امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کی کولکاتا میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125ویں یوم پیدائش کی یادگاری تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت


بنگال میں قوم پرستوں کی حکومت آنے پر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے125ویں یوم پیدائش کے موقع پر 125 فٹ بلند مجسمے کا سنگِ بنیاد صرف عظیم الشان یادگار کی تعمیر کا آغاز نہیں، بلکہ ’سونار بنگلہ‘ کے عزم کا آغاز ہے

ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے یومم پیدائش کو سرکاری تعطیل قرار دینے پر حکومتِ بنگال کو مبارکباد

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے ’ایک ودھان، ایک پردھان، ایک نشان‘ کے عزم کو دفعہ 370 کے خاتمے کے ذریعے عملی جامہ پہنایا؛ آج جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے

جہاں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا شاندار مجسمہ تعمیر کیا جائے گا، وہیں ہندوستان کی سلامتی پر تحقیق کے لیے ’شیاما پرساد مکھرجی انسٹی ٹیوٹ‘ کی بھی تعمیر ہوگی۔

ڈاکٹر مکھرجی نے جن سنگھ کی شکل میں جو بیج بویا تھا، وہ آج ہماری جماعت کی صورت میں ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ ثقافت کے ساتھ جدید ہندوستان کی تعمیر کا ان کا تصور وزیرِ اعظم مودی کی قیادت میں حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے

آنجہانی ڈاکٹر مکھرجی کا ماننا تھا کہ آزاد ہندوستان کی پالیسیاں ہندوستان کی سرزمین کی خوشبو سے مہکنی چاہییں اور وزیراعظم مودی کی قیادت میں اس سمت میں ایک مضبوط آغاز ہو چکا ہے

جرائم پیشہ افراد پر سختی سے قابو پانے کے وعدے کے تحت مغربی بنگال میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ترمیمی) بل 2026 منظور کیا گیا، جبکہ ماؤں اور بہنوں کی حفاظت کے لیے’درگا سیکورٹی اسکواڈ‘ تشکیل دیا گیا ہے

مغربی بنگال میں دراندازوں کی نشاندہی کرکے انہیں باہر نکالنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایک ایک درانداز کو نکال کر ہم ہندوستان کو مزید محفوظ بنائیں گے

چاہے ثقافتی قوم پرستی ہو، متحدہ ہندوستان کا عزم ہو، یا ’ترقی بھی، وراثت بھی‘ کا نظریہ، تمام قوم پرستانہ افکار کا سرچشمہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ہی ہیں

مغربی بنگال میں بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ رپورٹ موصول ہوتے ہی غریب عوام سے لوٹا گیا ایک ایک روپیہ واپس وصول کیا جائے گا

اپوزیشن حکومتوں نے مغربی بنگال کو برسوں پیچھے دھکیل دیا، لیکن وزیر اعظم مودی کی قیادت میں شوبھیندو حکومت پانچ برسوں میں اپنے انتخابی منشور کا ہر وعدہ پورا کرکے’سونار بنگلہ‘ کی مضبوط بنیاد رکھے گی

प्रविष्टि तिथि: 06 JUL 2026 9:33PM by PIB Delhi

امور داخلہ او رامداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ آج مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125ویں یوم پیدائش کی یادگاری تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ تقریب کے دوران وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا ویڈیو پیغام بھی نشر کیا گیا۔ اس موقع پر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب شوبھیندو ادھیکاری، مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےامور داخلہ وامداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے کشمیر کو  ہندوستان کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے نہرو-لیاقت معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک کی پہلی مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کا پختہ یقین تھا کہ ہندوستان کی پالیسیاں ملک کی روح اور عوام کی امنگوں کی عکاس ہونی چاہییں۔جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے انتقال کے 63 برس بعد ان کے 125ویں یوم پیدائش کے موقع پر کولکاتا میں ان کے 125 فٹ بلند شاندار مجسمے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے نظریات سے رہنمائی کرنے والی جماعت  بنگال میں حکومت میں ہے، تو ریاست میں ان کی میراث کو وہ احترام دیا جا رہا ہے ،جس کی وہ حقیقی طور پر مستحق تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تقریب محض ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے مجسمے کے سنگ بنیاد کی تقریب نہیں، بلکہ ’سونار بنگلہ‘کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کی بنیاد بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے عظیم الشان مجسمے کے ساتھ ساتھ  ہندوستان کی سلامتی پر تحقیق کے لیے ’شیاما پرساد مکھرجی انسٹی ٹیوٹ‘ بھی قائم کیا جائے گا۔

