وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

جون 2026 تک تقریباً 55.49 کروڑ صارفین یو پی آئی سے مربوط ہوئے


مالی برس 2025-26 میں یو پی آئی لین دین میں تعداد کے لحاظ سے 24162 کروڑ کااضافہ ہوا، جبکہ قدرو قیمت کے لحاظ سے 314 لاکھ کروڑ کا اضافہ رونما ہوا

حکومت، آر بی آئی اور این پی سی آئی ،یو پی آئی پر مبنی لین دین کو محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، جن میں دھوکہ دہی پر مبنی ٹرانزیکشنز کو روکنے کے لیے خطرے کی نوعیت کے لحاظ سے لین دین کی حد مقرر کرنا اور یو پی آئی ایپلی کیشنز کے لیے سکیورٹی کے سخت تقاضے شامل ہیں

प्रविष्टि तिथि: 20 JUL 2026 4:42PM by PIB Delhi

یونیفائیڈ پے منٹس انٹرفیس ادائیگی کا ایک ایسا نظام ہے جسے نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا چلاتا ہے، اور یہ 'پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ 2007' کے تحت منظور شدہ ہے۔

نیشنل پے منٹس کارپوریشن آف انڈیا نے مطلع کیا ہے کہ جون 2026ء تک یو پی آئی پلیٹ فارم سے وابستہ صارفین کی تعداد 55.49 کروڑ تھی۔ یو پی آئی لین دین کی تعداد اور مالیت کی تفصیلات نیچے دی گئی ہیں:

گذشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران یو پی آئی لین دین

مالی برس

تعداد (کروڑ میں)

قدرو قیمت (لاکھ کروڑ میں)

مالی برس 2021-22

4,595.61

84.16

مالی برس  2022-23

8,371.44

139.15

مالی برس  2023-24

13,112.95

199.95

مالی برس  2024-25

18,586.60

260.56

مالی برس  2025-26

24,161.69

314.23

این پی سی آئی انٹرنیشنل پیمنٹس لمیٹڈ (این آئی پی ایل)، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے، جسے اپریل 2020ء میں غیر ملکی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ این پی سی آئی کے مختلف پیمنٹ پلیٹ فارمز، جیسے یو پی آئی اور روپے کارڈ اسکیم کو بین الاقوامی منڈیوں میں لے جایا جا سکے۔ یہ ہندوستانی سیاحوں اور بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے سرحد پار ادائیگیاں کرنے کے قابل بناتا ہے، اور ساتھ ہی شراکت دار ممالک اور اداروں کو ان کا اپنا پیمنٹ انفراسٹرکچر تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جیسے کہ یو پی آئی کی طرح کا ریئل ٹائم پیمنٹ سسٹم یا روپے کی طرح کا ملکی کارڈ نظام۔

حکومت، آر بی آئی اور این پی سی آئی نے یو پی آئی پر مبنی لین دین کو محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں، دیگر امور کے علاوہ، دھوکہ دہی پر مبنی ٹرانزیکشنز کو روکنے کے لیے خطرے کی نوعیت کے لحاظ سے لین دین کی حد مقرر کرنا، غیر مجاز موبائل نمبر کی تبدیلیوں اور ایس ایم ایس پر مبنی تصدیقی نظام کے غلط استعمال کے خلاف حفاظتی انتظامات، اور یو پی آئی ایپلی کیشنز کے لیے سیکیورٹی کے سخت تقاضے شامل ہیں۔ مزید برآں، این پی سی آئی نے یو پی آئی ایکو سسٹم کی حفاظت اور لچک/مستحکم کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے جدید سکیورٹی کنٹرولز کو لازمی قرار دیتے ہوئے 'کمپریہینسیو یو پی آئی انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک (سی یو آئی ایس ایف) 2025' اور 'موبائل ایپلی کیشن سیکیورٹی فریم ورک' جاری کیا ہے۔

شخص سے شخص (پی ٹو پی) کے درمیان رقم کی منتقلی اور شخص سے تاجر (پی ٹو ایم) کے درمیان لین دین کی سہولت فراہم کرنے کے لیے یو پی آئی کو مختلف ممالک کے ادائیگی کے نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ ان ممالک اور ان کے متعلقہ شراکت دار اداروں کی تفصیلات نیچے دی گئی ہیں:

شراکت دار اداروں کے ساتھ یو پی آئی استعمال کرنے والے ممالک

نمبر شمار

ملک

کے لیے

شراکت دار ادارہ

کب سے

1

بھوٹان

پی 2ایم

آر ایم اے بھوٹان

جولائی 2021

2

سنگاپور

پی 2ایم

نیٹس سنگاپور پرائیویٹ لمیٹڈ، ہٹ پے پے منٹ سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، لکویڈ پے گروپ پرائیوٹی لمیٹڈ

اگست 2021

3

متحدہ عرب امارات

پی 2 ایم

مشرق بینک پی ایس سی (نیو پے)،

نیٹ ورک انٹرنیشنل

میگناٹی سول پراپرائیٹر شپ ایل ایل سی

اپریل 2022

4

سنگاپور

پی 2 پی

بی سی ایس پے ناؤ

فروری 2023

5

فرانس

پی 2 پی

ایل وائی آر اے نیٹ ورک

فروری 2024

6

ماریشس

پی 2 پی

بینک آف ماریشس

فروری 2024

7

سری لنکا

پی 2 ایم

لنکا پے پرائیویٹ لمیٹڈ

فروری 2024

8

نیپال

پی 2 ایم

فون پے پے منٹ سروسز لمیٹڈ

مارچ 2024

9

قطر

پی 2 ایم

قطر نیشنل بینک

ستمبر 2025

10

یونان

پی 2 پی

یوروپی بینک ایس اے

مئی 2026

11

نیپال

پی 2 پی

نیپال کلیئرنگ ہاؤس لمیٹڈ (این سی ایچ ایل)

جون 2026

12

کمبوڈیا

پی 2 ایم

ایکلیڈا بینک پی ایل سی

جون 2026

یہ معلومات وزارت خزانہ میں وزیر مملکت جناب پنکج چودھری کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی گئی۔


***

 (ش ح –اب ن)

U.No:197


(रिलीज़ आईडी: 2286746) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Punjabi , Gujarati , Tamil , Kannada