وزیراعظم کا دفتر
یو پی ایس سی کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 1:51PM by PIB Delhi
مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی ڈاکٹر جتیندر سنگھ جی، پی کے مشرا جی، ٹی وی سومناتھن جی، اجے کمار جی، یو پی ایس سی کے تمام معزز اراکین، مختلف ریاستوں سے تشریف لائے تمام پی ایس سی کے چیئرمین صاحبان، دیگر تمام معزز شخصیات، خواتین و حضرات۔
آج کی اس گفتگو سے پہلے، میں کل پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ بھارت کے کیپٹن سمت نے جس طرح صبر، حاضر دماغی اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور جس طرح آج اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا کہ اس ہندوستانی نے 11/9 جیسے واقعے کو ہونے سے روک دیا، ہر شہری کے لیے سمت کا یہ کارنامہ ہمیں فخر سے بھردیتا ہے ۔ آج میری ان کے والد بھوپیندر بھائی، والدہ گیتا بہن اور اہلیہ سونل بہن سے بھی بات ہوئی ہے۔ ان کا علاج جاری ہے اور آج پوری دنیا ان پر فخر کر رہی ہے۔ میں ملک کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم سب سمت کی درازیٔ عمر اور ان کی بہترین صحت کے لیے دعا کریں اور بھارت کا وقار بلند کرنے والے بھائی سمت کو خراجِ تحسین پیش کریں۔
ساتھیو،
آج کا یہ دن یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل ہونے کے جشن کے ساتھ ساتھ ایک ورثے کا جشن بھی ہے۔ یہ جشن اس امنگ کا ہے، جسے ہر سال لاکھوں نوجوان اپنے دل میں لیے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ جشن اس اعتماد کا ہے جو ہر بھارتی کو اس ادارے پر ہے۔ 100 سال کے اس سفر میں نسلیں بدلیں، حکومتیں بدلیں، ٹیکنالوجی بدلی، نصاب بدلے، لیکن یو پی ایس سی پر اعتماد آج بھی اسی طرح مضبوط ہے، اور یہ آپ سب کی بہت بڑی پونجی ہے۔
100 سال کے اس سفر کی یاد میں ابھی یہیں یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کیا گیا ہے۔ 100 اہم عدالتی مقدمات سے متعلق فیصلوں کا مجموعہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ میں یو پی ایس سی کے 100 سالہ سفر سے وابستہ تمام معزز شخصیات کو سلام پیش کرتا ہوں اور آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں۔
ابھی میں نے یہاں ایک چھوٹی سی گیلری بنائی گئی ہے، اس کا معائنہ کر رہا تھا۔ میں آپ سب سے بھی کہوں گا کہ 10 سے 15 منٹ نکال کر اسے ضرور دیکھیں۔ اس میں مجھے 75 سال قبل منعقدہ ایک پروگرام کی تصویر بھی نظر آئی، جس میں لیفٹیننٹ جنرل سریندر ناتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ آج 90 سال کی عمر میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔
ساتھیو،
ایسی کتنی ہی شخصیات ہیں، جنہوں نے اس سفر کو اعتماد میں بدلا، وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں کیں اور اس ادارے کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ وہ سب مبارک باد اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ جب میں گیلری کا مشاہدہ کر رہا تھا تو وہاں 1920 میں سبھاش چندر بوس کے بھی اسی عمل سے گزرنے سے متعلق تمام معلومات موجود ہیں۔ میری توجہ اس بات پر گئی کہ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی، لیکن سنسکرت کا پرچہ بھی ہوا کرتا تھا اور سبھاش بابو نے سنسکرت میں پرچہ لکھا تھا۔
ساتھیو،
