فیصد زیادہ خطرہ ہوتا ۔ عالمی صحت تنظیم کے مطالعہ بعنوان ’بھارت میں تمباکو کےاستعمال سےہونے والی اموات اور امراض کی اقتصادی لاگت‘  میں تخمینہ دیا گیا ہے کہ بھارت میں تمباکو کے استعمال  اور  تمباکو سے ہونے والے امراض اور اموات کا  اقتصادی بوجھ  1.77 لاکھ کروڑ روپے ہوتا ہے جو کہ  جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد ہے۔

 ڈاکٹر ہرش وردھن نے   ملک میں قانونی اور انتظامی ذرائع سے  آہستہ آہستہ تمباکو نوشی کرنے والی آبادی میں کمی  کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا ’’بھارت میں تمباکو پر کنٹرول  سے متعلق قانون  کی شروعات ’سگریٹ ایکٹ۔ 1975‘ سے ہوئی جس میں  اشتہارات پر اور  سگریٹ کے پیکٹوں اور کارٹن پر  صحت کے خطرے سے متعلق قانونی انتباہ  شائع کرنے کو ضروری قرا ر دیا گیا ‘‘۔

انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں  کی مسلسل کوششوں سے  تمباکو کے استعمال میں کمی آئی ہے اور یہ   10۔2009 کے 34.6 فیصد سے 6  فیصد  گھٹ کر 17۔2016 میں  28.6 فیصد ہوگیا۔

تمباکو کے استعمال کو روکنے کے سلسلے میں حکومت  کی سخت سیاسی عہد بندی کا ذکر کرتے ہوئے  انہوں نے کہا  ’’جب میں مرکزی وزیر صحت بنا  تو میں نے  ای۔ سگریٹ کی لعنت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور  ای۔ سگریٹ کے پروڈکشن ، مینوفیکچر، درآمد، برآمد، ٹرانسپورٹ، فروخت،  تقسیم، ذخیرہ اور اشتہار پر  پابندی لگانے والے ’الیکٹرونک سگریٹ پر امتناع کا بل 2019‘ تیار کیا۔ وزیراعظم جناب نریندر مودی جی کی مثالی قیادت نے  مختلف متعلقین کو قائل کیا اور 2019 میں پارلیمنٹ کے ذریعہ بل کو آسانی سے پاس کئے جانے کی اجازت دی۔ حکومت کی مسلسل کوششوں سے  ملک کو ای۔ سگریٹ کی لعنت سے بچانے میں مدد ملی۔ جو کہ نو عمر آبادی کو بہت زیادہ متاثر کرسکتی تھی‘‘۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے تمباکو چھوڑنے سے متعلق  کوئٹ لائن سروسز کے بارے میں بتایا کہ   ’’ہم نے 2016 میں ٹول فری کوئٹ لائن سروسز 1800112356 شرو ع کی تھی جس کو ستمبر 2018 میں وسعت دی گئی۔ اب چار مراکز سے 16 زبانوں  اور  دیگر مقامی بولیوں میں کوئٹ لائن سروسز دستیاب ہیں۔ وسعت کئے جانےسے پہلے کوئٹ لائن پر ملنے والی کالز کی تعداد 2500 ماہانہ تھی جو کہ  وسعت دیئے  جانے کے بعد بڑ ھ کر 2.50 لاکھ کال ماہانہ ہوگئی‘‘۔ انہوں نے لوگوں سے تمباکو اور تمباکو مصنوعات چھوڑنے کی اپیل کی۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے  اب تک تمباکو کا استعمال روکنے میں ملنے والی کامیابی کے لئے   شراکت دار تنظیموں، وزارت کے افسران، گراؤنڈ ورکرز اور ڈبلیو ایچ او کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے  2021 میں تمباکو پر قابو پانے کے بارے میں وزارت صحت کے کام اور ان کا خدمات کا اعتراف کرنے اور 2021 میں ڈائرکٹر جنرل کے اسپیشل ریکانگنیشن ایوارڈ  سے نوازے جانے پر  ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ عالمی صحت تنظیم ہر سال   اپنے خطوں  میں سے ہر ایک میں  تمباکو پر قابو پانے کے شعبے میں خدمات کے لئے  اشخاص اور  تنظیموں  کو یہ ایوارڈ دیتی تھی۔

ایڈیشنل سکریٹری (ہیلتھ) محترمہ آرتی اہوجہ ، ایڈیشنل سکریٹری ہیلتھ جناب وکاش شیل  اور مرکزی وزارت صحت کے دیگر سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا گ۔ن ا۔

(2021۔05۔29)

U-5010



(Release ID: 1723278) Visitor Counter : 156