پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے بھارت میں پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ’آتم نربھر پنچایت پروگرام‘، ’سمارتھ پورٹل‘ کا آغاز کیا اور پنچایتوں کی اپنی آمدنی سے متعلق مثالی قواعد جاری کیے


خود کفیل پنچایتیں ہی ترقی یافتہ بھارت @2047 کے ویژن کی تکمیل کی بنیاد ہیں: جناب راجیو رنجن سنگھ

آتم نربھر پنچایت پروگرام مقامی اثاثوں کو پائیدار آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں میں تبدیل کرے گا؛ سمارتھ پورٹل پنچایتوں کی آمدنی کی وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنائے گا؛ پنچایتوں کی اپنی آمدنی سے متعلق مثالی قواعد ریاستوں کو پنچایتوں کی مالی آمدنی مضبوط بنانے کے لیے رہنما فریم ورک فراہم کریں گے

प्रविष्टि तिथि: 27 JUL 2026 5:46PM by PIB Delhi

پنچایتی راج، ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے نئی دہلی کے کرشی بھون میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ’آتم نربھر پنچایت پروگرام‘، ’سمارتھ پنچایت پورٹل‘ کا افتتاح کیا اور پنچایتی راج اداروں کے لیے اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) سے متعلق مثالی قواعد جاری کیے۔ اس موقع پر پنچایت ترقی اشاریہ (پی اے آئی) – ’’ترقی یافتہ بھارت کے لیے اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی‘‘ کے لیے قومی ای۔گورننس ایوارڈز (این اے ای جی) 2026 کے تحت وزارت کو عطا کیے گئے طلائی اعزاز کی ٹرافی اور سند بھی مرکزی وزیر کو پیش کی گئی۔ اس موقع پر پنچایتی راج کے مرکزی وزیرِ مملکت پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل، پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج اور وزارت کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ آتم نربھر پنچایت پروگرام، سمارتھ پنچایت پورٹل اور اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) سے متعلق مثالی قواعد، ترقی یافتہ بھارت @2047 کے ویژن کے مطابق مالی طور پر بااختیار، ٹیکنالوجی سے لیس اور خود کفیل پنچایتوں کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج ادارے بھارت کے جمہوری اور ترقیاتی سفر کا بنیادی ستون ہیں۔ انہیں ڈیجیٹل آلات اور پائیدار مالی وسائل سے مضبوط بنانے سے نچلی سطح کی حکمرانی مزید مؤثر ہوگی اور جامع دیہی ترقی کو تیز رفتاری حاصل ہوگی۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ آتم نربھر پنچایت پروگرام پنچایتوں کو مقامی اثاثوں اور مواقع کی نشاندہی کرنے اور انہیں پائیدار آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں میں تبدیل کرنے کے قابل بنائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سمارتھ پنچایت پورٹل پنچایتوں کے ٹیکس، ادائیگیوں اور آمدنی کی نگرانی کے نظام کو آسان، شفاف اور مؤثر بنائے گا۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ یہ تمام اقدامات اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) کو مضبوط بنانے سے متعلق سولہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے عین مطابق ہیں۔ جناب سنگھ نے پنچایتی راج اداروں اور دیہی مقامی اداروں کے منتخب نمائندوں اور عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ شفافیت کو مزید فروغ ملے، شراکتی جمہوریت مضبوط ہو اور نچلی سطح پر عوامی مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کو فروغ حاصل ہو۔

آتم نربھر پنچایت پروگرام

آتم نربھر پنچایت پروگرام، پنچایتی راج کی وزارت کا ایک منفرد اقدام ہے، جس کا مقصد گرام پنچایتوں اور بلاک پنچایتوں کو مقامی اثاثوں اور مواقع کی نشاندہی کرنے اور انہیں ترقی دے کر وزارت کی خصوصی تکنیکی معاونت کے ذریعے ایسے قابلِ سرمایہ کاری اور آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں میں تبدیل کرنے کے قابل بنانا ہے، جو پنچایتوں کی اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط کریں۔ ان منصوبوں کے لیے مالی وسائل عوامی و نجی شراکت داری، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت تعاون، دیگر سرکاری اسکیموں کے ساتھ اشتراک، اور بینکوں سے مالی اعانت کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ نبارڈ اور ہڈکو ادارہ جاتی شراکت دار کے طور پر معاونت کریں گے۔ اس پروگرام کے تحت چار برسوں میں مجموعی طور پر 350 منصوبے تیار کیے جائیں گے، جن میں پہلے سال 50 منصوبے اور اس کے بعد کے ہر تین برس میں 100، 100 منصوبے شامل ہوں گے۔ وہ گرام پنچایتیں جن کی اپنی سالانہ آمدنی کم از کم 50 لاکھ روپے اور وہ بلاک پنچایتیں جن کی اپنی سالانہ آمدنی کم از کم ایک کروڑ روپے ہو، اور جن کی مدتِ کار کے کم از کم تین سال باقی ہوں، درخواست دینے کی اہل ہوں گی۔ خصوصی زمرے کی ریاستوں کے لیے ان شرائط میں نرمی رکھی گئی ہے۔ اب تک اس پروگرام کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے دس ریاستوں میں پنچایت نمائندوں کے لیے تربیتی و معلوماتی ورکشاپس منعقد کی جا چکی ہیں۔

