وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

پہلے آسیان-ہندوستان دفاعی تھنک ٹینک فورم میں وزیر دفاع نے کہا کہ  ہندوستان ایک ایسے ہند-بحرالکاہل خطے کا خواہاں ہے جہاں تمام ممالک اپنی پسند کے مطابق فیصلے کریں، اپنے مفادات کا تحفظ کریں اور امن کے ساتھ ترقی کریں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 11:44AM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ‘‘ہندوستان ایک ایسے ہند-بحرالکاہل خطے کا خواہاں ہے جہاں تمام ممالک، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، اپنی پسند کے مطابق فیصلے کریں، اپنے مفادات کا تحفظ کریں اور امن کے ساتھ ترقی کریں’’۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے اور روایتی، دونوں طرح کے ’’سرحدوں سے ماورا چیلنجوں‘‘ سے نمٹنے کے لیے باہمی اعتماد پیدا کرنے، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے اور بات چیت کے راستے کھلے رکھنے کی اپیل کی۔ وہ 14 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسز (ایم پی-آئی ڈی ایس اے) میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) اور ہندوستان کے پہلے دفاعی تھنک ٹینک فورم سے خطاب کر رہے تھے۔

اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان اور آسیان کے مفادات امن، استحکام، خوشحالی اور ایک کھلے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے ہند-بحرالکاہل خطے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی ‘‘ایکٹ ایسٹ پالیسی’’ اور ‘‘ساگر’’ (خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی) اور ‘‘مہاساگر’’ (تمام خطوں میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور ہمہ جہت پیش رفت) کا وژن کھلے اور کثیر قطبی تعاون کی وکالت کرتا ہے۔ ہندوستان اپنے ہند-بحرالکاہل وژن کے لیے ان اصولوں کو آسیان کی قیادت میں کام کرنے والے ان طریقۂ کار کے ذریعے آگے بڑھاتا ہے، جو اس وژن کا مرکزی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تزویراتی مقابلے اور سمندر میں بعض اوقات ہونے والی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے دباؤ اور غیر یقینی صورت حال کے باعث خطے میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی، سائبر جرائم، بحری قزاقی، اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری، موسمیاتی آفات اور اہم سپلائی چین کو لاحق خطرات جیسے چیلنج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک تنہا ان چیلنجوں سے نہیں نمٹ سکتا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اختلافات کو تنازعات کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ابتدائی مرحلے میں اور پُرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایسے علاقائی نظام کی وکالت کی جس میں ممالک کو کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور کیے بغیر وہ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کا ماننا ہے کہ جب کئی ممالک ا یک ساتھ مل کر صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں، بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہیں اور بات چیت کے ذریعے اعتماد برقرار رکھتے ہیں تو سلامتی مزید مضبوط ہوتی ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے مشترکہ تاریخ، ثقافت، تجارت اور خیالات پر مبنی ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان صدیوں پرانے قریبی تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایکٹ ایسٹ پالیسی خطے کے ساتھ مساوی شراکت دار کے طور پر کام کرنے کے لیے ہندوستان کے طویل مدتی عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہند-بحرالکاہل خطے کے بارے میں ہندوستان کا نقطۂ نظر اور آسیان کا وژن ایک دوسرے کے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمیں علاقائی فورمز کے درمیان مسابقت پیدا کرنے کے بجائے تعاون کومزید مضبوط بنانا چاہیے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بحرہند اور جنوب مشرقی ایشیا کے سمندری علاقوں کو محفوظ رکھنا مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ ایک دوسرے سے مربوط بحری خطے کا حصہ ہیں، جو تجارت، توانائی، عوام اور ضروری اشیا کی نقل و حرکت کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم اور قواعد پر مبنی بحری نظام کو یقینی بنانے کے لیے بحری حدود سے متعلق آگاہی، باہمی تال میل کی صلاحیت اور زیرِ آب سرگرمیوں سے متعلق آگاہی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ سال 2026 کو آسیان-ہندوستان بحری تعاون کے سال کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جو مشترکہ مفادات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے کہا،‘‘ہمیں بحری معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا، اپنی بحری افواج اور ساحلی محافظ دستوں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا اور ہنگامی حالات سے مل کر نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ ہمیں بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری قزاقی، اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری اور دیگر خطرات کے خلاف بھی مل کر کام کرنا چاہیے۔’’

دفاعی ٹیکنالوجی کو ایک اور اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈرون، سائبر صلاحیتیں اور خلائی نظام تیزی سے اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ حالیہ تنازعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نسبتاً کم لاگت والے ڈرون بھی مہنگے دفاعی نظاموں کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عملی، کم خرچ اور حالات کے مطابق ڈھالے جا سکنے والے حل تلاش کیے جائیں۔

وزیر دفاع نے کہا، ’’ہندوستان کا ماننا ہے کہ اختراع کو صرف چند بڑے اداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ نئے کاروباری ادارے، جامعات، تحقیقی ادارے اور چھوٹی کمپنیاں، سب اس میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دفاعی شعبے میں اختراع کے فروغ کے لیے ہندوستان کی ’آئی ڈیکس‘ (آئی ڈی ای ایکس) اور ’ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ‘ (ٹی ڈی ایف) جیسی پہلوں نے ہماری دفاعی ضروریات کے لیے اختراع کاروں کے ساتھ تعاون کا راستہ ہموار کیا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح طور پر متعین مسائل، مثلاً ڈرون مخالف نظام، سائبر دفاع، بحری نگرانی اور آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں اختراع کاروں کے باہمی تعاون کے امکانات تلاش کرنے کی اپیل کی۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، ٹیکنالوجی کی جانچ کے مشترکہ مواقع، نوجوان محققین کے درمیان تبادلے اور سوچ سمجھ کر تیار کیے گئے اختراعی چیلنجوں کا اہتمام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے تعاون میں حساس معلومات کا تحفظ، دانشورانہ ملکیت کا احترام اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ تبادلے کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ‘‘ہمارا مقصد مفید صلاحیتیں تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔’’

دفاعی صنعتی تعاون کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان آسیان کے شراکت دار ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق گشتی جہازوں، ریڈار، فضائی دفاعی نظام، ہیلی کاپٹروں، ڈرون اور دیگر ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘آتم نربھر بھارت’’ پہل کا مقصد ملک کے اندر مضبوط صلاحیتیں پیدا کرنا ہے، لیکن خود انحصاری کا مطلب الگ تھلگ ہو کر کام کرنا نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اس سے قابل اعتماد شراکت داروں کے لیے مل کر سازوسامان تیار کرنے، اسے بنانے، اس کی دیکھ بھال کرنے اور اسے مزید بہتر بنانے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار، دیکھ بھال، مرمت اور آلات کی ازسرنو تیاری، تربیت اور طویل مدتی تکنیکی معاونت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان انتظامات سے مقامی مہارتوں کو فروغ دینے، صنعت کو تعاون فراہم کرنے اور سپلائی چین کو زیادہ قابل اعتماد بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا،‘‘ہمارے محققین کو اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ایسی شراکت داریاں کن عوامل سے کامیاب ہوتی ہیں۔ ان میں ضروریات کا واضح تعین، فروخت کے بعد قابل اعتماد معاونت، ٹیکنالوجی کے تحفظ کے مناسب انتظامات، ذمہ داریوں اور فوائد کی منصفانہ تقسیم اور مقامی کمپنیوں اور ہنرمند مزدوروں کے لیے مواقع شامل ہیں۔ ہمارا مقصد دیرپا شراکت داریاں قائم کرنا ، نہ کہ صرف ایک بار کا لین دین ہونا چاہیے ۔’’

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ انسانی امداد اور آفات سے راحت (ایچ اے ڈی آر) کو دفاعی مذاکرات کا باقاعدہ حصہ بنایا جانا چاہیے، کیونکہ سمندری طوفان، سیلاب، سمندر کی سطح میں اضافہ اور شدید موسمی حالات بندرگاہوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، تجارت میں خلل ڈال سکتے ہیں اور انسانی جانوں اور روزگار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘‘ہم ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں، بہترین طریقوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور کسی بحران کے پیدا ہونے سے پہلے باہمی تال میل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔’’

تھنک ٹینکوں کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومتوں کو اچھے تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ  ساتھ ایسے خیالات بھی درکار ہوتے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ انہوں نے فورم کے ذریعے حاصل کیے جا سکنے والے چند عملی نتائج تجویز کیے، جن میں سمندری تحفظ، سائبر خطرات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، آفات سے نمٹنے اور دفاعی صنعت میں تعاون کے شعبوں میں ہندوستان اور آسیان کے مشترکہ تحقیقی ایجنڈے کی تیاری؛ فیلوشپ، دورہ جاتی پروگراموں اور مشترکہ اشاعتوں کے ذریعے محققین، بالخصوص نوجوان اسکالرز کے درمیان باقاعدہ تبادلے؛ چند آزمائشی منصوبوں کی نشاندہی، مثلاً سمندری آفات سے نمٹنے کے لیے فرضی مشق، ڈرون مخالف حل پر مشترکہ مطالعہ یا سمندری معلومات کے محفوظ تبادلے سے متعلق تحقیقی منصوبہ؛ محققین، متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور پالیسی سازوں کے درمیان باضابطہ اجلاسوں کے درمیانی عرصے میں بھی تبادلۂ خیال جاری رکھنے کے لیے ٹریک 1.5 اور ٹریک 2 مذاکرات کو فروغ دینا؛ اور سفارشات کا ایک مختصر مجموعہ تیار کرنا، ان پر عمل درآمد کرنے والے اداروں کی نشاندہی کرنا اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت کا جائزہ لینا شامل ہیں۔

استقبالیہ خطاب میں ایم پی-آئی ڈی ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل، سفیر سوجن آر چنائے نے آسیان کے ساتھ ہندوستان کی دفاعی اور سلامتی کی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں اپنے وژن اور تعاون کے لیے وزیر دفاع کا شکریہ ادا کیا۔ آسیان کے تمام گیارہ رکن ممالک اور ہندوستان کے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے اس فورم کو آسیان-ہندوستان دفاعی روابط کے ارتقا میں ایک اہم ادارہ جاتی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ فورم ہندوستان اور آسیان کے تزویراتی حلقوں کے درمیان مستقل مکالمے کو ادارہ جاتی شکل دے گا اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں گہرے تعاون کے لیے عملی امکانات کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوگا۔

آسیان-ہندوستان دفاعی تھنک ٹینک فورم کے بارے میں

14 اور 15 اکتوبر 2026 کو منعقد ہونے والے اس فورم کا مقصد تزویراتی مکالمے کو مضبوط بنانا، مشترکہ تجزیے کو فروغ دینا اور ہندوستان و آسیان کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں بہتر تعاون کے عملی امکانات کی نشاندہی کرنا ہے۔ اس پہل کا اعلان وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 31 اکتوبر 2025 کو کوالالمپور میں بارہویں آسیان دفاعی وزرائے دفاع پلس اجلاس کے موقع پر منعقدہ دوسرے آسیان-ہندوستان دفاعی وزرائے دفاع کے غیر رسمی اجلاس کے دوران کیا تھا۔

دو روزہ پروگرام کے دوران فورم میں تزویراتی استحکام، علاقائی جغرافیائی سیاست، سمندری تحفظ، گرے زون کے چیلنجز، انسانی امداد اور آفات سے راحت، سمندری حدود سے متعلق آگاہی، دفاعی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ، خلائی شعبے، بغیر پائلٹ کے نظام، دفاعی صنعت میں تعاون اور مضبوط سپلائی چین جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ ان مباحثوں سے آسیان-ہندوستان دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور اسے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔

 

*****

 

 

 

ش ح۔م م ع۔ف ر

U- 6055

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2323123) وزیٹر کاؤنٹر : 9