وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 80ویں یوم آزادی کے خطاب میں وکست بھارت کی جانب بھارت کی اگلی چھلانگ کے لیے متعدد اہم اعلانات کیے

प्रविष्टि तिथि: 15 AUG 2026 12:51PM by PIB Delhi


لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے اپنے خطاب میں، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے  2047 تک وکست بھارت کی جانب بھارت کے سفر کو تیز کرنے کے لیے متعدد اہم اعلانات کیے۔ ملک کی کام کاج کی ثقافت، فکر اور اولوالعزمی کے دائرے میں تبدیلی لانے کی بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے شہریوں، حکومتوں، صنعت، کاشتکاروں، نوجوانوں اور سماج کے دیگر طبقات کی اجتماعی کوششوں کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

 

وزیر اعظم کے خطاب کے کلیدی نکات مندرجہ ذیل ہیں:

 

1۔ آئندہ سطح کی اصلاحات: وزیر اعظم نے اصلاحات کی رفتار کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے لیے اصلاحات نہ تو کوئی مجبوری ہیں اور نہ ہی محض ایک پرکشش نعرہ، بلکہ یہ پختہ عزم اور یقین کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، معاشرے، صنعت، مینوفیکچررز اور کاشتکاروں، سب کو روایتی نظام، سوچ اور اہداف کو تبدیل کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم نے مرکز، ریاستوں اور صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ مل کر آگے بڑھیں اور اصلاحات کے عمل کو مسلسل آگے بڑھاتے رہیں، تاکہ تمام نظام، پالیسیاں اور قوانین 2047 کی امنگوں کے مطابق ڈھالے جا سکیں۔

2۔ وکست بھارت کے لیے ’سپت دھارا‘: وزیر اعظم مودی نے لال قلعہ سے قوت کے سات چشموں یعنی’ سپت دھارا‘ کا نعرہ دیا، جس کا مقصد بھارت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنا اور ملک کو آئندہ پانچ سے سات برسوں میں نئی رفتار دینا ہے۔ وہ سات چشمے ہیں:

  • مینوفیکچرنگ کی قوت: بھارت کو پرزہ جات اور ڈیزائننگ سے لے کر مکمل مصنوعات کی تیاری تک پوری ویلیو چین کو تیار کرنا ہوگا، اور عالمی سپلائی چین کا ایک قابلِ اعتماد مرکز بننا ہوگا۔ وزیر اعظم نے لاگت ، معیار اور وسعت، مسابقتی کارخانوں، صارفین کے لیے آسان مصنوعات، پرکشش پیکیجنگ اور نقص سے مبرا درست مینوفیکچرنگ پر زور دیا۔ معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، "معیار، معیار اور بس معیار" ہی بھارتی مینوفیکچرنگ کا بنیادی منتر ہونا چاہیے۔
  • زراعت اور غذائی پیداوار: وزیر اعظم نے کاشتکاری سے برآمداتی منڈی کی جانب آگے بڑھنے اور بھارت کی روایتی غذاؤں، موٹے اناج ، مصالحوں، پھلوں اور پھولوں کو عالمی برانڈز میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کیمیاوی اشیاء سے مبرا کھیتی باڑی اور ایسی زرعی مصنوعات تیار کرنے پر بھی زور دیا جو عالمی معیار پر پورا اترتی ہوں۔
  • تکنالوجی اور اختراع: مصنوعی ذہانت ، کوانٹم، خلائی شعبے، روبوٹکس اور ڈیٹا سینٹرز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کو دنیا کے لیے صرف ایک مارکیٹ بن کر نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے اختراع کا مرکز بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ہدف ہونا چاہیے کہ میڈ ان انڈیا 6جی  تکنالوجی ملک کے کونے کونے تک پہنچے۔
  • گتی شکتی: وزیر اعظم نے شہروں کو جوڑنے والی تیز رفتار ریل، جدید شاہراہوں، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں، ہوائی اڈوں اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس کے ذریعے بلا رکاوٹ اور تیز ترین کنکٹیویٹی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں کو صرف سامان لادنے اور اتارنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں بندرگاہوں پر مبنی ترقی اور معاشی نمو کا محرک بننا چاہیے۔
  • دفاعی شکتی: وزیر اعظم نے دفاعی شعبے میں آتم نربھرتا یعنی خود انحصاری پر زور دیا اور کہا کہ بھارت کو جدید ترین دفاعی تکنالوجیاں تیار کر کے عالمی سپلائر بننے کی جانب آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے خاص طور پر ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز تیار کرنے اور ہائپر سونک دفاعی تکنالوجیوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے سائبر سیکورٹی کو بھی ایک ایسے شعبے کے طور پر نمایاں کیا جہاں بھارتی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بھارت اور پوری دنیا کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • سبز معیشت اور نیلگوں معیشت: وزیر اعظم نے گرین ہائیڈروجن، قابلِ تجدید توانائی، توانائی کے ذخیرے، ماحول دوست آمد و رفت اور ماحول دوست مینوفیکچرنگ میں عالمی سطح کا مقام حاصل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندری تکنالوجی اور نیلگوں معیشت کے دیگر شعبوں میں بھارت کے ساحلی علاقے کی جانب سے فراہم کردہ مواقع پر بھی روشنی ڈالی۔
  • بھارت کی ثقافتی قوت: وزیر اعظم نے یوگ، آیوروید، جامع حفظانِ صحت اور 'ہیل ان انڈیا' کے شعبوں میں بھارت کی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں لے جانے پر زور دیا۔ انہوں نے دستکاری، ثقافت، فلموں، وی ایف ایکس، اینیمیشن، گیمنگ اور ڈیجیٹل مواد کو بھی ایسے شعبوں کے طور پر نمایاں کیا جہاں بھارت عالمی سطح پر اپنی طاقت قائم کر سکتا ہے۔ انہوں نے غیر ملکی سیاحوں، کھیلوں کے عالمی مقابلوں اور کنسرٹس کو بھارت کی جانب راغب کرنے کے لیے مزید کوششوں پر زور دیا۔

