تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

داخلہ اور تعاون کی وزارتوں کے مرکزی وزیر جناب امِت شاہ نے آج گاندھی نگر سے گجرات کے لیے بھارت ٹیکسی کا اِفتتاح کیا؛ احمد آباد، سورت اور راجکوٹ سمیت گجرات کے تمام بڑے شہروں میں دو پہیہ، آٹو اور چار پہیہ زمروں میں خدمات شروع ہوں گی


وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے منتر کو موبیلٹی سیکٹر میں محسوس کرتے ہوئے، ’بھارت ٹیکسی‘ آج سارتھیوں کی زندگیوں میں تبدیلی لا رہی ہے

بھارت ٹیکسی سے وابستہ 7 لاکھ سے زیادہ ’سارتھی‘؛ ڈرائیور خود اس کے مالک ہیں — یہ انھیں عزت، تحفظ اور خوشحالی دے رہا ہے

مقابلہ کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے کرایوں میں اچانک کمی ’بھارت ٹیکسی‘ کے داخلے کو روکنے کی کوشش ہے تاکہ وہ دوبارہ من مانی پر اتر سکیں، لیکن ’بھارت ٹیکسی‘ خدمت کے عزم کے ساتھ میدان میں مضبوطی سے قائم رہے گی

آئندہ 2 سال میں، بھارت ٹیکسی 500 سے زیادہ شہروں اور قصبوں تک پہنچے گی؛ 31 جولائی سے پہلے، اس کی خدمات ملک کے 7 بڑے شہروں میں دستیاب ہوں گی

یہ ’ڈرائیور‘ اور ’سارتھی‘ کے تصورات کے درمیان بنیادی فرق ہے — نجی کمپنیاں انھیں صرف ڈرائیور کے طور پر دیکھتی ہیں، جب کہ بھارت ٹیکسی انھیں ’سارتھی‘ ہونے کا احترام دیتی ہے

بھارت ٹیکسی میں، سارتھی محض ڈرائیور نہیں، بلکہ شیئر ہولڈر ہیں؛ وہ کسی بھی ایپ کمپنی کے محتاج نہیں ہیں

بھارت ٹیکسی کو کام یاب بنانے کی سب سے بڑی ذمہ داری سارتھیوں اور صارفین پر عائد ہوتی ہے — انھیں فوری فوائد کو دیکھ کر آگے آنا چاہیے اور اسے اپنانا چاہیے

’بھارت ٹیکسی‘ سارتھیوں کی اپنی کوآپریٹو ہے — یہ قرضوں میں ان کی مدد کرے گی، انشورنس تحفظ فراہم کرے گی اور ان کے کاروباری توسیع کے ماڈل کو بھی فروغ دے گی

’بھارت ٹیکسی‘ نے گجرات میٹرو ریل کارپوریشن، گجرات اسٹیٹ کوآپریٹو بینک، ٹریفک پولیس، احمد آباد ایئرپورٹ اور ویسٹرن ریلوے کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کیے

प्रविष्टि तिथि: 27 JUN 2026 6:24PM by PIB Delhi

داخلہ اور تعاون کی وزارتوں کے مرکزی وزیر جناب امِت شاہ نے آج گاندھی نگر، گجرات میں مہاتما مندر کنونشن اور ایگزیبیشن سینٹر میں گجرات کے لیے کوآپریٹو پر مبنی موبیلٹی پلیٹ فارم بھارت ٹیکسیکا اِفتتاح کیا۔ بھارت ٹیکسی کا مقصد ٹیکسی، آٹو اور دو پہیہ موبیلٹی سروسز میں مصروف سارتھیوں کو ملکیت کا حصہ، عزت، تحفظ اور خوشحالی سے جوڑنا ہے، جب کہ شہریوں کو قابلِ اعتماد اور خدمت پر مبنی ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام میں گجرات کے وزیرِ اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، نائب وزیرِ اعلیٰ جناب ہرش سنگھوی، گجرات کے وزیرِ تعاون جناب جیتو بھائی وگھانی، گجرات کے وزیرِ مملکت برائے تعاون جناب رمیش بھائی کٹارا، وزارتِ تعاون کے سکریٹری ڈاکٹر اشیش کمار بھوانی، گجرات کے چیف سکریٹری جناب منوج داس، بھارت ٹیکسی کے چیئرمین ڈاکٹر جے ین مہتا، کوآپریٹو سیکٹر کے سینئر نمائندوں، اہلکاران اور بڑی تعداد میں سارتھیوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، داخلہ اور تعاون کی وزارتوں کے مرکزی وزیر جناب امِت شاہ نے کہا کہ آج بھارت کے موبیلٹی سیکٹر کے لیے ایک بہت اہم دن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے ساتھ، ٹیکسی اور ٹرانسپورٹ سروسز کی ضرورت ہر گھر تک پہنچ گئی ہے۔ ٹیکسی کا تصور اب صرف چار پہیہ گاڑیوں تک محدود نہیں رہا؛ دو پہیہ گاڑیاں، آٹو اور دیگر شہری ٹرانسپورٹ سروسز بھی اس کا حصہ بن گئی ہیں۔ گجرات میں بھارت ٹیکسیکا اِفتتاح تعاون کے ذریعے اس وسیع تر موبیلٹی ضرورت کو نئی سمت دینے کی جانب ایک قدم ہے۔

جناب امِت شاہ نے کہا کہ دیگر کمپنیاں گاڑی چلانے والوں کو ڈرائیور سمجھتی ہیں، لیکن بھارت ٹیکسی انھیں سارتھیمانتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف الفاظ کا فرق نہیں، بلکہ پورے نقطہ نظر کا فرق ہے۔ سارتھیمحض ایک سروس فراہم کنندہ نہیں، بلکہ اس کوآپریٹو ادارے کا ایک معزز شراکت دار اور مالکہے۔ بھارت ٹیکسی کا بنیادی مقصد سارتھیوں اور صارفین دونوں کے استحصال کو روکنا، سروس کے معیار کو بہتر بنانا اور موبیلٹی سیکٹر میں ایک منصفانہ نظام قائم کرنا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں، ایپ پر مبنی ٹیکسی سروسز کے سلسلے میں کئی شکایات سامنے آئی ہیں کچھ معاملات میں، سارتھیوں کی کمائی سے زیادہ کمیشن کاٹا گیا؛ کچھ معاملات میں، ادائیگیاں بروقت ان تک نہیں پہنچیں؛ اور کچھ معاملات میں، انھیں سنے بغیر رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہر مسئلہ قانون سازی سے حل نہیں کیا جا سکتا؛ کئی بار، صحیح ادارہ جاتی ماڈل ایک مستقل حل فراہم کرتا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ، بھارت ٹیکسی کا تصور کوآپریٹو ماڈل پر کیا گیا تھا۔

جناب امِت شاہ نے کہا کہ تعاون نے ملک کے کئی شعبوں میں استحصال کا خاتمہ کیا ہے اور لوگوں کو حقوق اور خوش حالی دی ہے۔ امول کی مثال دیتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ایک دیہی خاتون مویشی پالنے والی جس نے صرف 100 روپے کے حصص کے ساتھ کوآپریٹو نظام میں شمولیت اختیار کی، آج 1.25 لاکھ کروڑ روپے کے ٹرن اوور والے ایک قابلِ اعتماد فوڈ برانڈ میں اسٹیک ہولڈر ہے۔ امول نے ثابت کیا ہے کہ بغیر کسی درمیانی شخص، بغیر استحصال اور مکمل شفافیت کے تعاون کے ذریعے ایک وسیع اقتصادی نظام بنایا جا سکتا ہے۔ اس ماڈل نے ڈیری سیکٹر میں استحصال کا خاتمہ کیا اور یہ یقینی بنایا کہ خواتین مویشی پالنے والوں کی محنت سے کمائی گئی آمدنی براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں پہنچے۔ آج، دیہی بھارت کی خواتین مویشی پالنے والی خواتین اپنی محنت کی پوری قیمت وقار کے ساتھ وصول کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسی طرح، آئی ایف ایف سی او اور کرِبھکو جیسے کوآپریٹو ادارے آج ملک کے کسانوں کی کھاد کی تقریباًًً 35 فیصد ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ یہ بھی تعاون کی ایک بڑی کام یابی کی کہانی ہے۔ بھارت ٹیکسی اس کام یاب کوآپریٹو روایت کو موبیلٹی سیکٹر میں آگے لے جانے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت ٹیکسی جیسی پہل کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے۔ اس سلسلے میں، ملک کے معروف کوآپریٹو اداروں کے ساتھ گفت و شنید کی گئی اور ان سے اس اہم پہل میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی۔ یہ باعث اطمینان ہے کہ این سی ڈی سی، آئی ایف ایف سی او، کرِبھکو، این ڈی ڈی بی، نا با رڈ، این سی ای ایل اور امول جیسے معزز کوآپریٹو اداروں نے مل کر موبیلٹی سیکٹر میں سارتھیوں کی ایک کوآپریٹو ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ملک کی بڑی نجی کمپنیوں کے سامنے ایک مضبوط، شفاف اور سارتھی-مرکزی کوآپریٹو متبادل پیش کیا جا سکے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ اب تک 7 لاکھ سے زیادہ سارتھی بھارت ٹیکسی میں شامل ہو چکے ہیں۔ بھارت ٹیکسی سارتھیوں کو عزت دے گی، انھیں تحفظ فراہم کرے گی اور آنے والے وقت میں خوشحالی کی راہ ہم وار کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوآپریٹو ادارہ سارتھیوں کی کمائی کی حفاظت کرے گا اور مستقبل میں قرضوں، انشورنس اور ان کے کاروبار کی توسیع میں بھی ان کی مدد کرے گا۔ اب تک، تقریباًًً 37 لاکھ صارفین نے بھارت ٹیکسی کی خدمات حاصل کی ہیں، جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

جناب امِت شاہ نے کہا کہ کچھ اخبارات نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ بھارت ٹیکسی کے کرایے زیادہ ہیں۔ انھوں نے کہا، میں ملک بھر کے صارفین کو بتانا چاہتا ہوں کہ جہاں بھی بھارت ٹیکسی پہنچ رہی ہے، مقابلہ کرنے والی کمپنیاں نقصان اٹھا کر عارضی طور پر کرایے کم کر رہی ہیں؛ لیکن یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی؟ زیادہ سے زیادہ ایک یا دو سال،انھوں نے مزید کہا کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ بھارت ٹیکسی نہ تھکے گی، نہ پیچھے ہٹے گی، اور نہ ہی میدان چھوڑے گی۔ بھارت ٹیکسی خدمت اور تعاون کے جذبے کے ساتھ میدان میں مضبوطی سے قائم رہے گی اور صحت مند طریقے سے مقابلہ کرے گی۔ ہمارا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ موبیلٹی سیکٹر میں ایک منصفانہ، شفاف اور پائیدار نظام بنانا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ جو کمپنیاں آج کرایے کم کرکے اور عارضی طور پر سارتھیوں کو زیادہ کمیشن دے کر مارکیٹ پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ ایسا صرف بھارت ٹیکسی کی ترقی کو روکنے کے لیے کر رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت ٹیکسی میدان سے نکل جائے تاکہ وہ دوبارہ من مانی پر اتر سکیں۔ لیکن میں آج واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ بھارت ٹیکسی خدمت کے عزم، تعاون کی طاقت اور سارتھیوں کے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی،انھوں نے کہا۔ انھوں نے مزید کہا کہ افواہیں پھیلانے والوں کو ہمارے کوآپریٹو جذبے، ہماری مستقل مزاجی اور خدمت کے تئیں ہماری لگن سے جواب دیا جائے گا۔ بھارت ٹیکسی کو کام یاب بنانے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے سارتھیوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف فوری فوائد کو دیکھ کر فیصلے کریں گے، تو آنے والے برسوں میں ہمیں اسی استحصال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے نکلنے کے لیے بھارت ٹیکسی قائم کی گئی ہے۔

جناب امِت شاہ نے سارتھیوں کو بتایا کہ انھوں نے برسوں تک مختلف کمپنیوں کے ساتھ کام کیا ہے اور جانتے ہیں کہ کئی بار ان کی بات سنے بغیر فیصلے لیے گئے، ان کی کمائی کم کی گئی اور ان کی محنت کو مکمل عزت نہیں دی گئی۔ انھوں نے کہا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بھارت ٹیکسی آپ کا کبھی استحصال نہیں کرے گی، کیوں کہ یہ کسی اور کی کمپنی نہیں، بلکہ آپ کی اپنی کوآپریٹو ادارہ ہے۔انھوں نے کہا کہ کچھ کمپنیاں نقصان پر چل کر غیر منصفانہ مقابلے کے ذریعے بھارت ٹیکسی کو مارکیٹ سے باہر دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسی حکمتِ عملی دنیا کے کچھ ممالک میں کام کر سکتی ہے، لیکن وہ بھارت میں کام نہیں کرے گی، کیوں کہ بھارت کی روح تعاون، خدمت اور سب کی فلاح میں مضمر ہے۔ یہاں، محض اپنے مفاد نہیں، بلکہ سب کے مفاد کو اولین سمجھا جاتا ہے۔

سارتھیوں اور صارفین سے اپیل کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ اگر ہم ایک طویل مدتی، قابلِ اعتماد اور منصفانہ ٹرانسپورٹ نظام چاہتے ہیں، تو بھارت ٹیکسی کو کام یاب بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بھارت ٹیکسی کے ساتھ رہیں، بھارت ٹیکسی ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی،انھوں نے کہا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کوآپریٹو سیکٹر میں کئی کام یاب مثالیں پیش کی ہیں۔ امول کو بھی نجی ڈیریوں سے مقابلہ کرنا پڑا؛ آئی ایف ایف سی او، کرِبھکو اور این ڈی ڈی بی کو بھی نجی کمپنیوں سے مقابلہ کرنا پڑا، لیکن یہ ادارے تعاون، شفافیت اور عوامی اعتماد کی طاقت پر کام یاب ہوئے۔

جناب امِت شاہ نے سارتھیوں کو بتایا کہ بھارت ٹیکسی ان کا اپنا ادارہ ہے اور اسے ان کے استحصال کو روکنے، انھیں عزت دینے اور انھیں خوشحال بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ آنے والے وقت میں، یہی ادارہ انھیں قرض حاصل کرنے، انشورنس تحفظ فراہم کرنے اور ان کے کاروبار کی توسیع میں مدد کرنے کا کام بھی کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی نجی پلیٹ فارم ایسا نہیں کر سکتا، کیوں کہ ان کا مقصد ان کا اپنا منافع ہے، جب کہ بھارت ٹیکسی کا مقصد اس کے سارتھیوں کی فلاح ہے۔ انھوں نے کہا کہ قلیل مدتی فوائد کے بجائے، طویل مدتی تحفظ، عزت اور مستحکم آمدنی کو ترجیح دینی ہوگی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ مسابقتی کمپنیاں کتنے شہروں کے لیے کرایے کم کرتی رہیں گی؟ بھارت ٹیکسی اگلے ڈیڑھ دو سال میں 500 سے زیادہ شہروں اور قصبوں تک پہنچے گی۔ بھارت ٹیکسی ملک کے کئی شہروں، بشمول ناگپور، پونے، ممبئی، لکھنؤ، چنڈی گڑھ، جے پور اور کولکتہ تک اپنی خدمات پھیلائے گی۔ 31 جولائی 2026 سے پہلے، بھارت ٹیکسی سات بڑے شہروں تک پہنچ جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگلے دو سال میں، بھارت ٹیکسی ماڈل ملک کے 500 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں تینوں زمروں دو پہیہ، آٹو اور چار پہیہ میں لاگو کیا جائے گا۔

گجرات میں بھارت ٹیکسی کے اِفتتاح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، جناب امِت شاہ نے کہا کہ آج، وہ سات لاکھ سارتھیوں کے ایک وسیع خاندان کا حصہ بن گئے ہیں اور بھارت ٹیکسی میں شامل ہو کر، کوآپریٹو تحریک کو نئی طاقت دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں پورا یقین ہے کہ آنے والے وقت میں، یہ کوآپریٹو ادارہ موبیلٹی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں نئی ​​بلندیاں حاصل کرے گا اور یقیناً کام یاب ہوگا۔ آج، وہ ایک وسیع کوآپریٹو خاندان کا حصہ بن گئے ہیں جس سے ملک کے کروڑوں کسان وابستہ ہیں، اور اب گجرات کے سارتھی بھی اس شاندار کوآپریٹو خاندان کا ایک لازمی حصہ بن رہے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کو سہکار سے سمردھیکا منتر دیا ہے۔ بھارت ٹیکسی موبیلٹی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں اس منتر کو محسوس کرنے کی جانب ایک اہم پہل ہے۔ انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں، تعاون مزید نئے شعبوں میں پھیلے گا اور بھارت ٹیکسی سارتھیوں کی عزت، تحفظ اور خوشحالی کا ایک مضبوط ذریعہ بنے گی۔

جناب امِت شاہ نے گجرات کے تمام سارتھیوں کو اپنی نیک خواہشات پیش کیں اور کہا کہ بھارت ٹیکسی کی کام یابی کا تعین خدمت کے جذبے، کوآپریٹو اخلاق اور سارتھیوں کی شرکت سے ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ٹیکسی میں شامل ہو کر، سارتھیوں نے ان تینوں ان کی خوشحالی، عزت اور تحفظ کے لیے راہ ہم وار کی ہے۔

پروگرام کے دوران، بھارت ٹیکسی کی توسیع اور ہم وار آپریشن کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ ان میں ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، راجکوٹ؛ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، سورت؛ گجرات میٹرو ریل کارپوریشن؛ احمد آباد میونسپل کارپوریشن/بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم؛ گجرات اسٹیٹ کوآپریٹو بینک؛ اڈانی ایئرپورٹ؛ گجرات ٹریفک پولیس؛ ویسٹرن ریلوےاحمد آباد ڈوژن؛ اور وڈودرا ایئرپورٹ شامل تھے۔ یہ مفاہمت نامے ہوائی اڈوں، ریلوے، میٹرو، شہری ٹرانسپورٹ اور ٹریفک مینجمنٹ سے متعلقہ علاقوں میں بھارت ٹیکسی کی سروس کی رسائی کو مزید مضبوط کریں گے۔ پروگرام کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے سارتھیوں کو شیئر سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 9248


(रिलीज़ आईडी: 2278481) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Punjabi , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam