امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے پولیس کے یوم تاسیس کے موقع پر پولیس کی قومی یادگار پر فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور تقریب سے خطاب کیا


مرکزی وزیر داخلہ نے ’’منشیات کے خلاف لڑائی‘‘ کا پیغام لے کر ملک گیر موٹر سائیکل ریلی کو روانہ کیا

آج ہمارا ملک دنیا میں عزت و وقار کا مقام رکھتا ہے اور اس کامیابی کی بنیاد ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں اور ان کی لگن ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں تیار کیے گئے ’’نشہ مکت بھارت‘‘کے لائحۂ عمل کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے ملک بھر کی تمام پولیس فورسز کو پوری لگن اور خلوص کے ساتھ کام کرنا چاہیے

ہم سب مل کر منشیات کے استعمال کے خلاف لڑائی لڑیں گے اور 31 دسمبر 2029 تک ملک کو منشیات کی لعنت سے آزاد کرائیں گے

سال 2026  بھارتی پولیس کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ 31 مارچ 2026 کو ہم نے نکسل ازم سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی

قومی پولیس یادگار ملک بھر کے شہریوں کے لیےعزت و احترام کا مرکز بن چکی ہے

ملک کی داخلی سلامتی کے تحفظ میں پولیس اہلکار دفاع کی پہلی اور آخری صف کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انتخابات ہوں، تہوار ہوں یا سرحدوں کی حفاظت، مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے اہلکار ہر محاذ پر چوکس رہتے ہیں اور خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں

ملک کی جمہوریت کی حفاظت ہو یا جمہوری عمل کو بلا رکاوٹ انجام دینے کو یقینی بنانا، مرکزی مسلح پولیس فورسز کے تعاون کے بغیر ان میں سے کسی بھی کام کی تکمیل کا تصور نہیں کیا جا سکتا

تمام سرکاری خدمات میں پولیس کی خدمت سب سے زیادہ چیلنج والی خدمات میں سے ایک ہے۔ پولیس اہلکاروں کو تہواروں پر بھی چھٹیاں نہیں ملتیں؛ ایسے مواقع پر بھی وہ اپنی ذمہ داریاں پوری مستعدی اور ثابت قدمی کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں

مرکزی مسلح پولیس فورسز کی بدولت مغربی بنگال میں حالیہ انتخابات کے دوران ایک بھی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ملک اب انتخابات کے دوران تشدد سے آزاد ہو چکا ہے

کئی دہائیوں تک ملک میں داخلی سلامتی کے تین بڑے چیلنج والے علاقے رہے، یعنی کشمیر، شمال مشرقی خطہ اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقے۔ آج ان تینوں خطوں میں امن قائم ہو رہا ہے اور یہ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 OCT 2026 1:41PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں پولیس کے یوم تاسیس کے موقع پر قومی پولیس یادگار پر فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ نے ’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ کا پیغام لے کر ملک گیر موٹر سائیکل ریلی کو بھی روانہ کیا۔ پولیس یادگاری دن کی اس تقریب میں اراکینِ پارلیمنٹ جناب کرشنا پرساد ٹینیٹی اور جناب راجیو کمار، مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جناب مہیش دکشت، بھارت-تبت سرحدی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل جناب شتروجیت کپور، دیگر مرکزی مسلح پولیس فورسز کے ڈائریکٹر جنرلز اور متعدد سینئر افسران نے شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261021133220_d0fd8b.jpg

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ وہ یہاں قومی پولیس یادگار پر ان بہادر پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، جنہوں نے آزادی سے لے کر آج تک ملک کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا عظیم نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد آج بھارت دنیا میں عزت و وقار کا مقام رکھتا ہے۔ اس کامیابی کی بنیاد ہمارے بہادر اہلکاروں کی قربانیاں ہیں۔ اگر ان اہلکاروں نے ملک کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا عظیم نذرانہ پیش نہ کیا ہوتا تو آج ہم کہاں کھڑے ہوتے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261021133203_fdd5be.jpg

