کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت-جاپان سرمایہ کاری شراکت داری میں تیزی؛ تجارت و صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل نے جاپانی اداروں سے مزید ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی دعوت دی
جناب گوئل نے بھارت کی مضبوط معاشی بنیادوں اور سیمی کنڈکٹرز، اے آئی ، صاف توانائی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں موجود مواقع کو اجاگر کیا
جاپانی مالیاتی اداروں نے بھارت پر طویل مدتی اعتماد کا اظہار کیا؛ سرمائے کے بہاؤ اورمنافع کی واپسی میں مزید آسانی کا مطالبہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 AUG 2026 10:44AM by PIB Delhi
مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج ٹوکیو میں جاپان کے ممتاز مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ طویل مدتی سرمائے کے بہاؤ کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور بھارت کی ترقی کی کہانی میں جاپانی شراکت داری کو وسعت دینے کے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔
اجلاس میں ایم یو ایف جی، ڈویلپمنٹ بینک آف جاپان (ڈی بی جے)، میزُوہو، مورگن اسٹینلے، نومورا اور نِپون لائف کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔ بات چیت میں بھارت کے معاشی منظرنامے، سرمایہ کاری کے ابھرتے ہوئے مواقع اور بھارت میں جاپانی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لیے اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
جناب گوئل نے بھارتی معیشت کی مضبوطی اور لچک کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت نے گزشتہ سال 7.7 فیصد کی شرح نمو درج کی اور وہ 2047 تک 30 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کے بینکاری شعبے کی مضبوطی، سرمایہ کی وافر کفایت، غیر فعال اثاثوں کی کم شرح، متوسط طبقے کے پھیلاؤ اور قابلِ خرچ آمدنی میں اضافے کو پائیدار معاشی ترقی کے اہم محرکات قرار دیا۔
وزیر موصوف نے جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں موجود وسیع مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں قابل تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور قومی بجلی کا گرڈ توانائی کی زیادہ کھپت کرنے والی ڈیجیٹل صنعتوں کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
بھارت اور جاپان کے تعلقات کی اسٹریٹجک اور جامع نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت جاپان کو عالمی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا مرکز بننے کے اپنے سفر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے دانشورانہ املاک کے تحفظ، اعلیٰ معیار کی باصلاحیت افرادی قوت کی دستیابی، پالیسی اصلاحات اور کاروبار کے لیے مسلسل سازگار ماحول پیدا کرنے کے تئیں بھارت کے عزم پر زور دیا۔
جاپانی مالیاتی اداروں نے بھارت کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی شراکت داری اور ملک کی طویل مدتی ترقی کے امکانات پر مضبوط اعتماد کا اظہار کیا۔ ایم یو ایف جی نے شری رام فائنانس میں تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر کی اپنی سرمایہ کاری اور قابل تجدید توانائی اور ہائیڈروجن سمیت مختلف شعبوں میں اپنی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے بارے میں بتایا۔ ڈی بی جے نے بھارت کے لیے اپنی مخصوص حکمت عملی اور جائیداد کی ترقی، وینچر کیپیٹل اور دیگر طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع میں اپنی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ذکر کیا۔
میزوہو نے بھارت میں کام کرنے والی جاپانی کمپنیوں کے منافع میں بہتری اور اپنی بھارتی سرگرمیوں میں توسیع کو اجاگر کیا، جس میں پونے میں اس کا گلوبل کیپبلیٹی سینٹر بھی شامل ہے۔ مورگن اسٹینلے نے بھارت کو دنیا بھر میں اپنے اہم ترین مراکز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہاں اس کے 19,000 سے زائد ملازمین ہیں۔ اس نے بھارت میں اپنی سرگرمیوں کے اعلیٰ قدر والے سرمایہ جاتی مارکیٹوں اور مالیاتی خدمات سے متعلق شعبوں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی اجاگر کیا۔
نومورا نے بھارت میں اپنی طویل عرصے سے موجودگی اور جاپانی کمپنیوں اور عالمی صنعتوں کو بھارتی مواقع سے جوڑنے میں اپنے کردار کو اجاگر کیا، جس میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات بھی شامل ہیں۔ نپون لائف نے طویل مدتی سرمایہ جاتی مالیت کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ بھارت میں اس کی سرگرمیوں سے مضبوط منافع حاصل ہو رہا ہے۔
بات چیت میں جاپانی ادارہ جاتی سرمائے کی بھارت میں آمد کو مزید آسان بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ شرکا نے منافع کی واپسی کے طریقہ کار کو آسان بنانے، بھارتی سرمایہ مارکیٹوں تک رسائی بہتر بنانے اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سے زیادہ ضابطہ جاتی پیش گوئی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
جاپانی اداروں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کے بارے میں ان کا طویل مدتی اسٹریٹجک نقطۂ نظر بدستور انتہائی مثبت ہے، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور بعض ضابطہ جاتی و پالیسی امور مختصر مدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ جناب گوئل نے ان آرا کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کو مسلسل بہتر بنایا جائے گا اور سرمایہ کاری کے لیے مزید ہموار اور سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا۔
اجلاس میں بھارت میں بین الاقوامی سرمائے کے لیے گیٹ وے اور جاپان و بھارت کے درمیان سرحد پار سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مزید آسان بنانے کے پلیٹ فارم کے طور پر گفٹ سٹی کی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
جناب گوئل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا مقصد محض سرمایہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایسی طویل مدتی شراکت داری قائم کرنا ہے جو ٹیکنالوجی، اختراع، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت، روزگار اور عالمی ویلیو چین کے ساتھ انضمام کو فروغ دے۔ انہوں نے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے ساتھ ساتھ ایسے قائم شدہ کاروباری اداروں میں بھی موجود مواقع کو اجاگر کیا، جنہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تکنیکی اعتبار سے مزید ترقی دینے کی ضرورت ہے۔
یہ بات چیت بھارت اور جاپان کے اس ہدف کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے، جس کے تحت آئندہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں جاپان کی نجی سرمایہ کاری کو 10 ٹریلین ین تک پہنچانے کا مقصد مقرر کیا گیا ہے۔ اس ملاقات نے جاپان کے سرکردہ مالیاتی اداروں کے بھارت کی طویل مدتی ترقی کے امکانات پر مضبوط اعتماد کی ایک بار پھر تصدیق کی اور دوطرفہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔
اس ملاقات نے بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور بھارت کی ترقی کے اگلے مرحلے میں جاپان کے ادارہ جاتی طویل مدتی سرمائے کے مزید بڑے بہاؤ کے امکانات کو بروئے کار لانے کی جانب ایک اور اہم قدم کی حیثیت اختیار کی۔

********
) ش ح ۔ ش آ۔ م ش)
U.No. 2556
(ریلیز آئی ڈی: 2303039)
وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Manipuri
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam