وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

سولہویں  ہند-جاپان سالانہ سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ

प्रविष्टि तिथि: 02 JUL 2026 9:58PM by PIB Delhi

مشترکہ ترقی، خوشحالی اور لچک کے لیے اسٹریٹجک ہم آہنگی اور اعتماد پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینا

 ہندوستان  کے وزیراعظم عزت مآب جناب نریندر مودی کی دعوت پر جاپان کی وزیراعظم عزت مآب محترمہ تاکائیچی سنائے نے یکم سے 3 جولائی 2026 تک 16ویں  ہند-جاپان سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ وزیراعظم تاکائیچی کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا، جس میں سینئر حکام، مختلف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران (سی ای اوز) اور صنعت کے ممتاز رہنما شامل تھے۔ وزیراعظم تاکائیچی کا  ہندوستان  کا یہ پہلا سرکاری دورہ تھا۔

دونوں وزرائے اعظم نے گزشتہ سالانہ سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور  ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے سے نہ صرف دونوں ملکوں کو باہمی فائدہ ہوگا بلکہ اس سے آزاد و کھلے ہند-بحرالکاہل خطے اور اس سے آگے بھی استحکام، لچک اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

تیزی سے غیر یقینی اور تغیر پذیر جغرافیائی و سیاسی ماحول میں ہند-جاپان شراکت داری کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں وزرائے اعظم نے ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ 15ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہی اجلاس کی کامیابی کی بنیاد پر انہوں نے تین ترجیحی شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا، جن میں دفاعی و سلامتی تعاون، اقتصادی شراکت داری (جس میں اقتصادی سلامتی، توانائی کا تحفظ، ٹیکنالوجی اور اختراع شامل ہیں) اور عوامی روابط شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ  ہندوستا ن اور جاپان اپنے اپنے قومی مفادات کے حصول کی کوششوں میں ایک دوسرے کے قدرتی اور ناگزیر شراکت دار ہیں۔

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دنیا کی نمایاں جمہوریتوں اور بڑی معیشتوں کے طور پر ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی پر مبنی آزاد اور کھلے بین الاقوامی نظام کی تشکیل اور اس کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم مودی نے جاپان کے تازہ ترین ‘فری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک (ایف او آئی پی)’ ویژن کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کےانڈو پیسیفک اوشنز انیشی ایٹیو (آئی پی او آئی) اور **ریجنز میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی و جامع پیش رفت (ایم اے ایچ اے ایس اے جی اے آر-‘ ساگر’) سے قریبی ہم آہنگی رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے مشترکہ اسٹریٹجک ویژن کی بنیاد پر عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے اس امر پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا کہ دوطرفہ دفاعی اور سلامتی تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے اور گزشتہ سالانہ سربراہی اجلاس میں منظور کیے گئے‘سلامتی تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیہ’ کی بنیاد پر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اپنے وزراء کو ہدایت دی کہ رواں سال کے اختتام تک ٹوکیو میں2+2 وزارتی اجلاس کا چوتھا دور منعقد کیا جائے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا، جس میں جاپانی فریق کی دو بحری خدمات کے تعاون سے‘جے میکس- 25’ بحری مشق کا کامیاب انعقاد شامل ہے۔  ہندوستان  نے وشاکھاپٹنم میں منعقدہ‘انٹرنیشنل فلیٹ ریویو- 2026’ میں جاپان کی شرکت کا خیر مقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بحری مشقوں میں توسیع، سیٹلائٹ صلاحیتوں کے ذریعے میری ٹائم ڈومین آگاہی، بحری جہازوں کی مرمت، دیکھ بھال اور اوورہال(ایم آر او) میں تعاون اور ‘میک اِن انڈیا’ کے فریم ورک کے تحت دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم مودی نے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق جاپان کے تین اصولوں پر نظرِ ثانی کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔ دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یونیفائیڈ کمپلیکس ریڈیو انٹینا (یو این آئی سی او آر این- یونیکارن ) منصوبے سے متعلق باقی ماندہ تکنیکی امور پر اصولی اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی امید ظاہر کی اور دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دیگر مشترکہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے امکانات کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات کو تسلیم کیا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال دونوں ممالک سے اقتصادی سلامتی کے شعبے میں مزید ٹھوس تعاون کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے اقتصادی سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور ایک مستحکم و خوشحال خطے کے لیے اہم اقدامات تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقتصادی دباؤ، غیر منڈی پر مبنی پالیسیوں اور طریق کار، خصوصاً من مانی برآمدی پابندیوں پر اپنی شدید تشویش کا اعادہ کیا، جو بالخصوص اہم معدنیات اور حساس صنعتی شعبوں کی سپلائی چین میں خلل اور قیمتوں میں ہیرا پھیری کا سبب بن سکتی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے متنوع، مضبوط اور قابلِ اعتماد عالمی سپلائی چینز، منصفانہ مسابقتی عالمی ماحول اور کسی ایک ملک پر انحصار سے گریز کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے قوانین اور متعلقہ ضوابط کا احترام کرتے ہوئے اہم ٹیکنالوجیز کے فروغ اور تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