امور دخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ گرو دیو رابندرناتھ ٹیگور، رام کرشن پرم ہنس، سوامی وویکانند، مہارشی اروند، نیتاجی سبھاش چندر بوس اور راجا رام موہن رائے کے تصور کے مطابق ایک نئے اور خوشحال بنگال کی تعمیر کا سفر آج ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے یوم پیدائش کے موقع پر شروع ہو گیا ہے۔جناب امت شاہ نے کہا کہ مغربی بنگال کی حکومت نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے یوم پیدائش کو سرکاری تعطیل قرار دے کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مغربی بنگال کی حکومت جلد ہی  ہندوستانی زبانوں کے فروغ سے متعلق ڈاکٹر مکھرجی کے وژن کو بھی عملی شکل دے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی واقعی میں ہم جہت شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اپنی پوری زندگی میں اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ جناب شاہ نے کہا کہ بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھ کر ڈاکٹر مکھرجی نے ایسا بیج بویا، جس نے ملک کی تمام قوم پرست قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور ثقافتی قوم پرستی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹر مکھرجی کا بویا ہوا وہ بیج ایک تناور برگد کے درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو پورے ملک میں مسلسل پھل پھول رہا ہے۔

امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ آج ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی قائم کردہ تنظیم اپنی پالیسیوں کے مطابق ملک کے تقریباً دو تہائی جغرافیائی رقبے اور دو تہائی سے زیادہ آبادی پر حکومت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھتے وقت ڈاکٹر مکھرجی نے یہ عزم کیا تھا کہ صرف حکومتیں بدلنے سے ہندوستان کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ ان کا ماننا تھا کہ آزادہندوستان کی پالیسیاں ملک کی روح کی عکاس ہونی چاہییں اور ان پر مغرب کی چھاپ نہیں ہونی چاہیے۔جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی روح جہاں بھی ہوگی، وہ یقیناً وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں اپنے وژن کے مطابق ترقی کرتے ہوئے ہندوستان کو دعائیں دے رہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے ملک کی عظیم ثقافتی وراثت کو محفوظ رکھتے ہوئے ترقی اور وراثت میں ہم آہنگی قائم کرکے ایک جدید  ہندوستان کی تعمیر کا راستہ دکھایا تھا۔جناب شاہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس رہنما اصول کو اپنا کر ہندوستان کی ترقی کی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا ہے، تاکہ ملک 2047 تک ایک مکمل ترقی یافتہ قوم بننے کا ہدف حاصل کر سکے اور ساتھ ہی اپنی عظیم ثقافتی وراثت کا پرچم پوری دنیا میں سب سے بلند رکھ سکے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے  ملک کے لیے اپنی جان کا عظیم ترین نذرانہ پیش کیا۔ ’ایک ودھان، ایک پردھان، ایک نشان‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ڈاکٹر مکھرجی کشمیر کی ایک جیل میں پراسرار حالات میں وفات پا گئے، لیکن اس وقت کی حکومت نے ان کی موت کی کوئی تحقیقات نہیں کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کرکے ڈاکٹر مکھرجی کے عزم کو عملی جامہ پہنایا۔ آج کشمیر  ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔

امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ نہرو-لیاقت معاہدے کا مطالعہ کرنے کے بعد ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے محسوس کیا تھا کہ اس معاہدے میں پاکستان اور مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں رہ جانے والے ہندوؤں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیا، جبکہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے خدشات کو اس میں جگہ دی گئی تھی۔ ڈاکٹر مکھرجی کا ماننا تھا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر یک طرفہ ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔جناب شاہ نے کہا کہ آج ڈاکٹر مکھرجی کی قائم کردہ جماعت کی قیادت والی حکومت نے ظلم و ستم کا شکار ہندوؤں کو ہندوستانی شہریت دینے کے لیے شہریت (ترمیمی) قانون(سی اے اے) نافذ کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ دفعہ 370 کو ختم کیا جا چکا ہے، پناہ گزین ہندوؤں کو شہریت دینے کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ہندوستان کی  مکمل سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر درانداز کی شناخت کرکے اسے ملک سے باہر نکالے گی۔

امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ وندے ماترم کی تصنیف کے 150 سال اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125ویں یوم پیدائش کا ایک ہی سال میں آنا تقدیر کا ایک اہم اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وندے ماترم کی مکمل پیشکش کا آغاز ہو چکا ہے اور نئی نسل بھارت ماتا کی تمام صورتوں کو فخر کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرے گی۔

امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ چاہے ثقافتی قوم پرستی ہو، اکھنڈ بھارت کا عزم یا ’ترقی بھی، وراثت بھی‘ کا وژن، ان تمام قوم پرستانہ نظریات کا مشترکہ سرچشمہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا نظریہ ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی ہمیشہ بے خوفی اور بے باکی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کے نظریات میں ایسی دائمی طاقت ہے کہ آج ان کا فلسفہ قوم کے سامنے پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے اور سورج کی لاکھوں ’کرنوں‘کی مانند دنیا کو منور کر رہا ہے۔

امور داخلہ وامدادباہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ مغربی بنگال کے عوام نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125ویں یوم پیدائش کے سال میں ریاست میں تبدیلی لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کی حکومت بننے کے تھوڑے ہی عرصے میں کئی وعدے پورے کیے جا چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کی قیادت میں انّاپورنا اسکیم نافذ کی گئی ہے۔ اجولا 3.0 کا آغاز کیا گیا ہے۔ خواتین اور طالبات کے لیے مفت بس سفر کی سہولت عملی طور پر نافذ ہو چکی ہے۔ لکھ پتی دیدی مشن شروع کیا جا چکا ہے۔ آیوشمان بھارت کے تحت غریبوں کو 5 لاکھ روپے تک مفت طبی علاج کی سہولت بھی عملی طور پر نافذ کر دی گئی ہے۔ شمالی بنگال میں کینسر اسپتال کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے۔ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)کے لیے باڑ لگانے کی غرض سے زمین حوالے کرنے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کے لیے جسٹس برجیندر ناتھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مغربی بنگال میں بدعنوانی میں ملوث افراد کو چاہیے کہ کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوتے ہی لوٹا گیا ایک ایک پیسہ واپس کرنے کے لیے تیار رہیں۔ بنگال کے غریب عوام اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ خواتین کے خلاف مظالم کے معاملات کی تحقیقات کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ پہلے طویل عرصے سے زیر التوا بدعنوانی کے مقدمات میں قانونی کارروائی کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی، لیکن اب مغربی بنگال حکومت نے ایسے تمام معاملات میں منظوری دے دی ہے۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور ہم اسے نافذ کریں گے۔ مغربی بنگال مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا گیا ہے۔ ہم نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا اور یہ بل اسی سمت میں پہلا قدم ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں دراندازوں کی شناخت کرکے انہیں ملک سے باہر بھیجنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ماؤں اور بہنوں کی حفاظت کے لیے درگا سیکورٹی اسکواڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ جناب شوبھیندو ادھیکاری نے اپنی ہی ریاست میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی ایک عظیم الشان یادگار تعمیر کر کے آنے والی نسلوں کو تحریک دی ہے۔ جب قوم پرستانہ سوچ رکھنے والی حکومت اقتدار میں آتی ہے، جب تنظیم کے نظریے پر چلنے والی حکومت تشکیل پاتی ہے اور جب حکومت ذاتی مفادات اور خاندانی سیاست سے بالاتر ہو کر کام کرتی ہے، تب ہی ایسے کام ممکن ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جناب شوبھیندو ادھیکاری نے بنگال کے عوام کی فلاح کے لیے ہمارے انتخابی منشور پر انتہائی تیزی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ یہ نہ صرف بنگال کے عوام بلکہ پورے ملک کے لیے امید کی ایک بڑی کرن ہے۔ آج پورا ملک بڑی امیدوں کے ساتھ بنگال کی طرف دیکھ رہا ہے۔ بنگال نے کئی برسوں تک مذہبی، فکری، ادبی اور قوم پرستانہ میدانوں میں پورے ملک کی قیادت کی تھی۔ ایک طویل عرصے تک اپوزیشن جماعت کی حکومت کے دوران بنگال کی اس روح کو دبا دیا گیا، لیکن اگر پودا اور اس کا بیج مضبوط ہو تو موقع ملتے ہی وہ دوبارہ ایک تناور برگد کے درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وزیر اعلیٰ جناب شوبھیندو ادھیکاری کی قیادت میں’سونار بنگلہ‘ کی تعمیر کا سفر نہ صرف شروع ہو چکا ہے ،بلکہ ہم اسے زمینی حقیقت میں بھی تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ جس شخصیت نے بنگال، کشمیر اور آسام کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، اس کی یاد میں آج تک کسی نے یادگار تعمیر کرنے کا نہیں سوچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جناب شوبھیندو ادھیکاری کی حکومت پانچ برس کے اندر اپنا ہر وعدہ پورا کرے گی اور ’سونار بنگلہ‘ کی تعمیر کی مضبوط بنیاد رکھے گی۔

 

****

ش ح۔م ع ن-م ش

U-9638


(रिलीज़ आईडी: 2281889) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Bengali , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada