دیہی ترقیات کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں منعقد ہونے والی ’’راشٹریہ گرامین وکاس سمّیلن‘‘ نے ’’ترقی یافتہ گاؤں- ترقی یافتہ بھارت‘‘ کے مشترکہ روڈ میپ کو حتمی شکل دی
انتیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے دیہی ترقی کے وزراء، پہلی بار ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ گاؤں محض مستفید ہونے والے نہیں بلکہ ترقی کی اصل محرک قوت ہیں
’’ترقی یافتہ بھارت کا راستہ ترقی یافتہ گاؤں سے ہو کر گزرتا ہے‘‘:جناب شیوراج سنگھ چوہان
’’وکست بھارت – وی بی-جی رام-جی‘‘اسکیم یکم جولائی سے ملک بھر میں نافذ کی جائے گی: جناب شیوراج سنگھ چوہان
ترقی کے لیے ریاستی فنڈز کی بروقت فراہمی اور خالی آسامیوں کو پر کرنا نہایت ضروری ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
دیہی ترقی کے مرکزی وزیر نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ شفافیت اور بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ ہر اہل مستفید کو رہائش فراہم کی جائے گی اور کوئی بھی مستحق خاندان اس سے محروم نہیں رہے گا
’’یہ سیاست کا نہیں بلکہ شراکت داری کا وقت ہے‘‘:جناب شیوراج سنگھ چوہان
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے’’لکھپتی دیدی ڈیش بورڈ‘‘ اور ’’ شی لیپس ‘‘ پلیٹ فارم کا بھی آغاز کیا
प्रविष्टि तिथि:
29 JUN 2026 5:30PM by PIB Delhi
دو روزہ ’’راشٹریہ گرامین وکاس سمّیلن‘‘ کے دوسرے دن، جس کا عنوان ’’گرامودیہ سے راشٹرودیہ‘‘ تھا اور جو نئی دہلی کے پُوسا کیمپس میں منعقد ہوا، دیہی ترقی و زراعت اور کسانوں کی بہبودکے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دیہی ترقی کے وزراء کے ساتھ تفصیلی غور و خوض کیا۔اس کانفرنس میں نہ صرف دیہی ترقی کی بڑی اسکیموں کے نفاذ اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا بلکہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ’’ترقی یافتہ گاؤں – ترقی یافتہ بھارت‘‘ (وکست گرام – وکست بھارت) کے وژن کو ان کی قیادت اور رہنمائی میں عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملیاں بھی مرتب کی گئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ گاؤں محض مٹی، کھیتوں اور چوراہوں کے مجموعے نہیں بلکہ یہ بھارت کی طاقت، اس کی روح اور اس کے وجود کا مرکز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ بھارت کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک گاؤں خوشحال، خود کفیل اور ترقی یافتہ نہ بن جائیں اور یہ کہ دیہی بھارت کی ترقی کے بغیر قومی ترقی ممکن نہیں۔
انتیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزراء کا تاریخی اجتماع
پہلی بار 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے دیہی ترقی کے وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور پالیسی ساز ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تاکہ صرف دیہی ترقی کے مستقبل پر تفصیلی غور و خوض کیا جا سکے۔ اس سمّیلن میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ جناب کیشو پرساد موریہ، چھتیس گڑھ کے نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے شرما، مختلف ریاستوں کے دیہی ترقی کے وزراء اور دیگر اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔یہ اجتماع باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت (کوآپریٹو فیڈرلزم) کی حقیقی روح کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاسی اختلافات کو پسِ پشت رکھتے ہوئے توجہ مکمل طور پر ترقی کو تیز کرنے، گورننس کو بہتر بنانے اور مرکز و ریاستوں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنے پر مرکوز رہی، تاکہ ملک بھر کی دیہی برادریوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ گاؤں کا وژن
بھارت کے ترقیاتی سفر میں گاؤں کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کا خواب اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب گاؤں معاشی طور پر خود کفیل، روزگار کے مواقع سے بھرپور اور معیاری بنیادی ڈھانچے اور ضروری عوامی خدمات سے آراستہ ہوں۔انہوں نے گاؤں کو قوم کی روح، طاقت اور شعور قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیہی ترقی ہی وہ بنیاد ہے جس پر ملک کی مجموعی ترقی استوار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گاؤں میں کی جانے والی ہر سرمایہ کاری بالآخر بھارت کی طویل مدتی معاشی ترقی، سماجی پیش رفت اور قومی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یکم جولائی سے نئی روزگار اسکیم کا نفاذ
مرکزی وزیر نے اعلان کیا کہ ’’وکست بھارت – وی بی-جی رام-جی‘‘اسکیم یکم جولائی سے ملک بھر میں نافذ کی جائے گی، جو موجودہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (ایم جی این آر ای جی ایس) کی جگہ لے گی۔ انہوں نے کانفرنس کو آگاہ کیا کہ اس نئے پروگرام کے نفاذ کے لیے پہلے ہی 95,682 کروڑ روپے کی عبوری منظوری دی جا چکی ہے۔انہوں نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ تمام ضروری ضابطہ جاتی کارروائیاں فوری طور پر مکمل کریں تاکہ اسکیم کا بروقت آغاز ممکن ہو اور دیہی گھرانوں کو اس کے فوائد بلا تعطل فراہم کیے جا سکیں۔
لکھپتی دیدی مشن کو نئی رفتار
کانفرنس میں ’’لکھپتی دیدی ڈیش بورڈ‘‘ کا اجرا اور خواتین سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ افراد کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’’ شی لپس‘‘ (سیلف ہیلپ انٹرپرینیور – لائیولی ہُڈز اینڈ انٹرپرائز ایپلی کیشن فار پراسپیریٹی اینڈ سسٹین ایبیلٹی)‘‘ کا آغاز کیا گیا۔ جناب چوہان نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے لکھپتی دیدیوں کا ہدف 3 کروڑ سے بڑھا کر 6 کروڑ خواتین تک کر دیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے آئندہ پانچ برسوں میں 10 لاکھ کروڑ روپے کی بینک لنکیج کا روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام خواتین کی مالی شمولیت، کاروباری ترقی اور پائیدار روزگار کے مواقع کو مضبوط بنائے گا، جس سے لاکھوں دیہی خواتین معاشی طور پر خود مختار بن کر دیہی خوشحالی میں فعال کردار ادا کریں گی۔
عملدرآمد کی بہتری پر توجہ
جناب چوہان نے دیہی ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ کے لیے کئی ترجیحات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں اپنے مالی حصے کی بروقت فراہمی یقینی بنائیں تاکہ منصوبوں اور ادائیگیوں میں تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے خالی اسامیوں کو فوری پر کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ طویل عرصے تک اسامیاں خالی رہنے سے عملدرآمد کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسران کے بار بار تبادلے تسلسل اور جوابدہی کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے اہم ذمہ داریاں سنبھالنے والے افسران کو عموماً دو سے تین سال تک ایک ہی تعیناتی پر رہنا چاہیے۔ انہوں نے عوامی آگاہی مہمات کو بھی ناگزیر قرار دیا تاکہ اہل مستفیدین حکومتی اسکیموں سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکیں۔انہوں نے سماجی آڈٹ کو مزید مضبوط بنانے اور شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نگرانی کے نظام کے زیادہ استعمال پر بھی زور دیا۔
دیہی مکانات، سڑکوں اور ہنر مندی کی اسکیموں کا جائزہ
