امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیر داخلہ اور کوآپریٹیو کے وزیر جناب امت شاہ نے آج کولکتہ میں مغربی بنگال کی امن و امان کی صورتحال پر ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے ریاست کے سیکورٹی آلات، عدالتی نظام اور پولیس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم ہدایات جاری کیں
دیہی علاقوں میں خواتین کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے ’ویمن آؤٹ ریچ پروگرام‘ کا انعقاد کیا جانا چاہیے
عہدیداروں کو دیہی خواتین کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کرنے اور بیداری پیدا کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کی کوشش کرنے کی ہدایت دی
ریاست کے اندر ایک اے این ٹی ایف،اے ٹی ایس اور 'خصوصی تفتیشی ایجنسی (ایس آئی اے )' کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر زور دیا گیا
این آئی اے کے لیے ریاست سے متعلق دہشت گردی اور یو اے پی اے سے متعلق تمام معاملات کا مکمل جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا
سرحدی علاقوں میں سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کو ختم کیا جائے
مرکزی وزیر داخلہ نے ریاستی پولیس کو جدید بنانے اور خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مناسب بجٹ کی حمایت کا یقین دلایا
پہلے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں قائم کیے گئے حفاظتی کیمپوں میں سے ایک تہائی کو عوامی خدمت کے مراکز میں تبدیل کر دیا جائے گا تاکہ سرکاری خدمات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے
سائبرسیکیوریٹی کے میدان میں صلاحیتوں کی تعمیر کو مضبوط کیا جانا چاہیے، این سی او آر ڈی کی باقاعدگی سے میٹنگیں منعقد کی جانی چاہئیں، اور کولکتہ کے لیے سیلاب سے نمٹنے کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا جانا چاہیے
प्रविष्टि तिथि:
19 JUL 2026 7:02PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر داخلہ اور کو آپریٹو کے وزیر جناب امت شاہ نے آج کولکتہ میں مغربی بنگال کی امن و امان کی صورتحال پر ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ، ریاست کے چیف سکریٹری، اور مرکزی وزارتِ داخلہ سمیت مغربی بنگال حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

میٹنگ کے دوران، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے ریاست کے حفاظتی نظام، عدالتی نظام اور پولیس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم ہدایات جاری کیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ نے 'ویمن آؤٹ ریچ پروگرام' یعنی خواتین سے رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری افسران کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کے ذریعے دیہی خواتین میں بیداری پیدا کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں اگر کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت پڑے، تو ریاستی حکومت براہِ راست مرکزی وزارتِ داخلہ سے رابطہ کر سکتی ہے۔
ریاست کی اندرونی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے، این آئی اے کی طرز پر ریاست کے اندر 'اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس '(اے این ٹی ایف)، 'انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس )' اور 'اسپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA)' قائم کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا۔ مزید برآں، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) ریاست سے متعلق دہشت گردی اور یو اے پی اے (UAPA) کے تمام مقدمات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ہی، ریاست کے سرحدی علاقوں میں سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔"

اجلاس میں مغربی بنگال پولیس کی صلاحیتوں میں اضافے، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور جدید ترین سہولیات کی فراہمی پر خصوصی زور دیا گیا۔ مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ ریاستی پولیس کی جدید کاری (ماڈرنائزیشن) اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مناسب بجٹ فراہم کیا جائے گا۔ اس عمل کے تحت، پولیس فورس کے کیڈر کا ایک جامع جائزہ لیا جائے گا تاکہ قومی اوسط کے مطابق اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے، اور پولیس اضلاع کی تعداد کو بھی منطقی اور متوازن بنایا جائے گا۔ مزید برآں، تمام خالی آسامیوں کو ایک مقررہ وقت کے اندر بھرنے، تربیتی صلاحیتوں کا جائزہ لینے، شہری رضاکاروں پر انحصار کو مرحلہ وار ختم کرنے اور کانسٹیبلوں کی بھرتی کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاقِ رائے ہوا کہ ماضی میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں قائم سکیورٹی کیمپوں کے ایک تہائی حصے کو 'پبلک سروس سینٹرز' (عوامی خدمت کے مراکز) میں تبدیل کیا جائے، تاکہ عوام تک سرکاری خدمات کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں صلاحیتوں کو بڑھانے، منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے باقاعدگی سے این کورڈ کے اجلاس منعقد کرنے، اور کولکتہ کے لیے سیلاب کی روک تھام کا ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس کے اختتام پر، فوری کارروائی کے لیے اہم ترجیحات کا تعین کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایک مقررہ وقت کے اندر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔"
*******
U.No: 151
ش ح۔ن ا۔ ش ب
(रिलीज़ आईडी: 2286415)
आगंतुक पटल : 10