دونوں فریقوں نے اعلیٰ ٹیکنالوجی کی تجارت کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ برآمدی ضوابط سے متعلق چیلنجز کو باہمی طور پر آسان بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتوں کے درمیان مشاورت کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے گزشتہ سالانہ سربراہی اجلاس میں شروع کیے گئے ‘اقتصادی سلامتی اقدام’ کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت، بشمول نجی شعبے کے پہلے اقتصادی سلامتی مکالمہ اور رواں سال کے اوائل میں اقتصادی سلامتی مکالمہ کے دوسرے دور کے انعقاد کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور دواسازی کے شعبوں میں منصوبہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ‘ ہندوستان-جاپان اقتصادی سلامتی تعاون پر مشترکہ اعلامیہ’ بھی منظور کیا۔

عالمی توانائی منڈیوں میں  نشیب و فراز سے متاثر ہونے والے بڑے توانائی استعمال کرنے والے ممالک کی حیثیت سے اپنے مشترکہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں وزرائے اعظم نے توانائی کے تحفظ کے شعبہ میں  ہندوستان -جاپان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سمیت سمندری راستوں پر جہاز رانی کی بلا رکاوٹ آزادی اور عالمی تجارت کے مسلسل بہاؤ کو یقینی بنانے کی اہمیت کا اعادہ کیا اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی محدودکن اقدام کی مخالفت کی۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی کی پوری ویلیو چین میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا خیر مقدم کیا اور دوطرفہ و کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی چینز کی مضبوطی اور عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے سمندری توانائی کی ترسیل سے متعلق ویلیو چین میں مشترکہ سرمایہ کاری سمیت تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے توانائی کی مضبوطی بڑھانے کے لیے علاقائی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا، جن میں جاپان کا پارٹنرشپ آن وائیڈ انرجی اینڈ ریسورسز ریزیلینس ( پی او ڈبلیو ای آر آر-پاور ایشیا)، جنوبی ایشیا میں توانائی کے تحفظ کے لیے  ہندوستان کی معاونت، اور‘کواڈ انڈو پیسیفک انرجی سکیورٹی اقدام’ شامل ہیں۔ انہوں نے توانائی کی مضبوطی سے متعلق مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا، جس میں بہترین طریق کار کے تبادلے اور اسٹریٹجک ذخیرہ اندوزی کے نظام سے متعلق تکنیکی تعاون شامل ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم تاکائیچی نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی رکنیت کے لیے ہندوستان  کی حمایت کا اعادہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے صاف توانائی کے شعبے میں اپنی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا اور بھارت-جاپان کوآپریٹیو بایوگیس فار گروتھ انیشیٹو(سی بی جی آئی) کے آغاز کا خیرمقدم کیا، جو بھارت میں ایک ہزار بایوگیس پلانٹس اور نامیاتی کھاد کے کارخانوں کے قیام کے ہدف کے پیش نظر بایوگیس کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھارت-جاپان تعاون کا ایک نیا منصوبہ ہے۔ انہوں نے جاپان کی وزارتِ معیشت، تجارت و صنعت اور بھارت کی وزارت تعاون اور محکمۂ مویشی پروری و ڈیری کے درمیان مفاہمت کی یادداشت ( ایم او سی) پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہائیڈروجن اور امونیہ نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی بلکہ توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم ہیں۔ انہوں نے دونوں حکومتوں کی مسلسل حمایت کے ساتھ اوڈیشہ میں تاریخی ‘کلین امونیہ منصوبے’ کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے صاف توانائی کے منصوبوں، جن میں کلین امونیہ، گرین ہائیڈروجن، شمسی فوٹو وولٹائک (سولر پی وی) ٹیکنالوجیز، جوہری توانائی اور دیگر شعبے شامل ہیں، کو فروغ دینے کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) سمیت نئی ٹیکنالوجیز میں اختراع کو فروغ دینا دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی بنیاد کو مزید وسیع کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور قابلِ اعتماد و مضبوط ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کی توثیق کی کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال اور اطلاق کے ذریعے اختراع کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ اے آئی کی پائیدار اور جامع ترقی ممکن ہو، جس میں بنیادی انفراسٹرکچر بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس شعبے میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے، متعلقہ خطرات کو مناسب انداز میں کم کرنے، اور ‘ہیروشیما اے آئی پراسیس’ اور ‘اے آئی امپیکٹ سے متعلق نئی دہلی اعلامیہ’ کی روح کے مطابق مضبوط، لچکدار، متنوع اور قابل اعتماد اے آئی سپلائی چین کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس تناظر میں انہوں نے پہلے‘بھارت-جاپان اے آئی اسٹریٹجک ڈائیلاگ’ کے انعقاد کا خیرمقدم کیا اور ‘اے آئی تعاون سے متعلق مشترکہ بیان’ منظور کیا، تاکہ‘ ہندوستان -جاپان اے آئی تعاون اقدام’ کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

