امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے ممبئی میں ہندی دِوس 2026 اور چھٹی کل ہند سرکاری زبان کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں محکمہ سرکاری زبان نے کئی اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں

’ہندی شبد  - سندھو ’ میں مقامی زبانوں کے 50,000 سے زیادہ الفاظ شامل کیے گئے ہیں، جس سے سرکاری زبان ہندی مزید لچک دار اور جامع بن گئی ہے

’ہندی شبد  - سندھو ’ میں اب 8 لاکھ الفاظ شامل ہو چکے ہیں اور 2029  ء تک یہ دنیا کی سب سے بڑی لغت بننے کی سمت گامزن ہے

لسانی اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو وزیر داخلہ کا پیغام: بچے ہندوستان کو اپنی مادری زبان کے ذریعے ہی صحیح معنوں میں سمجھ سکتے ہیں

مودی حکومت حکمرانی، سائنس اور ادب کے شعبوں میں ہندوستانی زبانوں کے درمیان باہمی ربط کو فروغ دے کر انہیں مزید مالا مال کر رہی ہے

سرکاری زبان ہندی ملک بھر میں بولی جانے والی تمام زبانوں سے جڑی ہوئی ہے۔ میں گجراتی بولنے والا ہوں لیکن ہندی کی وجہ سے مجھے قومی سطح پر کام کرنے میں کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی

مادری زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان ماں کی محبت یا بہن بھائیوں کے درمیان پیار کو صحیح معنوں میں بیان نہیں کر سکتی

مودی حکومت نے مادری زبان کے ساتھ ایک اور ہندوستانی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی ہے کیونکہ دوسری ہندوستانی زبان سیکھنے کا مطلب  ‘ ایک بھارت، شریشٹھ بھارت ’  کے جذبے سے جڑنا ہے

جب کوئی شخص اپنی مادری زبان میں سوچتا، تجزیہ کرتا اور تخلیق کرتا ہے تو نتیجہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے

سرکاری زبان  کےمحکمے نے ویر ساورکر جی کے وضع کردہ متعدد الفاظ کو  ‘ ہندی شبد- سندھو’ میں شامل کرنے کا کام شروع کیا ہے

متعدد زبانوں کا ہونا قابل اعتراض نہیں لیکن جذبہ ہندوستانی ہونا چاہیے؛ بولیاں کئی ہو سکتی ہیں لیکن ہندوستان کی آواز ایک ہونی چاہیے

مودی حکومت کے تحت 2019  ء سے اب تک سرکاری زبان کمیٹی کی چار رپورٹیں  صدر جمہوریہ  ہند کو پیش کی جا چکی ہیں اور پانچویں جلد بھی تیار ہے

مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘ کنٹھستھ 2.0 ’  کو بھی غیر ملکی صارفین کے لیے دستیاب کرایا گیا ہے، جس کے ڈیٹا بیس میں پانچ کروڑ سے زیادہ جملے موجود ہیں

مرکزی وزیر داخلہ نے راج بھاشا کیرتی اور راج بھاشا گورو ایوارڈز بھی پیش کیے

وزیر داخلہ نے  ‘ شیو انادی ہیں، اننت ہیں ’ ،  ‘بھارتیہ گیان تنتر: سَروت اور سوروپ’، ‘اندھیروں سے اجالوں تک’  اور  ‘ وندے ماترم ’ کے موضوعات پر  ‘ راج بھاشا بھارتی’ کے خصوصی یادگاری شمارے جاری کیے، ساتھ ہی ‘ وندے ماترم کے 150 ابواب ’ نامی اشاعت بھی جاری کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 SEP 2026 5:19PM by PIB Delhi

امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر  جناب امت شاہ نے آج ممبئی میں ہندی دِوس 2026 اور چھٹی کل ہند سرکاری زبان کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کیا۔ اس موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس، نائب وزرائے اعلیٰ جناب ایکناتھ شندے اور محترمہ سنیترا پوار، امور داخلہ کے مرکزی وزرائے مملکت جناب نتیا نند رائے اور جناب بندی سنجے کمار اور محکمہ سرکاری زبان کی سکریٹری محترمہ انشولی آریہ سمیت کئی دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

