ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
کابینہ نے مغربی بنگال، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ ریاستوں کے 14 اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے تین ملٹی ٹریکنگ منصوبوں کو منظوری دی ، جس سے ہندوستانی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 656 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا
پروجیکٹ کی مجموعی تخمینہ لاگت 10,783 کروڑ روپے ہے اور اسے30-2029 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 3:25PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آج ریلوے کی وزارت کے تین منصوبوں کو منظوری دی۔ ان منصوبوں کی مجموعی تخمینہ لاگت 10,783 کروڑ روپے ہے۔ ان پروجیکٹوں میں شامل ہیں:
- کھڑگ پور–جھارسوگوڑا (باگ ڈیہی) چوتھی ریلوے لائن
- کٹنی–پیندرا روڈ چوتھی ریلوے لائن
- بلاس پور (اسلّاپور)–پیندرا روڈ تیسری ریلوے لائن
ریلوے لائنوں کی گنجائش میں اضافے سے نقل و حرکت میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں ہندوستانی ریلوے کی آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی قابلِ اعتماد فراہمی میں اضافہ ہوگا۔ملٹی ٹریکنگ کے یہ پروجکٹس ریلوے کے کام کاج کو مزید ہموار بنانے اور ریل راستوں پر بھیڑ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ پروجیکٹ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’نئے بھارت‘ کے وژن کے عین مطابق ہیں۔ ان کے ذریعے خطے میں جامع ترقی کو فروغ ملے گا، جس سے لوگوں کے لیے روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور وہ ’آتم نربھر‘ بن سکیں گے۔
ان پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے تحت کی گئی ہے، جس میں مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے کثیر ذرائع نقل و حمل کے رابطے اور رسد کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ منصوبے لوگوں، اشیا اور خدمات کی نقل و حرکت کے لیے بلا رکاوٹ رابطہ فراہم کریں گے۔
مغربی بنگال، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے 14 اضلاع کو احاطہ کرتے ہوئے یہ تین پروجیکٹ ہندوستانی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 656 کلومیٹر کا اضافہ کریں گے۔ مجوزہ ملٹی ٹریکنگ منصوبوں سے تقریباً 4,790گاؤوں کو بہتر ریلوے رابطہ حاصل ہوگا، جہاں تقریباً 56 لاکھ افراد آباد ہیں۔
مجوزہ گنجائش میں اضافے سے ملک کے کئی اہم سیاحتی مقامات تک ریلوے رابطہ بھی بہتر ہوگا، جن میں تارتارنی مندر، شری کھیتر جگن ناتھ مندر (جھارسوگوڑا کے قریب واقع قدیم مندر)، بندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو، ویراتیشور مندر، امرکنٹک مندر، جوالشور دھام، اچانکمار ٹائیگر ریزرو، کھٹا گھاٹ ڈیم، ملہار آرکولوجیکل سائٹ، رتن پور مہامایا مندر وغیرہ شامل ہیں۔
مجوزہ پروجیکٹس کوئلہ، سیمنٹ، لوہا اور اسٹیل وغیرہ جیسی اشیا کی نقل و حمل کے لیے اہم روٹ ہیں۔ ریلوے لائنوں کی گنجائش میں اضافے کے ان کاموں سے سالانہ 27 ملین ٹن اضافی مال برداری ممکن ہو سکے گی۔ریلوے ماحول دوست اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ذریعۂ نقل و حمل ہے، اس لیے یہ منصوبے ملک کے موسمیاتی اہداف کے حصول اور رسد و ترسیل کی لاگت کم کرنے میں مدد کریں گے۔ اس کے علاوہ تقریباً 12 کروڑ لیٹر تیل کی درآمد میں کمی آئے گی اور تقریباً 62 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ہوگی، جو 2.48 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔
*****
ش ح۔ م ع ن۔ ش ہ ب
U. No-3205
(ریلیز آئی ڈی: 2308295)
وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Assamese
,
Bengali
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam