امور داخلہ کی وزارت

نگرانی ، گھیرا بندی اور احتیاط کے لئے ایم ایچ اے کے رہنما خطوط

ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو گھیرا بندی کے اقدامات سختی سے نافذ کرنے ، مختلف سرگرمیوں کے لئے ایس او پی جاری کرنے اور کووڈ کے مطابق رویہ اور احتیاط برتنے کے ساتھ بھیڑ بھاڑ کو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی

Posted On: 25 NOV 2020 4:03PM by PIB Delhi

 

نئی لّی ، 25 نومبر  / امورِ داخلہ کی وزارت ( ایم ایچ اے ) نے  نگرانی ، گھیرا بندی اور احتیاط سے متعلق   رہنما خطوط کے ساتھ  آج ایک حکم جاری کیا ہے ، جو یکم دسمبر ، 2020 ء سے نافذ ہو گا اور 31 دسمبر ، 2020 ء تک نافذ رہے گا ۔

  • رہنما خطوط میں ، خاص توجہ کووڈ – 19 کو پھیلنے سے روکنے کے لئے  اب تک حاصل  کی گئی کامیابیوں کو مستحکم کرنے  پر مرکوز کی گئی ہے ، جو ملک میں  زیرِ علاج مریضوں کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد سے ظاہر ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ ، چند ریاستوں / مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (یوٹی  ) میں  نئے معاملات میں  حالیہ اضافے کے پیشِ نظر اور تہواروں کے سیزن  اور موسمِ سرما کے آغاز کے پیشِ نظر ، اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی وباء  پر پوری طرح قابو پانے کے لئےاحتیاط  بر قرار رکھنے اور گھیرا بندی والی حکمتِ عملی پر عمل کرنے   ، نگرانی  پر توجہ مرکوز کرنے ،  گھیرا بندی اور   دیگر معاملات میں  ایم ایچ اے اور  صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت ( ایم او ایچ ایف ڈبلیو ) کے ذریعے  جاری رہنما خطوط / ایس او پی  پر  سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مقامی ضلع  پولیس اور   میونسپل حکام کو   ، اِس بات  کو یقینی بنانے کے لئے ذمہ دار ہونا چاہیئے کہ گھیرا بندی سے متعلق اقدامات  پر   سختی سے  عمل  کیا  جا رہا ہے ۔ ریاستیں  اور یو ٹی ، اپنے صورتِ حال کے تجزیہ کی بنیاد پر   کووڈ – 19 کو پھیلنےسے روکنے کی خاطر  مقامی طور پر  پابندیاں عائد کر سکتی ہیں ۔  

نگرانی اور گھیرا بندی

  • ریاستوں / مرکز کےزیر انتظام علاقوں کو  گھیرا بندی والے زونوں کی محتاط انداز میں حد بندی کرنے  اور  بہت چھوٹی سطح پر  ، اِس سلسلے میں  ایم او ایچ ایف ڈبلیو  کے ذریعےجاری کردہ  رہنما خطوط  پر عمل کرنے  پر توجہ دینی چاہیئے  ۔  گھیرا بندی والے زون کی فہرست  کو   متعلقہ ضلع کلکٹروں اور ریاستوں  / یو ٹیز کےذریعے ویب سائٹ پر نوٹیفائی  کرنا چاہیئے ۔ 
  • نشان زد کئے ہوئے  گھیرا بندی والے زون کے اندر  ، جیسا کہ  ایم او ایچ ایف  ڈبلیو  کے ذریعے  تشخیص کئے گئےاقدامات   پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیئے ۔ ان میں مندرجہ ذیل شامل ہیں :
    • گھیرا بندی والے زون میں صرف ضروری  سرگرمیوں کو ہی اجازت دی جانی چاہیئے ۔ 
    • اس بات پر سختی سے  روک تھام کی جانی چاہیئے  کہ گھیرا بندی والے احاطے میں  ، اس زون کے باہر سے  کسی شخص کی آمد نہ ہو اور کوئی باہر نہ جا سکے ۔ البتہ ، طبی ایمرجنسی   اور لازمی اشیاء اور خدمات   کی فراہمی کے لئے  ایسا  کرنے کی اجازت ہو گی ۔
    • اس مقصد کے لئے تیار کی گئی نگرانی  ٹیموں  کے ذریعے  گھر گھر جاکر   جامع نگرانی کی جانی چاہیئے ۔
    • ٹسٹنگ کا کام  دیئے گئے پروٹوکول کے مطابق  ہی انجام  دیا جانا چاہیئے ۔
    • جتنے لوگ متاثر پائے  جائیں  ،  اُن کےرابطوں میں آنے والے لوگوں کی فہرست تیار  کی جائے  ، اُن کی نشاندہی کی جائے ، انہیں قرنطینہ  کیا جائے اور  14 دن تک  ، اُن کے رابطے میں آنے والے لوگوں کی صحت پر نظر رکھی جائے  ( 72 گھنٹے میں 80 فی صد رابطوں کا پتہ لگایا جانا چاہیئے ) ۔
    • کووڈ – 19 کے مریضوں کو  ، اُن کے علاج کی جگہوں / گھروں میں تیزی سے   الگ تھلگ کرنے کو یقینی بنایا جانا چاہیئے  ۔  (گھروں میں قرنطینہ  کے رہنما خطوط کے مطابق     ) ۔
    • جیسا  طبی طور  پر تشخیص کیا گیا ہو ،  اُس پر عمل کیا جانا چاہیئے ۔
    • آئی ایل آئی / ایس اے آر آئی مریضوں کی نگرانی  صحت مراکز یا  موبائل یونٹوں  یا  بفر زون   میں کلینکوں کے ذریعے کی جانی چاہیئے ۔
    • کووڈ – 19 کے لئے مناسب رویہ   کے لئے سماج میں  بیداری پیدا کی جانی چاہیئے ۔

 

  • مقامی ضلع ، پولیس اور میونسپل حکام کو ، اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے ذمہ دار قرار دینا چاہیئے کہ  گھیرا بندی سے متعلق   اقدامات پر   سختی سے عمل کیا جا رہا ہے  اور ریاست  / یو ٹی حکومتوں کو  ، اِس سلسلے میں  متعلقہ عہدیداروں کی جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیئے ۔

 

کووڈ سے متعلق مناسب رویہ

  • ریاست / یو ٹی حکومتوں کو کووڈ – 19 کے لئے مناسب رویہ  کو فروغ دینے  اور  چہرے پر ماسک لگانے  ، ہاتھوں کی صفائی ستھرائی اور  ایک دوسرے سے فاصلہ بر قرار رکھنے   کے سختی سے نفاذ   کو فروغ دینا چاہیئے ۔ 
  • چہرے پر ماسک لگانے کی  بنیادی ضرورت کو نافذ  کرنے کی خاطر  ریاستیں  / مرکز کے زیرِ انتظام علاقے  عوامی یا  کام کرنے کے مقام پر چہرے کا ماسک نہ لگانے والے شخص پر  مناسب جرمانہ  عائد کرنے سمیت  انتظامی کارروائی  پر غور کر سکتے ہیں ۔
  • بھیڑ بھاڑ والے مقامات  ، خاص طور پر بازاروں ، ہفتہ واری بازاروں ، سرکاری ٹرانسپورٹ  میں  ایک دوسرے سے فاصلہ بر قرار رکھنے کے لئے   صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت  ایس او پی جاری کرے گی ، جسے  ریاستوں اور یوٹیز کے ذریعے  سختی سے نافذ کیا جانا چاہیئے ۔
  • کووڈ – 19 بندوبست کے لئے قومی ہدایات پر پورے ملک میں عمل کیا جانا چاہیئے تاکہ کووڈ – 19 کے لئے مناسب رویہ کو نافذ کیا جا سکے۔

تشخیص کردہ ایس او پی کا سختی سے نفاذ

  • گھیرا بندی والے زون   کے باہر  مندرجہ ذیل سرگرمیوں کے علاوہ دیگر تمام   سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے ۔ البتہ کچھ سرگرمیوں کی اجازت  کچھ شرائط کے ساتھ دی گئی ہے ۔
  1. ایم ایچ اے کے ذریعہ منظور شدہ  بین الاقوامی مسافروں کا ہوائی سفر   ۔
  2. سینما ہال اور تھیٹر  50 فی صد تک کی گنجائش کے ساتھ ۔
  3. صرف کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے سوئمنگ پول ۔
  4. نمائشی ہال  ، صرف کاروبار سے کاروبار  ( بی ٹو بی ) کے مقصد سے ۔
  5. سماجی / مذہبی / کھیل کود / تفریح / تعلیمی  / ثقافتی  / مذہبی اجتماعات  کو   ہال کی گنجائش  کا زیادہ  سے زیادہ  50 فی صد تک ، جس میں  زیادہ سے زیادہ افراد کی تعداد 200 ہونی چاہیئے اور  افرا دکی تعداد کو  میدان / جگہ  کی گنجائش  کے مناسبت سے ہونا چاہیئے ۔

البتہ ، ریاستی / مرکز  کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتیں  صورتِ حال کے اپنے  تجزیہ کی بنیاد  پر بند مقامات میں لوگوں  کی تعداد  کی حد 100 یا اُس سے کم مقرر کرنے کا اختیار رکھتی ہیں ۔

  • تمام رہنما خطوط سے متعلق معلومات  19 ایس او پیز کی ایک فہرست  میں  شامل ہے ، جسے  اجازت دی گئی سرگرمیوں کو منضبط کرنے کے لئے  وقتاً فوقتاً جاری کیا گیا ہے ۔ ان ایس او پیز کو متعلقہ حکام کے ذریعے  ، جو  اس کے لئے ذمہ دار ہیں ، سختی سے  عمل در آمد  کیا جانا چاہیئے ۔

مقامی پابندیاں

  • ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے   صورتِ حال کے اپنے   تجزیہ کی بنیاد پر  کووڈ – 19 کو پھیلنے سے روکنے  کی خاطر  رات کے کرفیو   جیسی مقامی پابندیاں عائد کر سکتی ہیں ۔ البتہ ،  ریاست / یو ٹی حکومتوں کو  گھیرا بندی والے زون کے باہر مرکزی حکومت سے صلاح و مشورہ کئے بغیر   مقامی لاک ڈاؤن نافذ کرنے  ( ریاست / ضلع / سب ڈویژن / شہر کی سطح پر ) کا اختیار نہیں ہو گا ۔
  • ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو  دفاتر میں ایک دوسرے سے فاصلہ بر قراررکھنے  کو نافذ کرنا ہو گا ۔ اُن شہروں میں  ، جہاں  متاثر ہونے والے  افراد کی ہفتہ وار شرح 10 فی صد سے زیادہ ہے ، ریاستوں اور متعلقہ یو ٹیز   کو دفاتر کے اوقات  الگ الگ کرنے اور دیگر اقدامات پر غور کرنا چاہیئے  تاکہ  ایک ہی وقت میں  دفاتر آنے والے ملازمین  کی تعداد کو  کم کیا جا سکے اور  سوشل ڈسٹنسنگ کو یقینی بنایا جا سکے ۔ 

بین ریاستی اور ریاست کے اندر آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں

  • ایک ریاست سے دوسری ریاست یا ریاست کے اندر  زمینی سرحد  کے آر پار  لوگوں  اور اشیاء کی آمد  و رفت پر کوئی پابندی  نہیں ہونی چاہیئے ۔ اس طرح کی آمد  و رفت  یا نقل و حمل کے لئے کسی علیحدہ اجازت نامے / منظوری  / ای پرمٹ کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ 

کمزور افراد  کے لئے تحفظ

  • کمزور افراد یعنی  65 سال سے زیادہ عمر کے افراد یا متعدد بیماریوں سے متاثرہ افراد  ، حاملہ خواتین  اور 10 سال سے کم عمر کے بچوں   کو صلاح دی گئی ہے کہ وہ  گھروں پر ہی رہیں  ۔ البتہ  ، کسی ضروری  کام کے تحت  وہ باہر جا سکتے ہیں ۔

آروگیہ سیتو کا استعمال

  • آروگیہ سیتو موبائل ایپلی کیشن کے استعمال کی  حوصلہ افزائی کی جاتی رہے گی ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا ) 

U. No. 7534

 



(Release ID: 1675744) Visitor Counter : 82