وزارت اطلاعات ونشریات
برکس ویوز بازار، تخلیقی معیشت کے لیے ایک اعلیٰ بین الاقوامی بازار، ممبئی میں برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے 500 سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی
برکس ویوز بازار ایک اعلیٰ سطحی، اختراعی سنگم ہے جو عالمی تخلیقی معیشت کے مستقبل کو تشکیل دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے: ایڈووکیٹ آشیش شیلر، الیکٹرانکس، آئی ٹی، اے آئی اور ثقافت کے کابینہ وزیر، مہاراشٹر حکومت
ہندوستان تخلیقی معیشت میں مضبوط ادارہ جاتی اور تجارتی روابط قائم کرنے کے لیے اپنے تجربے اور برکس شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے: سیکریٹری، اطلاعات و نشریات، جناب چنچل کمار
آئی ایف ایف آئی فیسٹیول کے ڈائریکٹر جناب آشوتوش گواریکر نے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے جملہ متعلقین کو آئی ایف ایف آئی2026 میں شرکت کی دعوت دی، شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ایک ساتھ آنے والے تخلیقی ذہنوں کی قوت کا مظاہرہ کریں
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2026 1:54PM by PIB Delhi
برکس ویوز بازار، تخلیقی معیشت کے لیے ایک اہم بین الاقوامی بازار، آج ممبئی میں شروع ہوا، جس میں برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے 500 سے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ دو روز تک جاری رہنے والا برکس ویوز بازار برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے درمیان سمعی و بصری اور تخلیقی صنعتوں کے شعبے میں مکالمے، کاروباری روابط، معلومات کے تبادلے اور سرحد پار شراکت داری کے مواقع پیدا کرکے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔اس بازار میں حکومتوں کے نمائندے، صنعتی ادارے، تخلیق کار، فلم ساز، سرمایہ کار، نشریاتی ادارے، او ٹی ٹی پلیٹ فارم، ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اَپس، ثقافتی ادارے اور تخلیقی شعبے سے وابستہ کاروباری ادارے سمیت مختلف فریقین شرکت کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت میں الیکٹرانکس، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ثقافت کے وزیر ایڈووکیٹ آشیش شیلار نے تخلیقی دنیا سے وابستہ عالمی برادری کا ممبئی کے اس متحرک شہر میں خیرمقدم کیا، جسے انہوں نے ہندوستان کے تخلیقی ماحولیاتی نظام کا مرکز قرار دیا۔جناب شیلار نے کہا کہ فن اور ٹیکنالوجی کے درمیان موجود فاصلے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برکس ویوز بازار محض ایک نمائش نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ سطحی اور منتخب پلیٹ فارم ہے، جو عالمی تخلیقی معیشت کے مستقبل کی تشکیل کے لیے ایک اہم سنگم کا کردار ادا کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں ہندوستان مسلسل اپنی حقیقی حیثیت بطور وشو گرو (عالمی رہنما) اور دنیا کے لیے ثقافتی و فکری رہنمائی کے مرکز کے طور پر دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم تصور کا ایک اہم ستون ‘تخلیقی معیشت’ ہے، جو ایک ایسا متحرک شعبہ ہے جہاں ہندوستان کی قدیم وراثت، لامحدود تخلیقی صلاحیتیں اور جدید تجارت ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔


اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سیکریٹری جناب چنچل کمار نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ثقافت اور تخلیقی صلاحیتیں اقوام اور معاشروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی غیر معمولی قوت رکھتی ہیں، اور فلمی شعبے میں برکس ممالک کے ساتھ ہندوستان کا تعاون اسی وژن کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں منعقد ہونے والا برکس ویوز بازار اور نومبر 2026 میں بین الاقوامی بھارتی فلمی میلے (آئی ایف ایف آئی) کے ساتھ منعقد ہونے والا برکس فلمی میلہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے دو اہم پلیٹ فارم ثابت ہوں گے۔ ان میں سے ایک کاروباری روابط، شراکت داری اور منڈیوں تک رسائی کے لیے ہوگا، جبکہ دوسرا فلموں، فلم سازوں اور ناظرین کو قریب لانے کا ذریعہ بنے گا۔
جناب چنچل کمار نے کہا کہ برکس ممالک کے پاس کہانیوں، تخلیقی صلاحیتوں، ہنرمند افراد، وسیع ناظرین، جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری امکانات کا بے پناہ سرمایہ موجود ہے، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام صلاحیتوں کو زیادہ منظم انداز میں ایک دوسرے سے جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ویوز بازار عالمی تخلیقی معیشت کے لیے ایسا ہی ایک پلیٹ فارم بننے کی کوشش ہے، جہاں نئے منصوبوں کو متعارف کرایا جائے، شراکت داریوں کا آغاز ہو، مشترکہ فلمی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے اور نئی منڈیوں کے دروازے کھلیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بازار برکس کے رکن اور شراکت دار 21 ممالک کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت یکجا کرتا ہے، تاکہ فلم، ٹیلی ویژن، اینیمیشن، وی ایف ایکس، کھیلوں کی تیاری، موسیقی، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اور ابھرتے ہوئے تخلیقی مواد کے شعبوں میں باہمی تعاون کے مزید مضبوط مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وقت کے ساتھ ویوز بازار ایک ایسے معتبر بین الاقوامی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کرے گا جہاں برکس ممالک کے تخلیقی کاروباری ادارے باہمی روابط قائم کریں، کاروباری معاملات انجام دیں، مشترکہ منصوبے شروع کریں اور مل کر ترقی کریں۔
اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سیکریٹری جناب چنچل کمار نے کہا کہ برکس ممالک کے اندر ایک دوسرے کے تخلیقی مواد کی رسائی اور تبادلے کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ‘‘ہمارے ناظرین کو ایک دوسرے کے ممالک کی فلموں، ویب سیریز، اینیمیشن، موسیقی اور ڈیجیٹل مواد تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنے تجربات برکس کے شراکت دار ممالک کے ساتھ بانٹنے اور تخلیقی معیشت کے شعبے میں مضبوط ادارہ جاتی اور تجارتی روابط قائم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔
جناب چنچل کمار نے مزید کہا کہ بھارت ویوز، ویوز بازار، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز، انڈیا سنی حب اور تخلیق کاروں کی مہارت میں اضافے، نئی صنعتوں (اسٹارٹ اپس) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق مختلف اقدامات کے ذریعے برکس ممالک کے درمیان اس وسیع تر تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بھارتی صلاحیتوں کو بین الاقوامی شراکت داروں سے جوڑنا اور مشترکہ منصوبوں، تکنیکی شراکت داری، صلاحیت سازی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سیکریٹری جناب چنچل کمار نے برکس کے تمام رکن اور شراکت دار ممالک کو بھی دعوت دی کہ وہ 2027 میں ممبئی میں منعقد ہونے والے ویوز کے آئندہ ایڈیشن میں بھرپور اور فعال شرکت کریں۔

معروف فلم ساز اور بین الاقوامی بھارتی فلمی میلے (آئی ایف ایف آئی) کے فیسٹیول ڈائریکٹر جناب اشوتوش گواریکر نے تمام متعلقہ فریقوں کو آئی ایف ایف آئی 2026 میں شرکت کی دعوت دی، جہاں آٹھ منتخب زمروں میں تقریباً 250 فلمیں پیش کی جائیں گی۔سنیما اور تخلیقی معیشت کی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اکثر کسی ملک کا تعارف اس کی فلموں، کہانیوں اور ثقافت کے ذریعے حاصل کر لیتے ہیں، خواہ ہم نے اس ملک کا دورہ نہ کیا ہو یا وہاں جانے سے پہلے ہی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جذبات کی زبان پوری دنیا میں یکساں طور پر سمجھی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ برکس ویوز بازار جیسے پلیٹ فارم اس بات کو ممکن بناتے ہیں کہ تحریر شدہ کہانیاں فلموں کی شکل اختیار کریں، فلم سازوں کو نئے شراکت دار ملیں اور مشترکہ تخلیقی منصوبوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے برکس کے شراکت دار ممالک پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر دنیا کو یہ دکھائیں کہ جب تخلیقی آوازیں ایک ساتھ آتی ہیں تو وہ کس طرح نئے امکانات اور غیر معمولی کامیابیوں کو جنم دیتی ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری (ایم ای آر-III) جناب راجیو بوڈواڑے نے کہا کہ برکس ویوز بازار 2026 کا انعقاد بھارت کی برکس صدارت کے مرکزی موضوع ‘‘استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کی بنیاد پر تعمیر’’ کے تحت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخلیقی معیشت عالمی اقتصادی سرگرمیوں کا ایک اہم محرک ہے، جس کا عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں حصے داری 3.1 فیصد ہے اور بین الاقوامی خدمات کی برآمدات سے 1.4 کھرب امریکی ڈالر سے زائد آمدنی پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی متحرک ڈیجیٹل منڈیوں اور بھرپور ثقافتی ورثے کے باعث برکس ممالک اس بڑھتی ہوئی رفتار سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔
قومی فلمی ترقیاتی کارپوریشن (این ایف ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب پرکاش ماگدم نے بتایا کہ یہ بازار دو روزہ جامع پروگرام پر مشتمل ہوگا، جس میں اعلیٰ سطحی کانفرنسیں، کلیدی خطابات، پینل مباحثے، کاروباری روابط کے خصوصی اجلاس اور کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ ان مباحثوں میں تخلیقی معیشت کے مستقبل کی تشکیل سے متعلق اہم موضوعات زیرِ غور آئیں گے، جن میں بین الاقوامی مشترکہ فلمی منصوبے، مواد کی مالی اعانت، ڈیجیٹل تبدیلی، دانشورانہ املاک کے حقوق، خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، عوامی پالیسی اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون شامل ہیں۔
افتتاحی تقریب کے اختتام پر اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے اطلاعات و نشریات کی وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری جناب سینتھل راجن نے کہا کہ برکس ویوز بازار اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت تخلیقی معیشت کو اختراع، کاروباری سرگرمیوں، روزگار کے فروغ اور اقتصادی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر فروغ دینا چاہتا ہے۔
برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرکے برکس ویوز بازار کا مقصد دیرپا شراکت داریوں کو فروغ دینا اور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے، تاکہ برکس ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔

*****
ش ح۔ ع و –ت ع
U.No. 1473
(रिलीज़ आईडी: 2295471)
आगंतुक पटल : 13