قومی انسانی حقوق کمیشن
قومی حقوق انسانی کمیشن نے آسام کے ضلع کچھار میں دھات سازی کے ایک کارخانے میں دھماکے کے نتیجے میں چار مزدوروں کی ہلاکت اور دو کے شدید زخمی ہونے کی خبر کا ازخود نوٹس لیا
آسام کے چیف سکریٹری اور ایس پی کچھار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر واقعے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی
رپورٹ میں زخمیوں کی صحت کی صورتحال کے ساتھ ساتھ مہلوکین کے ورثاء اور زخمی مزدوروں کو معاوضے کی ادائیگی کی تفصیلات شامل کرنے کی ہدایت دی
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 11:20AM by PIB Delhi
بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ایک میڈیا رپورٹ کا خود سے نوٹس لیا ہے جس کے مطابق 26 جولائی 2026 کو آسام کے ضلع کچھار میں واقع دھات سازی (میٹل پروسیسنگ) کے ایک کارخانے میں دھماکے کے نتیجے میں چار مزدور جاں بحق اور دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ خبروں کے مطابق، دھماکے کے بعد پگھلی ہوئی دھات مزدوروں پر جا گری۔ متاثرہ خاندانوں اور مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کارخانے میں پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
کمیشن نے کہا ہے کہ اگر میڈیا رپورٹ کے مندرجات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ چنانچہ، کمیشن نے آسام کے چیف سکریٹری اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کچھار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ رپورٹ میں زخمیوں کی طبی صورتحال اور متوفین کے ورثاء و زخمی مزدوروں کو معاوضے کی ادائیگی کی تفصیلات بھی شامل کرنے کو کہا گیا ہے۔
میڈیا میں 27 جولائی 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، جب یہ دھماکہ ہوا تو کارخانے میں 100 سے زائد مزدور موجود تھے۔
***
ش ح۔ ع و ۔ ن م۔
U- 838
(रिलीज़ आईडी: 2290969)
आगंतुक पटल : 8