کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 ہندوستان۔نیوزی لینڈ ایف ٹی اے 20 اکتوبر 2026 کو وجے دشمی کے موقع پر نافذ ہوگا، ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھلیں گے


نیوزی لینڈ کی منڈی میں 100 فیصد ڈیوٹی فری رسائی سے ہندوستانی ایم ایس ایم ایز، دستکاروں، کسانوں اور خواتین کاروباریوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے: مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل

ہندوستان نے نیوزی لینڈ کے لیے پہلی بار جے سی بی مشین کی برآمد کا آغاز کیا

ہندوستان۔نیوزی لینڈ ایف ٹی اے کے تحت نیوزی لینڈ نے ہندوستان میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 OCT 2026 7:27PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل اور نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری ٹوڈ میک کلی نے آج ایک ورچوئل کانفرنس کے ذریعے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ ہندوستان۔نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) 20 اکتوبر 2026 کو وجے دشمی کے موقع پر نافذ ہوگا۔ وجے دشمی کو فتح اور نئی شروعات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تعلقات مسلسل گہرے اور وسیع ہوئے ہیں۔ ایف ٹی اے ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ایسی شراکت داری قائم کرنے کے ہندوستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو منڈی تک رسائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں، خواتین اور ایم ایس ایم ایز کو بااختیار بنانے میں معاون ہو۔ یہ معاہدہ ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن سے بھی ہم آہنگ ہے۔

اس موقع پر جناب پیوش گوئل نے کہا، ’’ہماری شراکت داری میدان کے اندر اور باہر دونوں جگہ کامیاب ہے۔ اس معاہدے کی کامیابی کا اندازہ ان مواقع سے لگایا جائے گا جو یہ پیدا کرے گا اور اس سے نیوزی لینڈ اور ہندوستان کے عوام کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی سے لگایا جائے گا۔ ہندوستان کے لیے نیوزی لینڈ کی منڈی میں 100 فیصد ڈیوٹی فری رسائی ہمارے برآمد کنندگان، خاص طور پر ایم ایس ایم ایز، دستکاروں، کسانوں اور خواتین کاروباریوں کے لیے نئے اہم مواقع پیدا کرے گی۔ ہمارے کسانوں کے لیے یہ معاہدہ مناسب حفاظتی انتظامات کے ساتھ نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ زرعی پیداوار شراکت داری کے تحت سیب، کیوی پھل اور شہد کے لیے ایکشن پلان، بہترین کارکردگی کے مراکز کا قیام، باغات کے بہتر انتظام، کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں، جس سے ملک بھر میں کسانوں کی آمدنی مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ معاہدہ ہمارے معزز وزیراعظم کے وکست بھارت 2047 کے وژن سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد آزادی کے 100 سال مکمل ہونے پر مسابقت، اختراع، پیداواری صلاحیت اور جامع خوشحالی کی بنیاد پر ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ہندوستان کی تعمیر ہے۔‘‘

نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری ٹوڈ میک کلی نے کہا، ’’ہندوستان۔نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے کا نافذ ہونا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ نیوزی لینڈ کے برآمد کنندگان کے لیے یہ ایف ٹی اے 1.4 ارب صارفین اور دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سے ایک کی منڈی کا دروازہ کھولتا ہے۔ ہندوستان کو نیوزی لینڈ کی موجودہ برآمدات کو محصولات کے خاتمے یا ان میں نمایاں کمی سے فائدہ ہوگا۔ اسی وقت تمام ہندوستانی اشیا نیوزی لینڈ میں ڈیوٹی فری داخل ہو سکیں گی، جس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور انہیں نیوزی لینڈ کے دیگر ایف ٹی اے شراکت داروں کے برابر مواقع حاصل ہوں گے۔ اس معاہدے کی کامیابی کا حتمی اندازہ اس سے ہوگا کہ یہ کتنے مواقع پیدا کرتا ہے اور ہمارے کاروباری ادارے ان سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘

محکمہ تجارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے کہا، ’’ایف ٹی اے ممالک کے درمیان گہری اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ایف ٹی اے کے ایک حصے کے طور پر ہمیں امید ہے کہ یہ شراکت داری ہندوستان میں نیوزی لینڈ کی بڑی سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی بنے گی۔ بحرالکاہل کے خطے کی دیگر بڑی معیشتوں کے نیوزی لینڈ کے ساتھ کہیں زیادہ گہرے تجارتی تعلقات ہیں۔ یہ ایف ٹی اے ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم بھی ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ اب ضرورت اس موقع کو اپنے عوام کے لیے حقیقی فوائد میں تبدیل کرنے کی ہے۔ ہم صنعت اور مختلف انجمنوں کے ساتھ مل کر اس پیغام کو ملک کے ہر ضلع تک پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کی صنعتوں کے نمائندوں نے بھی تقریب میں شرکت کی اور خدمات، جوتے، انجینئرنگ اور زراعت سمیت مختلف شعبوں کے لیے معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع پر اظہار خیال کیا۔

اس موقع پر مرکزی وزیر تجارت و صنعت نے ہندوستان سے نیوزی لینڈ کے لیے پہلی بار جے سی بی مشین کی برآمد کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ایف ٹی اے کے نافذ ہونے کے دن زراعت، جواہرات و زیورات، انجینئرنگ، کھیلوں کے سامان، جوتے اور چمڑے کے شعبوں کی متعدد مصنوعات کی برآمدات بھی روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اقدامات ہندوستانی مینوفیکچررز کے اعتماد اور ملک بھر کے برآمد کنندگان کے لیے معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع کی عکاسی کرتے ہیں۔

نیوزی لینڈ نے ہندوستانی برآمدات سے متعلق تمام ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک کے محصولات ختم ہو گئے ہیں۔ ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑا، جوتے، جواہرات و زیورات، انجینئرنگ مصنوعات، گاڑیاں اور آٹو پارٹس، کیمیکلز، دواسازی، زرعی مصنوعات اور تیار شدہ غذائی اشیا کو اس سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ لکڑی کے لاگز، کھانا پکانے میں استعمال ہونے والا کوئلہ اور دھاتی فضلے و اسکریپ کے لیے ڈیوٹی فری رسائی سے مینوفیکچرنگ اور ایم ایس ایم ای سپلائی چین مزید مضبوط ہوں گی۔ دواسازی اور طبی آلات کی صنعتوں کو ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنانے سے فائدہ ہوگا۔

نیوزی لینڈ نے اب تک اپنے تمام تجارتی معاہدوں میں خدمات کے شعبے میں اپنی سب سے بہتر پیشکش کی ہے، جس کے تحت تقریباً 118 شعبوں میں منڈی تک رسائی اور تقریباً 139 ذیلی شعبوں میں ’سب سے زیادہ ترجیح یافتہ ملک‘ (ایم ایف این) سے متعلق وعدے کیے گئے ہیں۔ پہلی بار صحت اور روایتی طب کی خدمات میں خصوصی رسائی بھی فراہم کی گئی ہے، جس میں آیوروید، یوگا اور دیگر آیوش نظام شامل ہیں۔

ہندوستانی نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو ہر سال 5,000 عارضی روزگار داخلہ ویزوں اور 1,000 ورکنگ ہالی ڈے ویزوں کا کوٹہ حاصل ہوگا۔ ہندوستانی طلبا کی تعداد پر کوئی عددی حد نہیں ہوگی۔ ایس ٹی ای ایم میں بیچلر اور ماسٹر ڈگری حاصل کرنے والے طلبا کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد تین سال تک، جبکہ ڈاکٹریٹ کے اسکالرز کو چار سال تک کام کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

زرعی پیداوار شراکت داری معاہدے کا ایک اہم حصہ ہے، جو ٹیرف میں رعایت سے آگے بڑھ کر عالمی ٹیکنالوجی، تربیت اور بہترین طریقہ کار ہندوستانی کسانوں تک پہنچانے کے لیے تعاون فراہم کرتی ہے۔ اس میں کیوی فروٹ، سیب اور شہد کے لیے مخصوص ایکشن پلان شامل ہیں، جبکہ تعاون باغبانی، جنگلات، مویشی پروری اور ماہی گیری تک بھی وسیع ہوگا۔

نیوزی لینڈ نے کیوی پھل، سیب اور شہد کے لیے بہترین کارکردگی کے مراکز قائم کرنے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کیوی پھل ایکشن پلان کے پہلے مرحلے کے لیے ناگالینڈ کے پھفتسیرو اور اتراکھنڈ کے مگرا میں مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سیب کے لیے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں مزید دو بہترین کارکردگی کے مراکز قائم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ شہد ایکشن پلان کے تحت اتر پردیش اور مغربی بنگال میں ایسے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی، بہتر کاشت کاری کے طریقوں اور پیداوار میں اضافے کے ذریعے کسانوں کی مدد کرنا ہے۔

