وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

توانائی کی سلامتی سے متعلق بھارت-آسٹریلیا کا مشترکہ بیان

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 11:02AM by PIB Delhi

آسٹریلیا اور بھارت جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور ایک آزاد، کھلے اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔

آسٹریلیا اور بھارت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور اس کے ہمارے خطے پر مرتب ہونے والے اثرات، خصوصاً توانائی، قدرتی وسائل اور دیگر اہم اشیا کی سپلائی چینز اور قیمتوں پر طویل مدتی منفی اثرات، پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال کے دوران ہم کھلی منڈیوں اور قواعد پر مبنی تجارتی نظام سے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں، کیونکہ یہی اصول ہماری خوشحالی اور اقتصادی سلامتی کی بنیاد ہیں۔

آسٹریلیا اور بھارت اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ قابلِ اعتماد نجی شعبے کی شراکت داریاں اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری پائیدار اور قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی کے ساتھ، نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی حمایت میں، دونوں ممالک اقتصادی تعاون و تجارتی معاہدے (ای سی ٹی اے)، جامع اقتصادی تعاون کے معاہدے (سی ای سی اے) کے لیے جاری مذاکرات اور دیگر متعلقہ دوطرفہ فریم ورک کے ذریعے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں صلاحیت سازی اور علم و تجربے کے تبادلے کی اہمیت کا بھی اعادہ کرتے ہیں۔

آسٹریلیا کی جانب سے بھارت کو مائع قدرتی گیس کا ایک اہم فراہم کنندہ اور بھارت کی جانب سے آسٹریلیا کو مائع ایندھن اور دیگر زیریں سطح کی مصنوعات کے ایک اہم فراہم کنندہ ہونے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں ممالک توانائی سے متعلق مصنوعات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے اور باہمی توانائی کی تجارت کو مزید فروغ دینے کا عہد کرتے ہیں۔ دونوں ممالک توانائی کے پورے ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے مواقع کی حوصلہ افزائی کی اہمیت کا بھی اعادہ کرتے ہیں۔

آسٹریلیا اور بھارت نے آسٹریلوی یورینیم کی صرف پُرامن مقاصد کے لیے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی کے تحت بھارت کو برآمد کے لیے درکار تمام انتظامی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں، جیسا کہ آسٹریلیا-بھارت جوہری تعاون معاہدہ (2015) میں فراہم کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا اور بھارت توانائی کی سپلائی چینز کو مزید مضبوط اور لچکدار بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، جس میں علاقائی تعاون کو فروغ دینا، توانائی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرنا، قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کے استعمال کو بڑھانا اور توانائی و مائع ایندھن کی تجارت کے لیے کھلے تجارتی نظام کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ دونوں ممالک اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اپنے اپنے توانائی کے نظام میں بجلی کے استعمال میں اضافہ مستقبل میں توانائی کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہوگا۔

آسٹریلیا اور بھارت اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں مضبوط اور لچکدار تجارت اور منڈیوں کے لیے ان کا مشترکہ عزم پورے خطے تک پھیلا ہوا ہے۔ دونوں ممالک بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کو توانائی کے وسائل کی فراہمی سے متعلق درپیش مخصوص خطرات اور ان ممالک کی پائیداری اور اقتصادی خوشحالی کے لیے توانائی کی مستحکم فراہمی کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں آسٹریلیا اور بھارت توانائی کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، جس میں کوئلہ، ڈیزل، دیگر مائع ایندھن اور قدرتی گیس سمیت توانائی کی مصنوعات کی مستحکم، محفوظ اور قابلِ اعتماد فراہمی کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک نے توانائی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرنے اور کم کاربن ایندھن کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ اس تناظر میں آسٹریلیا نے بھارت کے  عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحادکے اقدام کا خیرمقدم کیا۔

آسٹریلیا اور بھارت خطے کے دیگر شراکت داروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ عالمی توانائی وسائل کی سپلائی چینز کو کھلا رکھنے کے لیے مشترکہ کوششوں میں شامل ہوں، تاکہ ہمارے عوام کی سلامتی، خوشحالی اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

******

 (ش ح ۔  ع ح۔ج ا)

U.No.9740

 

 


(रिलीज़ आईडी: 2282727) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam