زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

2019 میں مارچ سے جون کی مدت کے مقابلے 2020 کی مدت میں زرعی اشیاء کی بر آمدات میں 23.24 فیصد کا اضافہ ہوا


زراعت کی وزارت نے زرعی تجارت کے فروغ کے لئے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا

زراعت کی وزارت کی طرف سے ایپیڈا کے تحت خصوصی زرعی مصنوعات کے بر آمداتی فروغ کے فورم تشکیل دیئے گئے

Posted On: 18 AUG 2020 12:50PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی ،18؍اگست  : آتم نربھر بھارت کا نشانہ حاصل کرنے کے لئے خود کفیل زراعت لازمی ہے۔ اس کے لئے زرعی بر آمدات  انتہائی ضروری ہے، جیسا  کہ ملک کے لئے گراں قدر  غیر ملکی  زر مبادلہ  حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ، بر آمدات سے کسانوں؍ بر آمد کاروں کو بر آمدات کرنے میں مدد ملتی ہے ، تاکہ وہ  ایک وسیع  بین الاقوامی مارکیٹ  سے فائدہ  حاصل کرسکیں اور  اپنی آمدنی میں  اضافہ کرسکیں۔ بر آمدات  سے  زراعت کے شعبے میں مزید پیداوار  ہوئی ہے، جس کے لئے  فصل کے رقبے اور  پیداوار میں  اضافہ کیا گیا ہے۔

 عالمی تجارتی تنظیم کے تجارتی اعداد وشمار کے مطابق    2017  میں دنیا کی  زرعی تجارت  میں  بھارت کی زرعی  بر آمدات اور در آمدات کا حصہ   بالترتیب 2.27 فیصد   اور  1.90  فیصد تھا۔ وبا کی وجہ سے عائد  لاک ڈاؤن کے مشکل حالات کے دوران بھارت نے   اس بات کا خیال کیا کہ عالمی خوراک کی سپلائی چین   میں کوئی رخنہ نہ  پڑے، لہذا اس نے بر آمدات کو جاری رکھا۔ مارچ 2020  سے جون 2020 کے درمیان  زرعی اشیاء کی بر آمدات  25552.7 کروڑ  روپے تھی، جبکہ  2019  میں اسی مدت کے دوران  یہ بر آمدات 20734.8 کروڑ  روپے تھی، جس سے 23.24 فیصد  کے زبردست اضافے کا اظہار ہوتا ہے۔

بھارت کی زرعی  جی ڈی پی  کے فیصد کے طور پر زرعی بر آمدات  میں  2017-18 میں  9.4 فیصد سے 19-2018  میں  9.9 فیصد تک اضافہ ہوا۔ جبکہ  بھارت کی زرعی  جی ڈی پی  کے فیصد کے طور پر زرعی  در آمدات میں  5.7 فیصد سے  4.9 فیصد  تک  گراوٹ آئی، جس سے  بھارت میں  قابل بر آمد  اضافی سامان کا پتہ چلتا ہے اور  زرعی مصنوعات کی در آمد پر انحصار میں کمی کا اندازہ ہوتا ہے۔

آزادی سے لے کر اب تک زرعی بر آمدات میں زبردست  پیش رفت ہوئی ہے۔ 51-1950 میں بھارت کی زرعی  بر آمدات  تقریبا 149 کروڑ روپے تھی، جو  20-2019 دو لاکھ 53 ہزار  کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ پچھلے 15 سال میں تقریبا  سبھی زرعی اشیاء  کی بر آمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن  بھارت  کا شمار  زرعی مصنوعات کے سرکردہ پیداوار  کرنے والے ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود  اس کا شمار زرعی مصنوعات کے چوٹی کے بر آمد کاروں میں نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر بھارت  گیہوں کی پیداوار کرنے والا  دنیا کا  دوسرے درجہ کا حامل ہے، لیکن اس کا شمار بر آمدات میں 34 ویں نمبر پر کیا جاتا ہے، اسی طرح  سبزیوں کی پیداوار میں بھی  اس کا نمبر  دنیا میں  تیسرا ہونے کے باوجود  بر آمدات میں اس کا  درجہ محض 14 واں ہے۔ یہی  سلسلہ پھلوں میں بھی ہے، جہاں دنیا میں پھلوں کی پیداوار  میں  بھارت کا  دوسرا درجہ ہے لیکن بر آمدات  میں اس کا درجہ 23 واں ہے۔ زراعت میں چوٹی کے بر آمدکار ملکوں میں شامل ہونے کے لئے  اس بات کی  واضح ضرورت ہے  کہ پہلے سے  سرگرم  ہوا جائے۔

اس  کے پیش نظر ڈی اے سی اینڈ ایف ڈبلیو نے زرعی تجارت کے فروغ کے تئیں ایک جامع  لائحہ عمل اور  حکمت عملی تیار کی ہے۔ پیداوار سے پہلے ، پیداوار کے دوران اور فصل کے بعد سے  متعلق اعداد وشمار اور معاملات  کو تفصیل سے جاننے کا کام  شروع کیا گیا ہے تاکہ  ایک مجموعی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے شروع سے آخر تک کا ایک طریقہ کار تشکیل دیا جائے۔

بر آمدات سے متعلق حکمت عملی میں تندرستی سے متعلق خوراک ؍  صحت کا  خیال رکھتے ہوئے  استعمال کی جانے والی خوراک ؍  تغذیہ بخش غذاؤں کی  تیزی سے ترقی کرنے والی مارکیٹ  کے بر آمداتی فروغ پر  توجہ دی گئی ہے۔ برانڈ انڈیا  کو  ایک مہم کے انداز میں فروغ دینا  تاکہ  نئی  غیر ملکی  مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد ملے، نیز نئی مصنوعات  کی تجارت  کا موقع ملے؛ مارکیٹ میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرنے کے لئے خلیجی ملکوں کی نشان دہی کی گئی ہے، جو  بھارت کے لئے ایک مضبوط منڈی ہے۔

یہ بات بھی  قابل ذکر ہے کہ باغبانی  ایک ابھرتا ہوا ذیلی شعبہ ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں بھارت دوسرے مقام پر ہے۔ بھارت 8 لاکھ  23  ہزار میٹرک ٹن  پھل  بر آمدت کرتا ہے، جس کی مالیت  5 ہزار 638 کروڑ روپے ہے اور وہ  31.92 ایل ایم ٹی سبزیوں کی  بر آمد کرتا ہے جس کی مالیت 5 ہزار 679 کروڑ روپے سالانہ ہے۔ بھارت کے تازہ پھلوں کی  بر آمدات میں انگور پہلے نمبر پر ہیں، جس کے بعد  آم ، انار، کیلا اور  سنترے کا نمبر ہے۔ تازہ سبزیوں  کی بر آمدات میں پیاز ، ملی جلی سبزیاں ، آلو ، ٹماٹر اور ہری مرچ اہم اشیاء ہیں۔ جبکہ  پھلوں اور سبزیوں کی عالمی تجارت 208 ارب امریکی ڈالر کی ہے اور  بھارت میں اس کا حصہ  بہت معمولی ہے۔پھلوں اور سبزیوں کی بر آمدات میں اضافے  کا بہت بڑا امکان موجود ہے۔

اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ موجودہ  زرعی کلسٹرز  کو  مستحکم بنائے جانے کی ضرورت ہے، اور بڑے  پیمانے پر مقدار  اور معیار کے اعتبار سے، سپلائی میں خلاء کو پر کرنے کے لئے پیداوار کے مزید کلسٹرز  تیار کئے جانے کی ضرورت ہے۔ مقررہ وقت پر  ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے ، جس کے تحت  خوردنی تیل ، کاجو ، پھلوں اور مسالحوں   کی  در آمدات  کو  خاص  طور پر مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ بھارت کو  خود کفیل بنایا جاسکے۔

زراعت کی وزارت کے تحت  زرعی تعاون  اور کسانوں کی بہبود کے محکمے کی طرف سے  پیداوار کے لئے مخصوص بر آمدات کے فروغ کے فورم  تشکیل دیئے گئے ہیں تاکہ زرعی بر آمدات کو  نئی اونچائیوں تک پہنچایا جاسکے۔زرعی اور اس سے متعلقہ 8 اشیاء کی پیداوار کے لئے بر آمدات کے فروغ کے فورم تشکیل دئے گئے  ہیں، جو اس طرح ہیں، انگور، آم، کیلا ، پیاز ، چاول ،  تغذیہ بخش دالیں، انار  اور  مختلف  قسم کے پھول۔

بر آمدات کی  ترقی کے  ہر فورم   میں متعلقہ شے کے بر آمدکار ہوں گے، جن کی حیثیت اس کے ارکان کی ہوگی۔ اس کے علاوہ اس فورم میں سرکاری ارکان بھی ہوں گے، جو مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی وزارتوں یا  متعلقہ محکموں کی نمائندگی کریں گے۔ اپیڈا چیئر مین ان میں سے ہر ایک فورم کا چیئر مین ہوگا۔ اس فورم کی  کم سے کم  ہر دو مہینے میں میٹنگ ہوگی۔ تاکہ  متعلقہ اشیاء کی بر آمدات سے متعلق معاملات پر کی گئی  سفارشات  پر بات چیت کی جاسکے اور  ماہرین کو مدعو کیا جاسکے۔

یہ فورم اپنی متعلقہ اشیاء  کی پیداوار  اور بر آمدات سے متعلق بیرونی اور اندرونی صورت حال پر  لگاتار گہری نظر رکھے گا اور تازہ ترین واقعات  کا جائزہ لیتا رہے گا۔ نیز وہ لازمی پالیسی یا انتظامی اقد امات  کرتا رہے گا۔ یہ لوگ پیداوار کرنے والوں، بر آمد کاروں اور  متعلقہ اشیاء سے متعلق دیگر فریقوں کے لگاتار رابطے میں رہیں گے۔ ان کی پریشانیاں سنیں گے، ان کے لئے سہولیات مہیا کریں گے اور  ان کی مدد  اور ان کی پریشانیوں کے حل پیش کریں گے۔ یہ لوگ عالمی سطح پر متعلقہ اشیاء کی مارکیٹ کا لگاتار مطالعہ کریں گے۔ نیز  گھریلو کمپنیوں کی  پیچیدگیوں، نئے موقعوں اور تازہ ترین حالات  کا لگا تار  جائزہ لیتے رہیں گے۔

 فورم کی سفارشات کو  پیداوار سے متعلق کمیٹی ؍  ایپیڈا  کی اتھارٹی  کو پیش کیا جائے گا۔ یہ فورم ایم آئی ڈی ایچ ، ایکسٹنشن این پی پی او  وغیرہ  جیسی  زراعت کی وزارت اور  شہری  ہوا بازی  کی وزارت   کی متعلقہ  تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔ تاکہ  زرعی بر آمد کاروں میں  مزید دلچسپی پیدا کی جاسکے۔

 

*************

 ( م ن  ۔ اس۔ق ر)

4607U-



(Release ID: 1646673) Visitor Counter : 296