دونوں وزرائے اعظم نے جاپان کی جانب سے بھارت میں بڑھتی ہوئی نجی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا اور اسے بھارت کے ‘وکست بھارت’ کے قومی ہدف کے حصول میں اہم کردار قرار دیا۔ انہوں نے گزشتہ سالانہ سربراہی اجلاس میں مقرر کیے گئے ‘10 ٹریلین ین’ کے سرمایہ کاری ہدف کے حصول کی جانب ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-جاپان صنعتی مسابقتی شراکت داری (جے جے آئی سی پی) کے تحت فاسٹ ٹریک میکانزم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) پر دستخط ہوئے پندرہ برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اور دوطرفہ تجارت میں وسعت اور تنوع لانے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اس معاہدے کے نفاذ پر نظرِ ثانی اور اس کے مکمل و مؤثر استعمال کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تاکہ اسے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ جاپانی فریق نے بھارت کی جانب سے معروف جاپانی مالیاتی اداروں اور بینکوں کو بھارتی بینکاری اور غیر بینکاری مالیاتی شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے، قابل اطلاق قوانین و ضوابط کے مطابق فراہم کی گئی سہولتوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے آئی جے آئی سی پی کے تحت لاجسٹکس، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، زراعت، آٹوموبائلز اور صنعتی سرمایہ جاتی اشیا کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی دوطرفہ کوششوں کی توثیق کی۔ انہوں نے مقامی کرنسی میں لین دین سمیت بھارت اور جاپان کے درمیان مالیاتی تعاون اور ادائیگی کے نظام میں اشتراک کو مزید فروغ دینے کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دواسازی کی سپلائی چینز سمیت صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے بھارت-جاپان ایس ایم ای فورم کے افتتاح اور جاپان سے فضائی صنعت (ایروناٹیکل سیکٹر) کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ( ایس ایم ایز) کے ایک وفد کے بھارت کے دورے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور بالخصوص جاپانی اور بھارتی ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کے درمیان روابط کو فروغ دینے کے لیے جاری مختلف اقدامات میں مسلسل پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ ‘جاپان-بھارت اسٹارٹ اپ سپورٹ انیشی ایٹیو ( جے آئی ایس ایس آئی)’ کی بنیاد پر انہوں نے مختلف جامعات کے تعاون سے بھارتی مارکیٹ میں جاپانی ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کی شرکت کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور جاپانی کمپنیوں کے بھارت کے ٹائر-II اور ٹائر-III سپلائر نظام کے ساتھ روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس تناظر میں دونوں رہنماؤں نے سرمایہ کاری کے بہاؤ، صنعتی اشتراک اور ٹیکنالوجی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے بھارت کی سماجی و اقتصادی ترقی میں جاپان کی ترقیاتی معاونت کے نمایاں کردار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے چار منصوبوں میں حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جن میں ممبئی میٹرو (لائن 11) ،بنگلورو میٹرو ( فیز- 3) ،مہاراشٹر میں صحت اور تعلیمی نظام کی بہتری اور پنجاب میں پائیدار باغبانی شامل ہیں، جو رابطے کو مضبوط بنانے اور صاف و پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقیاتی تعاون کو اس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا جو مشترکہ اقتصادی ترقی کی بنیاد بنے۔

