پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
سائنسی جائزے اور تمام متعلقہ فریقوں سے وسیع مشاورت کے بعد ای20 کا نفاذ
प्रविष्टि तिथि:
30 JUL 2026 3:04PM by PIB Delhi
ایتھنول ملا پٹرول (ای بی پی) پروگرام کو مرحلہ وار، سائنسی طور پر توثیق شدہ اور مشاورتی عمل کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، جس میں نیتی آیوگ، گاڑی تیار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سی)، آٹو موٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی)، سوسائٹی آف انڈین آٹو موبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پٹرولیم (آئی آئی پی) اور دیگر تکنیکی ادارے شامل رہے ہیں۔
زیادہ مقدار میں ایتھنول ملے ایندھن کے نفاذ کا آغاز گاڑی تیار کرنے والی کمپنیوں، ایس آئی اے ایم، اے آر اے آئی، پرزے تیار کرنے والی کمپنیوں، جانچ کرنے والے اداروں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد ہی کیا گیا۔
اے آر اے آئی، ایس آئی اے ایم، آئی او سی ایل، آئی آئی پی اور گاڑی تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے وسیع پیمانے پر لیبارٹری مطالعات اور زمینی آزمائشوں میں انجن کی پائیداری، گاڑی چلانے کی صلاحیت، اسٹارٹ ہونے کی صلاحیت، زنگ سے بچاؤ، مواد کی مطابقت، اخراج اور ایندھن کی کارکردگی جیسے پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مقررہ معیارات کے تحت ای20 کا استعمال محفوظ ہے۔
ان مطالعات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ پرانی گاڑیوں میں ای20 کے استعمال کی وجہ سے کارکردگی میں کوئی نمایاں تبدیلی یا غیر معمولی گھساؤ اور خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ ان وسیع پیمانے پر کیے گئے لیبارٹری مطالعات، زمینی توثیق اور حقیقی حالات میں استعمال کے تجربات سے ای20 ایندھن کے باعث گاڑیوں کی کارکردگی پر کسی بڑے منفی اثر کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
حکومت کا جائزہ صرف لیبارٹری تحقیق پر مبنی نہیں ہے بلکہ ملک بھر میں نفاذ کے بعد حاصل ہونے والے بڑے پیمانے کے تجربے پر بھی مبنی ہے۔ بھارت میں ہر روز تقریباً 8 کروڑ گاڑیاں ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ایندھن حاصل کرتی ہیں، جن میں تقریباً 80 فیصد پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں ہیں۔
یہ اس حقیقت سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ای15 سے زیادہ ملا ہوا پٹرول ساڑھے تین سال سے زائد عرصے سے بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے، جبکہ ای19-ای20 ایندھن ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے استعمال میں ہے۔ 20 کروڑ سے زیادہ دو پہیہ گاڑیاں اور 3 کروڑ سے زیادہ پٹرول کاریں ان مرکبات پر چل رہی ہیں، اور اب تک ایتھنول ملاوٹ کی وجہ سے انجن خراب ہونے یا گاڑیوں کے بند ہونے کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ گاڑی تیار کرنے والی کمپنیوں کے سروس ڈیٹا سے تصدیق ہوتی ہے کہ ای20 ایندھن کے استعمال سے غیر معمولی زنگ لگنے، گھساؤ یا گاڑی کی عمر میں کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کمپنیاں ای20 ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں کے لیے وارنٹی کی ذمہ داریوں کو بدستور پورا کر رہی ہیں، جو اس کے تحفظ اور قابل اعتماد ہونے پر مزید اعتماد فراہم کرتا ہے۔
ایک سرکردہ اصل سازوسامان تیار کرنے والی کمپنی (او ای ایم) نے مالی سال26- 2025کے دوران 2.84 کروڑ گاڑیوں کی سروس کی، جن میں تقریباً 1.5 کروڑ ایسی گاڑیاں شامل تھیں جو ابتدا میں ای20 کے لیے موزوں قرار نہیں دی گئی تھیں، اور کمپنی کی جانب سےای20 سے متعلق زنگ لگنے، غیر معمولی گھساؤ یا پرزوں کی عمر میں کمی کا کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ ایک معروف دو پہیہ گاڑی بنانے والی کمپنی نے بھی اسی طرح کے زمینی تجربات کی اطلاع دی ہے۔ ایک او ای ایم نے حال ہی میں بتایا کہ طویل مدت تک نگرانی کی گئی 1.4 کروڑ ای20 پر چلنے والی گاڑیوں کے اعداد و شمار میں ایتھنول کی وجہ سے زنگ لگنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اے آر اے آئینے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گاڑیاں صارفین تک پہنچنے سے پہلے بین الاقوامی معیارات کے مطابق سخت جانچ اور توثیقی عمل سے گزرتی ہیں۔
گاڑی تیار کرنے والی کمپنیاں، پرزہ جات فراہم کرنے والے ادارے، ایس آئی اے ایم، اے آر اے آئی، جانچ کرنے والی ایجنسیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ای20 کے سائنسی جائزے اور مرحلہ وار نفاذ کے ہر مرحلے میں شامل رہی ہیں۔ ای20 کو ایندھن کے نظام، انجن کی پائیداری، گاڑی چلانے کی صلاحیت، مواد کی مطابقت اور اخراج کی کارکردگی کی کامیاب جانچ کے بعد ہی متعارف کرایا گیا۔ ان مطالعات میں مقررہ حالات میں پرانی گاڑیوں کی کارکردگی، پائیداری یا مواد کی مطابقت پر کوئی نمایاں منفی اثر سامنے نہیں آیا۔ اگر گاڑی تیار کرنے والی کمپنیاں نتائج سے مکمل طور پر مطمئن نہ ہوتیں تو وہ نہ تو پرانی گاڑیوں کے لیے ای20 ایندھن کی توثیق کرتیں اور نہ ہی وارنٹی کی ذمہ داریاں پوری کرتیں۔
ایس آئی اے ایم اور اے آر اے آئی کے مطابق ای20 گاڑی کی رفتار پکڑنے کی صلاحیت اور سفر کے معیار کو بہتر بناتا ہے جبکہ کاربن اخراج میں کمی لاتا ہے۔ ایتھنول کی زیادہ آکٹین ویلیو جدید زیادہ کمپریشن والے انجنوں کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ حرارت جذب کرنے کی صلاحیت ایندھن کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔
یہ معلومات پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں وزیر مملکت جناب سریش گوپی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح۔ ع و۔ ص ج
U.No. 946
(रिलीज़ आईडी: 2291753)
आगंतुक पटल : 13