عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ عوامی شکایات 2014 جہاں 2 لاکھ تھیں، وہیں اب بڑھ کر 21 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہیں اور 95 فیصد سے زیادہ مقدمات نمٹائے گئے ہیں

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک نیشنل ورک شاپ میں ملک بھر کے ڈپٹی کمشنروں اور مرکز اور ریاستوں کےعوامی شکایات سے نمٹنے والے نوڈل افسروں سے خطاب کیا

Posted On: 18 FEB 2021 5:12PM by PIB Delhi

شمال مشرقی خطے کی ترقی کےمرکزی وزیرمملکت( آ زادانہ چارج) ،وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک بھر کے ڈپٹی کمشنروں ؍ ضلعی ترقیاتی کمشنروں اور مرکز کے علاوہ ریاستی  اور مرکز کی زیر انتظام حکومتوں  کے عوامی شکایات سے نمٹنے والے نوڈل افسروں سے خطاب کرتے ہوئے آج کہا کہ ریاستیں عوامی شکایات سے نمٹنے کے لئے ایک سے زیادہ ٹیکنالوجیائی پلیٹ فارموں کو استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لحاظ سے یہ بہت ضروری ہے کہ  ایک دوسرے کی بہترین کام کے طریقوں سے آگاہی حاصل کی جائے اور ان میں سے کچھ طریقوں کو اختیار بھی کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات کام کے کچھ بہترین طریقے ضلعی سطح پر ابھر کر سامنے آتے ہیں۔یہ بات انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ ملک کے عوامی شکایات سے نمٹنے کے نظام کو بہتر بنانے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے علاوہ اضلاع کے ذمہ داران سرگرم طور پر شریک عمل ہیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0015E4G.jpg

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ اس نیشنل ورکشاپ کے اہتمام کا مقصد  عوامی شکایات کے ازالے کے لئےضلعی سطح پر  موجود  ٹیکنالوجی کی معلومات میں حصہ داری کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر دلی خوشی ہو رہی ہے کہ ضلعی سطح سے ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کی سطح تک پوری سرکاری مشنری حساس طریقے سے کام کر رہی ہے اور عام لوگوں کی شکایات کو دور کیا جا رہا ہے اور یہ تمام لوگ مزید بہتری کے لئے اس نیشنل ورکشاپ میں شریک ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں   ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک میں عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کا مؤثر نفاذ عمل میں لایا جائے  اور عوامی اطمینان کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے انتظامی اصلاحات کی جائیں۔کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک ڈیجیٹل  تسلسل قائم کیا جائے۔ سرکاری میکانزم کی جوابدہی کا دائرہ  بھی بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لئے نئی اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیاں استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ کاغذی کام کا بوجھ کم ہو اور تمام لوگوں کو با معنیٰ اور شفاف سرکاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، عوامی شکایات سے متعلق مقدمات کی تعداد میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے، جو درحقیقت حکومت پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ 2014 میں عوامی شکایات کی تعداد جہاں 2 لاکھ تھی  وہیں آج یہ تعداد 21 لاکھ سے زیادہ ہے اور 95 فیصد  مقدمات  فیصل کئےجا چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کا اصل منتر یہ ہے بہبودی اسکیموں کے تمام تر فوائد کے ساتھ قطار میں کھڑے آخری شخص تک پہنچا جائے۔

ان خطوط پر عوامی شکایات کے ازالے اور ان کی نگرانی کے یک مرکزی  نظام  کے 7ویں ورژن کو لانچ کرنے کے بعد 9 وزارتوں ؍ محکموں میں نافذ کیا گیا ہے، جس کے لئے آخری کونے تک موجود شکایت  سننے والے افسروں ، شکایات کے ازالے میں لگنے والے وقت کو کم کرنے اور معاملات فیصل کرنے معیار کوبہتر بنانےکو شامل نظر رکھا گیا ہے۔ اس نیشنل ورکشاپ کامقصد عوامی شکایات کے ازالے میں مختلف  ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارموں پر معلومات کو عام کرنا تھا اور یہ مقصد  حاصل کر لیا گیا، جس کے لئے اس پلیٹ فارم کے ذریعے اس سلسلے کی بہترین ٹیکنالوجی والے طریقہ عمل  سے ایک دوسرے کو باخبر ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس موقع پر کم سے کم حکومت اور زیادہ سےزیادہ حکمرانی کا خصوصی ایڈیش بھی جاری کیا، جس کا تعلق ضلعی کلکٹروں اور تمام مرکزی اور ریاستی  سطح کے عوامی شکایات سننے والے نوڈل افسروں  کے طریقہ کار کے ذریعہ شہریوں تک پہنچنے کے لئے انتھک کوششوں کی حساسیت کی تعریف سے ہے۔

اس نیشنل ورکشاپ میں 700 سے زیادہ اضلاع، 33 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے علاوہ  تقریبا 75 مرکزی وزارتوں ؍ محکموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس نیشنل ورکشاپ میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے علاوہ ملک کے تمام اضلاع کے ذمہ داروں کو یکجا ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ۔اس ورک شاپ نے معلومات، تجربات، اسباق، جدید ٹیکنالوجی کی ترقیات اور عوامی شکایات کے ازالے کے بہترین طریقوں  سے ایک دوسرے کی واقفیت کےلئے ایک نمایاں پلیٹ فارم فراہم کیا۔یہ پہلا موقع ہے کہ     انتظامی اصلاحات اور شکایات عامہ کے محکمے نے ایک ایسا نیشنل ورک شاپ کا اہتمام کیا، جس میں عوام کی شکایات کے ازالے کی اختراعی صورتیں وضع  کرنے  کے لئے ضلعی سطح تک شرکت کا دائرہ وسیع کیا گیا۔

ڈی اے آر پی جی کے سکریٹری ڈاکٹر  چھتر پتی شیوا جی نے اختتامی خطے میں کہا کہ اس نیشنل ورکشاپ کے تمام مرکزی، ریاستی اور مرکزی خطوں کے علاوہ اضلاع کے شرکا اہم معلومات لے کر جا رہے ہیں،جن پر اب لازمی عمل کے سفر کوآگے بڑھایا جائے گا۔

*************

( ش ح ۔ ع س ۔  ک ا(

U. No. 1724



(Release ID: 1699327) Visitor Counter : 10