وزیراعظم کا دفتر
بھارت-آسٹریلیا کے درمیان دفاعی اور سلامتی تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیہ
प्रविष्टि तिथि:
09 JUL 2026 10:55AM by PIB Delhi
ہم، بھارت اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم، اپنے بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات، اپنے ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم، اور ایک آزاد، پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے مشترکہ وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، دفاع اور سلامتی کے تعاون سے متعلق اس مشترکہ اعلامیے سے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم 2020 میں قائم ہونے والی اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری (سی ایس پی) کی اہمیت کا ازسرِنو اعادہ کرتے ہیں۔ اس شراکت داری کے آغاز کے بعد سے ہمارے اسٹریٹجک مفادات میں ہم آہنگی مزید مضبوط ہوئی ہے، ہمارے اقتصادی تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں اور ہمارے عوام کے درمیان روابط، جو ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک زندہ پل کی حیثیت رکھتے ہیں، مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ ہم اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دوطرفہ اور کثیرجہتی سطح پر، نیز کواڈ اور دیگر کثیرجہتی اداروں جیسے علاقائی فورمز کے ذریعے دیگر شراکت داروں کے ساتھ ہمارا قریبی تعاون، دونوں ممالک کے لیے سودمند ہے اور ہمارے مشترکہ خطے کے امن، سلامتی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ہم 2009 کے بھارت-آسٹریلیا مشترکہ اعلامیے برائے سلامتی تعاون کے ذریعے اپنی شراکت داری میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔ ہم مختلف دوطرفہ ادارہ جاتی نظاموں، جن میں وزرائے خارجہ کا فریم ورک ڈائیلاگ (ایف ایم ایف ڈی)، 2+2 وزرائے خارجہ و دفاعی وزارتی مذاکرات اور وزرائے دفاع کا مذاکراتی فورم شامل ہیں، کے ذریعے اس شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں ہونے والی مؤثر پیش رفت کو سراہتے ہیں۔
ہم موجودہ جغرافیائی و اسٹریٹجک غیر یقینی صورتحال اور علاقائی امن و استحکام کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ پُرامن طریقے سے کام کریں اور اپنے تنازعات کو طاقت یا جبر کی دھمکی یا استعمال کے بغیر، بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کریں۔
ہم ایک ایسے آزاد، پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں، جس کی بنیاد بین الاقوامی قانون کی پابندی پر مبنی قواعد و ضوابط پر استوار نظام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متعلق کنونشن (یو این سی ایل او ایس) کی پاسداری پر مبنی آزاد، مستحکم اور محفوظ سمندری ماحول، جس میں جہاز رانی اور فضائی پرواز کی آزادی شامل ہے، اور مؤثر، جامع اور شفاف اداروں پر ہو۔
ہم انڈین اوشن رم ایسوسی ایشن (آئی او آر اے)، آسیان اور آسیان کی قیادت میں قائم علاقائی ڈھانچے، نیز پیسیفک آئی لینڈز فورم (پی آئی ایف) کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ اپنے اپنے خطوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کلیدی فورمز ہیں۔
ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بدلتے ہوئے اسٹریٹجک حالات کے پیش نظر ہماری شراکت داری کو بھی ترقی دینا ضروری ہے اور ہم اپنے دفاعی و سلامتی تعاون کو مزید جدید، مربوط اور اعلیٰ ترین سطح تک تیز رفتاری سے فروغ دینے کا عزم کرتے ہیں۔ ہم اسٹریٹجک تبادلوں کو مزید مضبوط بنائیں گے اور اپنے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کی عکاسی کرنے والے باقاعدہ وزارتی روابط جاری رکھیں گے۔ ہم دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک طویل مدتی وژن کو تسلیم کرتے ہیں، جس کا مقصد ہماری مشترکہ صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ تعاون دونوں ممالک کی سلامتی کو تقویت دے گا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ہم اپنے جامع دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، اسٹریٹجک مذاکرات کو وسعت دینے اور باہمی تعاون کو مزید تیز کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کا عہد کرتے ہیں:
الف۔ ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ مفادات کو متاثر کرنے والی دفاعی پیش رفت پر باقاعدہ مشاورت کرنا۔
ب۔ شراکت دار ممالک کے ساتھ منعقد ہونے والی اپنے دفاعی مشترکہ مشقوں کو مزید پیچیدہ اور مؤثر بنانا۔
ج۔ دفاعی افواج کے درمیان باہمی عملی ہم آہنگی اور معلومات کے تبادلے کو تیز رفتاری سے فروغ دینا۔
د۔ ایک دوسرے کے علاقوں سے فوجی طیاروں کی تعیناتی میں توسیع کرنا۔
ہ۔ دفاعی افواج کے اہلکاروں کے درمیان تبادلوں، تعلیم و تربیت اور رابطہ افسران کی تقرری سمیت باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنا۔
و۔ دفاعی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی بھرتی میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ سمندری خطہ ہمارے دفاعی، سلامتی اور اقتصادی مفادات کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے، اور اسی لیے ہم سمندری سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا، مؤثر اور باقاعدہ بنائیں گے۔ ہم بھارت-آسٹریلیا سمندری سلامتی تعاون روڈ میپ کے ذریعے اس تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔