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ سال 2026 بھارتی پولیس کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ 31 مارچ 2026 کو ملک نے نکسل ازم سے نجات حاصل کی، جو کئی دہائیوں سے بھارت کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا تھا۔ 1981 سے مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم کی وجہ سے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران متعدد بہادر سکیورٹی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ 3,600 سے زائد سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جب کہ تقریباً 13,700 بے گناہ شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پانچ دہائیوں پرانے اس مسئلے پر قابو پانے کے بعد آج ملک ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے اور اس پیش رفت کی بنیاد ان 3,600 اہلکاروں کی قربانیاں ہیں۔ شہداء کے اہلِ خانہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اگرچہ ان کے نقصان کی تلافی کبھی نہیں کی جا سکتی، لیکن 140 کروڑ شہریوں پر مشتمل پورا ملک ان کے اہلِ خانہ کی لگن اور قربانیوں کا ممنونِ احسان ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261021133211_ae16ed.jpg

پولیس کے یوم تاسیس کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ 21 اکتوبر 1959 کو لداخ کے دور دراز اور دشوار گزار علاقے ہاٹ اسپرنگز میں چینی فوجیوں کے حملے کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 10 اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ ہاٹ اسپرنگز کے واقعے کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب بلند و بالا پہاڑوں میں جنگ کا فیصلہ ہو رہا تھا تو اس کا نتیجہ تقریباً طے شدہ تھا۔ اس کے باوجود ان لازوال ہیروز نے اس عزم پر ثابت قدم رہتے ہوئے کہ ملک کی ایک انچ زمین بھی غیروں کے قبضے میں نہیں جانی چاہیے،فرض کی انجام دہی میں اپنی جانوں کا عظیم نذرانہ پیش کیا۔ تب سے ہر سال 21 اکتوبر کو پولیس کے یوم تاسیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس قومی پولیس یادگار پر آج سب جمع ہوئے ہیں، اس کا افتتاح وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2018 میں ملک بھر میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کے اعزاز میں کیا تھا۔ اس یادگار کے قیام کا مقصد پولیس کی آئندہ نسلوں کو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں پابندِ عہد رہنے اور فرائض کی انجام دہی کے دوران ضرورت پڑنے پر عظیم قربانی دینے کے لیے تیار رہنے کی ترغیب دینا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یادگار ملک بھر کے شہریوں کے لیے بھی عزت و احترام کا مرکز بن چکی ہے۔ ممنون شہری یہاں آکر 36,852 پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی خدمات اور قربانیوں کے لیے ملک کی جانب سے اظہارِ تشکر کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261021133156_1fc6d4.jpg

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ تمام سرکاری خدمات میں پولیس کی خدمت سب سے زیادہ چیلنج والی خدمات میں سے ایک ہے۔ ملک کا ہر شہری رکشا بندھن، ہولی، دیوالی اور عید جیسے تہوار مناتا ہے، لیکن پولیس اہلکاروں کو اکثر ان تہواروں کی خوشیاں منانے کے لیے چھٹیاں نہیں ملتیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ تہوار مناتے ہیں، تو پولیس اہلکار داخلی سلامتی کے تحفظ، ٹریفک کے انتظام اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کے بہترین سال اہلِ خانہ سے دور رہ کر ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دینا، ملک کے لیے ایک عظیم خدمت ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261021133229_8e9f2a.jpg

جناب امت شاہ نے کہا کہ ملک بھر میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جہاں پولیس اہلکاروں نے غیر معمولی صبر، تحمل، نظم و ضبط، بہادری اور لگن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی داخلی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلی سلامتی کے تحفظ میں پولیس اہلکار دفاع کی پہلی اور آخری صف کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سرحدوں پر تعینات اور ملک کے اندر سلامتی کی ذمہ داریاں نبھانے والے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے تمام اہلکاروں کے تئیں خصوصی اظہارِ تشکر کیا۔ اپنے اہلِ خانہ سے دور رہ کر یہ اہلکار انتخابات، تہواروں، احتجاجی مظاہروں یا سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داریوں سمیت ہر موقع پر چوکس رہتے ہیں اور ملک کی داخلی سلامتی کو مضبوط بناتے ہیں۔ ملک کے نظام کو بلا رکاوٹ چلانے کو یقینی بنانے کے لیے وہ مسلسل اپنے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں۔ جمہوریت کی حفاظت ہو یا جمہوری عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرانا، مرکزی مسلح پولیس فورسز کے بغیر ان کاموں کی انجام دہی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جناب شاہ نے کہا کہ بھارت اتر پردیش اور بہار میں انتخابی تشدد کے خاتمے میں کامیاب رہا تھا، لیکن مغربی بنگال میں طویل عرصے تک انتخابی تشدد جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے ایک بھی جانی نقصان کے بغیر انتخابات مکمل کرا کے ایک اہم کامیابی حاصل کی۔ اس طرح مرکزی مسلح پولیس فورسز نے ایک نیا معیار قائم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پورا ملک تسلیم کرتا ہے کہ ملک میں انتخابات کے دوران تشدد کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261021133241_0f8b8d.jpg

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن میں سے تین چیلنجز کئی دہائیوں سے برقرار تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب تینوں بڑے حساس علاقوں-کشمیر، شمال مشرقی خطے اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں—میں امن قائم ہو چکا ہے۔ ان خطوں میں ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے اور اب یہ ترقی کے معاملے میں ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ کشمیر میں دہشت گردی پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ متعدد معاہدوں اور ہزاروں افراد کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے بعد پورا شمال مشرقی خطہ امن کی راہ پر آگے بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اہلکاروں نے پانچ دہائیوں پرانے نکسل مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سمت میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، جو کئی ریاستوں تک پھیل چکا تھا۔ انہوں نے نکسل ازم کے خاتمے میں تعاون کے لیے خصوصی طور پر سی آر پی ایف اور اس کی کوبرا بٹالین کا شکریہ ادا کیا اور چھتیس گڑھ پولیس کی بہادری کی ستائش کی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ملک ابھی مکمل طور پر مسائل سے آزاد نہیں ہوا ہے اور اسے اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 31 دسمبر 2029 تک ملک کو منشیات کی لعنت سے آزاد کرانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے 2026 کے بقیہ عرصے اور آئندہ تین برسوں، یعنی 2027، 2028 اور 2029 کے دوران منشیات کے خلاف متحدہ جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے اسے ملک کے لیے ایک نہایت اہم ہدف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا استعمال اور اسمگلنگ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہ کرتی ہے، معیشت پر غیر ضروری بوجھ ڈالتی ہے اور اکثر ملک دشمن عزائم رکھنے والی تنظیموں کو مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے ملک بھر کی پولیس فورسز سے اپیل کی کہ وہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں تیار کیے گئے ’’نشہ مکت بھارت‘‘کے لائحۂ عمل کو نافذ کرنے کی کوششوں میں پورے خلوص اور لگن کے ساتھ شامل ہوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے کام کریں۔

آج مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے روانہ کی گئی موٹر سائیکل ریلی میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، یعنی جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش، پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ اور دہلی کے علاوہ مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی آر پی ایف، سی آئی ایس ایف، بی ایس ایف، ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی اور این ایس جی) اور بعض مرکزی پولیس تنظیموں (آر پی ایف، این ڈی آر ایف اور این آئی اے) کے تقریباً 90 موٹر سائیکل سوار شامل ہیں۔ یہ ریلی ’’منشیات کے خلاف لڑائی‘‘ کے پیغام کے ساتھ منعقد کی جانے والی ملک گیر مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت ملک بھر کی تمام ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی فورسز کے موٹر سائیکل سوار گجرات کے ایکتا نگر پہنچیں گے اور ’’ایکتا پریڈ 2026‘‘ میں شرکت کریں گے۔

******

 

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا )

Urdu.No-6402


(ریلیز آئی ڈی: 2326015) وزیٹر کاؤنٹر : 5