ہندی دِوس اور گنیش چترتھی کی مبارکباد دیتے ہوئے  ، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ ایک ‘‘ منی  کنچن یوگ ’’ یعنی نادر اور مبارک اتفاق ہے کہ ہندی دِوس اور گنیش چترتھی ایک ہی دن منائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکاوٹیں دور کرنے والے بھگوان گنیش ہندوستانی زبانوں کی ترقی کی راہ ہموار کریں گے اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔ اس موقع پر لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کو یاد کرتے ہوئے  ، جناب شاہ نے کہا کہ مہاراشٹر میں گنیش اتسو کی عوامی سطح پر تقریبات کا آغاز لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک مہاراج نے 1893 میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلک مہاراج نے ملک کی نبض کو صحیح طور پر سمجھا تھا۔ انہوں نے اس بات کو گہرائی سے سمجھا تھا کہ ہندوستان میں بیداری اور ثقافتی قوم پرستی صرف اس کی ثقافت اور تاریخ کے ذریعے ہی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے گنیش اتسو اور چھترپتی شیوا جی مہاراج کا یوم پیدائش منانے کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ہی عرصے میں یہ دونوں تہوار پورے ملک میں منائے جانے لگے۔ ان دونوں تہواروں نے برطانوی حکومت کے لیے خاصی تشویش پیدا کر دی تھی۔ ان تہواروں کے ذریعے تلک مہاراج نے لوگوں میں حب الوطنی کی ایک زبردست لہر پیدا کی۔ جناب شاہ نے کہا کہ مہاراشٹر روایات اور وسیع فکر کی سرزمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھکتی تحریک کے دوران مہاراشٹر کے کئی سنتوں نے ایسی تخلیقات پیش کیں ، جن سے پورے ملک میں بھکتی تحریک کو زبردست فروغ حاصل ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین ہے، جنہوں نے  ‘‘ سوراج، سوا دھرم اور سوا بھاشا ’’  یعنی خود  کی حکمرانی، اپنا مذہب اور اپنی زبان کو سوراج کے بنیادی عناصر بنایا۔ انہوں نے انتظامیہ میں مراٹھی زبان کو اہمیت دے کر اپنی زبان میں اصطلاحات کا ایک وسیع ذخیرہ تیار کیا۔ یہ نظام چھترپتی شیواجی مہاراج اور ہندوی سوراج کے دور میں حکمرانی کی بنیاد کے طور پر جاری رہا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ہندی ورڈ پروسیسنگ، ہندی ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ کے تربیتی پروگراموں کا افتتاح کیا گیا۔ جناب شاہ نے راج بھاشا کیرتی ایوارڈز اور راج بھاشا گورو ایوارڈز بھی پیش کیے۔ انہوں نے ان اعزازات سے نوازے جانے والے تمام افراد کو مبارکباد دی۔ جناب شاہ نے کہا کہ آج ‘شیو انادی ہیں، اننت ہیں ’ ، ‘ بھارتیہ گیان تنتر: سَروت اور سوروپ ’ ، ‘ اندھیروں سے اجالوں تک ‘ ،  قومی گیت  ‘ وندے ماترم ’  پر مرکوز محکمہ سرکاری زبان کے جریدے  ‘ راج بھاشا بھارتی ’  کا خصوصی یادگاری شمارہ اور  ‘ وندے ماترم کے 150 ابواب ’  جیسی اشاعتیں بھی جاری کی گئیں۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ‘‘ وندے ماترم ’’  کوئی عام گیت نہیں ہے۔ یہ شدید نو آبادیاتی غلامی کے دور میں ہندوستانی شعور کو بیدار کرنے کے لیے بنکم چندر چٹرجی کی ایک عظیم کوشش تھی۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہندوستان کے سوئے ہوئے شعور کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ ‘‘ آنند مٹھ ’’  میں تحریر کیا گیا ان کا گیت  ‘‘ وندے ماترم ’’  جلد ہی پورے ہندوستان میں آزادی کا اعلان بن گیا۔  ‘‘ وندے ماترم ’’  کی پکار کے ذریعے بنکم چندر نے نہ صرف آزادی کی گہری تڑپ اور شدید خواہش کو بیدار کیا بلکہ ہندوستان کی ثقافتی قوم پرستی کی بنیاد بھی رکھی۔ جناب شاہ نے کہا کہ بدقسمتی سے بعد میں  ’’ وندے ماترم ’’  کو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آزادی کے بعد بھی اسے مکمل شکل میں تسلیم کرنے میں پارلیمنٹ کو تقریباً 80 سال لگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی وہ رہنما ہیں  ، جنہوں نے سرکاری تقریبات میں  ‘‘ وندے ماترم ’’  کو دوبارہ اس کی مکمل شکل اور پوری عظمت کے ساتھ گائے جانے کی پہل کی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وندے ماترم کے 150ویں سال میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین پر منعقد ہونے والا ہندی دِوس پروگرام آنے والے دنوں میں سرکاری زبان اور ہندوستانی زبانوں کے سفر کو آگے بڑھائے گا۔ مہاراشٹر کی کثیر لسانی ثقافت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے  ، جناب شاہ نے کہا کہ یہاں مراٹھی زبان کا احترام کیا جاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سب سے پہلے مراٹھی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا۔ کونکنی، گجراتی، سندھی، ہندی، کنڑ، وارلی اور کئی دیگر زبانیں بھی مہاراشٹر میں پروان چڑھی ہیں اور انہیں احترام و شناخت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں مہاراشٹر سب سے زیادہ کثیر لسانی ریاست ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ کو بھی ریاستی انتظامیہ میں سب کو ساتھ لے کر چلنے والا نظام قائم کرنے پر مبارکباد دی۔