سمارتھ پنچایت پورٹل

سمارتھ پنچایت پورٹل، پنچایتی راج کی وزارت کا اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل اقدام ہے، جسے ٹیکنالوجی کی مدد سے پنچایتوں کی اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) کے مؤثر انتظام کے ذریعے گرام پنچایتوں کی مالی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ایک متحد اور حسبِ ضرورت ترتیب دیے جانے والا قومی پلیٹ فارم ہے، جو گرام پنچایتوں کو اپنی آمدنی کے پورے نظام کا ڈیجیٹل انتظام فراہم کرتا ہے، جس میں ٹیکس دہندگان کا اندراج، واجبات کا تعین، آن لائن ادائیگیاں، محصولات کی وصولی اور حقیقی وقت میں نگرانی شامل ہے۔ اس پورٹل کا آغاز سولہویں مالیاتی کمیشن کی ان سفارشات کے مطابق کیا گیا ہے، جن میں پنچایتی راج اداروں اور دیہی مقامی اداروں کی اپنی آمدنی کے ذرائع کو مضبوط بنا کر انہیں مالی طور پر زیادہ مستحکم بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ اور ہماچل پردیش پہلے ہی اس پورٹل سے منسلک ہو چکے ہیں، جہاں اب تک 51 لاکھ سے زائد ٹیکس دہندگان کا اندراج کیا جا چکا ہے، 95 کروڑ روپے مالیت کے مطالباتی نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 27 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی بھی ہو چکی ہے۔ مہاراشٹر، میزورم، آسام، ہریانہ، مغربی بنگال اور اتر پردیش میں بھی اس پورٹل سے منسلک کرنے کا عمل جاری ہے۔

پنچایتی راج اداروں کے لیے اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) سے متعلق مثالی قواعد

پنچایتی راج اداروں کی مالی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے پنچایتی راج کی وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی رہنمائی کے لیے اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) سے متعلق مثالی قواعد تیار کیے ہیں۔ سولہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ان مثالی قواعد کا مقصد ریاستوں کو پنچایتوں کی آمدنی، مثلاً جائیداد ٹیکس، صارفانہ محصولات، فیسوں اور دیگر غیر ٹیکس محصولات کی تشخیص، وصولی اور انتظام کے لیے ایک شفاف، یکساں اور مؤثر نظام قائم کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ یہ مثالی قواعد مشاورتی نوعیت کے ہیں اور ریاستیں انہیں اپنی مقامی ضروریات اور موجودہ قانونی ڈھانچے کے مطابق اختیار یا ان میں مناسب تبدیلی کر سکتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد محصولات میں بہتر اضافہ، مقامی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور پنچایتوں کو مالی لحاظ سے زیادہ خود کفیل بناتے ہوئے دیہی شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار میں بہتری لانا ہے۔

قومی ای۔گورننس ایوارڈز 2026 میں اعزاز

پنچایت ترقی اشاریہ سمیت پنچایتی راج سے متعلق چار اقدامات کو قومی ای۔گورننس ایوارڈز 2026 سے نوازا گیا، جن میں تین طلائی اور ایک نقرئی اعزاز شامل ہیں۔ یہ اعزاز یکم اور 2 جولائی 2026 کو جے پور میں منعقد ہونے والی ای۔گورننس پر 29ویں قومی کانفرنس کے دوران دیے گئے۔ یہ کامیابی اعداد و شمار پر مبنی، نچلی سطح کی ڈیجیٹل حکمرانی میں پنچایتی راج شعبے کے بڑھتے ہوئے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0015U39.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002Q4RQ.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003OHDR.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-685


(रिलीज़ आईडी: 2290155) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu , Malayalam