وزیراعظم کا دفتر

اترپردیش میں دیہی پینے کے پانی کے سپلائی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

Posted On: 22 NOV 2020 2:54PM by PIB Delhi

دیکھئے زندگی کا ایک بڑا مسئلہ جب حل ہونے لگتا ہے تو ایک الگ ہی اعتماد جھلکنے لگتا ہے۔ یہ اعتماد آپ سبھی کے ساتھ جو بات چیت کا پروگرام بنایا گیا، ٹیکنالوجی میں رکاوٹ کے سبب ہر کسی سے میں بات نہیں کر پایا، لیکن میں آپ کو دیکھ پا رہا تھا۔ جس طرح سے آپ جیسے گھر میں بہت بڑا اتسو ہو اور جس طرح سے کپڑے پہنتے ہیں گھر میں، وہ سب مجھے دکھ رہا تھا۔ مطلب کہ کتنا جوش اور امنگ بھرا پڑا ہے، پانی کے تئیں آپ لوگوں کی حساسیت کتنی ہے، کنبے میں جیسے شادی۔ بیاہ ہو، ایسا ماحول آپ نے بنا دیا ہے۔

اس کا مطلب ہوا کہ حکومت آپ کے مسائل کو بھی سمجھتی ہے، مسائل کے حل میں صحیح سمت میں آگے بھی بڑھ رہی ہے اور جب آپ اتنی بڑی مقدار میں جڑے ہیں، جوش اور امنگ کے ساتھ جڑے ہیں تو مجھے پختہ یقین ہے کہ یوجنا۔ سوچا ہے اس سے جلدی ہو گی، ہو سکتا ہے پیسے بھی بچا لیں آپ لوگ اور اچھا کام کریں۔ کیونکہ عوامی شراکت داری ہوتی ہے تو بہت بڑا نتیجہ ملتا ہے۔

ماں وندھیاواسنی کی ہم سبھی پر خصوصی مہربانی ہے کہ آج اس خطے کے لاکھوں کنبوں کے لئے اس بڑی اسکیم کی شروعات ہو رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت لاکھوں کنبوں کو ان کے گھروں میں نل سے صاف اور خالص پینے کا پانی ملے گا۔ اس انعقاد میں ہمارے ساتھ جڑی ہوئیں اترپردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل جی، سون بھدر میں موجود اترپردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب گجیندر سنگھ جی، یوپی حکومت میں وزیر بھائی مہیندر سنگھ جی، دیگر وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی، وندھیہ علاقہ کی سبھی بہنوں اور وہاں موجود سبھی بھائیوں کو میں بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

وندھیہ پہاڑ کی یہ پوری توسیع قدیم دور سے ہی یقین کا، پاکیزگی کا، عقیدت کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے۔ اترپردیش میں تو کئی لوگ جانتے ہیں، رحیم داس جی نے کیا کہا تھا۔ رحیم داس جی نے بھی کہا۔ 'جاپر وپدا پرت ہے، سو آوت یہی دیش'!

بھائیو اور بہنو، رحیم داس جی کے اس یقین کے سبب، اس علاقے کے بہت زیادہ وسائل تھے، یہاں موجود بےپناہ وسائل تھے۔ وندھیاچل سے شپرا، وین گنگا، سون، مہاند، نرمدا کتنی ہی ندیوں کی دھارا وہاں سے نکلتی ہیں۔ ماں گنگا، بیلن اور کرمناش ندیوں کا بھی آشیرواد اس علاقے کو حاصل ہے۔ لیکن آزادی کے بعد دہائیوں تک اگر نظراندازی کا شکار بھی کوئی علاقہ ہوا ہے تو یہ علاقہ سب سے زیادہ ہوا ہے۔ وندھیاچل ہو، بندیل کھنڈ ہو، یہ پورا علاقہ ہو، وسائل کے باوجود محرومی کا علاقہ بن گیا۔ اتنی ندیاں ہونے کے باوجود اس کی پہچان سب سے زیادہ پیاسے اور قحط زدہ علاقوں کی ہی رہی۔ اس لئے متعدد لوگوں کو یہاں سے ہجرت کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔

ساتھیو،

بیتے برسوں میں وندھیاچل کی اس سب سے بڑی پریشانی کو دور کرنے کے لئے مسلسل کام کیا گیا ہے۔ یہاں گھر گھر پانی پہنچانے اور سینچائی کی سہولتوں کی تعمیر اسی کوشش کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔ پچھلے سال بندیل کھنڈ میں پانی سے منسلک بہت بڑے پروجیکٹ پر کام شروع کیا گیا تھا، جس پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ آج ساڑھے 5 ہزار کروڑ روپئے کی وندھیہ پانی سپلائی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔

اس پروجیکٹ کے لئے سون بھدر اور مرزا پور اضلاع کے لاکھوں ساتھیوں کو اور خاص طور پر ماووں۔ بہنوں اور بیٹیوں کو بہت بہت مبارکباد دینے کا یہ موقع ہے۔ اور آج جب میں اس علاقے کے لوگوں سے بات کرتا ہوں تو فطری ہے کہ اس موقع پر میں میرے پرانے دوست آنجہانی سونے لال پٹیل جی کو بھی یاد کر رہا ہوں۔ وہ اس علاقے کے پانی کے مسئلہ کو لے کر بہت فکرمند رہتے تھے۔ ان اسکیموں کو شروع ہوتے دیکھ، آج سونے لال جی کی روح جہاں بھی ہو گی ان کو بہت اطمینان ہوتا ہو گا اور وہ بھی ہم سب پر آشیرواد برساتے ہوں گے۔

بھائیو اور بہنوں،

آنے والے وقت میں جب یہاں کے 3 ہزار گاووں تک پائپ سے پانی پہنچے گا تو 40 لاکھ سے زیادہ ساتھیوں کی زندگی بدل جائے گی۔ اس سے یوپی کے، ملک کے ہر گھر تک پانی پہنچانے کے عزم کو بھی بہت طاقت ملے گی۔ یہ پروجیکٹ کورونا انفیکشن کے باوجود ترقی کے سفر کو تیزی سے آگے بڑھاتے اترپردیش کی بھی ایک مثال ہے۔ پہلے جو لوگ اترپردیش کے سلسلے میں اندازے لگاتے تھے آج جس طرح سے اترپردیش میں یکے بعد دیگرے اسکیمیں نافذ ہو رہی ہیں، اترپردیش کے، اترپردیش کی حکومت کے، اترپردیش حکومت کے ملازمین کی ایک شبیہ پوری طرح بدل رہی ہے۔

اس دوران جس طرح یوپی میں کورونا سے مقابلہ کیا جا رہا ہے، باہر سے گاوں لوٹے شرمک ساتھیوں کا دھیان رکھا، روزگار کا انتظام کیا گیا یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے جی۔ اتنی بڑی ریاست میں اتنی باریکی سے ایک ساتھ اتنے مورچوں پر کام کرنا، اترپردیش نے کمال کر کے دکھایا ہے۔ میں اترپردیش کے عوام کو، اترپردیش کی حکومت کو اور یوگی جی کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

ہر گھر پانی پہنچانے کی مہم کو اب قریب۔ قریب ایک سال سے بھی زیادہ وقت ہو گیا ہے۔ اس دوران ملک میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ کنبوں کو ان کے گھروں میں نل سے صاف پینے کا پانی پہنچانے کا بندوبست کیا گیا ہے اور اس میں لاکھوں کنبے ہمارے اترپردیش کے بھی ہیں۔

ہم اپنے گاوں میں رہنے والے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے لئے، شہروں جیسی سہولتیں مہیا کرانے کے لئے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ آج جو پروجیکٹ شروع ہو رہے ہیں، اس سے بھی اس مہم کو اور رفتار ملے گی۔ اس کے علاوہ اٹل بھوجل یوجنا کے تحت پانی کی سطح کو بڑھانے کے لئے جو کام ہو رہا ہے، وہ بھی اس علاقے کو بہت مدد کرنے والا ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

ہمارے یہاں کہا جاتا ہے، ایک پنتھ، دو کاج۔ لیکن آج جو اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں وہاں تو ایک پنتھ متعدد کاج، ان سے کئی اہداف حاصل ہو رہے ہیں۔ جل جیون مشن کے تحت گھر گھر سے پائپ سے پانی پہنچانے کی وجہ سے ہماری ماووں۔ بہنوں کی زندگی آسان ہو رہی ہے۔ اس کا ایک بڑا فائدہ غریب کنبوں کی صحت کو بھی ہوا ہے۔ اس سے گندے پانی سے ہونے والی ہیضہ، ٹائیفائڈ اور انسیفلائٹس جیسی متعدد بیماریوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔

یہی نہیں، اس اسکیم کا فائدہ انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو بھی ہو رہا ہے۔ مویشیوں کو صاف پانی ملتا ہے تو وہ بھی صحت مند رہتے ہیں۔ مویشی صحت مند رہیں اور کسان کو، مویشی پالنے والے کو پریشانی نہ ہو، اس مقصد کو لے کر بھی ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہاں یوپی میں تو یوگی جی کی حکومت کی کوششوں سے جس طرح سے انسیفلائٹس کے معاملوں میں کمی آئی ہے، اس کی چرچا تو دور دور تک ہے۔ ماہرین بھی اس کی چرچا کرتے ہیں۔ معصوم بچوں کی زندگی بچانے کے لئے یوگی جی اور ان کی پوری ٹیم کو میں مانتا ہوں ہر اترپردیش کا باشندہ اتنے آشیرواد دیتا ہو گا، اتنے آشیرواد دیتا ہو گا شاید جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جب وندھیاچل کے ہزاروں گاووں میں پائپ سے پانی پہنچے گا تو اس سے بھی علاقے کے معصوم بچوں کی صحت بہتر ہو گی، ان کی جسمانی اور ذہنی ترقی اور بہتر ہو گی۔

ساتھیو،

جل جیون مشن حکومت کے اس عزم کا بھی حصہ ہے جس کے تحت سوراج کی طاقت کو گاوں کی ترقی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ گرام پنچایت کو، مقامی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دئیے جا رہے ہیں اور اس میں بھی گاوں کے لوگوں کا رول بہت اہم ہے۔ گاوں میں پانی کے ذرائع کے تحفظ کو لے کر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

حکومت ایک ساتھی کی طرح، ایک معاون کی طرح آپ کی ترقی کے سفر میں ایک شراکت دار کی طرح آپ کے ساتھ ہے۔ جل جیون مشن ہی نہیں، بلکہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت جو غریبوں کے پختہ گھر بن رہے ہیں اس میں بھی یہی سوچ ظاہر ہوتی ہے۔ کس علاقے میں کیسا گھر ہو، کس سامان سے گھر بنے، پہلے کی طرح یہ اب دلی میں بیٹھ کر طئے نہیں ہوتا ہے۔ اگر کسی قبائلی گاوں میں خاص روایت کے گھر بنتے ہیں تو ویسے ہی گھر بنے۔ دلی والے سوچتے ہیں ویسے نہیں، وہاں کا قبائلی جو چاہے گا، جیسا چاہے گا، جیسا اس کا رہن سہن ہے، ویسا گھر بنے، یہ سہولت دی گئی ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

جب اپنے گاوں کی ترقی کے لئے، خود فیصلے لینے کی آزادی ملتی ہے، ان فیصلوں پر کام ہوتا ہے، تو اس سے گاوں کے ہر شخص کی خود اعتمادی بڑھتی ہے۔ آتم نربھر گاوں، آتم نربھر بھارت کی مہم کو اس کے سبب بہت بڑی طاقت ملتی ہے۔ اس سے مقامی سطح پر پیدا ہونے والے سامان کی کھپت زیادہ ہوتی ہے۔ مقامی سطح پر ہی جو ہنرمند لوگ ہیں، ان کو روزگار ملتا ہے۔ راج مستری ہوں، فٹر ہوں، پلمبر ہوں، ایسے متعدد ساتھیوں کو گاوں میں یا تو گاوں کے پاس ہی روزگار کے ذرائع بنتے ہیں۔

ساتھیو،

ہمارے گاوں کو، گاوں میں رہنے والے غریبوں کو، قبائلیوں کو جتنی ترجیح ہماری حکومت نے دی ہے، اتنی پہلے نہیں دی گئی۔ غریب سے غریب کو ایل پی جی گیس سلینڈر دینے کی اسکیم سے گاوں میں، جنگل سے متصل علاقوں کو دوہرا فائدہ ہوا ہے۔ ایک فائدہ تو ہماری بہنوں کو دھنوئیں سے، لکڑی کی تلاش میں لگنے والے وقت اور محنت سے نجات ملی ہے۔ یہاں اتنی بڑی تعداد میں جو مائیں اور بہنیں بیٹھی ہیں، پہلے جب ہم لکڑی سے چولہا جلاتے تھے، کھانا پکاتے تھے تو ہماری ماووں، بہنوں کے جسم میں ایک دن میں 400 سگریٹ جتنا دھنواں جاتا تھا۔ گھر میں بچے روتے تھے، ماں کھانا پکاتی تھی، 400 سگریٹ جتنا دھنواں ان ماووں۔ بہنوں کے جسم میں جاتا تھا۔ کیا ہو گا ان کے حال کا، ان کے بدن کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ اس سے نجات دلانے کے لئے ایک بڑی مہم ہم نے چلائی اور گھر گھر گیس کا چولہا، گیس کا سلینڈر تاکہ میری ان ماووں اور بہنوں کو ان 400 سگریٹ جتنا دھنواں اپنے جسم میں نہ لینا پڑے، یہ کام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف ایندھن کے لئے جنگلوں کے کٹان کی مجبوری بھی اس سے ختم ہوئی ہے۔

