وزیراعظم کا دفتر
وزیراعظم کے دورہِ انڈونیشیا کے موقع پر ہند-انڈونیشیا کامشترکہ بیان
प्रविष्टि तिथि:
07 JUL 2026 5:15PM by PIB Delhi
جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر، عزت مآب پربوو سوبیانتو کی دعوت پر، عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 6 سے 8 جولائی 2026 تک انڈونیشیا کا سرکاری دورہ کیا۔ ہندستان کے 76 ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں بحیثیتِ مہمانِ خصوصی صدر پربوو کے 23-26 جنوری 2025 کے دورہِ ہند کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، وزیر اعظم جناب نریندرمودی کا یہ دورہ ایک اہم سنگِ میل ہے جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان 'ہند-انڈونیشیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری' کو بلندیوں پر لے جانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔
2. دورے کے دوران، وزیر اعظم مودی کا جکارتہ کے صدارتی محل 'آستانہ مردیکا' میں روایتی اعزازیہ استقبال کیا گیا۔ اس کے بعد صدر پربوو اور وزیرِ اعظم نریندرمودی کے مابین بالمشافہ اور وفود کی سطح پر دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔ صدر پربوو نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں سرکاری ضیافت کا اہتمام بھی کیا۔ انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر، عزت مآب ڈاکٹر پوان مہارانی کی دعوت پر، وزیرِاعظم نے انڈونیشیا کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نریندرمودی اور صدر پربوو نے یوگیہ کارتا میں واقع یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے 'پرمبانن مندر کمپاؤنڈ' کے تحفظ اور بحالی کے کاموں کا افتتاح کیا۔ دونوں رہنماؤں نے انڈونیشیا میں مقیم ہندستانی برادری کی طرف سے معزز مہمان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کی۔
سیاسی تعاون
3 . وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور صدر پروبو کے مابین 7 جولائی 2026 کو جکارتہ کے 'آستانہ مردیکا' میں باضابطہ دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔ ان رسمی مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، جن میں سیاسی روابط، دفاع و سلامتی کا تعاون، بحری تعاون، تجارت و سرمایہ کاری، ڈیجیٹل معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، اہم معدنیات، توانائی، زراعت، صحت، ادویات ، تعلیم، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے تبادلے اور عوام کا عوام سے رابطہ کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں متعدد دوطرفہ مفاہمت ناموں کے دستاویزات کا تبادلہ بھی کیا گیا، جن کا مقصد ہند-انڈونیشیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
4. دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک روابط کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے کثیر فریقی تقریبات کے مواقع سمیت باقاعدگی سے سربراہی ملاقاتیں منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
5. دونوں رہنماؤں نے موجودہ جوائنٹ ورکنگ گروپ(جے ڈبلیو جی) کے نظام کو مضبوط بنانے اور باقاعدہ دوطرفہ مشاورت کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں جوائنٹ کمیشن میٹنگ(جے سی ایم) ، فارن آفس کنسلٹیشن (ایف او سی) اور وزراء و اعلیٰ حکام کی سطح پر مذاکرات کے دیگر ذرائع اور تبادلے شامل ہیں۔
6. دونوں رہنماؤں نے اپنی اپنی پارلیمان میں 'ہند-انڈونیشیا پارلیمانی فرینڈشپ گروپس' کے قیام کا خیرمقدم کیا اور دونوں جمہوریتوں کے درمیان پارلیمانی وفود کے باقاعدہ دوروں کے ذریعے پارلیمانی تبادلوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
7. دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس، تعلیمی اداروں اور پالیسی ماہرین کے درمیان باہمی مفاہمت اور بڑھتے ہوئے روابط کا خیرمقدم کیا، جن میں جکارتہ میں 23 اپریل 2025 کو منعقدہ 'تیسرا ہند-انڈونیشیا پالیسی پلاننگ ڈائیلاگ'، 15-16 ستمبر 2025 کو منعقدہ 'دوسرا ہند-انڈونیشیا ٹریک 1.5 ڈائیلاگ' اور 5-6 اگست 2025 کو منعقدہ 'جکارتہ فیوچرز فورم' شامل ہیں۔
دفاعی اور بحری تعاون
8. اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ہندستان اور انڈونیشیا بحری پڑوسی اور مضبوط دفاعی تعاون کے حامل اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، اور 2018ء میں "انڈو-پیسیفک خطے میں بحری تعاون پر ہند-انڈونیشیا کے مشترکہ وژن" کو اپنانے کا اعادہ کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے دفاعی اور بحری شراکت داری کو مزید بڑھانے اور وسیع کرنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
9. دونوں رہنماؤں نے 27 نومبر 2025ء کو نئی دہلی میں منعقدہ 'تیسرے وزرائے دفاع کے مذاکرات' کا خیرمقدم کیا، اور دفاعی تعاون کے روایتی اور ابھرتے ہوئے دونوں شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے اور روابط بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں باقاعدہ دفاعی مذاکرات، مشترکہ مشقیں، اسٹاف ٹاکس ، مشترکہ تحقیق اور نئی دفاعی ٹیکنالوجیز کی مشترکہ تیاری، بحری جہازوں کے بندرگاہوں کے دورے ، امن مشن کی سرگرمیاں، معلومات کا تبادلہ، ہائیڈرو گرافی، استعداد کار میں اضافہ، کیڈٹس کی تربیت و تبادلے، اور دفاعی صنعتی تعاون کے امور شامل ہیں۔ انہوں نے دفاعی تعاون کی سطح کو مزید بلند کرنے کا خیرمقدم کیا، جس میں 'براہموس میزائل سسٹم' پر تعاون اور 'ایئر ٹو ایئر میزائل کوآپریشن اگریمنٹ' (ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل کے تعاون کا معاہدہ) شامل ہیں۔
10. دونوں رہنماؤں نے مسلسل بحری تعاون کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں 'میری ٹائم ڈومین اویئرنس' (ایم ڈی اے)- بحری حدود کی بیداری)، بحری رابطے، ساحلی نگرانی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور آفات سے نمٹنے (ایچ اے ڈی آر) آلودگی پر قابو پانے اور تلاش و بچاؤ کے شعبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے باہمی مفادات اور ترجیحات پر مبنی ہیں اور خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور وسیع تر انڈو-پیسیفک خطے میں مزید استحکام لانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے 'بحری تحفظ اور سکیورٹی تعاون' پر مفاہمت ناموں کی تجدید اور انڈونیشیا کی بحری سکیورٹی ایجنسی اور انڈین کوسٹ گارڈ کے درمیان عملی معاہدے کی تکمیل کا بھی خیرمقدم کیا۔
11. دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مشقوں اور دفاعی تربیتی پروگراموں کی اسٹریٹجک اور آپریشنل اہمیت کا اعتراف کیا، جو موجودہ بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں اہم ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ملکی قوانین اور ضوابط کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے اصولوں بشمول '1982 ایو این سی ایل او ایس کے مطابق، باہمی دلچسپی کے بحری امور پر تعمیری بات چیت جاری رکھنے کے امکانات تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
12. دونوں رہنماؤں نے 'انفارمیشن فیوژن سینٹر-انڈین اوشین ریجن' (آئی ایف سی – آئی او آر)گروگرام میں انڈونیشیا کی طرف سے ایک بین الاقوامی رابطہ افسر (آئی ایل او) کی تعیناتی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بحری سلامتی میں باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
13. دونوں رہنماؤں نے دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو ترجیحی شعبوں میں سے ایک قرار دیا اور ساز و سامان کی مشترکہ تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تکنیکی مدد اور استعداد کار میں اضافے، دفاعی سامان کی فراہمی بشمول جہاز سازی میں تعاون، یکساں دفاعی پلیٹ فارمز کے لیے ایم آر او (- مرمت اور دیکھ بھال) کی سہولیات کے قیام، دفاعی تحقیق و ترقی ے قیام کے امکانات تلاش کرنے، اور دفاعی سپلائی چین کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی صنعتوں کے درمیان باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے فوجی ادویات کی سپلائی کے حوالے سے ہندستان اور انڈونیشیا کے مسلح افواج کے طبی اداروں کے درمیان فارماسیوٹیکل تعاون میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔
دہشت گردی کا مقابلہ اور سکیورٹی تعاون
14. دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی غیر مبہم اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق، جامع اور مستقل انداز میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کن اور مربوط عالمی کوششوں پر زور دیا، اور اس تناظر میں عالمی سطح پر ممنوعہ دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں بشمول اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی 1267 پابندی کمیٹی کی فہرست میں درج تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