پردھان منتری آواس یوجنا-دیہی(پی ایم اے وائی-جی)، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا(پی ایم جی ایس وائی) اور دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیہ یوجنا(ڈی ڈی یو-جی کے وائی) کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ کئی ریاستوں نے قابلِ تعریف کارکردگی دکھائی ہے، جبکہ بعض ریاستوں کو عملدرآمد میں تیزی لانے اور موجودہ خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے دیہی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت زمین سے محروم مستحقین کو زمین فراہم کرنے پر خصوصی زور دیا اور ہدایت دی کہ تمام زیر التوا ہاؤسنگ کیسز کو فوری طور پر نمٹایا جائے۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر مستحق دیہی خاندان کو بنیادی سہولیات کے ساتھ مستقل گھر فراہم کیا جائے گا اور کوئی بھی اہل مستفید اس حق سے محروم نہیں رہے گا۔
بہترین عملی تجربات کے تبادلے اور اصلاحات کی اپیل
ریاستوں جیسے جھارکھنڈ، بہار، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں نافذ کیے گئے کامیاب اقدامات—جیسے ملٹی چینل مارکیٹنگ ماڈلز، کمیونٹی بیسڈ انٹرپرائزز اور گھریلو سطح پر روزگار و قرض کی اسکیمیں—کا حوالہ دیتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ان بہترین تجربات کو دستاویزی شکل دے کر تمام ریاستوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ کامیاب جدت طرازیوں کو پورے ملک میں نافذ کیا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ متعدد اسکیموں اور انتظامی طریقۂ کار میں بہتری کی اب بھی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے ریاستوں کو یقین دلایا کہ اگر قواعد و ضوابط کی وجہ سے عملی مشکلات پیش آ رہی ہوں تو دیہی ترقی کی وزارت، مرکزی کابینہ اور وزارتِ خزانہ کے ساتھ مشاورت کر کے مناسب ترامیم کرے گی۔
پانی کی قلت اور مانسون کے بارےمیں انتباہ
ممکنہ کم بارش کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے دیہی ترقی و زراعت اور کسانوں کی بہبودکے مرکزی وزیر نے 14 ریاستوں پر زور دیا کہ وہ پیشگی طور پر الرٹ رہیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کریں۔انہوں نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ پانی کے تحفظ کے ڈھانچوں کو مضبوط بنائیں اور اگر ضرورت پڑے تو دیہی علاقوں میں اضافی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی پیشگی منصوبہ بندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے حکومتیں کم بارش کے اثرات سے مؤثر طریقے سے نمٹ سکتی ہیں اور روزگار و زرعی سرگرمیوں کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔
شراکت داری کے ذریعے تبدیلی کا پیغام
جناب چوہان نے کہا کہ یہ مقابلے کا نہیں بلکہ شراکت داری اور اجتماعی اقدام کا وقت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مرکز کو پالیسی سازی پر توجہ دینی چاہیے، ریاستوں کو مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے، پنچایتوں کو نچلی سطح پر قیادت فراہم کرنی چاہیے اور شہریوں کو ترقی کے عمل میں فعال شریک بننا چاہیے۔ ان کے مطابق صرف اسی باہمی تعاون پر مبنی ماڈل کے ذریعے دیہی بھارت کے مستقبل کو بدلا جا سکتا ہے اور ملک بھر میں دیہی برادریوں کے معیارِ زندگی اور معاشی امکانات میں بنیادی بہتری لائی جا سکتی ہے۔
نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور جدت طرازی
سمّیلن کا اختتام وی بی-جی رام-جی اقدام کے تحت منعقدہ لوگو ڈیزائن، کوئز اور ڈیجیٹل مواد کے مقابلوں کے فاتحین کے اعزازکے ساتھ ہوا، جس میں انعامات جناب شیوراج سنگھ چوہان نے پیش کیے۔اس موقع پر دیہی ترقی سے متعلق نئے خیالات، اختراعی ماڈلز اور ابھرتے ہوئے طریقۂ کار پر مبنی متعدد اشاعتیں بھی جاری کی گئیں، جو حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ جدت طرازی کی حوصلہ افزائی، نوجوان صلاحیتوں کی پذیرائی اور دیہی ترقی کے شعبے میں نئے خیالات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
******
(ش ح ۔ م م۔م ا(
UR.No-9316
(रिलीज़ आईडी: 2279083)
आगंतुक पटल : 10