کابینہ

کابینہ نے لکشمی وِلاس بینک کو ڈی بی ایس بینک انڈیا لمیٹیڈ کے ساتھ ضم کرنے کی اسکیم کو منظوری دی

Posted On: 25 NOV 2020 3:33PM by PIB Delhi

 

نئی لّی ، 25 نومبر  / وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیرصدارت مرکزی کابینہ نے لکشمی ولاس بینک لمیٹیڈ (ایل وی بی) کو ڈی بی ایس بینک انڈیا لمیٹیڈ (ڈی بی آئی ایل) میں ضم کرنے کی اسکیم کو منظوری دے دی ہے ۔  کھاتہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور مالی اور بینکنگ  استحکام کے مفاد کے لئے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 45 کے تحت 17 نومبر ، 2020 ء  کو ایل وی بی کو 30 دن کی مدت کے لئے  ادائیگی کے التوا میں رکھا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ ، آر بی آئی نے حکومت کے ساتھ صلاح و مشورے سے ایل وی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کو معطل کرکے  کھاتہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے  ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا ہے ۔

          عوام اور فریقین  سے  مشورے اور اعتراضات مدعو کرنے کے بعد  آر بی آئی نے  ادائیگی کے التوا  کی مدت  کو ختم کرنے کی خاطر تاکہ  کھاتہ داروں کو در پیش   رقم نکالنے  پر عائد بندشوں  کی پریشانی کو کم سے کم  کیا جا سکے ،  حکومت کی منظوری کے لئے   بینک کے انضمام کی اسکیم  تیار کی تھی ۔ اسکیم کی منظوری کے ساتھ ایل وی بی کو مقررہ تاریخ سے ڈی بی آئی ایل کے ساتھ ضم کر دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی   کھاتہ داروں کو  اپنی جمع رقم  نکالنے  سے متعلق کوئی پابندی نہیں رہے گی ۔

          ڈی بی آئی ایل ، آر بی آئی سے  لائسنس  شدہ  ایک  بینکنگ کمپنی ہے اور  ایک ذیلی ماڈل کے طور پر  بھارت میں  کام کر رہی ہے ۔ ڈی بی آئی ایل کی بیلنس شیٹ  بہت  مضبوط ہے اور اسے مضبوط پونجی  کی سپورٹ حاصل ہے ۔   اس کے پاس  ڈی بی ایس   کا  بڑا فی صد موجود ہے ، جو ایشیا میں  مالی خدمات کا   ایک ممتاز گروپ ہے  اور جو   18 مارکیٹس میں موجود ہے   اور اس کا صدر دفتر   سنگا پور میں ہے ۔  ڈی بی آئی ایل  کی مشترکہ  بیلنس شیٹ    ، اس انضمام کے بعد بھی بہت  مستحکم رہے گی اور اس کی شاخیں  بڑھ کر  600 ہو جائیں گی ۔

          ایل وی بی پر دباؤ کو ختم کرنا اور  تیز تر انضمام  حکومت کے اِس عہد  کے خطوط پر ہے ، جس کا مقصد  کھاتے داروں کے مفادات  کے ساتھ ساتھ عوام اور  مالی نظام کا تحفظ کرتے ہوئے  بینکنگ نظام کو صاف ستھرا بنانا ہے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا )

U. No. 7537

 



(Release ID: 1675804) Visitor Counter : 6