15. رہنماؤں نے دہشت گردی اور دہشت گردی کے لیے سازگار پرتشدد انتہا پسندی کو روکنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت (ٹیرر فنڈنگ) کو روکنے، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) کے معیارات کو فروغ دینے، دہشت گردی کے مقاصد کے لیے جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کو روکنے، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن بھرتیوں اور انتہا پسندی سمیت دہشت گردوں کی بھرتی کے عمل سے نمٹنے، اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام (پی وی ای) کے پروگراموں میں تعاون کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
16. دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے 'زیرو ٹالرنس' کے طریقے پر زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع کو بند کرنے کے لیے سرگرم اقدامات جاری رکھنے اور اقوامِ متحدہ (یو این ) اور ایف اے ٹی ایف سمیت دوطرفہ اور کثیر جہتی تعاون کو مضبوط بنانے کے واسطے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
17. دہشت گردی اور سرحد پار منظم جرائم کے درمیان روابط کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ملکی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق، معلومات اور بہترین طریقوں کے تبادلے سمیت تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون پر مفاہمت ناموں کو جلد حتمی شکل دیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا، جس پر مستقبل قریب میں دستخط کیے جائیں گے۔
18. رہنماؤں نے سکیورٹی سے متعلق امور پر جامع انداز میں تبادلہِ خیال کرنے کے پلیٹ فارم کے طور پر 'تیسرے ہند-انڈونیشیا سکیورٹی ڈائیلاگ' (آئی آئی ایس ڈی) کے مجوزہ انعقاد کا خیرمقدم کیا۔ اس مکالمے کے ذریعے، دونوں ممالک نے دہشت گردی، منظم اور سرحد پار جرائم کا مقابلہ کرنے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی، اور دفاعی صنعت، بحری اور خلائی تعاون میں دوطرفہ تعاون کو نمایاں طور پر بڑھانے کا عزم کیا۔
19. دونوں رہنماؤں نے سائبر کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر مزید بات چیت کرنے پر بھی اتفاق کیا، جس میں پالیسی مکالمہ، استعداد کار میں اضافہ، بہترین طریقوں کا تبادلہ اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، فنانشل ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت (اے ٹی)، ڈیجیٹل فورینزکس اور کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم(سی ای آر ٹی) کے تعاون، اہم معلوماتی ڈھانچے کے تحفظ اور ڈیجیٹل مہارتوں پر استعداد کار بڑھانے سے متعلق ماہرین کا تبادلہ شامل ہے۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون
20. رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی اور تجارتی تعاون ہند-انڈونیشیا کے متحرک تعلقات کا اہم ستون ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ہندستان کے 'وکست ہندستان 2047' اور انڈونیشیا کے 'انڈونیشیا ایماس 2045' کے وژن کے درمیان وسیع معاشی اور ترقیاتی تال میل کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ معاشی مواقع کو مزید بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان وسیع اور گہرے معاشی انضمام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے، رہنماؤں نے متوازن، باہمی طور پر فائدہ مند اور سازگار تجارتی ماحول پیدا کرنے کی خاطر 'آسیان- ہندستان تجارتی سامان کےمعاہدے' کے جائزے کو وقت پر حتمی شکل دینے کی خواہش کا اظہار کیا، تاکہ اس کی بدولت دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے جامع اور گہرے تجارتی روابط قائم کیے جا سکیں۔
21. دونوں رہنماؤں نے موجودہ دوطرفہ معاشی نظاموں کے بھرپور استعمال اور انہیں مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں سال 2026ء کے دوران 'ورکنگ گروپ آن ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ' کے دوسرے اجلاس، 'فورتھ بائینیئل ٹریڈ منسٹرز فورم' (بی ٹی ایم ایف)،چوتھے دو سالہ وزرائے تجارت کے فورم، اور 'جوائنٹ اکنامک اینڈ فائننشل ڈائیلاگ' کے پہلے اجلاس کا انعقاد شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان نظاموں کو کسٹمز ڈیوٹی اور نان ٹیرف سے وابستہ تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے، مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے، تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے، اور مالیات، ڈیجیٹل معیشت، صنعت اور سپلائی چین میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اور کاروبار کے سودمند نتائج حاصل کرنے کی سمت میں کام کرنا چاہیے، جبکہ اس دوران ہر ملک کے قومی ضوابط اور ترقیاتی ترجیحات کا احترام برقرار رکھا جائے۔
