ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

حیدرآباد کے چڑیا گھر میں مقیم ایشیائی شیر،جو سارس-سی او وی 2 سے متاثرہو گئے تھے، تیزی کے ساتھ رو بہ صحت

نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ یہ انفیکشن کسی قسم کے تشویش والے ویریئنٹ سے نہیں ہوا ہے

کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے کہ جانور، مزیداس بیماری کو انسانوں میں منتقل کرسکتے ہیں

Posted On: 04 MAY 2021 3:28PM by PIB Delhi

نئی دہلی 04 مئی 2021: 24 اپریل 2021 کوانتہائی احتیاط  کے ساتھ ، نہرو زولوجیکل پارک (این زیڈ پی) ، حیدرآباد نے چڑیا گھر میں رکھے ہوئے آٹھ ایشیٹک شیروں کے مشترکہ طور پر نمونے فراہم کئے تھے۔ (جنہیں اینستھیزیا کے تحت ناک ، گلے اور سانس کی نالیوں سے جمع کیا گیا تھا) ان شیروں میں سانس کی تکلیف کے اثرات نظر آ رہے تھے۔ 4 مئی 2021 کو سی سی ایم بی-لاکونز کی فراہم کردہ تفصیلی تشخیصی ٹیسٹ اور رپورٹ کی بنیاد پر ، اب اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ نہرو زولوجیکل پارک ، (این زیڈ پی) ، حیدرآباد میں رکھے گئےآٹھ ایشیائی شیروں کو سارس - کووی 2 وائرس سے پوزیٹیو پایا گیا ہے۔

 

نمونوں کے مزید تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ انفیکشن کسی بھی قسم کی تشویش والے ویریئنٹ کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ آٹھ شیروں کو الگ تھلگ کردیا گیا ہے اور مناسب دیکھ بھال اور ضروری علاج مہیا کیا جا رہا ہے۔ آٹھوں شیروں نے علاج کے دوران اچھا ریسپونس دیا ہےاوروہ صحت یاب ہورہے ہیں۔ وہ معمول کا برتاؤ دکھا رہے ہیں اور اچھی طرح سے کھا پی رہے ہیں۔ چڑیا گھر کے تمام عملے کے لئے پہلے ہی احتیاطی تدابیر دستیاب ہیں اور کسی بھی طرح کے بیرونی رابطے سے بچنے کے لئے، چڑیا گھرکو، سیاحوں کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

سینٹرل چڑیا گھر اتھارٹی نے سارس کووی -2 کے بڑھتے ہوئے معاملات کی روشنی میں چڑیا گھروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے بارے میں چڑیا گھروں کو رہنما اصول اور مشورے جاری کرنے سمیت متعدد قبل از وقت احتیاطی اقدامات اٹھائے ہیں۔

روک تھام ، نمونہ جمع کرنے ، مشکوک معاملات میں پتہ لگانے اور جانوروں کے رکھوالوں کے لئے، حفاظتی پروٹوکول وغیرہ کی نگرانی اور ہدایات میں، سائنسی ایجنسیوں اور ماہرین ہندوستانی ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی وی آر آئی) اتر پردیش اور سیلولر اور سالماتی حیاتیات کے ادارے اور خطرے سے دوچار نسلوں کے تحفظ کیلئے لیبارٹری مرکز (سی سی ایم بی۔ لاکونز) حیدرآباد  کے مشورے سے، چڑیا گھروں کو رہنما خطوط تجویز کئے گئے ہیں۔ ایسے مشورے عوامی ڈومین http://cza.nic.in/news/en پر آسانی سے دستیاب ہیں۔

اگلے اقدامات کے حصے کے طور پر ، ماہرین کی مشاورے سے کووڈاحتیاطی تدابیر کے لئے، مزید نئے رہنما خطوط تیار کئے جارہا ہیں۔ اضافی معلومات ضرورت کے لئے جاری کی جائیں گی۔

دنیا میں دوسری جگہوں کے چڑیا گھروں کے جانوروں کے تجربے کی بنا پر، جنہیں گذشتہ سال سارس-سی او وی 2 کا تجربہ ہوا تھا، اس بات کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے کہ جانور اس بیماری کو انسانوں میں بھی منتقل کرسکتے ہیں۔ لہذا میڈیا سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ رپورٹنگ کے دوران انتہائی احتیاط برتیں اور اسی کے لئے ایک ذمہ دار کوریج فراہم کریں۔

****

U.No. 4184

م ن۔ ا ع ۔س ا

Dated: 04.05.2021

 



(Release ID: 1716059) Visitor Counter : 154