دونوں وزرائے اعظم نےممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل منصوبے کو بھارت اور جاپان کے درمیان ایک اہم اور نمایاں مشترکہ منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم تاکائیچی نے کہا کہ جاپان بھارت کے اس ہدف کو پوری طرح سمجھتا ہے کہ 2027 تک ترجیحی حصوں پر تجارتی آپریشن شروع کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے ای 10 ٹرین متعارف کرانے کے ہدف کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے بھارت کے سات ہزار کلومیٹر طویل قومی ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مستقبل کی تیز رفتار ریل راہداریوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم مودی نے جاپانی کمپنیوں کو مستقبل کی ان راہداریوں کی ترقی میں شرکت کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی اور اس سلسلے میں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا، جس کا جاپانی فریق نے خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جاپان کی جدید نقل و حمل کی ٹیکنالوجی کو ہندوستان  کے اعلیٰ انسانی وسائل اور وسیع مارکیٹ کی صلاحیت کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے ہائی اسپیڈ ریل اور جامع نقل و حمل کے شعبے میں نجی شعبے کی قیادت میں تعاون اور سرمایہ کاری کو تیز کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اگلی نسل کی نقل و حرکت کی شراکت داری** (این جی ایم پی) سے متعلق مفاہمت کی یادداشت  پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جہاز سازی کے شعبے میں، بالخصوص انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے تعاون کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔

 

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور تبادلہ دوطرفہ تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے تعلیمی اداروں کے درمیان جاری مشترکہ تحقیقی منصوبوں، دونوں ممالک کے سائنس دانوں اور محققین کے تبادلہ جاتی دوروں اور جاپانی کمپنیوں میں انٹرن شپ کے ذریعے صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نےلوٹس پروگرام  کے تحت جاپان میں بھارتی ماہرین کی بڑھتی ہوئی شمولیت، جاپان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایجنسی کے ساکورا سائنس ایکسچینج پروگرام اور بھارت کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی ( ڈی ایس ٹی) کے اقدامات کے تحت جاپانی ہائی اسکول طلبہ کے تبادلوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے انڈو-جاپان کوآپریٹیو سائنس پروگرام (آئی جے سی ایس پی) ،جاپان سوسائٹی فار پروموشن آف سائنس(جے ایس پی ایس) ، ایم ای ایکس ٹی اسکالرشپ اورانٹر یونیورسٹی ایکسچینج پروجیکٹ جیسے پروگراموں کے ذریعے طلبہ اور جامعات کے درمیان تبادلوں کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نےبھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی ( جے اے ایکس اے) کے درمیان جاری قمری قطبی تحقیقاتی مشن (ایل یو پی ای ایکس) میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارت کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی اور جاپان کے کابینہ دفتر کے درمیان کوانٹم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں حال ہی میں لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے عوامی روابط کو مزید فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہنرمند افراد کی آمدورفت ایسا باہمی تکمیلی تعلق ہے جو دونوں جانب کے چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بھارت میں جاپانی زبان کی تعلیم کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا اور ‘نیہونگو پارٹنرز پروگرام’ سمیت اس شعبے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ سن 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان آنے جانے والے افراد کی تعداد 5 لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی اور دوطرفہ سیاحت کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ادارہ جاتی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جاری فکری اور ثقافتی تبادلوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اینیمی، مانگا، گیمنگ اور فلم جیسی تخلیقی صنعتیں، بالخصوص نوجوانوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سیاحوں سمیت عوامی روابط میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے قونصلر امور پر متعلقہ اداروں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی اہمیت کی بھی توثیق کی۔