22. دونوں رہنماؤں نے اہم معدنیات اور نایاب عناصر کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ملکی مینوفیکچرنگ کی صنعتوں کی ترقی کے لیے ضروری اور متنوع سپلائی چین بنانا ہے تاکہ معاشی خطرات کو کم اور اقتصادی سلامتی کو مضبوط کیا جا سکے۔ رہنماؤں نے نایاب عناصر کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی تعریف کی، اور اس سلسلے میں 'نان فیریس مٹیریلز ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ سینٹر' ، 'مڈویسٹ لمیٹڈ'، اور 'پی ٹی پیروسہان منرل ناسیونل' کے درمیان مفاہمت ناموں پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
23. رہنماؤں نے معدنیات اور اسٹیل سپلائی چین کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت ناموں پر دستخط کیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے 'اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ'اور 'پی ٹی کراکاتاؤ اسٹیل' کے درمیان انڈونیشیا میں اسٹین لیس اسٹیل سلیب مینوفیکچرنگ کی سہولت قائم کرنے کے امکانات تلاش کرنے کے لیے اسٹریٹجک جوائنٹ وینچر کا بھی خیرمقدم کیا۔
24. دونوں رہنماؤں نے ریزرو بینک آف انڈیااور بینک آف انڈونیشیا کے درمیان 'لوکل کرنسی ٹرانزیکشن' (ایل سی ٹی - مقامی کرنسی میں لین دین) کے رہنما خطوط کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے ہندستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملے گا اور دونوں معیشتوں کے درمیان مالیاتی انضمام مضبوط ہوگا۔
صحت، دواسازی، خوراک اور توانائی کا تحفظ
25. دونوں رہنماؤں نے انڈونیشیا میں ممکنہ لاجسٹک ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم کے طور پر 'ریڈ اینڈ وائٹ کوآپریٹو نیٹ ورک' کی اہمیت کواجاگرکیا، تاکہ دونوں ممالک کے ملکی قوانین اور ضوابط کے مطابق، دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ ادویات (فارماسیوٹیکلز) اور طبی مصنوعات کی فراہمی کی جا سکے۔
26. دونوں رہنماؤں نے صحت کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اپنے عزم کا اعادہ کیا اور 'پروفیشنل ہیلتھ ورک فورس ڈیولپمنٹ' (طبی عملے کی پیشہ ورانہ ترقی) پر عملی معاہدے پر دستخط کیے جانے کا خیرمقدم کیا۔ یہ معاہدہ فیلوشپ پروگراموں، پیشہ ور افراد کے لیے مہارت سازی کے پروگراموں، مخصوص طبی شعبوں میں عملی کلینیکل ٹریننگ، طبی ماہرین اور پیشہ ور افراد کے تبادلے، طب و صحت کی خدمات میں بہترین طریقوں کے تبادلے اور باہمی اتفاق سے طے پانے والی دیگر امدادی سرگرمیوں کے ذریعے آپسی تعاون کو مضبوط کرے گا۔ انہوں نے پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس (تیار خوردنی مصنوعات) کے شعبے میں ریگولیٹری تعاون کے لیے انڈونیشیا کی ایجنسی ‘بی پی او ایم’اور ہندستان کی ‘ایف ایس ایس اے آئی’ کے درمیان مفاہمت ناموں کو جلد حتمی شکل دینے پر زور دیا۔
27. دونوںرہنماؤں نے دونوں ممالک کی ملکی پالیسیوں کا احترام کرتے ہوئے، خوراک تحفظ (فوڈ سکیورٹی) اور تغذیاتی شعبے میں تعاون کو مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے زراعت اور خوراک تحفظ میں تعاون بڑھانے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا، جس میں باہمی اتفاق کے مطابق خوراک اور زراعت کی تجارت، مشترکہ مطالعہ، جدت طرازی، اور پائیدار و لچکدار غذائی نظام کی معاونت کے لیے علم کا تبادلہ شامل ہے۔ رہنماؤں نے زراعت اور اس سے منسلکہ شعبوں میں تعاون پر مفاہمت نامےکو جلد حتمی شکل دینے اور سمندری و ماہی پروری کے تعاون کے شعبے میں مفاہمت نامے کی جلد تجدید کی امید ظاہر کی۔
28. رہنماؤں نے ادویات اور طبی مصنوعات کے شعبے میں جاری تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے طبی مصنوعات کے ریگولیشن کے شعبے میں تعاون کے لیے ہندستان کے‘سی ڈی ایس سی او’ اور انڈونیشیا کے‘بی ایم او ایم’ کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
29. رہنماؤں نے کھاد (فرٹیلائزر) کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور عالمی بازار کے بدلتے ہوئے حالات کے درمیان مستحکم، سستی اور قابلِ اعتماد کھاد کی دستیابی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
30. دونوں فریقوں نے باہمی اتفاق کے مطابق روایتی، نئی اور قابلِ تجدید توانائی سمیت توانائی کے تحفظ کے شعبے میں تعاون، مشترکہ مطالعہ اور استعداد کار میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا، اور ایل این جی(ایل این جی) ، گرین ہائیڈروجن، بائیو انرجی، شمسی توانائی (سولر انرجی)، اور ایندھن کی بچت کی ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں میں بڑھتے ہوئے باہمی تال میل کا خیرمقدم کیا۔
بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری
31۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان سمندری اور فضائی رابطوں کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا اور فضائی پروازوں کے ساتھ ساتھ بندرگاہ سے بندرگاہرابطوں میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی۔ دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ انڈمان۔آچےرابطہ کاری سے متعلق مشترکہ ٹاسک فورس کی تیسری میٹنگ2026 کی دوسری ششماہی میں منعقد ہوگی اور اس کے تحت تیار کیے جانے والے لائحۂ عمل پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
32۔ صدر پرابوو نے سابانگ بندرگاہکی مربوط ترقی میں شراکت داری کے لیے بھارت کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ کروز اور سمندری سیاحت کی سہولیات، بحری صنعتوں (جہازوں کی مرمت اور جہاز سازی)، اور بحیرۂ انڈمان میںساحل سے دور توانائی سرگرمیوں کے لیے ساحلی معاون خدمات پر مشتمل یہ شراکت داری بھارت کے انڈمان و نکوبار جزائر اور انڈونیشیا کے جزیرہ سماترا کے صوبوں کے درمیان ادارہ جاتی،فزیکل، ڈیجیٹل رابطوں اور افراد و اشیاءکی آمدورفت کو فروغ دے گی۔ اس سے سرمایہ کاری، روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور خطے کی مشترکہ خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے متعلقہ حکام کو ہدایتدی کہ وہ انڈونیشیا کے ترقیاتیپروجیکٹوں اور قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق، باہمی مفاد اور مقررہ مدت کے اندر اس پروجیکٹ کے دائرۂ کار، طریقۂ کار اور مالیاتی انتظامات کو حتمی شکل دیں۔
33۔ دونوں رہنماؤں نے انڈونیشیا اوپن نیٹ ورک(آئی او این)کے آغاز کا خیرمقدم کیا، جو بھارت کے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس(او این ڈی سی)کے ماڈل پر مبنی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے ذریعے انڈونیشیا کے بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں(ایم ایس ایم ایز)کیڈیجیٹل معیشت میں شمولیت بڑھانا ہے۔
34۔ دونوں رہنماؤں نے ریزرو بینک آف انڈیا اور بینک انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق سرحد پار کیو آرادائیگی کے نظام کو باہم منسلک کرنے کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان ادائیگی کے نظام میں رابطے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔ اس سے مالی لین دین زیادہ مؤثر ہوگا، مالیاتی نظام کی مضبوطی میں اضافہ ہوگا اور خصوصاً ن بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، سیاحت اور طلبہ کو سہولت فراہم کرتے ہوئے جامع اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
35۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان ٹیلیمواصلات ٹیکنالوجیز اور خدمات کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے(ایم او یو)پر دستخط کا خیرمقدم کیا، جو ٹیلیمواصلاتٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رابطوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی تاکہ جامع اقتصادی ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔
حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور پائیدار ترقی
36۔ صدر پرابوو نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے شعبے میں بھارت کے کلیدی کردار کو سراہا اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس(آئی بی سی اے)کی پہل کی تعریف کی۔ وزیرِ اعظم مودی نے انڈونیشیا کی جانب سے اپنے متعلقہ داخلی طریقۂ کار کے مطابقآئی بی سی اےمیں شمولیت کی خواہش کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے انڈونیشیا کے ورلڈ مینگروو سینٹر(ڈبلیو ایم سی)اور انٹرنیشنل ٹراپیکل پیٹ لینڈ سینٹر(آئی ٹی پی سی)جیسے اقدامات کو بھی سراہا، جو حیاتیاتی تنوع، مینگرووز اور پیٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
37۔ دونوں ممالک کے قدرتی اور انسانی ساختہ آفات سے متاثر ہونے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے رہنماؤں نے آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کیقدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی اتھارٹیز کے درمیان آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت کے اقرار نامےپر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ اس معاہدے کا مقصد معلومات، تجربات اور بہترین عملی طریقوں کے تبادلے، صلاحیت سازی، تربیت، آفات سے نمٹنے، بحالی، نقصانات میں کمی، پیشگی تیاری، مؤثر ڈیٹا کے استعمال اور آفات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ رہنماؤں نے قدرتی آفات کو برداشت کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے اتحاد(سی ڈی آر آئی)کی جانب سے آفات کے خطرات میں کمی اور مضبوط انفراسٹرکچر کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون میں ادا کیے جانے والے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
سائنس و ٹیکنالوجی، خلائی تعاون اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز
38۔ رہنماؤں نے 12 اگست 2025 کو سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق افتتاحی مشترکہ کمیشن اجلاس کے انعقاد اور بھارت و انڈونیشیا کے درمیان تحقیق، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
39۔ دونوں رہنماؤں نے خلائی تحقیق کے بھارتی ادارے(اسرو) اور انڈونیشیا کیتحقیق اور اختراع کی قومی ایجنسی(بی آر آئی این)کے درمیان جاری خلائی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے 24 اور 25 جون 2026 کو بنگلورو، بھارت میں منعقد ہونے والے خلائی تعاون سے متعلق چھٹے مشترکہ کمیشن اجلاس کا بھی خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پرامن مقاصد کے لیے بیرونی خلاء کی تحقیق اور استعمال کے شعبے میں تعاون سے متعلق فریم ورک معاہدے کی مدت میں توسیع پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا۔
40۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے صدر پرابوو کا شکریہ ادا کیا کہ انڈونیشیا نے بی آر آئی ایناور اسروکے درمیان تعاون، نیز بیاک ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ(ٹی ٹی سی)سہولت کے ذریعے بھارت کے سیٹلائٹ اور خلائی راکٹ پروگراموں، بالخصوص گگن یان مشن کی مسلسل حمایت جاری رکھی۔ صدر پرابوو نے انڈونیشیائی سیٹلائٹس کے آغاز، انڈونیشیا کے حکام کی تربیت، ایشیا و بحرالکاہل کے لیے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی تعلیمی مرکز (سی ایس ایس ٹی ای اے پی)اور آسیان۔بھارت خلائی تعاون کے تحت بھارت کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے انڈونیشیا میں مجوزہ اسپیس پورٹ منصوبے کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان خلائی شعبے میں جامع تعاون کا بھی خیرمقدم کیا۔
41۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے شعبے میں جاری مذاکرات کا نوٹ لیا، جو تحقیق، صلاحیت سازی اور جوہری تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے سول جوہری توانائی کے فروغ، اس سے متعلق ضابطہ جاتی اور تکنیکی ترقی، نیز صنعت، جوہری طب، زراعت اور آبی وسائل کے انتظام میں اس کے استعمال کو فروغ دینے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔
ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط
42۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ(اے ایس آئی)کے تعاون سے یوگیاکرتا میں واقع یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ پرمبانن مندر کمپلیکس کیجدید کاری اور تحفظ کے منصوبے کے افتتاح کا خیرمقدم کیا۔ انڈونیشیا نے قومی عجائب گھر، بھارت کی جانب سے تقریباً 860ء سے تعلق رکھنے والی نالندہ کے اصل تانبے کے کتبے کی نقل بطور تحفہ پیش کرنے پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔ دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت زبان میں کندہ یہ کتبہ اب موارا جامبی کے نئے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اگست 2023 میں وارانسی میں منعقدہ جی-20 وزرائے ثقافت اجلاس میں منظور کیے گئے ’کاشی کلچرل پاتھ وے‘ کے اصولوں کو یاد کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں حکومتیں اپنے اپنے قوانین اور طریقۂ کار کے مطابق، دوستی اور باہمی احترام کے جذبے کے تحت ثقافتی ورثے سے متعلق امور پر مشاورت جاری رکھیں گی۔
43۔ دونوں رہنماؤں نے رابندر ناتھ ٹیگور اور کی ہاجر دیوانتارا کے دیرپا فکری ورثے اور مشترکہ تعلیمی وژن کو سراہا، جن کے باہمی روابط نے بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھی۔ دونوں رہنماؤں نے 27–2026 کو ’’بھارت۔انڈونیشیاٹیگور۔دیوانتارا سال برائے ثقافتی و تعلیمی سفارت کاری‘‘ کے طور پر منانے پر اتفاق کیا۔ یہ تقریبات 1927 میں رابندر ناتھ ٹیگور کے انڈونیشیا کے تاریخی دورے کی صد سالہ یاد کے موقع پر دونوں ممالک میں ایک سالہ مشترکہ ثقافتی، تعلیمی، علمی اور عوامی روابط کے پروگراموں پر مشتمل ہوں گی۔
44۔ دونوں رہنماؤں نے عوامی روابط کے فروغ میں سیاحت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس شعبے میں تعاون مزید گہرا کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان سیاحوں کی آمدورفت بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے سفر کو مزید آسان بنانے اور ویزا سہولت میں بہتری کے طریقوں پر مزید مشاورت پر بھی اتفاق کیا۔
45۔ رہنماؤں نے تعلیم کے شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کو طلبہ کے تبادلوں سمیت تعلیمی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے(ایم او یو)کو جلد حتمی شکل دینے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
46۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد کی آمد و رفت، مشترکہ تحقیق، علم کے تبادلے، صلاحیت سازی، ادارہ جاتی تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی میں معاون دیگر اقدامات کے ذریعے باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو وسعت دینے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے کو جلد حتمی شکل دینے کی امید ظاہر کی۔ صدر پرابوو نے انڈونیشیا میں بھارت کے ممتاز اعلیٰ تعلیمی اداروں کی شاخیں قائم کرنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلورو(آئی آئی ایم بنگلور)کے انڈونیشیا میں کیمپس قائم کرنے کی تجویز کا بھی خیرمقدم کیا۔
47۔ رہنماؤں نے بھارت کے چناؤ کمیشن اور انڈونیشیا کے جنرل الیکشن کمیشن(کے پی یو)کے درمیان انتخابی عمل میں انسانی وسائل کی ترقی، بہتر انتظام اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبے میں جاری تعاون کا ذکر کیا۔ انہوں نے انتخابات کے انتظام اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبے میں تعاون سے متعلق دونوں اداروں کے درمیانمفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
48۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت کی اعداد و شمار اور پروگراموں پر عمل درآمد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) اور اسٹیٹسٹکس انڈونیشیا(بی پی ایس)کے درمیان سرکاری شماریات، صلاحیت سازی اور اسٹریٹجک تعاون کے شعبوں میں مجوزہ تعاون کا خیرمقدم کیا۔
علاقائی اور کثیرجہتی تعاون
49۔ موجودہ عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتحال، اقتصادی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں، اور باہمی دلچسپی کے عالمی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں سمیت علاقائی اور کثیرجہتی فورمز میں بھارت اور انڈونیشیا کے درمیاناسٹریٹجک ہم آہنگی اور قریبی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے، تاکہ بین الاقوامی قانون پر مبنی، امن، استحکام، تعاون اور خوشحالی کو فروغ دینے والا زیادہ متوازن اور نمائندہ عالمی نظام تشکیل دیا جا سکے۔ دونوں فریقوں نے خودمختاری اور علاقائی سالمیتکے احترام کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی و مذہبی تنوع، تکثیریت اور قانون کی حکمرانی خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کی بنیادی اساس ہیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں رہنماؤں نے جنوب۔جنوب تعاون کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کیا اور عالمیخطہ جنوب کی آواز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
50۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی جغرافیائی و سیاسی حقائق کی عکاسی کرنے اور عالمیخطہ جنوب کی توقعات و امنگوں سے ہم آہنگ بین الاقوامی اداروں میں مؤثر اصلاحات کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ دونوں فریقوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں کی نشستوں میں توسیع سمیت جامع اصلاحات ناگزیر ہیںاور یہ عمل تمام رکن ممالک کی شمولیت پر مبنی بینحکومتی مذاکرات، بشمول متن پر مبنی مذاکرات، کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ کثیرجہتی فورمز میں باہمی تعاون کے مضبوط جذبے کی عکاسی کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مختلف بین الاقوامی امیدواروں کی باہمی حمایت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
