الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے سیمی کون 2.0 کے حوالے سے میڈیا سے خطاب کیا


سیمی کون 2.0 کے تمام 6 ستونوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری



بھارت نے 10 سال کے ہدف کے مقابلے میں چار سال میں 85,000 سیمی کنڈکٹر انجینئرز تیار کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے: اشونی ویشنو



آنے والے برسوں میں عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت کی مارکیٹ کا تقریباً 10 فیصد حصہ بھارت میں ہوگا: اشونی ویشنو



درجہ دوم اور درجہ سوم کے شہروں کے طلبہ نے 250 سے زائد سیمی کنڈکٹر چِپس ڈیزائن کی ہیں: اشونی ویشنو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 AUG 2026 4:12PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریلوے اور اطلاعات و نشریات، جناب اشونی ویشنو نے آج میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو اگلی سطح تک لے جانے کے لیے حکومت کے وژن کا خاکہ پیش کیا۔ اس موقع پر سیمی کون 2.0 اسکیم کے تمام چھ ستونوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے، جو بھارت کی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image001_20260831161319_31151e.jpg

 

یہ اسکیم پہلے سیمی کون انڈیا پروگرام کے ذریعے پیدا ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھاتی ہے اور سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے تمام مراحل میں مالی اور بنیادی ڈھانچے کی معاونت فراہم کرتی ہے، جس میں چِپ ڈیزائن، فیبریکیشن اور پیکیجنگ سے لے کر آلات، مواد، تحقیق و ترقی اور افرادی قوت کی ترقی شامل ہیں۔

اس اسکیم کا مقصد سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کی مضبوطی کو بہتر بنا کر بھارت کی اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کو مستحکم کرنا اور اہم شعبوں میں تکنیکی قیادت قائم کرنا ہے۔ یہ اسکیم چھ ستونوں کے ذریعے کام کرے گی، جن کے تحت 10 زمروں کا احاطہ کیا جائے گا۔

سیمی کون 2.0 کے تحت چھ ستون یہ ہیں:

  • ستون 1 — ڈیزائن
  • ستون 2 — مشینیں اور مواد
  • ستون 3 — مزید فیب  کا قیام
  • ستون 4 —اے ٹی ایم پی / او ایس اے ٹی صنعت کو مزید مضبوط بنانا
  • ستون 5 — تحقیق اور ترقی
  • ستون 6 — افرادی قوت کی ترقی

ستون 1 — ڈیزائن  :   زمرے: قومی اہمیت اور اسٹریٹجک ترجیحات کے لیے سیمی کنڈکٹر آئی پیز، چِپس، سسٹم آن چِپس (ایس او سیز) اور ماڈیولز کا ڈیزائن۔تجارتی شعبے کے لیے سیمی کنڈکٹر آئی پیز، چِپس اور سسٹم آن چِپس (ایس او سیز) کا ڈیزائن۔ سیمی کنڈکٹر آئی پیز/چِپس/ایس او سیز کی تنصیب کے لیے تعیناتی سے منسلک ترغیبی اسکیم (ڈی ایل آئی)۔

ستون 2 — مشینیں اور مواد: زمرہ: سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم۔

ستون 3 — مزید فیب کا قیام: زمرے: سلیکون سیمی کنڈکٹر ویفر فیبز۔کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹرز/فوٹونکس/سینسرز (بشمول ایم ای ایم ایس) فیب/ڈسکریٹ سیمی کنڈکٹرز فیب۔ڈسپلے فیبز۔

ستون 4 — اے ٹی ایم پی / او ایس اے ٹی  صنعت کو مزید مضبوط بنانا: زمرہ: سیمی کنڈکٹر اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ اور پیکیجنگ (اے ٹی ایم پی) / آؤٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹ (او ایس اے ٹی) سہولت۔

ستون 5 — تحقیق اور ترقی : زمرہ: جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)۔

ستون 6 — افرادی قوت کی ترقی :  زمرہ: افرادی قوت کی ترقی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image002_20260831161331_0b99a8.jpg

 

تقریب کے دوران جناب اشونی ویشنو نے کہا، ’’بھارت نے 10 سال کے عرصے میں 85,000 سیمی کنڈکٹر انجینئرز تیار کرنے کا ہدف صرف چار سال میں حاصل کر لیا ہے، اور اب مزید ایک لاکھ انجینئرز تیار کرنے کا نیا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آنے والے برسوں میں عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت کی مارکیٹ کا تقریباً 10 فیصد حصہ بھارت میں ہونے کی توقع ہے۔ درجہ دوم اور درجہ سوم کے شہروں کے طلبہ پہلے ہی 250 سے زائد چِپس ڈیزائن کر چکے ہیں۔ ایک معاملے میں سنگِ بنیاد رکھنے کے صرف 13 ماہ کے اندر تجارتی پیداوار شروع ہو گئی، جبکہ متعدد معاملات میں منظوری 200 دن، 150 دن اور حتیٰ کہ 90 دن کے اندر دی گئی۔ بھارت میں تیار کیے جا رہے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم سے 50,000 سے 60,000 براہِ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔‘‘

سیمی کون 2.0 کے تحت معاونت حاصل کرنے والے منصوبوں کی مدت عموماً چھ سال تک ہوگی، جبکہ اس اسکیم کے تحت درخواستیں ابتدائی طور پر تین سال تک قبول کی جائیں گی۔

انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) سیمی کون 2.0 کے لیے نوڈل ایجنسی ہوگا۔ یہ درخواستیں طلب کرے گا، تکنیکی اور مالی جائزہ لے گا، درخواست دہندگان کی سفارش کرے گا اور اسکیم کے نفاذ کی نگرانی کرے گا۔ آئی ایس ایم ، سی – ڈی اے سی  کی معاونت سے ڈیزائن اور تعیناتی سے متعلق زمروں کو نافذ کر سکتا ہے۔ یہ مشن مخصوص اور جدید اختراعات کے فروغ کے لیے 2026 سے سیمی کنڈکٹر ڈیپ ٹیک ایوارڈز بھی متعارف کرا سکتا ہے۔

وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مالی معاونت کے لیے بجٹ میں ضروری رقم مختص کرے گی، جبکہ منظور شدہ شرائط کے مطابق رقم کی تقسیم نوڈل ایجنسی کے ذریعے کی جائے گی۔ اسکیم کے نفاذ کے تین سال بعد، یا ضرورت کے مطابق، وسط مدتی جائزہ لیا جائے گا تاکہ اسکیم کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے اور اس میں ترمیم یا اسے جاری رکھنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔

نوٹیفکیشن کے لیے آپ سیمی کون 2.0 ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

آپ پریس کانفرنس یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

 

..................................................... ...................................................


 

 

) ش ح – م    ت ف-    م الف)

U.No. 2812

 


(ریلیز آئی ڈی: 2305077) وزیٹر کاؤنٹر : 5