3۔ بھارت کی اولوالعزمیوں کے دائرے کو بڑھانا: ملک کو بلند سوچ اپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے پوچھا کہ آنے والی دہائی میں ’فارچیون 500 ‘کی فہرست میں بھارت کی 50 کمپنیاں کیوں نہیں ہونی چاہئیں؟ انہوں نے کہا کہ دنیا کے پانچ بڑے بینکوں میں ایک بھارتی بینک شامل ہونا چاہیے اور دنیا کی پانچ سب سے بڑی فارما کمپنیوں میں ایک یا دو بھارتی کمپنیوں کو جگہ ملنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ بھارتی قانون داں ادارے، ریٹنگ ایجنسیاں، مشاورتی فرمز اور اکاؤنٹنگ فرمز دنیا کے معروف اداروں کے طور پر ابھریں، بھارتی تکنالوجی کمپنیاں عالمی قائد بنیں، اور بھارتی برانڈز ملک کی ایسی پہچان بنیں جو دنیا کو اپنی جانب راغب کریں۔

4۔ بھارتی معیار کو عالمی شناخت بنانا: وزیر اعظم نے مینوفیکچررز، کاروباری شخصیات اور ایم ایس ایم ایز سے پرزور اپیل کی کہ وہ عالمی منڈیوں میں بھروسے اور معیار کو بھارتی مصنوعات کی پہچان بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو لاگت، معیار اور پیمانے میں عالمی معیارات پر پورا اترنا ہوگا اور ایسی مصنوعات پیش کرنی ہوں گی جو دنیا کی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتی اکائیوں (ایم ایس ایم ایز) پر زور دیا کہ وہ بھارت کے تجارتی معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے مستفید ہوں اور معیار و مسابقت کے عالمی پیرامیٹرز پر پورا اترتے ہوئے بھارتی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک لے جائیں۔

5۔ کام کاج کے کلچر کو تبدیل کرنااور اسے بھارت کے اہداف کے پیمانے سے ہم آہنگ کرنا: وزیر اعظم نے کہا کہ اس صدی کی اگلی چوتھائی (25 برس) بھارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور ملک نہ تو رک سکتا ہے اور نہ ہی اپنی رفتار کو سست ہونے کی اجازت دے سکتا ہے۔ انہوں نے ملک کے کام کاج کے کلچر، سوچ اور کام کی رفتار کو تبدیل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ جو کام گزشتہ پانچ سات دہائیوں میں مکمل نہیں ہو سکے تھے، انہیں آنے والے پانچ سات برسوں میں مکمل کرنا ہوگا۔

6۔ نشہ مکت بھارت – ہر خاندان کو اس سے جڑنا ہوگا: منشیات کے استعمال کو بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑی چنوتی قرار دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ منشیات سے مبرا بھارت ایک اجتماعی ذمہ داری بننا چاہیے۔ مائی بھارت کے رضاکاروں، غیر سرکاری تنظیموں، سماجی و ثقافتی تنظیموں اور روحانی رہنماؤں پر مشتمل 100 ہفتوں پر مشتمل 'نشہ مکت بھارت مہم' کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے ہر خاندان پر زور دیا کہ وہ اس مہم کا حصہ بنے اور نشہ مکت بھارت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں اپنا تعاون پیش کرے۔

7۔ خواتین کے ریزرویشن کا نفاذ: وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں سے براہِ راست اپیل کی کہ وہ خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ کے لیے متحد ہو جائیں۔ 'ناری شکتی وندن ادھینیم' کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اس امر کو یقینی بنائیں کہ خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد نمائندگی حاصل ہو اور وہ بھارت کی پالیسیوں کو ترتیب دینے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

8۔ مردم شماری میں شرکت کے لیے نوجوانوں کی قیادت: اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پالیسیوں، اسکیموں اور ملک کی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے درست معلومات کا ہونا لازمی ہے، وزیر اعظم نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جاری مردم شماری میں اپنے خاندانوں کی درست طریقے سے شرکت کو یقینی بنانے کے لیے آگے بڑھ کر قیادت کریں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ بیٹھیں، فارم کو سمجھیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ درج کی گئی معلومات بالکل درست ہو اور مردم شماری کے اس عمل میں سرگرمی سے حصہ لیں۔

9۔ خود سے بالاتر ملک؛ فرض شناسی ہماری پہچان: 'پنچ پران' کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غلامی کی ذہنیت کے خاتمے کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کا مفاد ذاتی مفاد سے بالاتر ہونا چاہیے اور فرض شناسی کو ہماری پہچان بننا چاہیے۔

10۔ خوابوں کو عزم میں اور عزم کو کامیابی میں تبدیل کرنا:  'وکست بھارت' کے لیے اجتماعی قومی کوششوں کی اپیل کے ساتھ بات کو ختم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ وقت، موقع اور عزم بھارت کا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کہ وہ خوابوں کو عزم میں، عزم کو طاقت میں اور طاقت کو کامیابی میں تبدیل کریں، اپنے ہر قدم کو ترقی کی سمت میں بڑھائیں، مل کر آگے بڑھیں اور اجتماعی طور پر ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کریں۔

**********

 

 

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:2151


(रिलीज़ आईडी: 2299829) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Telugu , Kannada , Bengali , Odia , English , हिन्दी , Marathi , Manipuri , Gujarati , Tamil