51۔ رہنماؤں نے عالمی مالیاتی نظاممیں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ عالمی تجارتی ادارے (ڈبلیو ٹی او)کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، تاکہ قواعد پر مبنی، منصفانہ، آزاد اور جامع بین الاقوامی تجارتی نظام کو فروغ دیا جا سکے، جو غیر منڈی پر مبنی طرزِ عمل، سپلائی چینز کے ارتکاز اور منڈیوں تک غیریقینی رسائی جیسے چیلنجز کو مؤثر طور پر دور کر سکے۔
52۔ انڈونیشیا نے 2026 میں برکسکی بھارتی صدارت کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا اعادہ کیا، جبکہ بھارت نے برکس کے رکن ملک کی حیثیت سے انڈونیشیا کے کردار کی مکمل حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے برکس، جی-20 اور انڈین اوشن رم ایسوسی ایشنسمیت اہم پلیٹ فارمز کے ذریعے تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ منصفانہ عالمی طرزِ حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ طور پر مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔
53۔ دونوں رہنماؤں نے 2018 میں اعلان کردہ بھارت۔انڈونیشیابھارت-بحرالکاہل بحری تعاون کے مشترکہ وژن کو یاد کرتے ہوئے ایک آزاد، کھلے، شفاف، قواعد پر مبنی، پرامن، خوشحال اور جامع بھارت-بحرالکاہلخطے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
54۔ رہنماؤں نے خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، بین الاقوامی قانون، بالخصوص 1982 کے سمندری قانون کےاقوامِ متحدہ کے کنونشنکی پابندی، بحری اور فضائی آمدورفت کی آزادی، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز، اور اختلافات کے حل کے لیےبات چیتاور تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔
55۔ صدر پرابوو نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابھرتے ہوئے علاقائی نظام میں آسیانکے اتحاد اور مرکزی کردار کے لیے بھارت کی مستقل حمایت کو سراہا۔ دونوں فریقوں نے آسیان۔بھارت جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی حمایت کی، جو دونوں ممالک کے رکن ریاستوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی تکمیل کرتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت -بحرالکاہل خطے سے متعلق آسیان نقطہ نظر (اے او آئی پی)اور بھارت کے بھارت- بحرالکاہل سمندر سے متعلق اقدام (آئی پی او آئی)کے درمیان، خصوصاً خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کے ذریعے، مزید ہم آہنگی پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔
56۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت۔انڈونیشیا۔آسٹریلیا سہ فریقی تعاون کے مؤثر طریقۂ کار کا خیرمقدم کیا اور بحری حدود سے آگاہی، سمندری آلودگی،سمندری معیشت، نیز مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس(ای اے ایس)، بھارت- بحرالکاہل سمندر سے متعلق اقدام (آئی پی او آئی)اور انڈین اوشن رم ایسوسی ایشنکے فریم ورک کے تحت تعاون کے مزید امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
57۔ رہنماؤں نے مغربی ایشیا/مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور اس کے عالمی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے 17 جون 2026 کو دستخط شدہ مفاہمت نامے(ایم او یو) کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص یو این سی ایل او ایسکی متعلقہ شقوں کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی، عالمی تجارت کی بلا رکاوٹ آمدو رفت کے حق کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
58۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے دورۂ انڈونیشیا کے دوران صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے اپنے اور اپنے وفد کے لیے پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر دلی تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے انڈونیشیا کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے صدر پرابوو سوبیانتو کو باہمی طور پر مناسب وقت پر بھارت کے دورے کی پُرخلوص دعوت بھی دی۔
ش ح۔ م ش ع۔ م ع- ا ک م -ج
UNO-9662
(रिलीज़ आईडी: 2282162)
आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
Malayalam
,
English
,
हिन्दी
,
Manipuri
,
Bengali
,
Assamese
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada