وزارت اطلاعات ونشریات

مرکزی وزیر جناب پرکاش جاؤڈیکر نے کہا۔ یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ہم اگلے 25 برس میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، پرکاش جاؤڈیکر نے دہلی سمیت سات مقامات پر نمائشوں کا افتتاح کیا

Posted On: 13 MAR 2021 3:56PM by PIB Delhi

نئی دہلی:13،مارچ، 2021:اطلاعات ونشریات کے مرکزی وزیر جناب پرکاش جاؤڈیکر نے آج نیشنل میڈیا سینٹر نئی دہلی میں ایک فوٹو نمائش کا افتتاح کیا۔ بیورو آف آؤٹ ریچ اینڈ کمیونیکیشن کے ذریعے منعقدہ نمائش آزادی کا امرت مہوتسو کے انعقاد کیلئے اطلاعات ونشریات کی وزارت کے وسیع بیداری مہم کا حصہ ہے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہایہ بتانے کیلئے ملک کے سامنے یہ اہم پل ہے کہ آزادی کے بعد سے ابھی تک ہم کتنا آگے آچکے ہیں اور اگلے 25برس میں ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یقینی طور سے یہ نمائشیں اسی کے بارے میں بتاتی ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ بڑی قیمت چکانے کے بعد ملک نے آزادی حاصل کی تھی اور یہ نمائش ان قربانیوں کے پیچھے کی کہانی کو بیان کرتی ہے۔ جناب جاؤڈیکر نے نمائشوں کے اہتمام کیلئے بی او سی کو مبارکباد دی۔

اطلاعات ونشریات کی وزارت میں سکریٹری جناب امت کھرے نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کی صدارت میں بنی قومی کمیٹی نے ہر ایک وزارت کو لوگوں کو ان لوگوں کے بارے میں تعلیم دینے کی سمت میں کام کرنے کیلئے کہا ہے جنہوں نے تحریک آزادی میں تعاون دیا کیا تھا۔ سکریٹری نے کہا کہ ان نمائشوں کا ایک ڈیجیٹل ورژن تیار کیا جارہا ہےاور 15اگست سے پہلے اس کی شروعات ہونے کا امکان ہے۔

 

جناب پرکاش جاؤڈیکر نے ورچوول طریقے سے چھ دیگر مقامات پر بھی فوٹو نمائشوں کا افتتاح کیا۔

  1. سامبا ضلع، جموں وکشمیر
  2. بنگلورو، کرناٹک
  3. پُنے، مہاراشٹر
  4. بھونیشور، اڈیشہ
  5. موئیرانگ ضلع، بشنو پور، منی پور
  6. پٹنہ ، بہار

سامبا، جموں میں بریگیڈیئر راجندر سنگھ پورا بگونا میں نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے جو بریگیڈیئر راجندر سنگھ کا جائے پیدائش ہے اور انہیں کشمیر کا محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کشمیر میں اکتوبر 1947 میں اکیلے ہی پاکستان حمایت یافتہ قبائلیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اوراس جنگ میں اپنی جان قربان کردی تھی۔ بریگیڈیئر راجندر سنگھ اور ان کے فوجیوں نے پاکستان کے قبائلی لڑاکوں کوسری نگر تک جانے سے دیر تک روکے رکھا جب تک ہندوستانی فوج وہاں پر پہنچ نہیں گئی۔30دسمبر 1949 کو وہ آزادہندوستان کے پہلے مہاویر چکرفاتح بن گئے تھے۔

ریجنل آؤٹ ریچ بیورو،بنگلورو نے کیندریہ  سدانا، کورمنگلا، بنگلورو میں نمائش کااہتمام کیا۔ بنگلورو میں نیشنل ہائی اسکول گراؤنڈ، گاندھی بھون، بنپّا پارک، فریڈم پارک اور یشونت پور ریلوے اسٹیشن جیسے تحریک آزادی سے جڑے کئی مقامات ہیں۔نمائش میں قومی سطح کے مجاہدین آزادی کے ساتھ مقامی سطح کے مجاہدین آزادی کے تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

پُنے میں آغا خان پیلس میں نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے جو ایک شاندار عمارت ہے اور یہ ہندوستان کی تحریک آزادی سے نزدیکی سے جڑا رہا ہے۔ اس نے مہاتما گاندھی، ان کی اہلیہ کستوربا گاندھی، ان کے سکریٹری مہادیو دیسائی اور سروجنی نائیڈو کے لئے جیل کے طور پر خدمات دی ہیں۔ مہاتماگاندھی اور دیگر بھارت چھوڑو آندولن کی شروعات کے بعد اس پیلس میں 9 اگست 1942 سے 6مئی 1944 تک اکیس مہینے اس پیلس میں قید رہے تھے۔ کستوربا گاندھی اور مہادیودیسائی کی محل (پیلس) میں قید کے دوران موت ہوگئی تھی اور ان کی سمادھی یہیں پر واقع ہے۔ مہاتماگاندھی اور کستوربا گاندھی کی یادگار مولاندی کے پاس اسی احاطے میں بنے ہوئے ہیں۔

ریجنل آؤٹ ریچ بیورو، بھونیشور 12 سے 16 مارچ تک خوردا ضلع میں نمائش کا انعقاد کررہا ہے۔ یہ ضلع تاریخی اعتبار سے کافی اہم ہے کیوں کہ اس ضلع میں کئی مجاہدین آزادی کا جنم ہوا تھا۔ ان پانچ دنوں کے دوران نمائشوں، سمیناروں، ثقافتی پروگراموں اور دیگر مسابقوں کا انعقاد کیا جائیگا۔ پینلس میں اڈیشہ کے مجاہدین آزادی کے تعاون کو خاص طور سے اجاگر کیا جائیگا۔

موئیرانگ کو ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہے اور آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت یہاں پر فوٹو نمائش کا انعقاد کافی اہم ہے۔ یہ موئیرانگ ہی تھا جہاں 14 اپریل 1944 کو پہلی مرتبہ آئی این اے کا جھنڈا لہرایا گیا تھا۔

منی پور کے ضلع بشنوپور میں موئیرانگ میں واقع آئی این اے میموریل آڈیٹوریم میں آزادی کا امرت مہوتسو پر پانچ روزہ فوٹو نمائش کے ورچوول افتتاح کے موقع پر لوک سبھا کے رکن ڈاکٹر آر کے رنجن سنگھ، ریاستی آرٹ اور ثقافت کے محکمے اور بشنوپور ضلع انتظامیہ کے کئی سینئر افسران موجود رہے۔ اس نمائش میں خاص طور پرتحریک عدم تعاون، سول نافرمانی، بھارت چھوڑو آندولن، ڈانڈی مارچ جیسے ہندوستان کی تحریک آزادی کے اہم واقعات کو اجاگر کیا گیا۔ ان میں خاص زور مہاتما گاندھی، نیتاجی سبھاش چندر بوس، سردار پٹیل اور آندولن کے دیگر رہنماؤں پر رہا۔جنہوں نے ملک کے لئے اپنے آپ کو قربان کردیا۔ ریجنل آؤٹ ریچ بیورو کے ملازمین اور پینل میں شامل فنکاروں نے حب الوطنی کے نغمے، سودیشی ڈھول نگاڑے، ہندوستانی رقص اور مارشل آرٹ کا مظاہرہ کیا۔ ساتھ ہی طلباء کے کوئز اور تقریری مسابقے اس پروگرام کے اہم باتوں میں شامل رہے۔

وہیں پٹنہ میں انوگرہ نارائن کالج میں نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس کالج کا نام انوگرہ نارائن سنگھ پر پڑا، جو اہم مجاہد آزادی تھے اور انہوں نے گاندھی  جی کے چمپارن ستیہ گرہ کے دوران اہم کردار نبھایا تھا۔ نمائش میں بہار کے مجاہدین آزادی کے تعاون کو خاص طور سے اجاگر کیا گیا۔ ایل ای ڈی ٹی وی پر مجاہدین آزادی کے نادر فوٹیج کو پیش کیاگیا اور ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔

بی او سی کی نمائشوں میں تصاویر کے ذریعے ہماری تحریک آزادی اور اس میں حصہ لینے والے لوگوں سے جڑے کچھ یادگار لمحوں کو سامنے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ نمائشیں مہاتما گاندھی، نیتاجی سبھاش چندر بوس، سردار ولبھ بھائی پٹیل، پنڈت جواہر لال نہرو،محترمہ سروجنی نائیڈو، چکرورتی راج گوپال آچاری ، بال گنگادھر تلک، بپن  چندرپال، لالہ لاجپت رائے اور انقلابی شخصیات جیسے شہید بھگت سنگھ، چندرشیکھر آزاد، رام پرساد بسمل جیسے انقلابیوں کی قربانی اور جدوجہد کو اجاگر کیا جائیگا۔

 

 

 

 

 

 

-----------------------

 

ش ح۔م ع۔ ع ن

U NO2487



(Release ID: 1704689) Visitor Counter : 178