صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدرجمہوریہ ہند نے بھارت-شمالی مقدونیہ تجارتی فورم سے خطاب کیا

صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ ہندوستان اورشمالی مقدونیہ کے درمیان ایسے اقتصادی اور تجارتی تعلقات  ہیں،جس میں مستقبل میں ترقی اور تعاون کے بے شمار امکانات موجود  ہیں

دونوں ممالک کی کاروباری اور تجارتی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ باہمی فائدے کے منصوبوں کی نشاندہی میں فعال کردار ادا کریں اور طویل مدتی تجارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے مشترکہ اقدامات کریں:صدر جمہوریہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 JUL 2026 10:16PM by PIB Delhi

صدر جمہوریہ ہندمحترمہ دروپدی مرمو نے آج (21 جولائی 2026ء) اسکوپیہ میں منعقدہ ہند-شمالی مقدونیہ کاروباری فورم کی افتتاحی نشست سے خطاب کیا۔اس موقع پر جمہوریہ شمالی مقدونیہ کی صدر عزت مآب ڈاکٹر گورڈانا سلجانوسکاداوکووا، شمالی مقدونیہ کی حکومت کے ارکان، ہند اور شمالی مقدونیہ کے ممتاز کاروباری رہنما، نیز دونوں ممالک کی صنعتی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic210720263GJT.JPG

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ ہند نے کہا کہ یہ کسی بھی صدرِجمہوریہ ہند کا شمالی مقدونیہ کا پہلا دورہ ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں شمالی مقدونیہ کے ساتھ روابط کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہند۔شمالی مقدونیہ کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات ایسے شعبے ہیں، جس میں ابھی مکمل طور پر پیش رفت اور امکانات سے بھرپور استفادہ کیا جانا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم مسلسل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، تاہم یہ ابھی ان امکانات کا صرف ایک معمولی حصہ ہے جو حقیقت میں موجود ہیں۔

صدرِ جمہوریہ ہند نے کہا کہ تجارت سے آگے بڑھ کر حقیقی اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کے لیے ہمیں باہمی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی سرمایہ کاری کے لئے مختلف شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل جدت اور مصنوعی ذہانت، ادویہ سازی اور صحتِ عامہ، زرعی مصنوعات کی تیاری و قدر افزائی اور ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی شامل ہیں۔ صدر دروپدی مرمو نے شمالی مقدونیہ کو آئندہ سال بھارت میں منعقد ہونے والے ‘‘ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ ’’ میں شرکت کی دعوت دی۔

صدرِجمہوریہ ہند نے اسٹارٹ اَپ اداروں، جامعات، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ اور ڈیجیٹل جدت کے شعبوں میں بھی تعاون کے امکانات تلاش کئے جانے چاہییں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic221072026VVFI.JPG

صدرِ جمہوریہ ہند نے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو قابلِ عمل منصوبوں کی نشاندہی اور طویل مدتی تجارتی تعلقات کے قیام کے لیے پیش قدمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے ایوان تجارت، سرمایہ کاری سے متعلق اداروں اور کاروباری انجمنوں پر زور دیا کہ وہ باہمی روابط قائم کریں اور کاروباری وفود کے تبادلوں کو آسان بنائیں۔ انہوں نے کمپنیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ فوری لین دین سے آگے بڑھ کر ایسی شراکت داریوں میں سرمایہ کاری کریں جو ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ منصوبوں، مقامی سطح پر قدر افزائی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مبنی ہوں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ فورم نئے خیالات کو جنم دے گا اور بھارت و شمالی مقدونیہ کے درمیان تعاون کے نئے راستے کھولے گا۔

 

صدرِ ہند کی تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

*********

 

 

 

 ش ح۔ک ا۔ش ت

Urdu No-312


(ریلیز آئی ڈی: 2287547) وزیٹر کاؤنٹر : 34