آج کے اس تاریخی موقع پر میں سردار ولبھ بھائی پٹیل جی کو بھی سلام پیش کروں گا۔ آزادی کے بعد ان کے سامنے صرف ملک کو آزاد رکھنے کا چیلنج نہیں تھا، بلکہ ایک قوم کو چلانے کا چیلنج بھی تھا۔ ملک کی تعمیرِ نو کے لیے جس مضبوط فریم کی ضرورت تھی، وہ مضبوط فریم سردار ولبھ بھائی پٹیل نے دیا۔ انہوں نے اس ادارے کو آزاد بھارت کا ایک اہم ستون بنایا اور اسے مضبوط کیا۔
ساتھیو،
1926 میں جب اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی تھی، اس وقت کی ترجیحات الگ تھیں۔ اس وقت نظام کی توجہ اور اس کی وابستگی دونوں ہی برطانوی راج کے ساتھ تھیں۔ جب ملک آزاد ہوا تو آزاد بھارت کے خواب اور بھارت کا نظام توجہ کا مرکز بنے۔ گزشتہ دہائیوں میں یو پی ایس سی نے اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں نبھائی ہیں۔ اس بارے میں یہاں اسٹیج سے کافی باتیں بھی ہوئی ہیں۔ اس لیے نہ میں ان باتوں کو دہرانا چاہتا ہوں اور نہ ہی ان کی تفصیل میں جانا چاہتا ہوں۔ تاریخ سے آگے بڑھ کر اب ہمارے سامنے بھارت کا مستقبل منتظر ہے۔ 21ویں صدی کی پہلی سہ ماہی کے 25 سال گزر چکے ہیں۔ آنے والے 20 سے 25 سال بھارت، بھارت کے ہر فرد اور بھارت کے ہر ادارے کے لیے بہت اہم ہیں۔ اسی لیے آج میں اپنی گفتگو کا محور بھی اسی سمت رکھوں گا۔
ساتھیو،
ترقی یافتہ بھارت کے لیے اب ملک کو جس طرح کی حکمرانی درکار ہے، اس میں یو پی ایس سی اور ریاستی سلیکشن کمیشنوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ آج آپ جن نوجوانوں کی تقرری کر رہے ہیں، وہ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے اور یہی نوجوان ترقی یافتہ بھارت کے سب سے بڑے مستفید ہونے والوں میں بھی شامل ہوں گے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ہمیشہ دو پیمانوں کو یاد رکھنا ہے۔ پہلا پیمانہ ہے—’نیشن فرسٹ‘ یعنی ’ملک سب سے پہلے‘۔ دوسرا پیمانہ ہے—’سٹیزن فرسٹ‘ یعنی ’شہری سب سے پہلے‘۔ ہر تقرری کو انہی دو پیمانوں پر پرکھا جانا چاہیے۔ جب امیدواروں کو اسی جذبے کے ساتھ پرکھا جائے گا اور اسی جذبے سے سرشار امیدواروں کا انتخاب ہوگا تو قومی اہداف کا حصول بھی اتنا ہی آسان اور سہل ہو جائے گا۔
ساتھیو،
2047 کا بھارت آج کے بھارت سے بہت مختلف ہوگا۔بھارت آج کے مقابلے میں مزید شہری آبادی والا ہوگا۔ گاؤں اور شہروں کے درمیان فرق کم ہوگا۔ اور ہمارے شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کی امنگیں اور توقعات کہیں زیادہ بڑی ہوں گی۔ آج ہی اس تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اس لیے آج سوال صرف خدمات کی فراہمی کا نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا عوامی خدمات آج کی فوری خدمات کی دنیا کی رفتار کو پکڑ پا رہی ہیں؟ کیا وہ اسی رفتار کے مطابق آگے بڑھ پا رہی ہیں؟ آج کوئی شہری کسی سروس کے لیے ہفتوں یا مہینوں انتظار نہیں کرنا چاہتا۔ جب مصنوعی ذہانت ہزاروں دستاویزات کو چند ہی لمحوں میں پراسیس کر سکتی ہے، جب حکومت کے پاس حقیقی وقت کا ڈیٹا دستیاب ہے، تو شہری تیز رفتار حل چاہتا ہے۔ بدلتی ہوئی یہی سوچ ہماری سول سروسز سے بھی نئی تبدیلیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے انتخاب کے پیمانوں اور بھرتی کے عمل کو بھی مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا ہوگا۔ ہمیں ایسے نوجوانوں کو پبلک سروسز میں لانا ہوگا، جو سرکاری عہدے سے نہیں بلکہ عوامی خدمت سے متاثر ہوں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھرتی کا امتحان صرف یہ نہ پرکھے کہ امیدوار کتنا جانتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ وہ نوجوان سول سروسز میں کیوں آنا چاہتا ہے۔ کیونکہ جب جذبہ اور مقصد درست ہوگا تو بدلتی ہوئی عوامی امنگوں کے ساتھ چلنا بھی آسان ہوگا اور خود کو اس کے مطابق ڈھالنا بھی آسان ہوگا۔
ساتھیو،
آپ میں سے بہت سے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ جب میں زیرِ تربیت افسران سے ملتا ہوں تو ان سے کہتا ہوں کہ وہ سول سروس میں شمولیت کے آغاز ہی میں یہ بات لکھ کر رکھیں، اور اسے خود اپنے ہاتھ سے لکھیں کہ وہ سول سروس میں کیوں آئے ہیں۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ذمہ داریاں بڑھتی ہیں۔ نئی چیلنجز سامنے آتے ہیں۔ ایسے وقت میں وہ چھوٹا سا نوٹ انہیں ان کے بنیادی مقصد کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ان کے لیے خود احتسابی کا ایک ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ یو پی ایس سی اور ریاستی کمیشن بھی اس طرح کا کوئی نظام وضع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
ساتھیو،
ہم نے ماضی کا وہ دور دیکھا ہے جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ حکومت ہی مائی باپ ہے۔ لیکن آج وہ دور ہے جس میں ہمارا منتر ہے، ’شہری دیوو بھَو‘۔ یعنی ملک کا شہری ہمارے لیے کسی دیوتا سے کم نہیں ہے۔ ہمارے لیے شہری کی خدمت سب سے مقدم ہے۔
اس لیے ساتھیو،
آج 21ویں صدی کا بھارت ایک نئے طریقۂ کار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا بنیادی اصول ہے—عوام دوست، پیشگی اقدام اور بہتر حکمرانی! عوام دوست یعنی حکومت کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں بلکہ شہریوں کے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے کام کرنا۔ پیشگی اقدام یعنی مسئلہ پیدا ہونے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پہلے ہی مسئلے کا اندازہ لگا کر اس کے حل کی تیاری رکھنا۔ بہتر حکمرانی یعنی حکومت کی نہ غیر موجودگی ہو، نہ غیر ضروری دباؤ ہو اور نہ ہی غیر ضروری اثر و رسوخ ہو۔ قومی سطح پر اور ریاستی سطح پر، دونوں جگہ ہمیں اپنے انتخاب کے عمل کو اسی جذبے کے مطابق ترتیب دینا چاہیے۔ ہمیں عوام دوست، پیشگی اقدام اور بہتر حکمرانی کے پیمانوں کی بنیاد پر ملک کو ایسے ماہرین فراہم کرنے ہیں، جن میں غریب کی تکلیف کو سمجھنے کی حساسیت ہو، جو نوجوانوں کے جوش کے ساتھ خود آگے بڑھ کر کام کریں، جو اختراعی طریقے سے مشکل مسائل کا حل تلاش کریں، جو ملک کی ضروریات کو سمجھیں، جو قانون پر عمل درآمد کرائیں، لیکن یہ بھی جانچ سکیں کہ اس قانون سے لوگوں کی زندگی آسان ہو رہی ہے یا پھر وہ ان کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے؟
ساتھیو،
آج جس تیزی سے زمانہ بدل رہا ہے، ٹیکنالوجی تبدیل ہو رہی ہے، یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد آنے والے دور میں معاشرے کے سامنے نئی نوعیت کے چیلنجز سامنے آنے والے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو لے کر اس وقت دنیا میں جو بحث چل رہی ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ ایسے میں ہمارے سول سرونٹس بھی مختلف نوعیت کے حالات میں کام کریں گے۔ اطلاعاتی جنگ کی صورت حال ہوگی، ڈیپ فیک ہوں گے، الگورتھم میں تعصب کے چیلنجز ہوں گے، ماحولیاتی انصاف جیسے پیچیدہ سوالات ہوں گے۔ ایسے میں ہمیں انتخاب کے عمل میں پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور دور اندیشی کو جانچنے کی کوششوں کو بھی ترجیح دینی ہوگی۔
ساتھیو،
ہم سب جانتے ہیں کہ ملک آج اصلاحات ایکسپریس پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہمارے امتحانات منعقد کرنے والی ایجنسیوں کو ان اصلاحات پر تیزی سے کام کرنا ہوگا، جو آج کے وقت کی ضرورت ہیں۔ مثلاً امتحانات منعقد کرنے میں لگنے والا وقت ایک بہت اہم موضوع ہے۔ ہمیں امتحان کو صرف ایک تقریب کے طور پر نہیں دیکھنا ہے۔ یہ تقریب سے کہیں بڑھ کر نوجوانوں کے مستقبل اور ان کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ امتحانات میں چند ماہ کی تاخیر نوجوانوں کے لیے ایک بڑا بحران بن سکتی ہے۔ کوچنگ کی فیس، کرایہ، آمدورفت کا خرچ، یہ سب کسی خاندان پر بہت بڑا بوجھ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارا امتحانی نظام وقت کی یقینی تکمیل کے اصول کو اپنائے۔ اس لیے یو پی ایس سی اور ملک کے تمام انتخابی کمیشنوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ معیار کو کم کیے بغیر ہمارے امتحانی دورانیے کو مختصر کیسے کیا جائے؟ ویسے میں ابھی گیلری میں دیکھ رہا تھا، تقریباً 100 دن کم کیے گئے ہیں، اس کے لیے آپ سب یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں اور میں آپ سب کو مبارک باد دیتا ہوں۔
لیکن ساتھیو،
یہ صرف انتظامی اصلاحات نہیں ہیں۔ یہ مواقع میں مساوات کی اصلاح بھی ہوگی۔
ساتھیو،
آپ سب چیف سکریٹریز کانفرنس اور ڈی جی پی کانفرنس کے بارے میں جانتے ہیں۔ گزشتہ 10 سال میں یہ ایک ایسا ادارہ جاتی طریقۂ کار تیار ہوا ہے، جس میں ملک کے تمام چیف سکریٹریز تین دن ایک ساتھ بیٹھ کر غور و خوض کرتے ہیں۔ اسی طرح تین دن تک ڈی جی پی کانفرنس میں ملک کے تمام ڈی جی پی جمع ہوکر باہمی تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ اور ان کانفرنسوں میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایک ریاست دوسری ریاست کے بہترین طریقۂ کار سے واقف ہو، اسے سمجھے، اس سے سیکھے اور مناسب لگنے پر اسے اپنی ریاست میں نافذ کرے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یو پی ایس سی ہر سال ریاستی پبلک سروس کمیشنوں کے ساتھ مل کر قومی کانفرنس منعقد کرتا ہے۔ اب اسے مزید وسیع اور زیادہ نتیجہ خیز بنانے، اور اس میں مزید نئے خیالات شامل کرنے کے لیے، اس کی شکل و صورت اور نظام کو کس طرح نئی جہت دی جائے، اس پر آپ ضرور غور کرتے ہوں گے۔ ایسے اقدامات سے مختلف اداروں کے بہترین طریقۂ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس کانفرنس میں بین الاقوامی سطح کے بہترین طریقۂ کار کا بھی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے طریقۂ کار اور کارروائیوں کی کارکردگی کیسے بڑھائی جائے، اس پر بھی توجہ مرکوز کرکے بات چیت ہونی چاہیے۔ ایک دوسرے سے سیکھنے کی اس کوشش سے یو پی ایس سی کو بھی فائدہ ہوگا اور ہر ریاست کے سلیکشن کمیشن کو بھی ضرور فائدہ پہنچے گا۔ ہمیں طریقۂ کار اور کارروائی کے معیارات کو یکساں بنانے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نوجوانوں کو بہت بڑی مدد ملے گی۔
ساتھیو،
ایک اور موضوع یو پی ایس سی اور ریاستی پبلک کمیشنوں کی صلاحیت سازی میں اضافے کا بھی ہے۔ یہ کام بھی مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ مشن کرم یوگی کے تحت جو آئی-گوٹ پلیٹ فارم بنایا گیا ہے، اس کا استعمال ہماری ان داخلی انتظامات کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے اور ہمارے ساتھ کام کرنے والی ٹیم کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھی ان تمام پلیٹ فارموں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ساتھیو،
آپ سب کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا ہے کہ آپ کا کام نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی نوجوان طاقت سے قومی طاقت کی تعمیر کا جو مشن ہے، آپ اس کا ایک اہم ستون ہیں۔ اور گزشتہ برسوں میں آپ نے اس میں بڑا کردار بھی ادا کیا ہے۔ جب یو پی ایس سی کا قیام عمل میں آیا تھا، تب بڑے شہروں، خوش حال خاندانوں اور بڑے اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مواقع سے فائدہ اٹھانے کا زیادہ موقع ملتا تھا۔ لیکن آج گاؤں اور قصبوں کے نوجوان بھی پبلک سروس میں پہنچ رہے ہیں۔ ہماری بیٹیوں کی شرکت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 1952 میں سول سروسز میں خواتین امیدواروں کی تعداد صرف 3 فیصد تھی، 3 فیصد۔ آج یہ 30 فیصد، 30 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اور یو پی ایس سی کی پوری تاریخ میں چار خواتین چیئرپرسن رہی ہیں، یو پی ایس سی کی پوری تاریخ میں۔ تالیاں بجانے کا وقت اب آئے گا۔ یو پی ایس سی کی پوری تاریخ میں چار، ان میں سے تین 2014 کے بعد چیئرپرسن بنی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ بتاتی ہیں کہ ملک میں مواقع کا دائرہ کتنا وسیع ہوا ہے۔
ساتھیو،
1976 میں، جب یو پی ایس سی کے قیام کو 50 سال ہوئے تھے، اس وقت کے مقابلے میں امتحان دینے والے امیدواروں کی تعداد میں 45 گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، 45 گنا۔ یعنی آج ہمارے سامنے صلاحیتوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ملک کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔ اب ہماری ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ کیونکہ جب دنیا جس باصلاحیت افراد کے بڑے ذخیرےپر رشک کرتی ہے، اتنا بڑا باصلاحیت افراد کا ذخیرہ ہمارے سامنے موجود ہے، تو آپ صرف ایک امیدوار کا انتخاب نہیں کر رہے ہیں۔ آپ ایسے شخص کا انتخاب کر رہے ہیں، جو آگے چل کر حکومت کا نمائندہ بنے گا۔ زمینی سطح پر لوگ اسی کو حکومت سمجھیں گے۔ اس لیے آپ سب پر صحیح شخص کے انتخاب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
ساتھیو،
یو پی ایس سی نے اپنے پہلے 100 برسوں میں اپنی ساکھ کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ اب اس ادارے کو اپنی دوسری صدی میں نئی صلاحیتوں اور نئے چیلنجز کے مطابق اپنی ساکھ کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ جو اقدار آج تک ہماری طاقت رہی ہیں، انہیں برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو بہتر بھی بنانا ہے۔ یو پی ایس سی کی خود مختاری، غیر جانب داری، اہلیت، رازداری اور منصفانہ طریقۂ کار ہی اس کی شناخت ہیں۔ یہ اقدار ہمیشہ برقرار رہنی چاہیے۔ اسی گزارش کے ساتھ آپ سب کو ایک بار پھر بہت بہت نیک خواہشات۔ بہت بہت شکریہ!
***********
ش ح۔ رک۔
U No. 4429
(ریلیز آئی ڈی: 2317625)
وزیٹر کاؤنٹر : 7