ہماچل پردیش، ناگالینڈ، اتراکھنڈ، اتر پردیش اور اروناچل پردیش کے نمائندوں کے ساتھ نیوزی لینڈ کی متعلقہ تنظیموں کے نمائندے بھی معاہدے کے نفاذ کے موقع پر موجود تھے۔

سیب، کیوی فروٹ اور مانوکا شہد کے لیے تمام ٹیرف ریٹ کوٹہ باضابطہ طور پر ایکشن پلان کی تکمیل سے منسلک کیے گئے ہیں، جن کی نگرانی مشترکہ زرعی پیداوار کونسل کرے گی۔ اس طرح منڈی تک رسائی کو کسانوں کی فلاح و بہبود سے جوڑا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ نے ہندوستان میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے زراعت، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے اور اسٹارٹ اپس کو فائدہ پہنچنے اور ’میک ان انڈیا‘ کے وژن کے تحت اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

کسانوں، ڈیری پیدا کرنے والوں، ماہی گیروں اور دیہی برادریوں کے تحفظ کے لیے ڈیری، چینی، خوردنی تیل اور اہم زرعی اشیا جیسی حساس مصنوعات کو مراعات کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ مصنوعات کے اصل ملک سے متعلق مضبوط قواعد، دوطرفہ حفاظتی طریقہ کار اور انسدادِ گریز کی مضبوط دفعات اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ معاہدے کے فوائد صرف حقیقی ہندوستانی برآمد کنندگان تک پہنچیں۔

یہ معاہدہ ہندوستان کے ایم ایس ایم ایز، خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں، اسٹارٹ اپس، دستکاروں اور پہلی نسل کے کاروباریوں کے لیے ایک ترقی یافتہ بیرون ملک منڈی کھولتا ہے۔ صفر ڈیوٹی اور کسٹم کے تیز تر عمل سے اشیا کی مجموعی لاگت کم ہوگی اور صارفین کی بنیاد وسیع کرنے میں مدد ملے گی۔ منظم تعاون کے ذریعے تجارتی معلومات اور نیوزی لینڈ کے ایس ایم ای ماحولیاتی نظام سے روابط تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی، جس میں خواتین اور نوجوانوں کی ملکیت والے کاروباری اداروں پر خصوصی توجہ ہوگی۔

نیوزی لینڈ نے ہندوستانی جغرافیائی اشاریوں کی رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا ہے، جس سے دیہی دستکاروں اور روایتی صنعتوں سے وابستہ مصنوعات کے تحفظ کے امکانات پیدا ہوں گے۔

ہندوستان۔نیوزی لینڈ ایف ٹی اے عوام پر مرکوز اور جامع شراکت داری ہے، جو وکست بھارت 2047 کے وژن اور معزز وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد کسانوں، ایم ایس ایم ایز، خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں، کاروباری افراد، دستکاروں، نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو بااختیار بنانا ہے۔

ایف ٹی اے کے لیے مذاکرات 16 مارچ 2025 کو شروع ہوئے اور نو ماہ کے اندر 22 دسمبر 2025 کو مکمل ہوئے۔ معاہدے پر 27 اپریل 2026 کو دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ ’ہندوستان۔نیوزی لینڈ اسٹریٹجک پارٹنرشپ: روڈ میپ ٹو 2030‘ کی حمایت کرتا ہے، جس میں 2030 تک اشیا اور خدمات کی دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرکے 7 ارب نیوزی لینڈ ڈالر (35,000 کروڑ روپے) تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

Link for India-New Zealand Factsheet- https://www.commerce.gov.in/files/2026-04/final_0.pdf

Link for FAQs - https://www.commerce.gov.in/files/2026-04/FAQs%20-%20India-New%20Zealand%20FTA.pdf

Link for India New Zealand FTA Signing- https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255914&reg=3&lang=1

Link for Announcement of date of Entry into force- https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2313143&reg=48&lang=1

*****

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 6336 )


(ریلیز آئی ڈی: 2325280) وزیٹر کاؤنٹر : 3