دونوں وزرائے اعظم نے بھارت کی ریاستوں اور جاپان کے صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے اس اہم کردار کو سراہا جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں ادا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے علاقائی سطح پر مسلسل بڑھتے ہوئے تبادلوں کا خیرمقدم کیا، جن میں بھارت-جاپان گورنرز نیٹ ورک برائے دوستی و تبادلہ کا قیام، یاماناشی اور اتر پردیش، تویاما اور آندھرا پردیش، شیزوؤکا اور گجرات، ہاماماتسوسٹی  اور احمد آباد، واکایاما اورمہاراشٹر،سان اِن خطہ اورکیرالہ، ایہیمے اورتمل ناڈو، فوکوؤکا اوردہلی، نیز کیتاکیوشو سٹی  اورتلنگانہ کے درمیان اعلیٰ سطحی تعاون شامل ہے۔

علاقائی اور عالمی امور

تازہ ترین فری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک ( ایف او آئی پی) ویژن اور ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تناظر میں ایک مضبوط اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے دونوں وزرائے اعظم نے بھارت کے شمال مشرقی خطے ( این ای آر) کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم مودی نے سڑکوں، پلوں، صحت کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے، جنگلات کے انتظام، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں اس خطے کی ترقی کے لیے جاپان کی مضبوط معاونت کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے سیمی کنڈکٹرز اور بایو فیول کے شعبوں میں جاپانی اور بھارتی کمپنیوں کی سرگرمیوں، ہنر مندی کی تربیت، جاپانی زبان کی تعلیم اور انسانی وسائل کے تبادلوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے خلیج بنگال کے علاقے سے شمال مشرقی بھارت کو صنعتی ویلیو چینز کے ذریعے جوڑنے کے لیے بِمسٹیک(بی آئی ایم ایس ٹی ای سی ) سمیت متعلقہ شراکت داروں اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فروری 2026 میں شیلانگ، میگھالیہ میں چھٹے بھارت-جاپان انٹلیکچول  کانکلیو (آئی-جے پی سی) کے کامیاب انعقاد کو بھی سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے ایکٹ ایسٹ فورم ( اے ای ایف) کے اگلے اجلاس کو جلد منعقد کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

ایک مضبوط اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے دونوں وزرائے اعظم نے ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نےکواڈ  فریم ورک کے تحت ہونے والی مسلسل پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور عملی تعاون کو مزید وسعت دینے کے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کواڈ کے چار بنیادی ستونوں—بحری اور بین سرحدی سلامتی، اقتصادی خوشحالی اور سلامتی (بشمول اہم معدنیات)، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور انسانی امداد و ہنگامی ردعمل—میں تعاون نہایت اہم ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ان شعبوں میں بڑھتا ہوا دوطرفہ تعاون کواڈ کی مجموعی کوششوں کو مزید تقویت دے گا۔ انہوں نے اگلے کواڈ سربراہی اجلاس کے جلد انعقاد کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نےآسیان  کے رکن ممالک کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ علاقائی استحکام، امن، خوشحالی اور مضبوطی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس تناظر میں دونوں رہنماؤں نےفلپائن کے ساتھ پہلے سہ فریقی **1.5 ٹریک پالیسی ڈائیلاگ کے انعقاد کی تیاری شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے آسیان کی مرکزیت اور اتحاد کے لیے اپنی بھرپور حمایت اور ‘آسیان آؤٹ لک آن دی انڈو پیسیفک ( اے او آئی پی)’ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے ہم خیال ممالک کے درمیان اہم معدنیات کی سپلائی چینز کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کی اہمیت پر زور دیا، جس میں کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بیز) کے ذریعے  عالمی  بینک گروپ کی ریزیلینٹ اینڈ اِنکلیوسیو سپلائی چین انہانسمنٹ (آر آئی ایس ای- رائز) پارٹنرشپ اور ایشیائی ترقیاتی بینک ( اے ڈی بی) کی کریٹیکل منرلز ٹو مینوفیکچرنگ فنانسنگ پارٹنرشپ فیسلٹی(سی ایم ایم-ایف پی ایف) جیسے اقدامات شامل ہیں۔

