وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ  پریس بیانیہ کے دوران وزیر اعظم کے پریس بیان کا متن

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 11:33AM by PIB Delhi

Your Excellency, Prime Minister ، البانیز

دونوں ممالک کے delegates ،

میڈیا کے ساتھیو،

نمسکار!

میلبورن میں میرے اور میرے   delegationکے شاندار استقبال اور مہمان نوازی کے لیے میں اپنے دوست وزیر اعظم البانیزکا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ان کی ذاتی کوششوں اور کمٹمنٹ نے  ہندوستان-آسٹریلیا تعلقات کو نئی بلندی اور وسعت دی ہے۔ ان کے اس بیش قیمت تعاون پر میں انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

Friends,

ہندوستان  اور آسٹریلیا

دو   vibrant democraciesہیں،

دو   multi-cultural societiesہیں،

اور دو اہم  ocean powers ہیں۔

ہماری یہ مماثلتیں اور ہمارا common world view، ہمیں گہرے باہمی اعتماد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہماری Comprehensive Strategic Partnershipنے گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ اور آج تیسری Annual Summitکے ذریعے ہمارے تعاون میں کئی نئی جہتیں شامل ہوئی ہیں۔

2022 میں کیے گئے   Economic Cooperation and Trade Agreementکے بعد ہماری تجارت اور سرمایہ کاری کا دائرہ مسلسل بڑھا ہے۔ اب ہم نے   Comprehensive Economic Cooperation Agreementیعنی سیکا پر تیزی سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے  balanced, ambitious اور  win-win ہوگا۔ ہم  Bilateral Investment Treaty پر بھی تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

ہماری Renewable Energy Partnership ،   Clean energyاور climate action  کے شعبوں میں کوششیں عملی طور پر تشکیل پا رہی ہے۔ اس کے تحت ہم انویسٹمنٹ ، ٹیکنالوجی ٹرارنسفر اور انڈسٹری –ٹو-انڈسٹری  collaboration پر خصوصی زور دے رہے ہیں۔

PM سوریہ گھر یوجنا کو  support کرنے کے لیے ہم نے مل کر گجرات میں Rooftop Solar Training Academy قائم کی ہے۔ یہ  Academy متعدد خواتین اور نوجوانوں کی   capacity buildingمیں اہم کردار ادا کرے گی۔

نیوکلیئر انرجی کے شعبے میں آج ہم نے ایک اہم  agreement کیا ہے۔ اس سے آسٹریلیا سے ہندوستان کو  Uranium supply کی راہ ہموار ہوگی اور ہمارے  Clean Energy کے مقاصد کو نئی طاقت ملے گی۔

Critical Minerals میں ہمارا تعاون ہماری اسٹریٹجک سیکورٹی  اور کلین انرجی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسی سوچ کے تحت آج ہم نے  Australia-India Partnership on Cyber, Critical Technologies, and Supply Chains یعنی  AI-PACTS کا آغاز کیا ہے۔ ہم مل کر  Critical Minerals Corridor پر بھی کام کریں گے۔

ساتھیو،

انڈو-پیسیفک صرف دو سمندروں کا سنگم نہیں ہے۔ یہ ہندوستان اور آسٹریلیا جیسی like-minded democracies کی shared aspirations کی بھی علامت ہے۔

دفاع اور سلامتی میں تعاون بڑھانے کے لیے آج ہم نے ایک اہم  Joint Declaration جاری کیا ہے۔ ہندوستان-آسٹریلیا Defence Innovation Corridor کے ذریعے ہم  defence start-ups اور   industriesکو جوڑنے پر کام کریں گے۔

ہمارے  Maritime Security Collaboration Roadmap  سے انڈو-پیسیفک میں ہماری مشترکہ کوششوں کو نئی طاقت ملے گی۔ ہم  شپ بلڈنگ،  ship repair اور  maintenance کے شعبوں میں بھی مل کر آگے بڑھیں گے۔

Friends,

آج ہم نے کئی علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔

ہندوستان اور آسٹریلیا کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی بھی مشترکہ ہے، ہمارا عزم بھی غیر متزلزل ہے اور ہمارا تعاون بھی مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔

ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری کشیدگی اور جنگوں کا حل صرف   dialogueاور  diplomacy کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پورے  انڈو –پیسیفک خطے میں ہم مل  Peace ، اسٹیبلٹی ، فریڈم آف نیویگیشن اور رول بیسڈ آرڈر کو مزید مضبوط کریں گے۔

Friends,

ہمارے تعلقات کی سب سے نمایاں طاقت ہمارے  people-to-people ties ہیں۔ ہندوستانی نژاد افراد آسٹریلیا کی معاشی اور سماجی زندگی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا  ہندوستانی طلبہ کے لیے ایک پسندیدہ   destinationرہا ہے۔ ہندوستان میں   Australian universitiesکے  campus کھلنے سے ہماری knowledge partnership میں ایک نیا باب شامل ہوا ہے۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان  students، professionals  اور  tourists کے باہمی تبادلوں کو مزید فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں کرتے رہیں گے۔

ساتھیو،

آج جب ہم دنیا کی sporting capital میلبورن میں ہیں، تو  sports کی بات نہ کرنا ، ایسا ہی ہوگا جیسے کرکٹ میں  toss کے بعد میچ   ہی شروع نہ کرنا!

کرکٹ، ہندوستان اور آسٹریلیا کے تعلقات کی اپنی ایک  diplomatic language ہے۔ اسی لیے ہماری میٹنگیں بھی   cricketجیسی لگتی ہیں:

ایجنڈا-ون ڈےجیسا focused،

Decisions   -  ٹی 20 جتنے تیز،

اور  partnership- Test matchجتنی طویل اور گہری۔

آنے والے برسوں میں دونوں ممالک میں اولمپکس اور   Commonwealth Gamesجیسے بڑے   sporting eventsمنعقد کیے جائیں گے۔ اس سے ہمارے کھیلوں کے شعبے میں تعاون تو بڑھے گا ہی ، اسپورٹس  infrastructureمیں  سرمایہ کاری کے بھی بے شمار امکانات پیدا ہوں گے۔

Friends,

آج ہماری  بات چیت  کا جذبہ واضح رہا ہے: ہندوستان اور آسٹریلیا کی   partnershipصرف موجودہ وقت کی نہیں، مستقبل کی   partnershipبھی ہے۔ ہم اپنے مشترکہ وژن پر مل کر آگے بڑھتے رہیں گے۔

Prime Minister البانیز

آپ کی دوستی، آپ کا عزم اور آج کی بامقصد گفتگو کے لیے میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مجھے اور  140 کروڑ ہندوستانیوں کو جلد از جلد ہندوستان  میں ایک بار پھر آپ کا استقبال کرنے میں خوشی ہوگی۔

بہت بہت شکریہ۔

*******

ش ح۔م ش۔م ش

Uno.9743

 


(रिलीज़ आईडी: 2282778) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Bengali , Bengali-TR , Manipuri , Punjabi , Gujarati , Odia , Telugu , Kannada , Malayalam