آچاریہ ونوبا بھاوے کا حوالہ دیتے ہوئے  ، مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ‘‘ اگر میں نے ہندی کا سہارا نہ لیا ہوتا تو میں کشمیر، آسام اور کیرالہ کے ہر گاؤں تک بھودان اور گرام دان کا انقلابی پیغام نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اگر میں کسی دوسری زبان پر انحصار کرتا تو میں گاؤوں میں بالکل کام نہیں کر پاتا۔ سرکاری زبان نے ہی مجھے ہر گاؤں سے بات چیت کرنے کا طریقہ سکھایا۔’’ وزیر داخلہ نے کہا کہ سرکاری زبان کا ملک کی تمام زبانوں سے یہ تعلق اس لیے ہے کہ یہ تمام زبانیں صدیوں سے ہندوستان کی روزمرہ بول چال کا حصہ رہی ہیں اور سینکڑوں برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ میل جول رکھتی آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود ان کا تعلق گجرات سے ہے، جہاں ہندی نہیں بلکہ گجراتی بولی جاتی ہے۔ تاہم جب انہیں قومی سطح پر کام کرنے کی ذمہ داری دی گئی تو ہندی سمجھنے اور بولنے کی وجہ سے انہیں پورے ملک میں کام کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زبان نے انہیں پورے ملک میں کام کرنے کا ایک شاندار موقع فراہم کیا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مہاراشٹر ویر ساورکر کی سرزمین ہے۔ ساورکر اپنے دور کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے ماہر لسانیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ایسے بہت سے الفاظ وضع کیے ، جو اس سے پہلے ہندوستانی زبانوں میں موجود نہیں تھے۔ ان تمام الفاظ کو مراٹھی، سرکاری زبان اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی آسانی سے قبول کر لیا گیا۔ انہوں نے تلک کی تحریروں میں پیش کیے گئے خیالات کو شامل کرتے ہوئے مراٹھی زبان کو مزید صاف اور بامعنی بنانے کے لیے بھی کام کیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ محکمہ سرکاری زبان نے آن لائن لغت  ‘‘ ہندی شبد – سندھو ’’  میں ویر ساورکر کے نظرثانی کیے گئے اور وضع کردہ تمام الفاظ کو شامل کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دستور سازوں نے سوچ سمجھ کر 14 ستمبر  ، 1949  ء کو ہندی کو سرکاری زبان کے طور پر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جناب شاہ نے کہا کہ جناب نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد محکمہ سرکاری زبان نے کئی اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے پرائمری تعلیم میں مادری زبان سیکھنا لازمی قرار دیا ہے۔ کوئی بھی بچہ اپنی مادری زبان سیکھے بغیر ایک مکمل شخصیت کے طور پر نشوونما نہیں پا سکتا، کیونکہ ماں کی ممتا اور بہن یا بھائی کی محبت کو مادری زبان کے بغیر پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ اپنی سرزمین، زبان، عقیدے، روایات، ثقافت اور اقدار سے وابستگی مادری زبان کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے پرائمری تعلیم میں مادری زبان کو لازمی قرار دیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ بچہ اپنی مادری زبان سیکھنے کے بعد ہی ترقی کر سکتا ہے۔ سوچنے کا عمل مادری زبان میں شروع ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص سوچتا، تجزیہ کرتا اور فیصلے کرتا ہے تو مادری زبان میں یہ عمل بہتر سوچ، بہتر تجزیے اور بہتر فیصلوں کا باعث بنتا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم مودی نے ایک اور ہندوستانی زبان سیکھنا بھی لازمی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہندوستانی زبانیں سیکھنے کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں احساس نہیں ہے کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ بچوں کو ہندوستانی زبانیں سیکھنی چاہئیں۔ دوسری ہندوستانی زبان سیکھنے سے بچہ خود بخود ‘‘ ایک بھارت، شریشٹھ بھارت ’’ کے مقصد سے جڑ جائے گا۔ اگر بچے اپنی مادری زبان کے ساتھ کوئی دوسری ہندوستانی زبان بھی سیکھیں گے تو وہ خود بخود اپنی ہندوستانی شناخت سے جڑ جائیں گے اور محدود سوچ سے آزاد ہوکر ہندوستان کے لیے عزم رکھنے والے سچے شہری بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان کی ہر زبان کو مزید مالا مال کرنا چاہتی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ 2019  ء میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کل ہند سرکاری زبان کانفرنس صرف دلّی  تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں باری باری منعقد کی جائے گی۔ اس کے بعد سے آج کی کانفرنس چھٹی کانفرنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں 2019  ء سے اب تک سرکاری زبان کمیٹی کی چار رپورٹیں  عزت مآب صدر جمہوریہ  کو پیش کی جا چکی ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 13 جلدیں مکمل کی جا چکی ہیں، جن میں سے چار وزیر اعظم مودی کی مدت کار کے دوران مکمل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وزیر اعظم مودی کسی بڑے عالمی پلیٹ فارم پر یا کسی دوسرے ملک کے دورے کے دوران خطاب کرتے ہیں تو وہ سرکاری زبان اور ہندوستانی زبانوں میں خطاب کرتے ہیں۔ بڑے عالمی فورموں پر ملک کے وزیر اعظم کو کسی غیر ملکی زبان کے بجائے اپنی زبان میں خطاب کرتے ہوئے دیکھ کر ہر ہندوستانی فخر سے بھر جاتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کئی ممالک کی یونیورسٹیوں میں سرکاری زبان کی تدریس کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔ حکومت ہند کے پانچ لاکھ سے زیادہ ملازمین کو تربیت دی جا چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی  ‘‘ کنٹھستھ 2.0 ’’  پلیٹ فارم کو غیر ملکیوں کے لیے بھی کھول دیا گیا ہے، جس میں پانچ کروڑ سے زیادہ جملے موجود ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ لیلا راج بھاشا اور لیلا پرواہ ( ایل آئی ایل اے – لرن انڈین لنگیویجز تھرو آرٹفیشیل انٹلی جنس)  یعنی لیلا  مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہندوستانی زبانیں سیکھیں ،   نے بہت اچھے نتائج دیے ہیں۔  ‘‘ ہندی شبد  - سندھو ’’  لغت کا آغاز 51 ہزار الفاظ سے ہوا تھا اور اب اس میں آٹھ لاکھ الفاظ شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی زبانوں کے 50 ہزار سے زیادہ الفاظ کو  ‘‘ ہندی شبد  - سندھو ’’  میں شامل کیا گیا ہے، جس سے ہندی مزید لچک دار اور حالات کے مطابق ڈھلنے والی زبان بن گئی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ 2029  ء تک یہ لغت دنیا کی سب سے بڑی لغت بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندی میں جہاں کہیں کمی تھی اور کسی خاص تصور کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں تھا، وہاں مقامی زبانوں کے 50 ہزار سے زیادہ الفاظ کو اختیار کرکے سرکاری زبان کو مزید لچک دار بنایا گیا ہے۔ ان میں تمل، تیلگو، مراٹھی، گجراتی، بنگالی، اڑیہ  اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔ ہر زبان کے 50 ہزار سے زیادہ الفاظ  ‘‘ ہندی شبد  - سندھو ’’ میں شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سرکاری زبان نے ‘‘ بھارتی – بہوبھاشی انواد سارتھی ’’ تیار کیا ہے اور  ‘‘ انڈین لینگویجز سیکشن ’’  بھی شروع کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت ہندوستانی زبانوں کو حکمرانی اور سائنس کی زبان بنانا، ادب کو مالا مال کرنا اور ہندوستانی زبانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک وسیع مشترکہ لسانی ذخیرہ تیار کرنا چاہتی ہے۔ خواہ جے ای ای، نیٹ یا انڈر گریجویٹ داخلہ امتحان ہو، یہ امتحانات اب 13 زبانوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وہ ان لوگوں سے کہنا چاہیں گے  ، جو زبانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی بچہ اپنی مادری زبان کے ذریعے ہی ہندوستان کو صحیح معنوں میں سمجھ سکتا ہے۔ اگر بچہ کسی غیر ملکی زبان کے ذریعے ہندوستان کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو اسے ہندوستان کو غلط سمجھنے کا امکان رہے گا۔ اس لیے انہوں نے سب سے اپیل کی کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہندوستانی زبانوں کے فروغ پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ملک کے عوام کو جو  ‘‘ پنچ پَرَن ’’  دیے تھے، ان میں سے ایک عہد غلامی کی ذہنیت سے ہندوستان کو آزاد کرانے کا بھی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب زبانوں کی بات آتی ہے تو گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور سے بڑھ کر کوئی شخصیت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا تھا، ‘‘ہندوستانی ثقافت اور ہندوستانی ادب سو پنکھڑیوں والے ایک مکمل کھلے ہوئے کنول کی مانند ہیں، جس کی ہر پنکھڑی ہماری علاقائی زبانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک بھی پنکھڑی کو نقصان پہنچنے سے اس کنول کی خوبصورتی ختم ہو جائے گی۔ علاقائی زبانوں کو اپنی اپنی ریاستوں میں ملکہ کی حیثیت حاصل رہنے دیں، جب کہ ہندی ان تمام زبانوں کے درمیان مرکزی نگینے کے طور پر اس سو پنکھڑیوں والے کنول کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی رہے۔ ’’  جناب امت شاہ نے کہا کہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے گہری سوچ بچار کے بعد یہ بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی زبانیں بے شک مختلف سروں کی مانند ہو سکتی ہیں، لیکن گیت ایک ہے، حب الوطنی کا گیت ایک ہے اور ہماری ثقافت کا گیت ایک ہے۔ بہت سی زبانوں کا ہونا کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔ جذبہ ہندوستانی ہونا چاہیے۔ بولیاں بہت سی ہو سکتی ہیں، لیکن ہندوستان کی آواز ایک رہنی چاہیے۔

 

**********

( ش ح ۔ م  م ۔ ع ا )

U. No. 3435


(ریلیز آئی ڈی: 2310197) وزیٹر کاؤنٹر : 12