ٹیکسٹائلز کی وزارت

ٹیکسٹائل کی وزارت نے لاک ڈاؤن کے دوران جوٹ ملوں کے بند ہوجانے کی وجہ سے پیدا شدہ اناج کی پیجکنگ کے بحران پر قابو پانے کے مقصد سے ایچ ڈی ٹی ای /پی پی بیگس کی حد کو 1.80 لاکھ گٹھوں سے بڑھاکر 2.62 لاکھ کیا

جوٹ کی پیداوار والی تمام ریاستوں کی حکومتوں کو لکھا کہ وہ جوٹ کے بیجوں ، فرٹیلائزرس اور دیگر زرعی معاوناشیا کے نقل و حمل ، فروخت اور سپلائی کی اجازت دیں

یہ وزارت جوٹ کسانوں او ر مزدوروں کے مفاد کے تحفظ کے لئے عہد بند ہے

Posted On: 07 APR 2020 7:40PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،8- اپریل 2020/ٹیکسٹائل کی وزارت نے لاک ڈاؤن کے دوران جوٹ ملوں کے بند ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہونے والے  پیکجنگ کے ابھرتے ہوئے بحران پر قابو پانے اور گیہوں کسانوں کو انکی پیداوار کے تحفظ کےلئے متبادل پیکجنگ بیگ فراہم کرانے کے مقصد سے ایچ ڈی پی ای  /پی پی  کے لئے 26 مارچ2020 کو مقررہ زیادہ سے زیادہ حد 1.80 لاکھ  گھٹوں سے مزید بڑھا کر اس میں 6 اپریل 2020 کو 0.82  لاکھ گھٹوں کا اضافہ کیا ہے۔

یہ اقدام خصوصی طور پر گیہوں کسانوں کے  مفاد  کے تحفظ کے لئے کیا گیا ہے کیونکہ اپریل کے وسط سے اناج  کے  پیکنگ کے واسطے تیار ہوجانے کا امکان ہے لیکن حکومت نے مذکورہ اضافہ  اس خیال کے ساتھ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت گذر جانے کے  بعد  جب بھی جوٹ ملیں  جوٹ کے  بیگس کاپروڈکشن شروع کریں گی اناج کی پیکجنگ کے لئے ترجیح جوٹ کے بیگس کو ہی دی جائے گی۔ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران جوٹ کسانوں کی مدت کے لئے  ٹیکسٹائل کی وزارت نے جوٹ  کی پیداوار والی تمام ریاستوں کی حکومت کو لکھا ہے  کہ وہ جوٹ کے بیجوں فرٹیلائزرس  اور دیگر زرعی معاون اشیا کے نقل و حمل  ، فروخت اور سپلائی کی اجازت دیں۔ حکومت جوٹ پیکجنگ میٹریل ایکٹ (جے پی ایم)،1987کےضابطوں کے تحت جوٹ کسانوں اور مزدوروں کے  مفاد کی حفاظت کے لئے پابند عہد ہےا ور وہ اناج کی  جوٹ بیگ میں ا ناج کی  پیکجنگ کے لئے  تقریباً 100 فی صد ریزرویشن فراہم کراتی ہے۔

کووڈ-19 سے متعلقہ  لاک ڈاؤن میں جوٹ ملوں کو متاثر کیا ہے۔  اس سے جوٹ بیگس کے پروڈکشن میں رکاوٹ آئی ہے۔ چونکہ جوٹ مل والے ریاستی حصولیابی ایجنسیوں (ایس پی اے)اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا  (ایف سی آئی) جو کہ عوامی نظام تقسیم میں مصروف ہیں، کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی حالت میں  نہیں ہیں اس لئے حکومت فعال مداخلت کررہی ہے اور متبادل اقدامات کے ذریعہ مشکل کو حل کرنے  میں مصروف ہیں۔

حکومت ہند کسانوں اور ان کی پیداوار کے بارے میں سنجیدہ  ہے۔ ربیع کی فصل کی کٹائی ہونے ہی  والی ہے۔ بڑی تعداد میں پیکجنگ بیگ کی ضرورت ہوگی۔ اناج کو  جے پی ایم  ایکٹ  کے تحت بنیاد ی طور پر جوٹ کے بیگس میں ہی پیک کیا جاتاہے۔ کووڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے جوٹ ملیں ،جوٹ بیگس کا پروڈکشن نہیں کرپارہی ہیں اس لئے گیہوں کسانوں کو مشکل سے بچانے کے لئے متبادل  انتظام ضروری ہے۔

 

م ن۔  ا گ ۔ ج

Uno-1538

 



(Release ID: 1612360) Visitor Counter : 120