دونوں وزرائے اعظم نے مشرقی بحیرۂ چین اور جنوبی بحیرۂ چین کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بحری اور فضائی آمدورفت کی آزادی اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی یکطرفہ کارروائی، نیز طاقت یا جبر کے ذریعے موجودہ صورتحال (اسٹیٹس کو) کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے متنازعہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سمندری تنازعات کو پُرامن طریقے سے اور بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن (یو این سی ایل او ایس) کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

دونوں وزرائے اعظم نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں کے مطابق شمالی کوریا کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے اور اس سے باہر شمالی کوریا کو یا اس سے جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق مسلسل تشویش کا مؤثر طور پر ازالہ کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کرتے ہوئے پابندیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کریں، جن میں شمالی کوریا کو ہر قسم کے ہتھیار اور متعلقہ سازوسامان کی منتقلی یا وہاں سے ان کی خریداری پر پابندی بھی شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے جاپانی شہریوں کے اغوا کے معاملے کے فوری حل کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے میانمار کی صورتحال اور اس کے علاقائی اثرات پر اپنی تشویش برقرار رکھی۔ انہوں نے فوری طور پر جنگ بندی، تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان جامع مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل، اور میانمار کی قیادت میں، میانمار کی ملکیت پر مبنی پُرامن اور دیرپا حل کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ ایران سے متعلق صورتحال کے حوالے سے انہوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے آزاد اور محفوظ جہاز رانی، توانائی اور دیگر ضروری اشیا کی مستحکم سپلائی چینز کو برقرار رکھنے، اور بین الاقوامی قانون، خصوصاً یو این سی ایل او ایس میں درج اصولوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے غزہ کی تعمیرنو کے لیےجامع منصوبے ( سی پی) کو آگے بڑھانے اور ‘دو ریاستی حل’ کو یقینی بنانے کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں جلد از جلد استحکام کی بحالی اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔

دونوں وزرائے اعظم نے بھارت-افریقہ فورم سربراہی اجلاس (آئی اے ایف ایس) کے طریق کار، جاپان کی ٹوکیو انٹرنیشنل کانفرنس آن افریقن ڈیولپمنٹ (ٹی آئی سی اے ڈی) اور بحرِ ہند-افریقہ اقتصادی خطہ اقدام کے تحت افریقہ میں تعاون کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے افریقہ میں جاپان-بھارت تعاون کو وسعت دینے کے لیے اسٹریٹجک آؤٹ لک کی تیاری اور بھارت میں صنعتی ارتکاز کے ذریعے تجارت و سرمایہ کاری کا مرکز قائم کرنے، نیز افریقہ میں پائیدار اقتصادی ترقی کے لیےبھارت-جاپان تعاون اقدام کو آگے بڑھانے کی پیش رفت کا نوٹس لیا۔ دونوں رہنماؤں نے ان اقدامات کے باہمی اشتراک سے عملی تعاون کو مزید فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نےاقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق یوکرین میں منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک کی جانب سے منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا بھی خیرمقدم کیا۔

کثیرالجہتی تعاون کے حوالے سے دونوں وزرائے اعظم نے جی-4 ممالک کے ساتھ مل کراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ( یو این ایس سی) میں فوری اصلاحات کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل دونوں اقسام کی نشستوں میں توسیع کی جائے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاکہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی حقائق کی بہتر عکاسی ہو سکے۔ دونوں رہنماؤں نے بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این) کے فریم ورک کے تحت متن پر مبنی مذاکرات (ٹی بی این) کے جلد آغاز کے ذریعے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا، تاکہ ایک مقررہ مدت کے اندر ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے اصلاح شدہ سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لیے ایک دوسرے کی امیدواری کی باہمی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ بھارت اور جاپان کے درمیان 2028-29 اور 2033-34 کی مدت کے لیے سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں کی امیدواری کے حوالے سے باہمی حمایت پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے مطابق عالمی نظم و نسق کو مؤثر بنانے کے لیے اقوام متحدہ میں ایسی اصلاحات ضروری ہیں جو ادارے کی کارکردگی اور مؤثریت میں اضافہ کریں۔

وزیرِ اعظم مودی نے2030 میں اقوام متحدہ کی چوتھی عالمی کانفرنس برائے آفات کے خطرات میں کمی(فورتھ  یونائٹیڈ نیشنز  ورلڈ کانفرنس آن ڈیزاسٹررسک ریڈکشن(یو این  ڈبلیو سی ڈی آر آر) کی میزبانی کے لیے بھارت کی حمایت پر جاپان کا خیرمقدم کیا۔ اس کانفرنس کا مقصدسینڈائی فریم ورک برائے آفات کے خطرات میں کمی 2015-2030 کے جذبے اور اصولوں کو آگے بڑھانا ہے، جن میں آفات کے خطرات میں کمی کے لیے سرمایہ کاری اور ‘‘بہتر انداز میں دوبارہ تعمیر ( بی بی بی) جیسے تصورات شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ آفات کے خطرات میں کمی کے شعبے میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے، جس میں 2027 میں جاپان کے شہر سینڈائی میں منعقد ہونے والی ‘ایشیا بحرالکاہل وزارتی کانفرنس برائے آفات کے خطرات میں کمی’ بھی شامل ہے۔ انہوں نے افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ/مغربی ایشیا جیسے علاقائی امور، نیز اقوام متحدہ کی اصلاحات، خلائی امور، سائبر سکیورٹی، بحری شعبہ، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، آرکٹک اور پالیسی منصوبہ بندی سمیت کثیرالجہتی ایجنڈے پر دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان پالیسی مشاورت کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی ہر شکل اور ہر مظہر کی دوٹوک اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کی، جس میں پاکستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی بھی شامل ہے۔ انہوں نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام، جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور 29 جولائی 2025 کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کا نوٹس لیا، جس میں دی ریزسٹنس فرنٹ ( ٹی آر ایف) کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے10 نومبر 2025 کو دہلی میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی بھی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد، منصوبہ سازوں اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کو بغیر کسی تاخیر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تمام دہشت گرد تنظیموں اور اداروں، جن میں القاعدہ، داعش (آئی ایس آئی ایس/داعش) ، لشکرطیبہ ( ایل ای ٹی)، جیشِ محمد (جے ای ایم) اور ان کے ذیلی گروہ شامل ہیں- کے خلاف مربوط اور مؤثر کارروائیوں پر بھی زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے، دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع اور اس کے بین الاقوامی جرائم سے تعلق کو ختم کرنےاور دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے مختلف شعبوں میں بھارت-جاپان تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے سالانہ سربراہی اجلاس کے طریقۂ کار کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سفارتی تعلقات کے قیام کے75 سال مکمل ہونے کے موقع پر‘بھارت-جاپان مشترکہ افق کا سال’( انڈیا-جاپان ایئرز آف ہورائزن ) مناتے ہوئے خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور سال بھر جاری رہنے والی یادگاری تقریبات کے ذریعے عوامی روابط کو مزید گہرا کرنے کے اپنے عزم کی تجدید کی۔

وزیرِ اعظم تاکائیچی نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران پرتپاک مہمان نوازی پر وزیراعظم مودی کا شکریہ ادا کیا اور انہیں آئندہ سال 17ویں  ہند-جاپان سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے جاپان کے دورے کی دعوت دی، جسے وزیراعظم مودی نے خوشی سے قبول کر لیا۔

 

*****

ش ح- ظ الف- ع ن

UR-9492


(रिलीज़ आईडी: 2280621) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Malayalam , Assamese