ملک کے باقی گاووں کی طرح یہاں بھی بجلی کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ آج یہ علاقہ شمسی توانائی کے شعبے میں دنیا کا سرکردہ علاقہ بنتا جا رہا ہے، ہندستان کا اہم مرکز ہے۔ مرزاپور کا شمسی توانائی کا پلانٹ یہاں ترقی کا نیا باب لکھ رہا ہے۔ اسی طرح آبپاشی سے منسلک سہولتوں کے نہ ہونے سے وندھیاچل جیسے ملک کے کئی علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ لیکن اس علاقے میں برسوں سے زیر التوا سینچائی پروجیکٹوں کو پورا کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف بنجر زمین پر کسان شمسی توانائی سے بجلی پیدا کر کے اضافی کمائی کر سکیں، اس کے لئے بھی مدد کی جا رہی ہے۔ ہمارا اناج پیدا کرنے والا توانائی پیدا کرنے والا بنے۔ وہ اناج پیدا کرتا ہے، لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے۔ اب وہ اپنے ہی کھیت میں اس کے ساتھ ساتھ توانائی بھی پیدا کر سکتا ہے اور لوگوں کو روشنی بھی دے سکتا ہے۔

ہم وندھیہ علاقہ کی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ چاہے وہ میڈیکل انفراسٹرکچر بنانا ہو یا پھر اس علاقے میں سڑکوں کی تعمیر، سبھی پر بہت تیز رفتاری سے کام چل رہا ہے۔ بجلی کی صورت حال پہلے کیا تھی اور اب کتنی بہتر ہے، یہ آپ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں۔

بھائیو اور بہنوں۔

گاوں میں یقین اور ترقی کی کمی میں ایک اور بڑا مسئلہ رہا ہے گھر اور زمین سے جڑا تنازعہ۔ اس مسئلہ کو اترپردیش کے اس حصے میں رہنے والوں سے بہتر بھلا کون سمجھ سکتا ہے۔ سبب یہ ہے کہ نسل در نسل رہنے کے بعد اس کے بعد بھی گاوں کی زمین کے قانونی کاغذ نہیں تھے۔ اگر ان کا گھر ہے تو گھر کے سلسلے میں بھی کتنا یہ لمبا ہے، کتنا چوڑا ہے، کیا اس کی اونچائی ہے، کاغذ کہاں ہیں، کچھ نہیں تھا۔ دہائیوں سے لوگ ایسے ہی جیتے رہے۔ مسئلہ وہ جھیلتے رہے۔ تنازعات بڑھتے گئے اور کبھی کبھی تو مار دھاڑ تک ہو جاتی ہے، گلا کاٹنے تک پہنچ جاتا ہے معاملہ، بھائی بھائی کے بیچ جھگڑا ہو جاتا ہے۔ ایک فٹ زمین کے لئے ایک پڑوسی کے ساتھ دوسرے پڑوسی کی لڑائی ہو جاتی ہے۔

اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے ملکیت اسکیم کے تحت یوپی میں ڈرون ٹیکنالوجی سے گھر اور زمین کے نقشے بنائے جا رہے ہیں۔ ان نقشوں کی بنیاد پر گھر اور زمین کے قانونی دستاویز گھر اور زمین کے مالک کو سونپے جا رہے ہیں۔ اس سے گاوں میں رہنے والے غریب، قبائلی اور محروم ساتھی بھی قبضے کے اندیشے سے بےفکر ہو کر اپنی زندگی گزار پائیں گے۔ ورنہ مجھے تو معلوم ہے گجرات میں آپ کے علاقے کے بہت لوگ کام کرتے ہیں۔ کبھی ان سے میں بات کرتا تھا کہ بھئی کیوں چلے گئے تھے؟ تو کہے نہیں۔ نئی بھئی، ہمارا تو وہاں زمین کا جھگڑا ہو گیا، ہمارے گھر پر کسی نے قبضہ کر لیا، میں یہاں کام کرتا تھا، کوئی گھر میں گھس گیا۔ اب یہ کاغذ ملنے کے بعد ان سارے مسائل سے آپ نجات پا جائیں گے۔ یہی نہیں ضرورت پڑنے پر گاوں کے اپنے گھر کے جو دستاویز ہیں، جو کاغذ ہیں، اس سے اگر آپ کو قرض لینے کی ضرورت پڑی، بینک سے لون لینے کی ضرورت پڑی تو اب آپ اس کے مستحق بن جائیں گے۔ آپ جا سکتے ہیں اور کاغذ دکھا کر بینک سے لون لے سکتے ہیں۔

ساتھیو،

آج سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، یہ منتر ملک کے ہر حصے، ہر شہری کے یقین کا منتر بن چکا ہے۔ آج ملک کے ہر شخص، ہر علاقہ کو لگ رہا ہے کہ اس تک حکومت پہنچ رہی ہے اور وہ بھی ملک کی ترقی میں ساجھیدار ہے۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی آج یہ خود اعتمادی میں اچھی طرح، اس میں ایک نئی طاقت آئی ہے اور میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ قبائلیوں میں بنیادی سہولتیں تو آج پہنچ ہی رہی ہیں بلکہ ان علاقوں کے لئے خصوصی اسکیموں کے تحت بھی کام کیا جا رہا ہے۔ قبائلی نوجوانوں کی تعلیم کے لئے ملک میں سینکڑوں نئے ایکلوویہ ماڈل رہائشی اسکول منظور کئے گئے ہیں۔ اس میں ہمارے قبائلی علاقوں کے بچوں کو ہاسٹل کی سہولت دستیاب ہو گی۔

ساتھیو،

پڑھائی کے ساتھ ساتھ کمائی کے امکانات بھی تلاش کئے جا رہے ہیں۔ جنگلاتی پیداوار کی زیادہ قیمت قبائلی ساتھیوں کو ملے، اس کے لئے ساڑھے بارہ سو ون دھن کیندر پورے ملک میں کھولے جا چکے ہیں۔ ان کے توسط سے سینکڑوں کروڑ روپئے کا کاروبار بھی کیا گیا ہے۔

یہی نہیں، اب آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت جنگلاتی پیداوار پر مبنی صنعتیں بھی قبائلی علاقوں میں لگیں، اس کے لئے بھی ضروری سہولتیں تیار کی جا رہی ہیں۔ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے پیسے کی کمی نہ ہو، اس کے لئے ڈسٹرکٹ منرل فنڈ بنایا گیا ہے۔ سوچ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں سے نکلنے والے وسائل کا ایک حصہ اسی علاقے میں لگے۔ اترپردیش میں بھی اس فنڈ میں اب تک تقریبا 800 کروڑ روپئے اکھٹا کئے جا چکے ہیں۔ اس کے تحت ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ پروجیکٹ منظور بھی کئے جا چکے ہیں اور سینکڑوں پروجیکٹ پورے بھی ہو چکے ہیں۔

ساتھیو،

ایسے ہی کام آج بھارت کے آتم وشواس کو روزانہ بڑھا رہے ہیں۔ اسی آتم وشواس کے بل پر آتم نربھر بھارت بنانے میں ہم سبھی جٹے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سندھیہ پانی سپلائی اسکیم سے یہ آتم وشواس اور مضبوط ہو گا۔

ہاں، اس بیچ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ کورونا انفیکشن کا خطرہ ابھی بھی برقرار ہے۔ دو گز کی دوری، ماسک اور صابن سے صاف صفائی کے ضابطے، کسی بھی حالت میں بھولنے نہیں ہیں۔ ذرا سی ڈھلائی خود کو، کنبے کو، گاوں کو بحران میں ڈال سکتی ہے۔ دوائی بنانے کے لئے ہمارے سائنسداں سخت محنت کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے سائنسداں لگے ہوئے ہیں، سب سے دولت مند ملک کے لوگ بھی لگے ہیں اور غریب ملک کے لوگ بھی لگے ہیں۔ لیکن جب تک دوائی نہیں، تب تک ڈھلائی نہیں۔

 آپ اس بات کو دھیان میں رکھیں گے، اسی یقین کے ساتھ آپ کا بہت بہت شکریہ اور آپ کے تئیں بہت بہت نیک تمنائیں!!

****

م ۔ن۔ ن۔ ا۔ م۔ ف

U: 7459



(Release ID: 1674932) Visitor Counter : 92