ہم دفاعی صنعتوں میں موجود بڑھتے ہوئے امکانات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی انضمام، صنعتی تعاون اور سپلائی چین کے استحکام کو فروغ دیں گے۔ ہم دفاعی اختراع کے شعبے میں دونوں ممالک کے نظاموں کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کریں گے اور جدید دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی میں اشتراک کے لیے مناسب انتظامات وضع کریں گے۔
ہم تنازعات کی روک تھام، امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں اور دیرپا امن کے قیام میں خواتین کی مؤثر شرکت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے کام کریں گے۔ ہم امن مشنز میں صنفی مساوات کو برقرار رکھنے اور ’’خواتین، امن اور سلامتی‘‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
ہم دوطرفہ سطح پر اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر علاقائی اقتصادی خوشحالی اور لچکدار معیشت کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہم اہم معدنیات اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز سمیت زیادہ متنوع اور مضبوط سپلائی چینز، اہم بنیادی ڈھانچے اور باہمی رابطوں کو فروغ دیں گے۔
ہم ایک ایسے تکنیکی ماحول کی تشکیل کے لیے مل کر کام کریں گے جو محفوظ اور مضبوط ہند-بحرالکاہل کے حوالے سے ہمارے مشترکہ وژن سے ہم آہنگ ہو۔ ہم ،سائبر، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینز سے متعلق آسٹریلیا-بھارت شراکت داری (آسٹریلیا-بھارت پیکٹس) کے تحت سائبر سلامتی، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کے نظام سے بھرپور استفادہ کریں گے اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔
ہم اپنے خطے میں دہشت گردی کے خطرات سمیت دہشت گرد تنظیموں اور افراد سے متعلق معلومات کے تبادلے میں اضافہ کرنے اور پرتشدد انتہاپسندی اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے درج ذیل شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا عہد کرتے ہیں:
الف۔ نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز۔
ب۔ دہشت گردی کی مالی معاونت۔
ج۔ اہم بنیادی ڈھانچے اور عوامی ہجوم والی جگہیں۔
د۔ سمندری خطہ۔
ہ۔ آن لائن انتہاپسندی۔
ہم 2023 میں نقل مکانی اور نقل و حرکت سے متعلق شراکت داری کے انتظام سے متعلق کئے گئے معاہدے کے تحت اپنا تعاون جاری رکھیں گے، جس میں غیر قانونی نقل مکانی، انسانی اسمگلنگ اور افراد کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے تعاون کے طریقۂ کار وضع کیے گئے ہیں۔ ہم سرحد پار منظم جرائم کے خلاف بھی اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔
ہم ایک ایسی پُرامن دنیا کے خواہاں ہیں جو جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو اور اس مقصد کے لیے ہم جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور عالمی، مکمل، غیر امتیازی اور قابلِ تصدیق جوہری تخفیفِ اسلحہ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
ہم ہند-بحرالکاہل کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ سمیت سہ فریقی تعاون کے طریقۂ کار اور ہند-بحرالکاہل سمندری اقدام کے ذریعے مزید گہرے روابط اور مسلسل تعاون کا عہد کرتے ہیں۔ ہم ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گے تاکہ ایک آزاد، مستحکم، پُرامن اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے اپنے مثبت وژن کے حصول کے لیے صلاحیتوں اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
ہم انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے (ایچ اے ڈی آر) کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عہد کرتے ہیں تاکہ قدرتی آفات کے دوران تیز رفتار، مربوط اور پائیدار امدادی کارروائیاں یقینی بنائی جا سکیں، اور خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنے مشترکہ عزم کو مزید تقویت دی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ہم درج ذیل اقدامات کے ذریعے تعاون کو مضبوط بنائیں گے:
الف۔ معلومات کے تبادلے اور ماہرین کے باہمی تبادلوں کے ذریعے۔
ب۔ انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کی مشترکہ مشقوں کے ذریعے، جن میں کواڈ ہند-بحرالکاہل لاجسٹکس نیٹ ورک بھی شامل ہے، جو بڑے پیمانے پر آنے والی قدرتی آفات کے دوران شہری امدادی کارروائیوں کی معاونت کرتا ہے۔
ہم آفات اور ہنگامی حالات کے دوران ہنگامی منصوبہ بندی کے تبادلے، مشترکہ ردِعمل اور باہمی ہم آہنگی کے امکانات کا جائزہ لینے کا عہد کرتے ہیں، تاکہ تیسرے ممالک میں علاقائی اور عالمی سطح پر انخلا کی کارروائیوں میں بھی معاونت فراہم کی جا سکے۔
اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے جذبے کے تحت، ہم ایک پُرامن اور مستحکم ہند-بحرالکاہل خطے کے فروغ کے لیے اس جامع اوراہم ایجنڈے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کا عہد کرتے ہیں۔
*****
) ش ح – ع ح –ج ا)
U.No. 9739
(रिलीज़ आईडी: 2282725)
आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Manipuri
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Assamese
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam